وجود

... loading ...

وجود

فلسطینیوں کی جیت ،اسرائیل فیصلے پر سیخ پا

بدھ 28 دسمبر 2016 فلسطینیوں کی جیت ،اسرائیل فیصلے پر سیخ پا

دنیا بھر کے آزادی اورامن پسند عوام نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل کیخلاف قرارداد کی منظوری کو ایک انہونی کی طرح دیکھا۔اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ فلسطین میں یہودیوں کی آبادکاری روکنے کے حوالے سے فیصلے پر فلسطین قومی و اسلامی قوتوں کے اتحاد نے اس فیصلے کے بعد فلسطینیوں کے معاملے کو عالمی عدالت لے جانے کی اپیل کی ہے جبکہ اسرائیل اس معاملے پر سیخ پا ہے ،قومی سلامتی میں قرارداد منظور ہونے کے بعدگزشتہ دنوں اسرائیل میں موجود امریکی سفیر کو طلب کیا ، یہ ملاقات سلامتی کونسل میں اسرائیلی یہودی بستیوں کی مذمت سے متعلق قرارداد پیش ہونے کے دو روز بعد ہوئی۔ امریکا نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جس کے نتیجے میں قرارداد بآسانی منظور ہو گئی تھی۔اسرائیلی وزیراعظم اور امریکی سفیر کی ملاقات سے قبل اسرائیلی وزارت خارجہ نے سلامتی کونسل کی اس تاریخی رائے شماری میں قرارداد کی تائید کرنے والے ممالک کے نمائندوں کو طلب کیا تھاجبکہ انہوںنے اپنی کابینہ کے اجلاس میں دھمکی دی تھی کہ سلامتی کونسل میں مذکورہ قرارداد کے منظور کیے جانے کے بعد اسرائیل اب اقوام متحدہ کے ساتھ اپنے تعلق کا از سر نو جائزہ لے گا۔
اسرائیلی کابینہ کے اجلاس میں نیتن یاہو نے سلامتی کونسل میں اس قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے ممالک کو بھی ایک مرتبہ پھر سے دھمکی دی۔ دوسری جانب فلسطینیوں کے ساتھ سول کو آر ڈی نیشن کا سلسلہ بھی روک دیا ہے۔
الفتح، حماس اور جہادِ اسلامی گروہوں کی چھت تلے جمع فلسطین کے قومی و اسلامی قوتوں کے اتحاد کی جانب سے اعلامیے میں اشارہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل کو مذکورہ قرار داد پر عمل درآمد پر مجبور کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے اوررہائشی بستیوں کی تعمیر کے معاملے کے فلسطینی عوام کے خلاف سر زد کردہ ایک جنگی جرم ہونے کی بنا پر اس معاملے کو عالمی فوجداری عدالت میں لیجانے کی اپیل کی گئی ہے ۔
قبل ازیں امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی اس فیصلے کی شدید مخالفت کی ہے۔ٹرمپ نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ ’’انہیں اس فیصلے پر افسوس ہے، اقوام متحدہ ایک اچھی استعداد کا مالک ایک ادارہ ہے تا ہم اب یہ لوگوں کے یکجا ہوکرگپ شپ لگانے اور وقت گزارنے کا کلب بن چکا ہے۔
حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ خالد مشعل نے ترکی میں یدی ہلال سوسائٹی کی طرف سے’’ بین الاقوامی استنبول ڈیبیٹس فورم ــ‘‘کے فلسطین کے عنوان سے منعقدہ اجلاس میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل کی غیر قانونی رہائشی بستیوں کی تعمیر کو روکنے سے متعلق فیصلہ فلسطینی عوام کے اعتماد کی بحالی کا مفہوم رکھتا ہے۔اجلاس سے خطاب میں خالد مشعل نے سلامتی کونسل میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ فلسطین میں رہائشی بستیوں کی تعمیر کو فوری اور مکمل طور پر بند کرنے کے مطالبے پر مبنی فیصلے کا جائزہ لیا۔اقوام متحدہ کے اپنی تاریخ میں پہلی دفعہ فلسطینی زمین پر قابضین کے خلاف کوئی فیصلہ کرنے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم اس منصفانہ فیصلے کو قبول کرتے ہیں اور سلامتی کونسل سے اس معاملے میں مزید فیصلوں کی توقع رکھتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق سلامتی کونسل میں اسرائیل کے خلاف قرارداد کی منظوری امریکا کے صدر بارک اوباما کی جانب سے اس قرارداد کی پس پردہ حمایت کی وجہ سے ممکن ہوسکی ،اس لیے اس کی منظوری کاسہرا بڑی حد تک بارک اوباما کے سر جاتاہے جنھوں نے اپنے عہدے کی میعاد ختم ہونے سے چند دن قبل نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت اور دبائو کی پروا نہ کرتے ہوئے اس قرارداد کی منظوری کو یقینی بنانے کے لیے اس موقع پر قرارداد کو ویٹو کرنے سے گریز کیا، اگر بارک اوباما ایسا نہ کرتے اور قرارداد کو ویٹو کرنے کے بجائے اس پر رائے شماری ہی ملتوی کرادیتے تو شاید اگلے 4سال تک یہ قرارداد منظور نہ ہوسکتی اوران 4برسوں کے دوران اسرائیل فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں نا معلوم اور کتنی بستیاں تعمیر کرکے مقامی فلسطینیوں کو دربدر کرنے میں کامیاب ہوجاتا کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ان قراردادوں کامنظور ہونا ناممکن تھا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کے خلاف اس قرارداد کی منظوری نے پوری اسرائیلی قیادت کو چکرا کر رکھ دیاہے ، اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اس قرارداد کی منظوری کو براہ راست امریکی صدر بارک اوباما کی اسرائیلی دشمنی کاشاخسانہ قرار دیاہے۔واضح رہے کہ جمعہ 23 دسمبر کو سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ فلسطین کی زمین پر بستیوں کی تعمیر کے خلاف قرارداد منظور کی تھی جس میں اسرائیل سے بستیوں کی تعمیر ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ فلسطین کی زمین پر بستیوں کی تعمیر کے خلاف قرارداد منظور کرلی، جس میں اسرائیل سے بستیوں کی تعمیر ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ سلامتی کونسل میں قرارداد کو پیش کیے جانے کے وقت عالمی سفارتکار اوباما انتظامیہ کی جانب سے خوف زدہ تھے مگر امریکا نے ووٹنگ سے پرہیز کرتے ہوئے قرارداد کو منظور کرنے کی راہ کھلی چھوڑ دی۔قرارداد کے حق میں 14 رکن ممالک نے ووٹ دیے اور قرارداد کو تالیاں بجاکر منظورکیا گیا۔خیال رہے کہ سلامتی کونسل کی جانب سے گزشتہ 8 سال کے بعد فلسطینیوں اور اسرائیل سے متعلق کوئی قرارداد پاس کی گئی ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بھی اپنی روایتی یہود نوازی کااظہار کرتے ہوئے امریکی صدر بارک اوباما کو ہدف تنقید بنایا ہے اور اس قرارداد کی منظوری کے بعد لکھا کہ امریکا نے اسرائیل کو پیش کی جانے والی اپنی روایتی سفارتی خدمات کے اصولوں کو توڑتے ہوئے اس بار ویٹو کا حق استعمال نہیں کیا اور نہ ہی نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل کا دبائو برداشت کیا۔
اسرائیلی بستیوں کے خلاف منظور کی جانے والی قرارداد سلامتی کونسل کے ارکان نیوزی لینڈ، ملائیشیا، وینزویلا اور سینیگیال کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔اس سے قبل مصر کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد اسرائیلی اور امریکی دبائو پر واپس لی گئی تھی،اسرائیلی حکومت اور ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی انتظامیہ پر قرارداد کو ویٹو کرنے کے لیے زور دیا تھا۔ اسرائیل مخالف قرارداد میں امریکا کی جانب سے ووٹنگ میں حصہ نہ لینے کو بارک اوباما کی جانب سے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے درمیان کشیدہ تعلقات کو ثابت کرنے کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ بارک اوباما کا خیال تھا کہ اسرائیلی بستیاں امن کوششوں میں بڑی رکاوٹ ہیں، اس لیے بالآخر انہوں نے ووٹنگ میں حصہ نہ لے کر اس بات کو ثابت کردیا۔
اسرائیل کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں منظور کی جانے والی اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل فوری طور مقبوضہ فلسطین کی زمینی حدود سمیت مشرقی بیت المقدس میں بستیوں کی تعمیرات بند کرے۔قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے یہودیوں کے لیے تعمیر کی جانے والی بستیوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور یہ کوششیں عالمی قوانین کی عین خلاف ورزی ہیں۔قرارداد کی منظوری کے لیے 9 ووٹ مطلوب تھے لیکن اس کی منظوری کے لیے امریکا، برطانیہ، فرانس، روس اور چین کے ووٹوں کی ضرورت نہیں تھی۔فلسطینی مغربی کنارے،غزہ اور مشرقی یروشلم کو آزاد ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں،ان علاقوں پراسرائیل نے 1967 کی جنگ کے بعد قبضہ کرلیا تھا۔اسرائیل کا موقف ہے کہ بستیوں کی تعمیرات سے متعلق حتمی فیصلہ بھی ان مذاکرات میں حل کیا جائے گا جب فلسطین کی خودمختاری کے مذاکرات کیے جائیں گے۔
خارجہ امور اور سیکورٹی پالیسی کے لیے یورپی یونین کے اعلی نمائندے کیتھرین ایشٹن نے کہا ہے کہ یورپی یونین اسرائیل کے منصوبے کی مذمت کرتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ یہ بین الااقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔دوسری جانب روس نے مشرقی القدس میں اسرائیلی حکام کی جانب سے 1500 سے زائد گھروں پر مشتمل نئی آباد کاری کے منصوبے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس سمیت عالمی برادری کے دیگر ممبران فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے غیر قانونی آباد کاری کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ، برطانیہ اور روس نے فلسطینی علاقوں میں نئی یہودی بستیوں کے منصوبے مسترد کرتے ہوئے تعمیری منصوبے کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔انہوں نے فلسطینی علاقوں میں یہودیوں کے لیے نیا رہائشی منصوبہ غیر قانونی، غیر آئینی اور عالمی قوانین کے منافی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم فوری طور پر فیصلہ واپس لیں۔

جمال احمد


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر