... loading ...

چودھری نثار سو فیصد درست کہتے ہیں۔ اردو بولنے والے مہاجروں کا ماضی بھی پاکستان تھا اور مستقبل بھی پاکستان ہے، جو بات انہوں نے کہی وہ بھی سولہ آنے درست ہے کہ اردو بولنے والے ہی پاکستان کا مستقبل ہیں یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی۔ اور یہ بات بھی ذرہ برابر غلط نہیں کہ مہاجروں کا جو حال ہے وہی پاکستان کا حال ہے، ملک کا حال بھی بہتر بنایا جارہا ہے تو مہاجروں کا حال بھی بہتر ہوگا۔
چوہدری نثار ایم کیو ایم کو دو حصوں میں تقسیم کریں یا تین میں، مگر سوال کسی سیاسی گروپ یا پریشر گروپ کا نہیں بلکہ لاکھوں ووٹرز کا ہے جن کیلئے خود چودھری صاحب نے فرمایا ہے کہ انہوں نے 25 برس بعد آزادی کا اظہار کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ یہ شہر اب کسی کے ہاتھوں یرغمال نہیں۔
چودھری نثار کہتے ہیں وہ وزیراعظم کی ہدایت پر اہل کراچی کو مبارکباد دینے اور اظہار تشکر کرنے حاضر ہوئے، مگر چودھری صاحب خالی خولی تشکر اور مبارکباد۔
لاہور پر میٹرو بس کے بعد 200 ارب روپے کی اورنج ٹرین کی نوازش اور کراچی کیلئے 16 ارب روپے کی گرین لائن اور سولہ ارب بھی دو سال میں۔حکومت اعتراف کرتی ہے کہ کراچی بند ہونے سے پانچ ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔گویا مہینے میں ڈیڑھ کھرب اورسالانہ اٹھارہ کھرب اور دوسال میں چھتیس کھرب جس شہر سے اتنا ریونیو ملے اسے دوسال میں سولہ ارب ملیں تو یہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔ وفاقی حکومت اگر یہ کریڈٹ لیتی ہے کہ اس کے اقدامات سے متاثر ہوکر کراچی کے شہریوں نے پیش قدمی کی ہے تو اس کا جواب بھی ایک مکمل پیکیج ہے، جو اٹھارہ کھرب روپے سالانہ دینے والے شہر کے شایان شان ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاک سر زمین پارٹی کے مصطفی کمال کا کہنا ہے کہ کوئی کراچی کے شہریوں کو لاوارث نہ سمجھے ہم اس کے وارث ہیں، یہ بات کہنا جس قدر آسان ہے نبھانا اتنا ہی مشکل ،ان کے دعوے کی حقیقت پر شبہات کا اظہار اس لیے کیاجاتاہے کہ فی الحال ان کی کوئی عوامی حیثیت نہیں، ان کے ساتھ منتخب نمائندے ضرور آئے ہیں، مگر اپنی نشستیں چھوڑ کر کیونکہ یہ نمائندگی انہیں الطاف حسین کے کھاتے سے ملی تھی، ان کی خالی کی گئی نشستوں پر بھی الطاف حسین کے نامزد لوگ جیتے ہیں، مصطفی کمال 23 مارچ کے بعد بھی کسی ضمنی انتخاب میں حصہ لینے پر تیار نہیں ان کاکہناہے کہ دوہزار اٹھارہ کا انتخاب ان کاہدف ہے اس کا ایک پہلو تو وہی ہے جو مصطفی کمال دکھاتے ہیں یعنی بغیر تیاری الیکشن لڑنا دانشمندی نہیں، مگردوسرا رخ وہی ہے جو لوگ سمجھتے ہیں، وہ الیکشن سے خوفزدہ ہیں کہ کامیابی نہ ملی توبھداڑے گی اقبال نے کہاتھا ،گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں۔
اس لیے مصطفی کمال کا یہ کہنا قبل ازوقت ہے کہ وہ مہاجروں یا اہل کراچی کے ولی وارث ہیں ان کی سرپرستی وفاقی او رسندھ حکومت کوہی کرنا ہوگی، بہ صورت دیگر ا ن کی مبارکبا دغیر موثر ہوجائے گی ۔پرنالہ وہیں گرے گا اورفی الحال تو ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت میں موجود ایم کیوایم کو ہی اہل کراچی کے مینڈیٹ کی حامل جماعت سمجھنا ہوگا۔کیونکہ منتخب نمائندوں کی اکثریت ان کے ساتھ ہے اورانہی کے نام سے یہ جماعت الیکشن کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ ہے۔
پاک سرزمین پارٹی تو یہ موقف اختیار کرسکتی ہے کہ فاروق ستار ڈراما کررہے ہیں، کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا،مگرمقتدر قوتوں کو بہت باریک بینی سے جائزہ لینا ہوگا۔ مصطفی کمال یہ موقف اختیار کرنے میں حق بہ جانب ہیں ان کی تو جماعت کی بنیاد ہی الطاف حسین کی مخالفت پرہے ۔ اس لئے جب ڈاکٹر فاروق ستار بھی الطاف حسین کی مذمت کریں اور ان سے عارضی ہی سہی لاتعلقی اختیار کرلیں تو پھر مصطفی کمال کے پاس کہنے کیلئے کیا رہ جائے گا ؟
ڈاکٹر فاروق ستار تو دو روز سے اپنے موقف کو سچ ثابت کرنے کے لیے زور لگاہی رہے ہیں اس لیے اس پر تو کچھ نہیں کہاجاسکتا،مگر جو بات وہ نہیں کہہ رہے ہیں اس پرتوجہ کی ضرورت ہے۔
اور وہ بات یہ ہے کہ فاروق ستار نے تو جوکیا وہ ڈراما سہی فسانہ سہی۔
یہ سب کچھ ایم کیوایم کی تاریخ میں علی الاعلان پہلی مرتبہ ہوا ہے ۔پہلی مرتبہ ساری دنیا کے سامنے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہاہے کہ جس شخصیت کو وہ اپنا قائد کہتے ہیں وہ کسی ذہنی مرض میں مبتلا ہے، اس لیے پہلے اس کا علاج کرایاجائے۔
ایم کیوایم کی تاریخ تو یہ ہے کہ انتہائی مشکل حالات میں بھی چاکنگ اور پوسٹر نظر آتے تھے
فاروق ستار کے مبینہ ڈرامے میں چھپی حقیقت کو ذرا لندن کی رابطہ کمیٹی اور ان کے قائد کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ان کے لیے یہ تصور ہی سو ہان روح ہے کہ کراچی میں کوئی ان کی بات کو نہ کہہ دے۔
باخبر ذرائع یہ بتاتے ہیں اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ الطاف حسین رینجرز ہیڈ کوارٹرز کا گھیراؤ کرنے کی ہدایت دے چکے ہیں۔ گزشتہ بقر عید پر کھالیں قبضے میں جانے کے بعد تو وہ بہت مشتعل ہوگئے تھے ،مگر یہ پاکستان میں سیاست کرنے والے پارلیمنٹرین تھے جنہوں نے سمجھایا کہ لندن میں بیٹھ کر ایسا سوچا جاسکتاہے، مگر حقائق اور عمل کی دنیا میں یہ ممکن نہیں اس کے باوجود کبھی یہ رویہ نہیں اپنا یا گیا جو اعلان لاتعلقی کے وقت تھا۔
اس انداز کو برداشت کرنا الطاف حسین توکیا واسع جلیل جیسے لندن رابطہ کمیٹی کے رکن اور دوسری تیسری صف کے رہنما واسع جلیل کے لئے بھی ممکن نہیں۔ وہ کس قدر خفا ہیں اس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتاہے کہ وہ بات جو فاروق ستار نے نہیں کہی وہ اُن کے لیے کتنی ناقابل برداشت ہے
ضرورت اس امر کی ہے کہ فعال سیاسی جماعتیں اور مقتدر ادارے مصطفی کمال کی لائن کو جو انہوں نے اپنی جماعت یا موقف کو نقصان سے بچانے کیلئے اختیار کی ہے،پر چلنے کے بجائے فاروق ستار کی جماعت کے ذریعے کراچی کے عوام کو پیکیج دیں، البتہ دوہزار اٹھارہ کے الیکشن میں یہ جماعت ناکام ہوجائے تو پھر جو جیتے وہ سکندر ہوگا، اس سے بات کی جائے۔حکومت نمائشی اقدامات سے بچے مکاچوک کا نام کی تبدیلی بھی ایسا ہی عمل ہے۔
گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...
28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...
خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...
طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...
تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...
حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...
گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...
یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...
ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...
اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...
سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...
جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...