... loading ...

خارجہ پالیسی کے استاد، ‘نیو ورلڈ آرڈر’ کے خالق اور براک اوباما کے ذاتی گرو زبگنیو برزیزنسکی ایک مکمل اور بلا روک ٹوک امریکی سلطنت کا زندگی بھر کا خواب ترک کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں اب اس کے بجائے ” نئی عالمی صف بندی” کی بات کرتے ہیں۔
برزیزنسکی کی اہم ترین خارجہ پالیسی کامیابیوں میں سے چند اسرائیل-مصر امن معاہدہ، پولینڈ کی حزب اختلاف کی تحریک استحکام کی حمایت، سابق سوویت یونین میں قومی آزادی کی تحاریک کی خفیہ سرپرستی اور امریکا اور چین کے درمیان علقات کو معمول پر لانا شامل ہیں۔ برزیزنسکی سوویت مداخلت کے خلاف لڑنے والے افغان مجاہدین کو مدد فراہم کرنے میں بھی اہم تھے۔ وہ روس میں ولادیمر پوتن کے عروج کو دیکھتے ہوئے نیٹو میں توسیع کے بھی اہم حامی تھے۔
البتہ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ برزیزنسکی روس کے خوف سے آزاد ہو چکے ہیں اور اب پانچ اہم پیشرفت قبول کرنے پر نظریں مرکوز کر چکے ہیں جنہیں وہ عالمی سیاسی طاقت کی تقسیم نو تسلیم کرتے ہیں۔ یہ پانچ تبدیلیاں (1) علاقائی توازن میں پیچیدہ سیاسی منتقلیوں کے بعد امریکا اب سب سے بڑی عالمی طاقت نہیں رہا، جو کبھی تھا؛ (2) روس “اپنی حاکمانہ منتقلی کے تازہ ترین دھچکوں سے گزر رہا ہے؛ (3) چین ثابت قدمی او دھیمی رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے اتنا کہ (اب تک) امریکا کے لیے براہ راست فوجی چیلنج نہیں بنا؛ (4) یورپ اب ایک عالمی طاقت بننے کا اہل نہیں رہا؛ (5) بعد از نو آبادیاتی دور کے مسلمانوں میں پیدا ہونے والا پرتشدد سیاسی شعور یورپی ریاستوں کے سالوں تک روا رکھے گئے مظالم کا تاخیر سے اٹھنے والا ردعمل ہے۔
البتہ برزیزنسکی کا اب بھی کہنا ہے کہ امریکا کو پانچ مندرجہ بالا پیشرفتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے طاقت کے عالمی ڈھانچے کی تنظیم نو کرنی چاہیے۔ یہ تجویز کرتا ہے کہ برزیزنسکی اب بھی دنیا کے مستقبل کے لیے اٹھائے گئے اقدامات میں امریکا کے کردار کو بالادست سمجھتے ہیں۔ ان کی دلیل کا مغز بنیادی طور پر یہ ہے کہ چاہے امریکا اب دنیا کے کسی بھی ملک کو بدمعاشی دکھانے کے قابل نہيں رہا، لیکن جب تک ممکن ہو اسے دنیا پر اثر انداز رہنا چاہیے۔
مثال کے طور پر برزیزنسکی اصرار کرتے ہیں کہ امریکا مشرق وسطیٰ کی تازہ صورت حال میں اسی وقت موثر ہو سکتا ہے اگر ایک اتحاد تشکیل دیا جائے جس میں روس اور چین شامل ہوں یعنی وہی ریاستیں جو امریکا کے اثر و رسوخ کو چیلنج کر رہی ہیں۔ لیکن وہ ایک غیر حقیقت پسندانہ تاکید کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ “ایسا کوئی اتحاد تشکیل دینے کے لیے روس کی اپنے پڑوسی ممالک کے خلاف طاقت کے یک طرفہ استعمال کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی جیسا کہ یوکرین، جارجیا اور بالٹک ریاستوں میں اور چین کی یہ غلط فہمی دور کرنا ہوگی کہ مشرق وسطیٰ میں ابھرتے ہوئے علاقائی بحران کے سامنے چپ کا روزہ توڑنا اس کے عالمی مقاصد کے لیے سیاسی و اقتصادی طور پر فائدہ مند ہوگا۔”
خارجہ پالیسی پر اوباما کو مشورے دینے والے برزیزنسکی کسی سے بھی زیادہ بہتر جانتے ہیں کہ یوکرین بحران میں واشنگٹن کا بھی ہاتھ ہے جو روس نواز صدر وکٹر یانوکووچ کی حکومت کے خاتمے میں مدد دے رہا ہے اور اس کی جگہ اپنی من مرضی کی حکومت رکھنا چاہتا ہے۔ اور ایسا ہو نہیں سکتا کہ اس معاملے پر برزیزنسکی کی رائے کے بغیر کوئی قدم اٹھایا گیا ہو جو اپنی 1998ء کی کتاب “دی گرینڈ چیس بورڈ” میں لکھ چکے ہیں کہ یوکرین پر قبضہ کرلینا چاہیے۔
تو کیا ہوگا اگر روس یہ بات ماننے سے انکار کردے۔ اس کی اہمیت نہیں کیونکہ بنیادی طور پر برزیزنسکی وہ طریقہ پیش کر رہے ہیں جس سے امریکا اپنے اہداف حاصل کر سکے۔ برزیزنسکی کے خیال میں امریکا کا عالمی کردار ختم ہونے کی صورت میں ایک “عالمی افراتفری” پھیلے گی۔
یہ بات اب واضح ہو چکی ہے کہ امریکا روس کے ساتھ کام کیے بغیر اب اپنی استعماری طاقت کو مزید نہیں پھیلا سکتا۔

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...
مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...
دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...
واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...
ایران کے ساتھ ملاقات اچھی رہی ، جوہری معاملے کے علاوہ اکثر نکات پر اتفاق ہوا،امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے آنے جانیوالے بحری جہازوں کو روکنے کا عمل فوری شروع کر دے گی یہ عالمی بھتا خوری ہے امریکا کبھی بھتا نہیں دے گاجو کوئی غیر قانونی ٹول دے گا اسے محفوظ بحری راستا نہیں ملے گا، ای...
اسلام آباد میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں بھارت کی سفارتی ناکامی پر کانگریس نے نام نہاد وشوا گرو مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں۔ مودی کو ہرطرف سے تنقید کا سامنا ہے۔خلیجی جنگ کے تناظر...
مذاکرات ناکام ہوئے توہم اسرائیل میں ایسے ہی گھُس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے، اسرائیل نے سیزفائر کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کیے اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائیں گے، فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی فیصلہ اور ہٹلر کی یہودی مخالف پالیسیوں میں کوئی فر...
اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل،فریقین محتاط،پرامید،کاغزات کا تبادلہ ،ٹیکنیکی گفتگو آج مذاکرات کے پہلے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، دوسرے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہِ ر...
سعودی وزیر خزانہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ اور اخراجات کے پیش نظر پاکستان کو مالی مدد کا یقین دلایا پاکستان کی سعودی عرب سے مزید مالی امداد کی درخواست ، نقد ڈپازٹس میں اضافہ اور تیل کی سہولت کی مدت میں توسیع شا...
علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی کوششیں مثبت پیشرفت ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن علاقائی استحکام کیلئے تعمیری کردار ہے، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حالیہ سفارتی کوششوں کو علاقائی کشیدگی میں کمی، پائیدار امن اور ع...
اسرائیل نے گزشتہ 40دنوں میں سے 36دن غزہ پر بمباری کی،عرب میڈیا 23ہزار 400امدادی ٹرکوں میں سے 4ہزار 999ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ایران جنگ کے دوران اسرائیل نے گزشتہ 40 دنوں میں سے 36 دن غزہ پر بمباری کی۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 107 فلسطینی شہید او...