... loading ...

پارلیمان میں نمائندگی رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ وزیراعظم نواز شریف کے اہم مشاورتی اجلاس میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، جمعیت العلمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن، جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور نیشنل پارٹی کے صدر میر حاصل بزنجو شریک ہوئے، تاہم پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفندیار ولی نے کشمیر اور بھارتی جارحیت کے حوالے سے منعقدہ اس اجلاس میں شریک ہونا ضروری خیال نہ کیا۔
عمران خان نے اپنے نمائندے کے طور پر ’’پی ٹی آئی‘‘ کے وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود قریشی کو بھیج دیا، جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کی نمائندگی سابق وفاقی وزیر غلام احمد بلور نے کی۔ وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے پارلیمانی جماعتوں کا یہ سربراہ اجلاس بلانے کا مقصد عالمی برادری بالخصوص ہندوستان کو یہ پیغام دینا تھا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کی آزادی اور کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی جارحیت کے حوالے سے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں، حکومت اور مسلح افواج ایک ہی صفحے پر ہیں اورحساس قومی معاملات پر ان کے مابین کوئی اختلاف نہیں۔
یہ اجلاس اپنا مقصد پورا کرنے میں کامیاب بھی رہا، کیونکہ وزیراعظم نواز شریف اور ان کی حکومت کے ساتھ متعدد اہم امور پر شدید اختلافات کے باوجود پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف جیسی اپوزیشن کی بڑی جماعتیں بھی نہ صرف اس میں شریک ہوئیں، بلکہ انہوں نے کشمیر اور قومی سلامتی کے معاملات پر وزیراعظم کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا برملا اعلان کیا اور دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ جب معاملہ قومی ایشوز کا ہو تو جماعتی اختلافات پس پشت رکھ دیئے جاتے ہیں۔
یہی بات اجلاس کے اختتام پر جاری کیے جانے والے مشترکہ اعلامیے اورمختلف سیاسی قائدین کی میڈیا کے ساتھ کی گئی بات چیت سے بھی نمایاں ہوئی۔ تاہم اس پورے معاملے میں جو بات سبھی کو بری طرح کھٹکی، وہ پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان اور عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفند یار ولی کی اس اہم اجلاس میں عدم شرکت تھی۔ جہاں تک اسفند یار ولی کا تعلق ہے تو وہ اجلاس والے دن ملک میں ہی موجود تھے اور ماشاء اﷲ ان کی صحت بھی اس قابل ہے کہ وہ سیاسی قائدین کے اجلاس میں بہ آسانی شرکت کرسکتے تھے، ابھی چند ہی روز پہلے انہوں نے اپنی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کی تھی لیکن ان سے بھی زیادہ عمران خان کے رویئے سے لوگوں کو مایوسی ہوئی۔ نواز حکومت کو اس کی میعاد سے پہلے ہی فارغ کرا دینے کے لیے شب و روز ریلیوں اور دھرنوں میں مصروف ’’کپتان‘‘ قومی نوعیت کے اس انتہائی اہم اجلاس میں شاید اس لیے شریک نہ ہوئے کہ وہ وزیراعظم نواز شریف کاسامنا کرنا نہیں چاہتے تھے، چنانچہ جب اسلام آباد میں دیگر سیاسی قائدین بھارت کو منہ توڑ متفقہ جواب دینے کے لیے سرجوڑے بیٹھے تھے، تب عمران خان نتھیا گلی میں اپنے دوست احباب کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس دن ’’کپتان‘‘ کی مصروفیات میں وسیم اکرم اور انکی اہلیہ شنیرا، ذاکر خان اور سلمان احمد وغیرہ سے ملاقاتیں شامل تھیں۔ ایک عام پاکستانی یہ سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتا ہے کہ آیا یہ اتنی اہم مصروفیات تھیں کہ ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ نے ان کی خاطروزیراعظم کی زیرصدارت قومی نوعیت کے اہم ترین اجلاس میں شرکت کو بھی قربان کردیا؟
پاکستان کی بقالوکل گورنمنٹ میں ہے، اختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں ہوں گے تووہ عوام سے دھوکے کے مترادف ہوگا،میں نے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ کہا جو کئی لوگوں کو بہت برا لگا، خواجہ آصف لوکل گورنمنٹ سے کسی کو خطرہ نہیں بیوروکریسی کو ہے،پتا نہیں کیوں ہم اندر سے خوف زدہ ہیں یہ ہوگیا تو...
ہم فسطائیت کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں جو ہمارا حق ہے،جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا، وزیراعلیٰ آئین ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور ہم ضرور استعمال کریں گے، ریلی کے شرکاء سے خطاب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے تاروجبہ کے مقام پرا سٹریٹ موومنٹ ریلی کے ...
جس مقام پرقرآنِ کریم موجود تھا، آگ سے اطراف میں مکمل تباہی ہوئی،ریسکیو اہلکار 15ارب کا نقصان ، حکومت نے 24 گھنٹے میں ادائیگیوں کی یقین دہانی کرائی ، تنویر پاستا گل پلازہ میں تباہ کن آتشزدگی کے باوجود قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی مکمل محفوظ طور پر محفوظ رہے، اطراف کی چیزیں ج...
میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...
آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...
بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام میں واضح بہتری آئے گی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے نظام میں واضح بہتری آئے گی۔شرجیل میمن کی ...
لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...
وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...
بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی...
محمد آصف پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منو...
لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...
ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...