وجود

... loading ...

وجود

مائیکل فلن کی بے وفائی،ایڈمرل ہارورڈ کا عہدہ لینے سے انکار

اتوار 19 فروری 2017 مائیکل فلن کی بے وفائی،ایڈمرل ہارورڈ کا عہدہ لینے سے انکار


نیویارک ٹائمز نے گزشتہ روز اپنے ادارئیے میں لکھا ہے کہ اگر امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے مشیر خاص مائیکل فلن کی رخصتی سے روس کے ساتھ ان کی انتظامیہ کے قریبی روابط کے حوالے سے تنازعات کاخاتمہ ہوجائے گا تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔اس تنازع سے یہ بات سامنے آگئی ہے اور لوگوں کے ذہن میں یہ سوال گردش کرنے لگے ہیں کہ اب وائٹ ہائوس امریکی قوم کا دفاع کرنے ،ان کے مفادات کے تحفظ کے حوالے سے کتنا لاپروا ہے۔
ادھر تازہ خبر یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قومی سلامتی مشیر کے لیے منتخب کیے گئے ریٹائرڈ وائس ایڈمرل روبرٹ ہارورڈ نے یہ عہدہ سنبھالنے سے انکار کر دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے سینئر اہلکار کا کہنا ہے کہ مائیکل فلن کے استعفے کے بعد روبرٹ ہارورڈ کو قومی سلامتی مشیر کے عہدے کی پیش کش کی گئی ،لیکن ایڈ مرل ہارورڈ نے ذاتی وجوہات کی بنا پر اس عہدے سے انکار کردیا ہے۔یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ہارورڈ اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان وجہ ٔ تنازع یہ بات بنی کہ وہ اس عہدے کے ماتحت کام کرنے کے لیے اپنی ٹیم لانا چاہتے تھے۔واضح رہے کہ کچھ روز قبل روس سے تعلقات کا بھانڈا پھوٹنے پر ٹرمپ کے مشیر ِ قومی سلامتی امور مائیکل فلن اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔
یہ کتنی عجیب بات ہے کہ مائیکل فلن کو اپنا عہدہ چھوڑنے پر اس وقت مجبور ہونا پڑا جب واشنگٹن پوسٹ نے اپنی خبر میں یہ انکشاف کیاکہ امریکا کے محکمہ انصاف نے جنوری ہی میں وائٹ ہائوس کو بتادیاتھا کہ مائیکل فلن نے روس کے سفیر کے ساتھ فون پر اپنی بات چیت کے بارے میں سینئر افسروں کو اندھیرے میں رکھاہے اور انھیں حقائق سے آگاہ نہیں کیاہے۔محکمہ انصاف نے بتادیاتھا کہ مائیکل فلن کے دعوے کے برعکس انھوں نے روسی سفیر سے امریکا کی جانب سے روس پر لگائی جانے والی پابندیوں کے حوالے سے بات چیت کی تھی۔
تنازع اس بات کا تھا کہ مائیکل فلن کاروسی سفیر کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے بیان کچھ اور تھا اور امریکی اور روسی انٹیلی جنس کی اس حوالے سے رپورٹیں بالکل مختلف تھیں اور اسی سے یہ ظاہر ہوتاتھا کہ مائیکل فلن روس کی جانب سے بلیک میل کاشکار ہیں اور اس حوالے سے روس کے دبائو میں ہیں۔ وائٹ ہائوس نے ان اطلاعات پر فوری کارروائی کرنے کے بجائے معاملے کو عوام سے چھپانے کی کوشش کی۔
گزشتہ منگل کو وائٹ ہائوس نے اعتراف کیاتھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو 2 ہفتے قبل ہی مائیکل فلن کے جھوٹ سے آگاہ کردیاگیاتھا لیکن اس کے باوجود ڈونلڈٹرمپ نے گزشتہ جمعہ کو صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس حوالے سے خبروں سے لاعلم ہیں اور اس حوالے سے کچھ نہیں جانتے۔
جہاں تک مائیکل فلن کا تعلق ہے تو یہ بات واضح ہے کہ مائیکل فلن بہت گرم مزاج واقع ہوئے ہیں اور ایک خاص نظریہ رکھتے ہیں جس کی وجہ سے وہ قومی سلامتی کے مشیر جیسے اہم اور حساس عہدے کیلئے قطعی ناموزوں تھے، کیونکہ اس عہدے کی حساسیت کا تقاضہ ہے کہ اس عہدے پر فائز شخص انتہائی ٹھنڈے دل ودماغ سے اورکسی نظریئے کے بجائے صرف قوم کی سلامتی اورتحفظ کے حوالے سے سوچ اور فیصلے کرسکے۔گزشتہ پیر تک مائیکل فلن سیکورٹی سے متعلق امورپر بریفنگ میں موجود تھے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ تک ان کی رسائی تھی۔
مائیکل فلن نے اپنے استعفے میں لکھا ہے کہ انھوں نے سینئر افسران کو روسی سفیر کے ساتھ فون پر ہونے والی بات چیت کے بارے میں ادھوری معلومات فراہم کی تھیں۔ایف بی آئی کے افسران نے ان کا عہدہ سنبھالنے کے کئی دن بعد اسی حوالے سے بات چیت کی تھی۔ امریکی اخبار ٹائمز نے گزشتہ جمعہ کو لکھاتھا کہ اگر انھوں نے ایف بی آئی کے افسران کے ساتھ جھوٹ بولاتھا تو ان پر حقائق کوچھپانے کا الزام عایدکیاجاسکتاہے۔
امریکا کے سابق صدر بارک اوباما کی جانب سے روس پر پابندیاں عاید کرنے کے اعلان کے بعد سے ہی مائیکل فلن اور امریکا میں روس کے سفیر سرگی کسلیاک کے درمیان رابطے تھے اورپوری صدارتی انتخابی مہم کے دوران ان دونوں کے درمیان رابطہ قائم رہا۔انٹیلی جنس رپورٹوں میں اس بات پر اصرار کیاگیاہے کہ روس کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فائدہ پہنچانے کیلئے ڈیموکریٹس کے کمپیوٹر ہیک کئے گئے تھے۔ایف بی آئی نے اس دوران روسی سفیرکے رابطوں کے بارے میں جو مانیٹرنگ کی اس سے مائیکل فلن اور روسی سفیر کے درمیان رابطوں کی تصدیق ہوتی ہے۔
12 جنوری کو جب مائیکل فلن اور روسی سفیر کے درمیان ٹیلی فون پرہونے والی بات چیت کی خبروں کاانکشاف ہواتو ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھیوں نے اس بات کی تردید کی تھی کہ اس بات چیت میں روس پرامریکا کی جانب سے لگائی جانے والی پابندیوں کے بارے میں کوئی بات چیت ہوئی تھی۔وائٹ ہائوس کے ترجمان سین اسپائسر نے 13 جنوری کووہی باتیں کہیں جو15 جنوری کو نائب صدر مائک پنس نے کہی تھیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کے اپنے عہدے کاحلف اٹھانے کے بعد 23 جنوری کو مائک پنس نے ایک دفعہ پھر یہ کہا کہ مائیکل فلن نے انھیں ایک دفعہ پھر یہ یقین دلایاہے کہ انھوں نے روسی سفیر سے پابندیوں کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی ہے۔اس کے فوری بعد امریکا کی اٹارنی جنرل سیلی ییٹس نے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جنرل جیمز کونی کی رپورٹوں سے اتفاق کرتے ہوئے وائٹ ہائوس کے وکیل ڈونلڈ مک گھن کو بتایا کہ اصل میں ہوا کیاہے۔
اس حوالے سے اب بہت سے سوالات اٹھتے ہیں۔ اول یہ کہ وائٹ ہائوس نے مائکل فلن کو ان رابطوں کی اجازت دی تھی۔اگر ایسا نہیں تھا تو ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کے استعفے کے بعد بھی ان کے اس عمل کی مذمت کیوں نہیں کی؟ان تمام حقائق کی وجہ سے اب کانگریس پر اس حوالے سے کارروائی کیلئے دبائو بڑھتاجارہاہے ،اگرچہ بعض ری پبلکن ارکان کانگریس نے اس حوالے سے تفصیلی چھان بین کا وعدہ کیاہے لیکن اس پوری صورت حال پر بحیثیت پارٹی ری پبلکن پارٹی کاردعمل غیرذمہ دارانہ اور مایوس کن ہے۔ اس حوالے سے ارکان کانگریس کا رویہ بھی انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے اور وہ کانگریسی ارکان جو ہلیری کلنٹن کے ای میلز کے مسئلے پر دوسال تک ان کے پیچھے لگے رہے، وہ قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے مائیکل فلن کے اس عمل کی پردہ پوشی کیلئے سرگرم نظر آرہے ہیں۔دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ مائیکل فلن کے استعفے کے بعد اب تک قومی سلامتی کے مشیر جیسے اہم منصب کیلئے کسی موزوں شخصیت کاانتخاب نہیں کرسکے ہیں جس کی وجہ سے یہ اہم عہدہ ابھی تک خالی پڑا ہے۔معلوم یہ ہوتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کواپنے دوست مائکل فلن کی واپسی کی امید اب بھی باقی ہے جبکہ ایسا کرنا امریکا کی سلامتی کیلئے ہی نہیں بلکہ خود ڈونلڈ ٹرمپ کیلئے بھی ہلاکت خیز نتائج کاحامل ثابت ہوسکتاہے۔جبکہ یہ عہدہ طویل عرصے تک خالی رکھنا بھی امریکا کی قومی سلامتی کے مفاد میں نہیں ہے۔اگر ڈونلڈ ٹرمپ یہ سمجھتے ہیں کہ مائکل فلن کی رخصتی سے قومی سلامتی کے حوالے سے ان کی مشکلات میں کچھ کمی آجائے گی تو یہ ان کی خام خیالی ہے ، مائیکل فلن کی رخصتی سے ان کی مشکلات کم نہیں ہوں گی اور اس حوالے سے مواخذے کی تلوار ان کے سرپر بدستور لٹکتی رہے گی۔

ابن عماد بن عزیز


متعلقہ خبریں


امریکا ،ایران میں دوبارہ مذاکرات کی تیاری،اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

ایران کے بعد امریکا کی ترجیح پاکستان بن گیا، امریکی صدر نے آئندہ دو روز میں مذاکرات کا اشارہ دے دیا،ہم پاکستان جانے پر زیادہ مائل ہیں،فیلڈ مارشل عاصم منیر لاجواب آدمی ہیں مذاکرات ممکنہ طور پر جمعرات کو اسلام آباد میں منعقد ہو سکتے ہیں، دونوں فریقین اہم تنازعات پر بات چیت جاری رک...

امریکا ،ایران میں دوبارہ مذاکرات کی تیاری،اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

پیٹرولیم لیوی ٹیکس عوام پر ظلم ، عدالت سے رجوع کرینگے،حافظ نعیم وجود - بدھ 15 اپریل 2026

کھرب پتی طبقہ ٹیکس بچا رہا ہے موٹرسائیکل چلانیوالا عام شہری ٹیکس ادا کر رہا ہے عوام ایک لیٹر پیٹرول پر تقریباً سوا سو روپے ٹیکس ادا کر رہے ہیں، پریس کانفرنس حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی ٹیکس کے معاملے پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا کیونکہ یہ عوام کے ساتھ ...

پیٹرولیم لیوی ٹیکس عوام پر ظلم ، عدالت سے رجوع کرینگے،حافظ نعیم

حکومت کا روزانہ 2 گھنٹے 15 منٹ لوڈشیڈنگ کا فیصلہ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

شام 5بجے سے رات ایک بجے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جائے گی، پاور ڈویژن بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کیلئے مہنگے ایندھن کے استعمال کو کم سے کم رکھا جا سکے ترجمان پاور ڈویژن نے کہاہے کہ بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کے لیے شام 5بجے سے رات 00:1بجے تک روزانہ 2 گھنٹے15،منٹ تک بجلی کی لوڈشیڈنگ ...

حکومت کا روزانہ 2 گھنٹے 15 منٹ لوڈشیڈنگ کا فیصلہ

عمران خان کی صحت اور قید تنہائی تشویشناک قرار وجود - بدھ 15 اپریل 2026

قید تنہائی کسی بھی قیدی کیلئے انتہائی سخت سزا ، امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے بانی پی ٹی آئی کے مطابق ان کی آنکھ میں کوئی بہتری نہیں آئی، سلمان صفدر بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل کی صحت اور قید تنہائی کی صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔لاہور ہائیکورٹ بار می...

عمران خان کی صحت اور قید تنہائی تشویشناک قرار

گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس، خریداری مہم تیز کرنے کی ہدایت سبسڈی لینے والے آبادگاروں سے گندم خریدی جائے، تمام اضلاع میں مراکز فعال کیے جائیں کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس ہوا، چھوٹے آبا...

گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ

پاک فضائیہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار،نیول چیف وجود - بدھ 15 اپریل 2026

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن ہوئی ایڈمرل نوید اشرف کا ایٔر فورس اکیڈمی میںکیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ کی تقریب سے خطاب چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن...

پاک فضائیہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار،نیول چیف

ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا،جے ڈی وینس وجود - بدھ 15 اپریل 2026

ایران کیساتھ مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی، گیند اب تہران کے کورٹ میں ہماری تمام ریڈ لائنز اسی بنیادی اصول سے نکلتی ہیں،امریکی نائب صدر کا انٹرویو امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے...

ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا،جے ڈی وینس

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی وجود - منگل 14 اپریل 2026

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 14 اپریل 2026

مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 14 اپریل 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید وجود - منگل 14 اپریل 2026

دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری وجود - منگل 14 اپریل 2026

واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری

مضامین
مذاکرات سے مثبت امیدیں وجود بدھ 15 اپریل 2026
مذاکرات سے مثبت امیدیں

بھارتی شہری اپنے ہی ملک میں غیر محفوظ وجود بدھ 15 اپریل 2026
بھارتی شہری اپنے ہی ملک میں غیر محفوظ

خلیج ِ فارس کی جغرافیائی حقیقت اورتوانائی کی عالمی سیاست وجود بدھ 15 اپریل 2026
خلیج ِ فارس کی جغرافیائی حقیقت اورتوانائی کی عالمی سیاست

اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں

اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر