وجود

... loading ...

وجود

امریکی کابینہ کے ابتدائی ارکان جیفرسن وزیر انصاف، مائیک پومپیو سی آئی اے سربراہ،مائیکل فلن مشیر قومی سلامتی امور

اتوار 20 نومبر 2016 امریکی کابینہ کے ابتدائی ارکان  جیفرسن وزیر انصاف، مائیک پومپیو سی آئی اے سربراہ،مائیکل فلن مشیر قومی سلامتی امور

امریکی فوج کے تھری اسٹار جنرل مائیکل فلن کو 2014 میں دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی سے برطرف کیا گیا،ممکنہ طور پر انہیں وزارت دفاع بھی مل سکتی ہے
سی آئی اے کی قیادت کے لیے ایران مخالف 52 سالہ پومپیو کا انتخاب ایک حیران کن امر ہے، تجزیہ کار۔سینیٹر جیف سابق پراسیکیوٹر ہیں،تعیناتی کا سرکاری اعلان جلد متوقع

امریکا کے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نگراں انتظامیہ کے ایک ذمے دار نے بتایا ہے کہ ٹرمپ نے قومی سلامتی اور قانون کے نفاذ سے متعلق اپنی ٹیموں کی قیادت کے لیے تین سینئر قدامت پسندوں کا انتخاب کیا ہے۔ ان میں وزیر انصاف (اٹارنی جنرل)کے منصب کے لیے سینیٹر جیفرسن سیشنز اور امریکی انٹیلی جنس کی مرکزی ایجنسی ( سی آئی اے )کے ڈائریکٹر کے عہدے کے لیے ایوان نمائندگان کے رکن مائیک پومپیو شامل ہیں۔ذمے دار نے مزید بتایا کہ لیفٹننٹ جنرل مائیکل فلن کو منتخب صدر کے لیے قومی سلامتی کا مشیر چنا گیا ہے۔ اس منصب پر تقرر کے لیے امریکی سینیٹ سے تائید حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔نگراں ٹیم کے رکن کے مطابق تینوں شخصیات نے ٹرمپ کی پیش کش قبول کر لی ہے اور اس کا سرکاری طور پر اعلان کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے۔
سینیٹر جیف کا شمار ٹرمپ کی مہم کے دوران قریبی رفقا میں ہوتا ہے۔ سینیٹر جیف سابق پراسیکیوٹر ہیں اور وہ 1996 میں سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل مائیکل فلِن کو نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر کا عہدہ پیش کیا جسے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل مائیکل فلِن نے قبول کر لیا ہے۔واضح رہے کہ سینیٹر جیف اور جنرل مائیکل دونوں ہی اپنے متنازع بیانات کے باعث سرخیوں میں رہے ہیں۔ امریکی فوج کے تھری اسٹار جنرل مائیکل فلن کو 2014 میں دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی سے برطرف کیا گیا۔
وہ فوج کی نوکری چھوڑنے کے بعد سے مسلسل اوباما انتظامیہ کی دفاعی اور خارجہ پالیسیوں کے ناقد تصور کیے جاتے ہیں۔ وہ امریکی فوجی ہیڈکوارٹرز پینٹاگون پر بھی تنقید کرتے تھے کہ بین الاقوامی اسٹریٹجک امور میں امریکا کو ہزیمت کا سامنا ہے۔ان کا خیال ہے کہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کو کرش کرنے کے لیے جارحانہ امریکی پالیسی وقت کی ضرورت ہے۔فلن کے ساتھ کام کرنے والے ذمے داران کا کہنا ہے کہ فلن کی برطرفی کے پیچھے ان کی انتظامی صلاحیتوں کے فقدان اور قیادت کے طریقہ کار کا ہاتھ تھا۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ شاید وہ پینٹاگون کی سربراہی یعنی وزارت دفاع کا منصب سنبھال لیں لیکن اْن کو چند مشکلات کا سامنا ہے اور سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ فوج کی نوکری چھوڑنے کے سات برس بعد ہی وہ وزیر دفاع بنائے جا سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں انہیں کانگریس سے استثنیٰ حاصل کرنا ضروری ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اگر انہیں وزیردفاع کے طور پر بھی نامزد کرتے تو بھی اس سلسلے میں کانگریس سے اجازت حاصل کرنا ممکن تھا کیونکہ سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان میں ری پبلکن پارٹی کو اکثریت حاصل ہے۔
مائیکل فلِن امریکا کے اعلیٰ ترین خفیہ ادارے نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے دو برس تک ڈائریکٹر بھی رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی سی آئی اے کی قیادت کے لیے ایران مخالف 52 سالہ پومپیو کا انتخاب ایک حیران کن امر ہے۔ وہ ایوان نمائندگان میں انٹیلی جنس ، توانائی اور تجارت کی کمیٹیوں کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ اس کمیٹی کا بھی حصہ رہے جس نے 2012 میں لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکی سفارتی مشن کے صدر دفتر پر حملے کی تحقیقات کی تھیں۔
پومپیو نے جمعرات کے روز اپنے ایک ٹوئیٹ میں کہا تھا کہ ” میں امید کرتا ہوں کہ دنیا بھر میں دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی سب سے بڑی ریاست کے ساتھ اس تباہ کن معاہدے کو منسوخ کر دیا جائے گا “۔
پومپیو ویسٹ پوائنٹ ملٹری اکیڈمی سے فارغ التحصیل ہیں اور انہوں نے آرمرڈ کارپس آفیسر کے طور پر خدمات سر انجام دیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ہاروڈ یونی ورسٹی سے انسانی حقوق کے شعبے میں بھی گریجویشن مکمل کیا۔ بعد ازاں پومپیو نے ایک کمپنی قائم کی جو تجارتی اور فوجی طیاروں کے حصے تیار کرتی ہے۔
وزیر انصاف کے منصب پر جیفرسن سیشنز کا انتخاب کر کے ٹرمپ نے اپنے ایسے ہمنوا کو نواز دیا ہے جن کے امیگریشن سے متعلق سخت گیر موقف اور بیانات بعض مرتبہ منتخب صدر ٹرمپ کے بیانات سے ملتے جلتے ہیں۔
سیشنز سرکاری دستاویزات نہ رکھنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کو شہریت دینے کے کسی بھی اقدام کو مسترد کرتے ہیں۔ میکسیکو کے ساتھ سرحد پر دیوار بنانے کے ٹرمپ کے اعلان پر سیشنز نے بھرپور گرم جوشی کا مظاہرہ کیا تھا۔
ریپبلکن پارٹی کی قومی کمیٹی کے ترجمان شون اسپائسر نے جو خود ٹرمپ کے لیے صدارتی منتقلی کی کارروائی کی نگرانی میں شریک ہیں، امیدواروں کے چناؤ کے حوالے سے مذکورہ رپورٹوں کی تصدیق نہیں کی۔
خبریں یہ بھی ہیں کہ امریکا کے اقوام متحدہ میں سابق سفیر اور نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم میں وزارت خارجہ کے ایک امیدوار جون بولٹن نے ایران کے حوالے سے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے یران میں حکومت تبدیل کرنے پر زور دیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی سمجھے جانے والے جون بولٹن نے ایک پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی طرف سے دنیا اور خطے کے ملکوں کو درپیش چیلنجز سے نمٹنا ہوگا۔ میرے خیال میں ایرانی خطرے کا طویل البنیاد حل تہران میں حکومت کی تبدیلی کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ سابق امریکی سفیرنے کہا کہ ایران کی قیادت خطے کے ملکوں اور پوری دنیا کے امن وسلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں جون بولٹن نے کہا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ ایران میں مقتدر نظام کے خاتمے سے تمام مسائل حل ہوجائیں گے تاہم تہران کی طرف سے سب سے بڑا خطرہ ٹل جائے گا۔
انہوں نے موجودہ امریکی صدر باراک اوباما کی ایران بارے پالیسی کو بھی ہدف تنقید بنایا، انہوں نے کہا کہ سنہ 2009ء میں ایران میں ہونے والے احتجاج کے دوران ایرانی عوام نے امریکا کو مددکے لیے پکارا تھا۔ ایرانی عوام نے کہا تھا کہ امریکا یا تو ان کے ساتھ کھڑا ہو یا حکومت کا ساتھ دے۔ مگر امریکی انتظامیہ ایرانی عوام کی کوئی مدد نہیں کرسکی۔
خیال رہے کہ جون بولٹن امریکا کے جہاں دیدہ سیاست دان ہیں۔ وہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پائے اس معاہدے کے بھی سخت خلاف رہے ہیں جس کے تحت تہران نے اپنا جوہری پروگرام محدود کرنے کااعلان کیا تھا اور اس کے بدلے میں امریکا اور عالمی طاقتوں نے تہران پر عاید اقتصادی پابندیاں ختم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ جون بولٹن کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی کوئی حیثیت نہیں۔یہ روٹین کا معمولی نوعیت کا معاہدہ ہے۔
جون بولٹن کو مشرق وسطیٰ کے امور میں گہری دسترس حاصل ہے۔ ان کا نام ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم میں وزارت خارجہ کے منصب کے لیے مجوزہ تین ناموں شامل ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق سابق صدارتی امیدوار ’میٹ رومنی‘ ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے وزیرخارجہ بن سکتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر