... loading ...

میں ان کی مذمت کرتا ہوں،میں انھیں مسترد کرتا ہوں،میں اس تنظیم کو تقویت نہیں دوں گا، جس میں نیو نازی، سفید قوم پرست اور یہود دشمن شامل ہیں،ٹرمپ کانیویارک ٹائمز کو انٹرویو
مسلمانوں کی کڑی نگرانی کا خطرہ،خودکار پولنگ نظام کے ذریعے کی جانے والی کالز میں مسلمانوں سے کہا جارہا ہے کہ اگر وہ مسلمان ہیں تو ایک دبا کر اس کی تصدیق کریں،مسلم کمیونٹی میں ہراس
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ان کالز کی وجہ سے بعض مسلمان پریشان ہیںاور وہ سمجھ رہے ہیں کہ نو منتخب امریکی صدر اپنی صدارتی مہم کے دوران امریکی مسلمانوں کی رجسٹریشن کے حوالے سے کیے گئے وعدے یا دھمکی کی تکمیل کرنے والے ہیں ۔ جبکہ یہ فون کالز درحقیقت امریکی مسلمانوں کی بہتری کے لیے کام کرنے والے ایک غیرمنافع بخش ادارے ایمرج یو ایس اے کی جانب سے ایک سروے کے لیے کی جارہی ہیں۔ورجینیا میں اس ادارے کی ڈائریکٹر سارا کے مطابق ان کے ادارے نے 8 نومبر کے بعد سے مسلمانوں کے تجربات اور نظریات جاننے کے لیے ان کالز کا سلسلہ شروع کیا۔سارا کا کہنا ہے کہ انہیں کالز ریسیو کرنے والے متعدد افرادکو یقین دہانی کرانی پڑی کہ یہ فون کال ایمرج یو ایس اے ادارے کی جانب سے شروع کیے جانے والے پول کے سلسلے میں کی گئی ہیں اور کوئی مسلمان مخالف گروپ ادارے کا نام استعمال کرکے یہ معلومات حاصل نہیں کررہا
نومنتخب امریکا صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نسل پرست ‘آلٹ رائٹ’ گروپ سے لاتعلقی ظاہر کی ہے جس نے ان کی جیت کی خوشی نازی سیلوٹ کر کے منائی تھی۔ تاہم ان کے سابقہ اور صدر منتخب ہونے کے بعد ان کے حوالے سے سامنے آنے والے بعض بیانات کی وجہ سے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں میں پیدا ہونے والی بے چینی اور اضطراب دور نہیں ہوسکاہے ۔ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ دنوں نیویارک ٹائمز کو ایک انٹرویو میں کہا کہ میں ان کی مذمت کرتا ہوں،میں انھیں مسترد کرتا ہوں۔انھوں نے کہا کہ وہ اس تنظیم کو تقویت نہیں دیں گے، جس میں نیو نازی، سفید قوم پرست اور یہود دشمن شامل ہیں۔ واشنگٹن ڈی سی میں آلٹ رائٹ گروپ کے حامیوں کو ٹرمپ کی حمایت میں ‘ہیل ٹرمپ کے نعرے بلند کرتے ہوئے فلمایا گیا تھا۔یاد رہے کہ ہٹلر کی حمایت میں ہیل ہٹلر کے نعرے بلند کیے جاتے تھے۔اس ویڈیو میں آلٹ رائٹ تحریک کے سربراہ رچرڈا سپینسر نے کہا کہ امریکا سفید لوگوں کی ملکیت ہے، جو سورج کی اولاد ہیں۔ انھوں نے اس تحریک کے مخالفین کو اس سیارے کی سب سے نفرت انگیز مخلوق قرار دیا۔جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ٹرمپ کی فتح سے سفید فام نسل پرستوں کو شہ ملے گی۔تاہم نیویارک ٹائمز کے ساتھ انٹرویو میں ٹرمپ نے اپنے چیف پالیسی ساز اور برائٹ بارٹ نیوز کے سابق سربراہ اسٹیو بینن کی حمایت کرتے ہوئے ان دعووں کو مسترد کر دیا کہ ان کی کٹر قدامت پسند ویب سائٹ سفید فام نسل پرست تحریک سے تعلق رکھتی ہے۔انھوں نے نیویارک ٹائمز کو بتایا: برائٹ بارٹ محض ایک اخبار ہے۔ وہ ایسے ہی خبریں نشر کرتے ہیں جیسے آپ کرتے ہیں۔ اگر میں سمجھتا کہ وہ نسل پرست ہیں یا آلٹ رائٹ ہیں یا اس قسم کی کوئی بھی چیز ہیں تو میں ان کی خدمات حاصل کرنے کے بارے میں کبھی نہ سوچتا۔اس انٹرویو میں ٹرمپ نے کئی موضوعات پر اظہارِ خیال کیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن قائم کرنے میں مدد دے سکتے ہیںتاہم اس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا کو دنیا میں قوم ساز کا کردار ادا نہیں کرنا چاہیے ۔انھوں نے دعویٰ کیاکہ رپبلکن رہنما مچ میک کونل اور پال رائن اب مجھ سے پیار کرتے ہیں ۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ میں اپنا کاروبار اور ملک دونوں کو بغیر مفادات کے ٹکرائو کے چلا سکتا ہوں ۔انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انسانی سرگرمیوں اور ماحول کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس سے قبل ٹرمپ کی ترجمان نے کہا تھا کہ وہ اپنی حریف ہلیری کلنٹن کی ای میلز کی تحقیقات پر زور نہیں دیں گے۔
دوسری جانب ایک اور اطلاع کے مطابق خودکار پولنگ کالزنے امریکی مسلمانوں کو ایک نئے تذبذب میں مبتلا کردیا ہے ،خود کار پولنگ کے تحت موصول ہونے والی ان کالز سے امریکی مسلمانوں کے سر پر کڑی نگرانی کا خطرہ منڈلانے لگاہے ، اورامریکی مسلمان یہ سوچنے پر مجبور ہورہے ہیں کہ ٹرمپ برسراقتدار آنے کے بعد اسی طرح ان کی نگرانی شروع کراسکتے ہیں۔اطلاعات کے مطابق خودکار پولنگ نظام کے ذریعے کی جانے والی کالز میں مسلمانوں سے کہا جارہا ہے کہ اگر وہ مسلمان ہیں تو ڈائل پیڈ پہ ایک نمبر دبا کر اس کی تصدیق کریں۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، ان کالز کی وجہ سے بعض مسلمان پریشان ہیںاور وہ سمجھ رہے ہیں کہ نو منتخب امریکی صدر اپنی صدارتی مہم کے دوران امریکی مسلمانوں کی رجسٹریشن کے حوالے سے کیے گئے وعدے کو پورا کرنے والے ہیں۔ جبکہ یہ فون کالز درحقیقت امریکی مسلمانوں کی بہتری کے لیے کام کرنے والے ایک غیرمنافع بخش ادارے ایمرج یو ایس اے کی جانب سے ایک سروے کے لیے کی جارہی ہیں۔ورجینیا میں اس ادارے کی ڈائریکٹر سارا کے مطابق ان کے ادارے نے 8 نومبر کے بعد سے مسلمانوں کے تجربات اور نظریات جاننے کے لیے ان کالز کا سلسلہ شروع کیا۔سارا کا کہنا ہے کہ انہیں کالز ریسیو کرنے والے متعدد افرادکو یقین دہانی کرانی پڑی کہ یہ فون کال ایمرج یو ایس اے ادارے کی جانب سے شروع کیے جانے والے پول کے سلسلے میں کی گئی ہیں اور کوئی مسلمان مخالف گروپ ادارے کا نام استعمال کرکے یہ معلومات حاصل نہیں کررہا۔
ڈائریکٹر ایمرج یو ایس اے کے مطابق، ’لوگوں میں پائے جانے والے خوف کی وجہ سے ہمارا سارا کام متاثر ہورہا ہے‘۔امریکی صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد سے امریکا میں مقیم مسلمان کشمکش میں مبتلا ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک حامی کی جانب سے رجسٹریشن کے لیے ان کیمپوں کی مثال دی گئی جہاں جاپانی امریکیوں کو دوسری جنگ عظیم کے دوران قید میں رکھا گیا تھا۔قومی سیکورٹی کے مشیر کے لیے ٹرمپ کے منتخب رہنما مائیکل فلن نے ایک حالیہ ویڈیو میں اسلام کو دنیا میں موجود ایک ارب 70 کروڑ لوگوں کے جسم میں کینسر کی مانندقرار دیاتھا اور کہاتھا کہ اسے کاٹ کر پھینکنا ضروری ہے۔22 نومبر کو کونسل آف امریکن اسلامک ریلیشنز نے اپنے فیس بک اور ٹوئٹر اکائونٹس پہ امریکی مسلمانوں کو موصول ہونے والی خودکار شناختی کالز سے متعلق سوال کیا۔ اسی دوران دیگر امریکی مسلمانوں نے بھی اپنے سوشل میڈیا اکائونٹس کے ذریعے ان کالز پر تشویش کا اظہار کیا۔ایک ریسیور نے فیس بک پر لکھا کہ ’مجھے اندازہ نہیں کہ یہ کوئی فراڈ ہے یا حقیقت لیکن میں اس بارے میں رپورٹ کرچکا ہوں اور اگر آپ کو بھی ایسی فون کال موصول ہوتی ہے تو اسے رپورٹ کریں۔
ایک طرف امریکا میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ذہنوں میں ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے مختلف خیالات ابھر رہے ہیں دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ ان تمام چیزوں سے لاپروا نظر آتے ہیں اور انھوں نے اقتدار سنبھالنے کیلئے ابتدائی تیاریوں کے طورپر اپنی ٹیم کی تیاری شروع کردی ہے ‘امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی کابینہ کی پہلی خواتین اراکین کا اعلان کر دیا ہے۔انھوں نے ریاست جنوبی کیرولائنا کی گورنر نکی ہیلی کو اقوام متحدہ میں امریکی سفیر جبکہ بیٹسی ڈیوس کو وزیرِ تعلیم نامزد کیا ہے۔دونوں خواتین ڈونلڈ ٹرمپ کی شدید ناقدین رہ چکی ہیں۔ ان کے علاوہ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی دوڑکی ابتدا میں ان کے حریف بین کارسن نے بھی اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ انھیں کسی اعلیٰ عہدے پر فائز کیا جائے گا۔فیس بک پر بین کارسن کا کہنا تھا کہ ‘امریکا کو عظیم بنانے میں میرے کردار کے بارے میں ایک اہم اعلان آنے والا ہے۔مڈونلڈ ٹرمپ بھی گزشتہ روز ٹوئٹر پر کہہ چکے ہیں کہ وہ امریکی محکمہ ہائوسنگ اور شہری ترقی کے لیے بین کارسن کے بارے میں سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔یاد رہے کہ گزشتہ روز ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ 20 جنوری کو عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد بھی ضروری نہیں کہ وہ اپنے کاروبار سے رابطہ منقطع کر دیں۔منتخب صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک سینیٹر نے کہا ہے کہ وہ اس بارے میں ایوان میں ایک قرارداد پیش کرنے جا رہے ہیں۔ سینیٹر کے مطابق ان کی اس قرارداد میں مسٹر ٹرمپ سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ یہ ثابت کرنے کے لیے اپنے تمام اثاثوں سے علیحدہ ہو جائیں کہ وہ اپنی صدارت کو کاروباری مقاصد کے لیے استعمال نہیں کریں گے۔اگرچہ امریکی قانون میں ضروری نہیں کہ صدر اپنے کاروباری مفادات سے لا تعلق ہو جائے، تاہم ماضی میں روایت یہی رہی ہے کہ صدر اپنے کاروباری لین دین سے الگ ہو جاتے ہیں۔اپنے تازہ ترین بیان میں نومنتخب صدر نے انتہائی دائیں بازو کے ان کارکنوں سے بھی ایک دفعہ پھر لاتعلقی ظاہر کی ہے جنھوں نے رواں ہفتے مسٹر ٹرمپ اور انتخابات میں ان کی فتح کو ہٹلر کے حامیوں کی طرز پر سلام پیش کیا تھا۔ امریکا میں تھینکس گِونگ کی سالانہ چھٹی گزارنے منتخب صدر ریاست فلوریڈا گئے۔گذشتہ دنوں سے ڈونلڈ ٹرمپ اپنی وہ ٹیم منتخب کرنے میں مصروف ہیں جو دورِ صدارت میں وائٹ ہاوٗس میں ان کی معاونت کرے گی۔امریکی فوج کے مشہور جرنیلوں میں سے ایک، جنرل ڈیوڈ پیٹریئس نے بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اگر انھیں منتخب کیا گیا تو وہ بخوشی صدر ٹرمپ کی ٹیم میں شامل ہو جائیں گے۔روزنامہ نیو یارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے مسٹر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میں بہترین انداز میں اپنی کاروباری ذمہ داریاں نبھانے کے ساتھ ساتھ ملک کو بھی بہترین انداز میں چلا سکتا ہوں۔ میرا خیال تھا اس کے لیے آپ کو کوئی ٹرسٹ وغیرہ بنانا پڑتا ہے، لیکن آپ کو اس کی ضرورت نہیں۔‘تاہم مسٹر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ اپنی دونوں ذمہ داریوں سے الگ الگ عہدہ برا ہونے کے لیے کوئی بندوبست کریں گے۔جہاں تک ڈیموکریٹ سینیٹر بین کارڈن کا تعلق ہے، ان کی خواہش ہے کہ صدر کی سرکاری ذمہ داریاں اور ان کی کاروباری مصروفیات ایک دوسرے سے باقاعدہ الگ رہیں گی۔سینیٹر بین کارڈن اس سلسلے میں آئندہ ہفتے ایک قرارداد پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس میں منتخب صدر سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ آئین کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے ایک ایسا ٹرسٹ بنائیں جو کاروبار کو ان کے سرکاری عہدے سے الگ رکھے تا کہ ان کے کاروباری مفادات ان کی اپنی سرکاری حیثیت سے نہ ٹکرائیں۔
ڈیڈ لائن سے پہلے ڈیل نہ ہوئی تو تب بھی وہ نہ تو جنگ بندی میں توسیع کریں گے اور نہ ہی ایرانی سمندروں کی ناکہ بندی ختم کریں گے، ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کا منصوبہ ختم کرے،امریکی صدر تہران کا وفد امریکا سے مذاکرات کیلئے اسلام آباد نہیں جا رہا ،صدرٹرمپ سنجیدہ نہیں ، دھمکیوں سے باز ...
صورتحال اگر یہی برقرار رہی تو امن کی کوششیں آگے نہیں بڑھ سکیں گی،عاصم منیر کے مشورے پر غور کروں گا( امریکی صدر) دونوں رہنماؤں میں خطے میں جاری کشیدگی پرگفتگو آبنائے ہرمز، عالمی تیل کی ترسیل کاراستہ ، کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے،ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کا تسلسل امن...
وزیراعلیٰ سندھ نے گندم خریداری مہم تیز کرنے اور آبادگاروں کو فوری ادائیگیاں یقینی بنانے کی ہدایت کردی فی ایکڑ پانچ بوری کی شرط ختم کرنے سے ہاریوں کو بڑا ریلیف ملے گا،مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گندم فروخت کی حد ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے گ...
عہد کی پاسداری ہی بامعنی مکالمے کی بنیاد ہے، ایرانی عوام جبر کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے ایران میں امریکا کی حکومتی کارکردگی کے پس منظر میں گہرا تاریخی عدم اعتماد موجود ہے،ایرانی صدر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہاہے کہ امریکہ ایران سے سرنڈر کرانا چاہتا ہے، تاہم ایرانی عوام ک...
مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعہ سے پہلے متوقع، اسلام آباد کے ہوٹلز کو مہمانوں سے خالی کروانے کا فیصلہ ، کسی نئی بکنگ کی اجازت نہیں، ریڈ زون کی سڑکیں عارضی طور پر بند، ذرائع ایران سے ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ، میرے نمائندے آج اسلام آباد پہنچ جائیں گے، میں شاید بعد م...
پاکستان ہمارا گھر، کسی جاگیردار یا بیوروکریٹس کی ملکیت نہیں، امریکی صدرٹرمپ کی سفارتکاری دیکھیں ایسا لگتا ہے کوئی بدمعاش ہے، الفاظ اور لہجہ مذاکرات والا نہیں،سربراہ جے یو آئی جب تک فارم 47 کی غیرفطری حکمرانی رہے گی، تب تک نہ تو مہنگائی کم ہوگی اور نہ ہی حقیقی استحکام آئے گا، غ...
محکمہ تعلیم سندھ نے مخصوص مونوگرام یا لوگو والی نوٹ بکس خریدنے کی شرط بھی غیر قانونی قرار دیدی اسکول کے اندر کسی قسم کا اسٹال یا دکان لگا کر اشیا بیچنا اب قانونا جرم ہو گا،محکمہ تعلیم کا نوٹیفکیشن جاری نجی اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا کے والدین کو بڑا ریلیف مل گیا،اسکول انتظام...
شہباز شریف سے فون پر گفتگو،وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی امن کوششوں پر اظہار تشکر خوشگوار گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں کا خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال وزیراعظم شہباز شریف کا صدرِ اسلامی جمہوریہ ایران سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج شام اسلا...
چیئرمین پی ٹی آئی نے اعتماد سازی کیلئے بانی کی فیملی، کوٹ لکھپت جیل میں اسیر رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کردیں،بانی پی ٹی آئی کی فیملی جیل کے باہر متنازع گفتگو نہ کرنے پر راضی ہوگئی پارٹی بشریٰ بی بی کے ایشو کو لیکر کوئی متنازع پریس کانفرنس نہیں کرے گی، سوشل میڈیا پیغامات جاری ن...
عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دبائو کومودی سرکار نے سرتسلیم خم کرلیا بھارت کی خارجہ پالیسی واشنگٹن کے رحم وکرم پرہے، بھارتی چینلاین ڈی ٹی وی عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دباؤ کیسامنے مودی سرکار نے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکہ ن...
سندھ حکومت فسطائیت بند کرے، کراچی والے اپنا حق مانگتے رہیں گے تو کیا کل شہریوں کو یہ نعرہ لگانے پر گرفتار بھی کیا جائے گا، حافظ نعیم الرحمن امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں حق دو کراچی کے بینرز چھاپنے پر دکانیں سیل کرنے کی دھمکی دے ...
رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذربائیجان کے صدر الہام علیئف، شامی صدر احمد الشرح سے ملاقاتیں کیں۔وزیر اعظم کی قطر ک...