... loading ...
پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان لندن میں اہم مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔برطانوی حکومت کی میزبانی میں 15 مارچ سے لندن میں ہونے والے ان مذاکرات میں پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر براے خارجہ امور سرتاج عزیز، افغانستان کی قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمر، پاکستان میں افغان سفیر ڈاکٹر عمر زخیلوال اور برطانیہ کی قومی سلامتی کے مشیر مارک لائل گرانٹ شریک ہیں۔افغان حکام کے مطابق ان مذاکرات میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان دہشتگردی کے خاتمے کے لیے تعاون کے طریقہ کار اور حالیہ کشیدگی میں کمی کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان سرحد کی بندش پر بات چیت ہو گی۔دوسری جانب برطانوی وزارت خارجہ نے بھی لندن میں ہونے والے پاک افغان مذاکرات کی تصدیق کی ہے تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب حال ہی میں لاہور اور سیہون میں ہونے والے دھماکوں کے بعد پاک افغان تعلقات میں کشیدگی اور تناؤ میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔پاکستان نے ملک میں شدت پسندی کی تازہ لہر میں 100 سے زیادہ ہلاکتوں کے بعد 16 فروری کو افغانستان سے متصل اپنی سرحد غیرمعینہ مدت کے لیے بند کر دی تھی۔تاہم بعد میں رواں ماہ کے آغاز میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد 18 دن کی بندش کے بعد 2 دن کے لیے کھول دی گئی تھی۔
پاکستان کی جانب سے افغان سرحد بند کرنے اورسرحد پر فوج کی نفری میں اضافے کے فیصلے پر افغانستان کی حکومت نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاتھا کہ اس سے افغان شہریوں کی مشکلات میںاضافہ ہوگا جس سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان غلط فہمیوں میں اضافہ ہوسکتاہے۔ پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر سیکورٹی مشترکہ دشمن سے لڑنے کے لیے بڑھائی گئی ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان کے مطابق آرمی چیف کا کہنا تھا کہ سرحد پر ہر طرح کی غیر قانونی نقل و حرکت روکی جائے گی۔بیان کے مطابق آرمی چیف کا کہنا تھا کہ تمام شدت پسندوں کے خلاف بلاتفریقِ رنگ و نسل کارروائی ہوگی۔جنرل باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان دہشت گردی کے خلاف لڑ رہے ہیں اور ان مشترکہ کوششوں کو جاری رہنا چاہیے۔آرمی چیف نے افغان حکام کی جانب سے شدت پسندی کے خاتمے کے لیے دی جانے والی حالیہ تجاویز کا بھی خیر مقدم کیا۔خیال رہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے جمعہ کو افغانستان میں امریکی کمانڈر جنرل جان نکلسن سے رابطہ کر کے پاکستان میں ہونے والی شدت پسندی کی حالیہ کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں آرمی چیف نے امریکی کمانڈر جنرل نکلسن کو افغان حکام کو فراہم کی گئی شدت پسندوں سے متعلق فہرست سے بھی آگاہ کیا۔بیان کے مطابق جنرل باجوہ نے امریکی کمانڈر سے کہا کہ پاکستان میں شدت پسندی کارروائیوں کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوتی ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران پاکستان میں ہونے والی شدت پسندی کے واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے والی
تنظیموں کی قیادت افغانستان میں ہے۔سیہون میں لعل شہباز قلندر کی درگاہ پر خودکش حملے میں 80 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کے بعداس کی ذمہ داری بھی افغانستان میں موجود ایک دہشت گرد تنظیم نے ہی قبول کی تھی جس کے بعد پاکستان نے دہشت گردوں کی ایک فہرست افغان حکومت کے حوالے کرکے ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے اور انہیں پاکستان کے حوالے کرنے کامطالبہ کیاتھا لیکن پاکستان کے اس مطالبے پر افغان حکومت کی جانب سے سردمہری کے اظہار کے بعد پاکستان کومجبوراً پاک افغان سرحد کے قریب دہشت گردوں کے اڈوں کے خلاف فوجی کارروائی کرنے اور بعد ازاں افغانستان کے ساتھ اپنی سرحد بھی تاحکمِ ثانی بند کر نے پر مجبور ہونا پڑا تھا ۔ افغانستان سے ملنے والی پاکستان کی سرحد بند کرتے ہوئے پاکستانی فوجی قیادت اور مشیر خارجہ سرتاج عزیز دونوں ہی نے یہ واضح کردیاتھا کہ یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کی وجہ سے کیا گیا ہے،لیکن افغان حکومت کو پاکستان کایہ فیصلہ غالباً پسندنہیں آیا اس طرح یہ فیصلہ دونوں ملکوں کے درمیان تنائو اور کشیدگی میں اضافہ کاسبب ثابت ہوا۔
تما م ملکی اورغیر ملکی مبصرین یہ تسلیم کرتے ہیں کہ دونوں ملکوں کو تناؤ میں کمی کے لیے مفاہمت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے اعتماد کو فروغ دینے کے اقدام کرنے چاہئیں۔پشاور یونیورسٹی کے شعبۂ بین الاقوامی تعلقات کے سربراہ اور تجزیہ کار ڈاکٹر اعجاز خٹک نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان کو افغانستان سے متعلق اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔افغان سفیر نے گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ہونے والی اقتصادی تعاون تنظیم کے اجلاس سے خطاب کے دوران بھی سرحدی راستوں کی بندش کا تذکرہ کرتے ہوئے انہیں کھولنے کا مطالبہ کیا تھا۔فیس بک پر اپنے پیغام میں انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ تجارتی راستوں کی بندش حال ہی میں ہونے والی اقتصادی تعاون تنظیم اجلاس کے رابطوں کے فروغ کے پیغام سے متصادم ہے۔۔اس بندش سے جہاں تجارتی قافلوں کی آمدورفت معطل ہو کر رہ گئی ہے وہیں ہزاروں عام شہریوں کی نقل و حرکت میں بھی خلل پڑاہے۔
دوسری جانب سرتاج عزیز نے ہفتہ کو بتایا کہ دونوں ملک دہشت گردی کو مشترکہ دشمن سمجھتے ہیں اور اس بارے میں ایک مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے پر بھی مشاورت ہوئی ہے۔افغانستان میں انسانی حقوق کی ایک غیر سرکاری تنظیم ’’افغانستان ہیومن رائٹس آرگنائزیشن‘‘ کے سربراہ لعل گل لعل نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان سرحدوں کی بندش کا یہ معاملہ افہام و تفہیم سے ہی حل ہو سکتا ہے۔” بصورت دیگر اس سے مسائل اور بڑھ جائیں گے ، پاکستان اورافغانستان کویہ مسئلہ بات چیت سے سفارتی سطح پر حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اگر یہ مسئلہ دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کی سطح پر حل ہو تو یہ بہت اچھا ہو گا۔”دوسری طرف بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار اے زیڈ ہلالی بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے باہمی معاملات بات چیت سے ہی حل ہو سکتے ہیں۔” دونوں ملکوں کے عسکری اور سیاسی اداروں کو چاہیے کہ ایک طریقہ کار وضع کریں اور دونوں حکومتیں اس کے لیے لائحہ عمل تیار کریںاور دونوں ملکوں کی حکومتوں کو چاہیے کہ مختلف سطح پر باہمی معاملات کو حل کرنے کے لیے رابطہ کریں۔پاکستان میں حکام کا دعویٰ ہے کہ افغانستان میں مبینہ طور پر روپوش شر پسند عناصر سرحد پر واقع بعض غیر محفوظ داخلی راستوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔ دوسری طرف افغانستان بھی اسی طرح کے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود بعض عناصر ان کے ملک میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں مبینہ طور پر ملوث ہیں۔ڈاکٹر ہلالی کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے باہمی تحفظات اعلیٰ سطح کے رابطوں سے ہی حل ہو سکتے ہیں اور ان کے بقول اگر اس حوالے سے کوئی پیش رفت ہو تو اس سے مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ اس صورتحال میں لندن میں ہونے والی کانفرنس کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے۔ برطانوی حکومت ہمیشہ سے افغانستان کی موجودہ حکومت اور حکمرانوں کی پشت بانی کی ذمہ داری پوری کرتی رہی ہے جبکہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان بھی دیرینہ دوستانہ تعلقات قائم ہیں اس لیے اس بات کی توقع کی جاتی ہے کہ برطانیہ دونوں ملکوں کے درمیان مفاہمت کرانے میں ضرور کامیاب ہوگا، اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستانی حکام اس حوالے سے کب اور کیافیصلہ کرتے ہیں، تاہم دانش مندی کاتقاضہ یہی ہے کہ حکومت کوکسی دبائو کو قبول کرنے کے بجائے پاک افغان سرحد کو شرپسندوں اور دہشت گردوں سے پاک کیے بغیر سرحد کھولنے کافیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔
جمال احمد
گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...
28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...
خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...
طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...
تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...
حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...
گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...
یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...
ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...
اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...
سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...
جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...