وجود

... loading ...

وجود

جماعت اسلامی کی طرف سے ڈاکٹر فاروق ستار کی عیادت اور امکانات

منگل 13 ستمبر 2016 جماعت اسلامی کی طرف سے ڈاکٹر فاروق ستار کی عیادت اور امکانات

farooq-sattar-naeem-ur-rehman

جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے لیاقت نیشنل اسپتال میں ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کی عیادت کرکے کراچی کی سیاست میں کشیدگی کی آلودگی کو کم کرنے کی کوشش کی ہے اس سلسلے میں چونکہ قدم جماعت اسلامی کراچی کے امیر نے اٹھا یاہے اس لیے وہ مبارک باد کے مستحق ہیں ابھی تو یہ ملاقات مزاج پرسی کے لیے تھی مگرشہر قائد کے مفاد میں اس سلسلے کو جاری رہنا چاہیئے یقینا دیگر جماعتوں کے رہنما بھی ڈاکٹر فاروق ستار کی عیادت کے لیے آئیں گے اور آرہے ہیں مگر حافظ نعیم کی طرف سے عیادت تازہ ہوا کا جھونکا ہے کیونکہ جس ایم کیوایم کے سربراہ کی عیادت کراچی جماعت کے امیر نے کی ہے یہ وہ جماعت ہے جو الطاف حسین سے اظہار لاتعلقی کرچکی ہے۔ الطاف حسین وہ سیاسی شخصیت ہیں جنہوں نے جماعت اسلامی سے اس شہر کی قیادت چھینی تھی وہ آج بھی الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ تو جامعہ کراچی میں طالبعلموں کو بعض مطالبات پر جمع کرنا چاہتے تھے یہ جماعت اسلامی کا اسٹوڈنٹ ونگ تھا جس نے مار مارکر انہیں یونیورسٹی سے باہر نکال دیا تو پھر انہیں شہر کے گلی کوچوں اور چوکوں چوراہوں پر تحریک کو وسعت دینے کا خیال آیا۔

الطاف حسین نے کراچی شہر میں مہاجرسیاست کا آغاز کیاتو پنجابی پٹھان اور دیگر قومیتوں کے لوگ ان کی زبان کے نشانے پر تھے ہی مگر بہ طور سیاسی جماعت سب سے زیادہ وہ جماعت اسلامی کو رگڑا لگاتے اور اپنی عادت کے مطابق انہوں نے اسلامی کے وزن پر ہی ایک نازیبا لفظ جماعت کے ساتھ بہ طور لاحقہ استعمال کرتے تھے جبکہ جماعت اسلامی کی
جانب سے الطاف حسین پر براہ راست اپنے کارکنوں کے قتل کے الزامات عائد کیے گئے اسلامی جمعیت سے وابستہ نوجوان عامر سعید کے قتل کے خلاف 1988ء میں اس کی والدہ کی جانب سے اہل کراچی کے نام کھلاخط بھی تقسیم کیا گیاتھا۔ اس خط کے مندرجات میں بڑی کشش تھی شہر کے مقبول ترین سیاسی رہنما ہونے کے باوجودالطاف حسین کے لیے وہ خط درد سر بن گیاتھا۔ اسے اخبارات میں چھپنے اور تقسیم سے روکنے کی کوششیں بھی سامنے آئی تھیں۔

جماعت اسلامی کا ایم کیوایم سے پہلا باضابطہ رابطہ سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن کی جانب سے ہوا تھا جب انہوں نے بطور امیر جماعت اسلامی کراچی الطاف حسین سے ایم کیوایم کے مرکز نائن زیرو جاکر ملاقات کی تھی اس کے بعد نعمت اللہ خان جب امیرجماعت کراچی تھے تو انہوں نے لندن میں مقیم الطاف حسین کو ایک خط لکھاتھاکہ وہ شہر قائد کی بدامنی ختم کرنے اور اس کی ترقی میں اپنا کردار اداکریں نظریات خیالات اورپس منظرسے قطع نظر غیرجانبدار مبصرین یہ مانتے ہیں کہ جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم متوسط اور نچلے متوسط طبقوں کی نمائندہ جماعتیں ہیں۔ ان جماعتوں میں تعلیم یافتہ لوگوں کی تعداد زیادہ ہے اور انہی جماعتوں کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ جاگیردار صنعتکار اورسرمایہ داروں کوچھوڑ کرانہوں نے مالی طور پر کمزور لوگوں کو اقتدار کے ایوانوں میں پہنچایا۔ تحریک انصاف بھی ایسا ہی دعوی کرتی رہی ہے مگر 30 اکتوبر 2011ء کے بعد آنے والی تبدیلی نے پارٹی کی تاریخ جغرافیہ پس منظر و پیش منظربدل کررکھ دیا مگر اب بھی کراچی میں اس طبقے میں جو ایم کیوایم اور جماعت اسلامی کا ووٹ بینک ہے، تحریک انصاف میں کشش پائی جاتی ہے۔

جماعت اسلامی اور ایم کیوایم میں مشترکات کے باوجود یہ جماعتیں دریا کے کناروں کی طرح پانی کے دونوں طرف موجود تو رہیں مگر کبھی مل نہ سکیں۔ جماعت اسلامی بھی جاگیردارانہ نظام کے خلاف بات کرتی ہے اور ایم کیوایم بھی۔ خود ایم کیوایم کے لوگ تسلیم کرتے ہیں۔ ابتدا میں پارٹی کے نظم وضبط کے حوالے سے جماعت اسلامی کی تنظیم سے مدد لی گئی تھی اور تما م رہنماایک دوسرے کو بھائی کہہ کر مخاطب کیا کرتے تھے (اب وہ ساتھی بھائی ہوگیا) الطاف حسین عظیم طارق کو عظیم بھائی اور وہ الطاف بھائی کہتے تھے۔ ڈاکٹر فاروق ستار بھی کچھ دنوں پہلے تک انہیں الطاف صاحب کے بجائے بھائی کہتے تھے۔ تنظیمی سیٹ اپ بنانے میں اہم کردار چیئرمین عظیم احمدطارق کا تھا۔ جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ ان کے ماموں محمد علی جماعت اسلامی کے رکن تھے اور بچپن سے ہی ماموں کے توسط سے وہ جماعت اسلامی کی تنظیم سے واقف ہوگئے وہ خود بھی جماعت اسلامی کی اسکولوں کے طلبا کی تنظیم کے تحت عید الاضحیٰ پر قربانی کی کھالیں جمع کیا کرتے تھے۔

کراچی کے بعض سیاسی مبصرین پہلے بھی رائے دیتے تھے کہ کم یا زیادہ سے قطع نظر شہرقائد میں ا ثر ورسوخ رکھنے والی یہ دونوں جماعتیں جن کا موقف شہری مسائل کے حوالے سے ملتاجلتا ہی ہوتاہے، مفاہمت کے لیے پیش قدمی کریں توکراچی کی قسمت بدل سکتی ہے۔ معلوم نہیں کیوں ان جماعتوں کے رہنماؤں نے ایسا نہیں سوچا اگرالطاف حسین اپنے دور طالبعلمی کے حوالے سے جو تلخ تجربات رکھتے تھے اب وہ بھی ایم کیوایم سے لاتعلق ہوچکے ہیں۔ ٹنڈوآدم میں جماعت اسلامی نے ایم کیوایم سے مفاہمت کرلی تو کراچی اور حیدرآباد اور سندھ کے شہری علاقوں میں ترقی کے لیے یہ دونوں جماعتیں آگے بڑھیں۔ خیرسگالی کے لیے حافظ نعیم کی طرف سے فاروق ستار کی عیادت مثبت پیش رفت ہے۔


متعلقہ خبریں


آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی وجود - بدھ 10 جون 2026

گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...

آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم وجود - بدھ 10 جون 2026

28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات وجود - بدھ 10 جون 2026

خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید وجود - بدھ 10 جون 2026

طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات وجود - پیر 08 جون 2026

تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی وجود - پیر 08 جون 2026

حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو وجود - هفته 06 جون 2026

گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ وجود - هفته 06 جون 2026

یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی وجود - هفته 06 جون 2026

ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ وجود - هفته 06 جون 2026

اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 06 جون 2026

سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف وجود - جمعه 05 جون 2026

جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف

مضامین
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر