... loading ...

بیلسٹک میزائلوں کی تعداد میں اضافے کیلئے کوشاں ممالک میں بھارت ، شمالی کوریا، اسرائیل، ایران اور پاکستان شامل ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شمالی کوریا کی جانب سے گزشتہ دنوں نئے بیلسٹک میزائلوں کا کامیاب تجربہ کیا گیا۔شمالی کوریا نے دعویٰ کیاہے کہ اس کے تیار کردہ نئے بیلسٹک میزائل بایولوجیکل اور ایٹمی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان کے ذریعہ ٹوکیو اور سیئول کو چشم زدن میں نشانا بنایاجاسکتاہے۔شمالی کوریا کی جانب سے نئے میزائلوں کے ان تجربات اور ان کی کامیابی اور ہدف کے بارے میں اس کے دعوے سے یہ اندازا ہوتاہے کہ اب دنیا میں میزائلوں کی ایک نئی دوڑ شروع ہوگئی ہے ،جس سے پوری دنیا میں فوجی عدم توازن مزید وسیع ہونے کا خطرہ پیداہوگیاہے اور ظاہر ہے کہ اس عدم توازن کو دور یا کم کرنے کیلئے متعلقہ ممالک کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں پوری دنیا میں نہ صرف یہ کہ میزائلوں کی تیاری بلکہ اس کے حصول کی ایک نئی دوڑ شروع ہوجائے گی جس سے فوجی عدم توازن میں نہ صرف یہ کہ کمی آنے کاکوئی امکان نہیں ہے بلکہ اس کے نتیجے میں مختلف ممالک کی سلامتی کو لاحق خطرات میں اضافہ ہوگا اور جنگ کے امکانات بڑھتے چلے جائیں گے۔
شمالی کوریا کی جانب سے نئے دورمار میزائلوں کے کامیاب تجربے سے یہ بھی ثابت ہوتاہے کہ ایٹمی اور مہلک اسلحہ کو کنٹرول میں رکھنے کیلئے اب تک ہونے والے بین الاقوامی معاہدے اور اس حوالے سے عالمی سطح پر کی جانے والی سفارتی کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔عالمی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق 2015 کے دوران دنیا بھر میں میزائلوں کی نئی دوڑ کا آغاز ہواہے اور دنیا کے چند انتہائی حساس ممالک نے جدید بیلسٹک میزائل حاصل کرنے یا انھیں تیار کرنے کیلئے نمایاں پیش رفت کی ہے جس کے نتیجے میں آج دنیا کے کم وبیش 30ممالک بیلسٹک میزائل یا تو کسی بھی ذریعے سے حاصل کرچکے ہیں یا اپنے طورپر یا اپنے کسی دوست ملک کی مدد اور تعاون سے بیلسٹک میزائل تیار کرنے کی ٹیکنالوجی حاصل کرکے یہ میزائل خود تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کرچکے ہیں اس طرح گزشتہ دو برسوں کے دوران میں بیلسٹک میزائلوں کا حصول کسی بھی ملک کیلئے اسٹیٹس سمبل کی حیثیت اختیار کرگیاہے ۔
ایٹمی اور بایولوجیکل اسلحہ لے جانے والے بیلسٹک میزائلوں کی بہتات اور ان میزائلوں کو پہلے سے زیادہ مہلک بنانے کی کوششیں پوری امن پسند دنیا کیلئے ایک چیلنج ہیں ۔واضح رہے کہ میزائل ٹیکنالوجی کو ترقی دینے کاعمل سرد جنگ کے دورمیں شروع ہواتھا۔ اس دور میں بڑی طاقتیں خاص طورپر روس اور امریکا دورماربیلسٹک میزائلوں کو اپنے دفاع کیلئے ضروری تصور کرتے تھے ،اور روس اورامریکا کے پاس موجود بیلسٹک میزائلوں کی تعداد ہی ان کی فوجی قوت کا پیمانہ تھی،لیکن بعد میںیعنی سرد جنگ کے آخری عشرے کے دوران میں دونوں بڑی طاقتوں یعنی روس اور امریکا نے بیلسٹک میزائلوں کی اس دوڑ کو روکنے کی ضرورت محسوس کی اور دورمار بیلسٹک میزائلوں کی تعداد کو محدود کرنے اورا ن کی تیاری روکنے کیلئے سفارتی کوششوں کا آغاز کیاگیااور 1987 میں امریکا اور روس کے درمیان ایک معاہدہ طے پاگیا جسے درمیانے فاصلے یعنی ایک ہزار سے ڈیڑھ ہزار کلو میٹر تک فاصلے تک مار کرنے والے ایٹمی میزائلوں کے پھیلائو کو روکنے کے معاہدے کانام دیاگیا،اور اس کے تحت اس قسم کے میزائل رکھنے کی ممانعت کی گئی اس کے ساتھ ہی کم فاصلے یعنی 500سے1000 کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری اور انھیں ذخیرہ کرنے پر بھی پابندی کاایک معاہدہ طے پاگیا۔ اسی سال میزائل ٹیکنالوجی پر کنٹرول کا ایک ادارہ بھی قائم کردیاگیاجس کامقصد 300کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری پر نظر رکھنا اور ان کی روک تھام کرنا تھا۔سوویت یونین کی شکست وریخت کے بعد بھی میزائل ٹیکنالوجی پر کنٹرول اور انھیں محدود رکھنے کے یہ معاہدے قائم رہے لیکن اس کے باوجود 5بڑی طاقتوں چین ،امریکا ،برطانیا ،جرمنی اور فرانس کے پاس بیلسٹک میزائلوں اور آبدوزوں کے ذریعے چلائے جانے والے ایٹمی میزائلوں کاایک بہت بڑا ذخیرہ موجود رہا۔ بعد ازاں روس اور امریکانے ایک معاہدے کے تحت اپنے تمام دور مار میزائل تلف کرنے کاایک معاہدہ کیا جس کے تحت بظاہر دونوں ممالک نے اپنے بیلسٹک میزائلوں کا بڑا ذخیرہ تلف کردیا۔لیکن روس اور امریکا کی جانب سے بیلسٹک میزائلوں کی تعداد میں کمی کی ان کوششوں کے باوجود علاقائی طورپر مختلف ممالک کی جانب سے بیلسٹک میزائلوں کے حصول کی کوششوں میں کمی نہیں آئی اورعلاقائی سطح پر بیلسٹک میزائلوں کے حصول اور تیاری کاسلسلہ جاری رہا ۔بیلسٹک میزائلوں کے تجربات میں مصروف اور ان کی تعداد میں اضافے کیلئے کوشاں ممالک میں بھارت ، شمالی کوریا، اسرائیل، ایران اور پاکستان شامل ہیں۔
اس صورتحال کے پیش نظر اب عالمی برادری بڑی طاقتوں کی ایما پر جنگ پر آمادہ یا برسرپیکار ممالک کے بیلسٹک حملوں سے دوسرے ممالک کو تحفظ دینے اور ان بیلسٹک میزائل بردار ممالک کو ان میزائلوں کو استعمال نہ کرنے پر آمادہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے لیکن شمالی کوریا کی جانب سے بیلسٹک میزائلوں کے تا زہ ترین تجربات سے ظاہر ہوتاہے کہ اس حوالے سے اب تک سفارتی سطح پر کی جانے والی تمام تر کوششیں رائیگاں گئی ہیں۔
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ شمالی کوریا کے پاس ایسی میزائل ٹیکنالوجی اور ایسے دورمار بیلسٹک میزائلوں کا ذخیرہ موجود ہے جو ایٹمی اور بایولوجیکل اسلحہ سے بھی ہدف کو نشانابنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور جیسا کہ اوپر بیان کیاگیا کہ شمالی کوریا اپنے میزائلوں کے ذریعے چشم زدن میں ٹوکیو اورسیئول کو نشانا بناسکتاہے۔دوسری طرف مشرق وسطیٰ میں اسرائیل ایک ایسا منہ زور اور سرکش ملک ہے مغربی طاقتوں نے جسے ایٹمی اسلحہ کے ساتھ ہی دور مار میزائل ٹیکنالوجی سے بھی آراستہ کردیاہے اور اس کے جیریکو تھرڈ نامی بین البراعظمی میزائل دنیا کے کسی بھی ملک کو نشانا بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔یہی نہیں بلکہ تجربات سے یہ بھی ظاہرہوا ہے کہ بعض ایسی قوتیں بھی ہیں جنھوں نے بیلسٹک میزائل حاصل کررکھے ہیں ۔ اس کا ایک ثبوت 2006 کے دوران اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی کے دوران میں اس وقت سامنے آیا جب حزب اللہ نے اسرائیل کے کئی ٹھکانوں کومیزائلوں کانشانا بناکر دنیا کو دنگ کردیاتھا۔اس کے علاوہ شام کی سرکاری فوجوں نے باغیوں کے ساتھ لڑائی کے دوران میں حال ہی میں باغیوں کے بعض مضبوط ٹھکانوں کوتباہ کرنے کیلئے بیلسٹک میزائل استعمال کرکے یہ ثابت کیاہے کہ شام کے پاس بھی بیلسٹک میزائل موجود ہیں اوروہ ضرورت پڑنے پر انھیں مخالفین کے خلاف استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا ۔جہاں تک برصغیر کاتعلق ہے تو پوری دنیا جانتی ہے کہ بھارت کی ہوس ملک گیری اور جنگ جویانہ پالیسی نے اس پورے خطے کو اسلحہ کی دوڑ میں مبتلا کررکھا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو بھی اپنی سلامتی و یکجہتی کو یقینی بنانے کیلئے اپنا دفاع مضبوط کرنے اوربھارت کے مقابلے میں کم از کم دفاعی طاقت برقراررکھنے کیلئے بیلسٹک میزائل سمیت جدید ترین اسلحہ کے حصول اور تیاری پر مجبو ر ہونا پڑرہاہے ،اور
پاکستان کی جانب سے بھارت کے جنگی جنون کی وجہ سے اس خطے میں پیدا ہونے والی دھماکا خیز صورت کی بار بار نشاندہی کے باوجود بڑی طاقتیں جن میں امریکا اور روس سرفہرست ہیں بھارت کواسلحہ کی دوڑ سے روکنے کیلئے اقدامات کے بجائے اس کے ساتھ اپنے تجارتی اور معاشی مفادات کو مستحکم کرنے کیلئے اسے اسلحہ کے انبار فروخت کرنے کے معاہدے پر معاہدے کیے جارہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب تک یہ صورتحال برقرار ہے دنیا کو مہلک اسلحہ سے پاک کرنے اور عالمی امن کو یقینی بنانے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی۔
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...
مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...
دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...
واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...
ایران کے ساتھ ملاقات اچھی رہی ، جوہری معاملے کے علاوہ اکثر نکات پر اتفاق ہوا،امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے آنے جانیوالے بحری جہازوں کو روکنے کا عمل فوری شروع کر دے گی یہ عالمی بھتا خوری ہے امریکا کبھی بھتا نہیں دے گاجو کوئی غیر قانونی ٹول دے گا اسے محفوظ بحری راستا نہیں ملے گا، ای...
اسلام آباد میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں بھارت کی سفارتی ناکامی پر کانگریس نے نام نہاد وشوا گرو مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں۔ مودی کو ہرطرف سے تنقید کا سامنا ہے۔خلیجی جنگ کے تناظر...
مذاکرات ناکام ہوئے توہم اسرائیل میں ایسے ہی گھُس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے، اسرائیل نے سیزفائر کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کیے اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائیں گے، فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی فیصلہ اور ہٹلر کی یہودی مخالف پالیسیوں میں کوئی فر...
اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل،فریقین محتاط،پرامید،کاغزات کا تبادلہ ،ٹیکنیکی گفتگو آج مذاکرات کے پہلے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، دوسرے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہِ ر...
سعودی وزیر خزانہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ اور اخراجات کے پیش نظر پاکستان کو مالی مدد کا یقین دلایا پاکستان کی سعودی عرب سے مزید مالی امداد کی درخواست ، نقد ڈپازٹس میں اضافہ اور تیل کی سہولت کی مدت میں توسیع شا...
علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی کوششیں مثبت پیشرفت ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن علاقائی استحکام کیلئے تعمیری کردار ہے، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حالیہ سفارتی کوششوں کو علاقائی کشیدگی میں کمی، پائیدار امن اور ع...
اسرائیل نے گزشتہ 40دنوں میں سے 36دن غزہ پر بمباری کی،عرب میڈیا 23ہزار 400امدادی ٹرکوں میں سے 4ہزار 999ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ایران جنگ کے دوران اسرائیل نے گزشتہ 40 دنوں میں سے 36 دن غزہ پر بمباری کی۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 107 فلسطینی شہید او...