وجود

... loading ...

وجود

ٹرمپ انتظامیہ نے وزن اسرائیل کے پلڑے میں ڈال دیا

اتوار 19 فروری 2017 ٹرمپ انتظامیہ نے وزن اسرائیل کے پلڑے میں ڈال دیا

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گزشتہ روزکہا ہے کہ’’ ہو سکتا ہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن سمجھوتا آزاد فلسطینی ریاست پر مشتمل نہ ہو‘‘۔اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ اْس کے حق میں ہوں گے جو سمجھوتا دونوں فریق کے درمیان ہونے والے براہِ راست مذاکرات کے نتیجے میں سامنے آئے گا۔ٹرمپ کے بقول ’’میں دو ریاست یا ایک ریاست کو دیکھ رہا ہوں۔ میں اْسی بات پر خوش ہوں گا جسے وہ پسند کریں گے‘‘۔ٹرمپ نے اسرائیل پر بھی زور دیا کہ نئی اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کے معاملے کو ’’روکیں‘‘ اور کہا کہ فلسطینیوں کو چاہیے کہ وہ اسرائیل کے خلاف نفرت آمیز تعلیم دینے کا عمل بند کریں۔
قبل ازیں وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ اہل کار نے اخباری نمائندوں کے ساتھ گفتگو میں اسرائیل فلسطین تنازعے کے بارے میں امریکی پالیسی میں تبدیلی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان ضروری نہیں کہ امن دو ریاستی حل کے ذریعے آئے، اور یہ کہ اس کا فیصلہ دونوں فریق ہی کریں گے۔اہل کار نے کہا کہ امریکا ’’اپنی مرضی مسلط نہیں کرے گا کہ امن کی شرائط کیا ہونی چاہئیں‘‘۔ بقول اعلیٰ عہدیدار ’’ایسادو ریاستی حل جس سے امن نہ آئے ،ہمارا یہ ہدف نہیں ہونا چاہیے ۔ امن ہی ہدف ہے چاہے وہ دو ریاستی حل کی بنیاد پر ہو۔دیکھنا ہے کہ فریق یہی چاہتے ہیںیا پھر کچھ اور، اگر فریق یہ چاہیں، تو ہم اْن کی مدد کریں گے‘‘۔واضح رہے کہ طویل مدت سے امریکا کا سرکاری مؤقف یہ رہا ہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کو ایک ایسے سمجھوتے کے لیے مذاکرات کرنے چاہئیں جس سے دو علیحدہ ریاستیں وجود میں آئیں، جس میں ممکنہ طور پر فلسطینی غزہ کا کنٹرول سنبھالیں، مغربی کنارے کا سارا یا کچھ حصہ اْن کے پاس ہو، اور اْن کا مستقبل کا دارالحکومت مشرقی یروشلم میں ہو۔ اقوام متحدہ بھی دو ریاستی حل کا حامی ہے۔
ناقدین کا خیال یہ ہے کہ ’’اپنی مرضی‘‘کی آزادی دینے پر اسرائیل لازماًفلسطین پر دھونس کے ذریعے مذاکرات میں غلبے کی کوشش کرے گا ، امریکا کادوریاستی حل کی پالیسی سے متعلق ثالثی سے مکرنا غیر اخلاقی عمل ہے۔
چوٹی کے ایک فلسطینی اہل کارصائب عریقات نے کسی ایسی تجویز کو مسترد کیا ہے جس میں دو ریاستی حل کو ترک کیا جائے۔ یہ کہتے ہوئے کہ اس سے ہٹنے کا مطلب یہ ہوگا کہ ’’نسلی امتیاز‘‘ کو جوں کا توں رہنے دیا جائے۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن لانے کے کام کے لیے تیار ہیں، لیکن بالآخر سمجھوتے تک پہنچنا خود فریق پر منحصر ہوگا۔ٹرمپ نے کہا کہ ’’امریکا امن کی حوصلہ افزائی کرے گا، جو یقینی طور پر ایک بہترین امن سمجھوتا ہوگا‘‘۔ٹرمپ کے بقول، ’’ہم اس پر بہت ہی، بہت ہی یکسوئی سے کام کریں گے۔ لیکن یہ خود فریق پر منحصر ہے، جنھیں سمجھوتے کے لیے براہِ راست مذاکرات کرنے ہوں گے‘‘۔
دوسری جانب ا سرائیل فلسطین کے دیرینہ تنازع پر سلامتی کونسل کے اجلاس میں پہلی بار شرکت کرنے کے بعد امریکی سفیر نکی ہیلی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہم “دو ریاستی حل کی حمایت کرتے ہیں۔”اقوام متحدہ میں امریکا کی سفیر نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ مکمل طور پر اسرائیل فلسطین تنازع کے2 ریاستی حل کی حمایت کرتی ہے۔کوئی بھی جو یہ کہنا چاہتا ہے کہ امریکا دو ریاستی حل کی حمایت نہیں کرتا، یہ (کہنا) ایک غلطی ہے۔فلسطین اسرائیل کی صورت حال کے بارے میں سلامتی کونسل کا معمول کا ماہانہ اجلاس، اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی واشنگٹن میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کے ایک روز بعد ہوا۔مشترکہ نیوز کانفرنس میں صدر ٹرمپ نے بظاہر ایسا تاثر دیا کہ انہیں، “(اسرائیل فلسطین) تنازع کا ایک یا دو ریاستی حل قبول ہو سکتا ہے۔ “اس سے بظاہر امریکا کی دو دہائیوں سے جاری امریکا کی پالیسی میں تبدیلی کا تاثر ملتا ہے۔بین الاقوامی برادری کئی سال سے اسرائیل اور فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل کی حامی رہی ہے۔نکی ہیلی نے یہ بات کئی بار دہرائی کہ “ہم مکمل طور پر دو ریاستی حل کی حمایت کرتے ہیں۔””تاہم ہم اس کو ایک نئے زاویہ سے بھی دیکھ رہے ہیں جس سے ان دو فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے، جو کچھ ہم کریں ہمیں انہیں اس پر رضامند کرنا ہو گا۔”انہوں نے کہا کہ بالآخر کوئی بھی حتمی حل اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے آنا ہو گا اور “امریکا صرف اس عمل کی حمایت کر سکتا ہے۔”مشرق وسطیٰ کے امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی رابطہ کار نکولے ملاڈینوو نے کہا کہ “دونوں عوام کی جائز قومی امنگوں کے حصول کے لیے دو ریاستی حل ہی واحد راستہ ہے۔”یروشلم سے وڈیو لنک کے ذریعے ملاڈینوو نے سلامتی کونسل کے ارکان کو بتایا کہ ہر فریق خیر سگالی کے جذبہ کا اظہار کر سکتا ہے، اسرائیلی بستیوں کی تعمیر اور توسیع کو روک کر اور فلسطینی تشدد اور اس پر اکسانے والی صورت حال سے نمٹ کر۔ انہوں نے کہا ایسے اقدام سے ایک فضا قائم ہو سکتی ہے جو کسی حتمی حل کے لیے دو طرفہ مذاکرات کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔دوسری طرف اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے قاہرہ کے دورے کے دوران نامہ نگاروں کو بتایا کہ دو ریاستی حل ہی ایک راستہ ہے اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔
اقوام متحدہ میں فلسطینی مندوب ریاض منصور نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ “صدر (محمود) عباس نے گزشتہ روز کہا کہ وہ دو ریاستی حل بشمول سلامتی کونسل کی قرار داد 2334 پر عمل درآمد کے عزم پر قائم ہیں۔”
وائٹ ہاؤس کے ترجمان شان سپائسر نے کہا کہ اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ یہ خیال نہیں کرتی کہ بستیوں کی موجودگی امن کی راہ میں رکاوٹ ہے لیکن نئی بستیوں کی تعمیر کے بارے میں ابھی کوئی سرکاری موقف اختیار نہیں کیا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کی طرف سے اسرائیلی ریاست کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے بات چیت آگے نہیں بڑھ رہی ہے۔واضح رہے کہ اسرائیل کی سیکورٹی فورسز مغربی کنارے میں تعمیر کی گئی ایک غیر قانونی بستی میں موجود لوگوں کو وہاں سے نکال رہی ہیں۔ امونا میں باقی رہ جانے زیادہ تر لوگوں نے ایک یہودی عبادت گاہ میں پناہ لی ہوئی ہے۔اسرائیلی پولیس نے گزشتہ روزجب اس بستی کو صاف کرنے کا کام شروع کیا، تو انہیں یہاں کے سیکڑوں مکینوں کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جنہوں نے رکاوٹیں کھڑی کر کے پولیس پر پتھرئوکیا۔مظاہرین نے پولیس پر آوازیں کستے ہوئے کہا کہ”یہودی یہودیوں کو بے دخل نہیں کرتے۔” اس واقعہ میں تقریباً 20 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔اسرائیل کی سپریم کورٹ نے 2014 میں فیصلہ دیا تھا کہ امونا کی بستی ایک نجی فلسطینی زمین پر تعمیر کی گئی تھی اور اسے گرا دیا جائے۔ دوسری طرف قدامت پسند اسرائیلی عہدیدار اس فیصلے کو تبدیل کروانے کے لیے کوشاں رہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کیا جانا چاہیے، جس کا اپنی انتخابی مہم کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا۔نیتن یاہو کا اپنی کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں یہ بیان بظاہر اْن خبروں کو مسترد کرتا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ایسے کسی اقدام سے پیدا ہونے والے نتائج پر اسرائیل میں تشویش پائی جاتی ہے، جس کی فلسطینی شدید مخالفت کرتے ہیں اور جس کے نتیجے میں تشدد کی نئی لہر پیدا ہوگئی ہے۔اِس سے ایک ہی روز قبل نیتن یاہو نے میکسیکو کی سرحد کے ساتھ دیوار تعمیر کرنے کے ٹرمپ کے مطالبے کی یکطرفہ تائید کی تھی، یہ کہتے ہوئے کہ اسی طرح کی ایک مثال یہ ملتی ہے کہ اسرائیل نے مصر کی سرحد کے ساتھ دیوار کھڑی کی تھی، جس کے کامیاب نتائج برآمد ہوئے ہیں۔نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ہماراہمیشہ سے ہی یہ موقف رہا ہے، اور اب بھی یہی موقف ہے کہ امریکا کا سفارت خانہ بیت ا لمقدس ہی میں ہونا چاہیے۔
ٹرمپ کے اقتدار میں آنے سے اسرائیل کے قوم پرستوں کو تقویت ملی ہے۔ اْن کی انتخابی مہم کے دوران فلسطینی ریاست کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا، جو کہ خطے میں2 دہائیوں سے جاری بین الاقوامی سفارت کاری کا مرکزی نقطہ رہا ہے، اور اْنھوں نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب سے بستیوں کی تعمیر کے معاملے پر اپنے پیش روئوں کے برعکس زیادہ برداشت کا مظاہرہ کریں گے۔ اسرائیل کے لیے اْن کے نامزد سفیرڈیوڈ فرائڈمن اور اْن کے دامادجریڈ کْشنرجو اب مشرق وسطیٰ کے ایلچی اور اْن کے چوٹی کے مشیر ہیں، اْن کے نو آبادکاری کی تحریک سے گہرے مراسم ہیں۔ فرائڈمن اور کْشنر کی خاندانی تنظیم ‘بیت اللہ کی بستی کی تعمیر کے لیے دل کھول کر چندہ دیتے رہے ہیں، جب کہ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں آباد کاروں کے نمائندوں پر مشتمل ایک وفد کو مدعو کیا گیا تھا۔فلسطینی مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس کو اپنے مستقبل کی ریاست کا حصہ گردانتے ہیں، جن پر 1967 کی مشرق وسطیٰ کی لڑائی کے دوران اسرائیل نے قبضہ کر لیا تھا۔ باقی بین الاقوامی برادری کی طرح سابق صدر بارک اوباما بستیوں کی تعمیر کو امن کی راہ میں رکاوٹ خیال کرتے تھے۔

جمال احمد


متعلقہ خبریں


امریکا ،ایران میں دوبارہ مذاکرات کی تیاری،اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

ایران کے بعد امریکا کی ترجیح پاکستان بن گیا، امریکی صدر نے آئندہ دو روز میں مذاکرات کا اشارہ دے دیا،ہم پاکستان جانے پر زیادہ مائل ہیں،فیلڈ مارشل عاصم منیر لاجواب آدمی ہیں مذاکرات ممکنہ طور پر جمعرات کو اسلام آباد میں منعقد ہو سکتے ہیں، دونوں فریقین اہم تنازعات پر بات چیت جاری رک...

امریکا ،ایران میں دوبارہ مذاکرات کی تیاری،اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

پیٹرولیم لیوی ٹیکس عوام پر ظلم ، عدالت سے رجوع کرینگے،حافظ نعیم وجود - بدھ 15 اپریل 2026

کھرب پتی طبقہ ٹیکس بچا رہا ہے موٹرسائیکل چلانیوالا عام شہری ٹیکس ادا کر رہا ہے عوام ایک لیٹر پیٹرول پر تقریباً سوا سو روپے ٹیکس ادا کر رہے ہیں، پریس کانفرنس حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی ٹیکس کے معاملے پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا کیونکہ یہ عوام کے ساتھ ...

پیٹرولیم لیوی ٹیکس عوام پر ظلم ، عدالت سے رجوع کرینگے،حافظ نعیم

حکومت کا روزانہ 2 گھنٹے 15 منٹ لوڈشیڈنگ کا فیصلہ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

شام 5بجے سے رات ایک بجے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جائے گی، پاور ڈویژن بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کیلئے مہنگے ایندھن کے استعمال کو کم سے کم رکھا جا سکے ترجمان پاور ڈویژن نے کہاہے کہ بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کے لیے شام 5بجے سے رات 00:1بجے تک روزانہ 2 گھنٹے15،منٹ تک بجلی کی لوڈشیڈنگ ...

حکومت کا روزانہ 2 گھنٹے 15 منٹ لوڈشیڈنگ کا فیصلہ

عمران خان کی صحت اور قید تنہائی تشویشناک قرار وجود - بدھ 15 اپریل 2026

قید تنہائی کسی بھی قیدی کیلئے انتہائی سخت سزا ، امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے بانی پی ٹی آئی کے مطابق ان کی آنکھ میں کوئی بہتری نہیں آئی، سلمان صفدر بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل کی صحت اور قید تنہائی کی صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔لاہور ہائیکورٹ بار می...

عمران خان کی صحت اور قید تنہائی تشویشناک قرار

گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس، خریداری مہم تیز کرنے کی ہدایت سبسڈی لینے والے آبادگاروں سے گندم خریدی جائے، تمام اضلاع میں مراکز فعال کیے جائیں کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس ہوا، چھوٹے آبا...

گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ

پاک فضائیہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار،نیول چیف وجود - بدھ 15 اپریل 2026

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن ہوئی ایڈمرل نوید اشرف کا ایٔر فورس اکیڈمی میںکیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ کی تقریب سے خطاب چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن...

پاک فضائیہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار،نیول چیف

ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا،جے ڈی وینس وجود - بدھ 15 اپریل 2026

ایران کیساتھ مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی، گیند اب تہران کے کورٹ میں ہماری تمام ریڈ لائنز اسی بنیادی اصول سے نکلتی ہیں،امریکی نائب صدر کا انٹرویو امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے...

ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا،جے ڈی وینس

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی وجود - منگل 14 اپریل 2026

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 14 اپریل 2026

مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 14 اپریل 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید وجود - منگل 14 اپریل 2026

دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری وجود - منگل 14 اپریل 2026

واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری

مضامین
مذاکرات سے مثبت امیدیں وجود بدھ 15 اپریل 2026
مذاکرات سے مثبت امیدیں

بھارتی شہری اپنے ہی ملک میں غیر محفوظ وجود بدھ 15 اپریل 2026
بھارتی شہری اپنے ہی ملک میں غیر محفوظ

خلیج ِ فارس کی جغرافیائی حقیقت اورتوانائی کی عالمی سیاست وجود بدھ 15 اپریل 2026
خلیج ِ فارس کی جغرافیائی حقیقت اورتوانائی کی عالمی سیاست

اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں

اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر