وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

تلفظ کا بگاڑ

جمعه 05 اگست 2016 تلفظ کا بگاڑ

urdu-nastaliq

اردو میں املا سے بڑا مسئلہ تلفظ کا ہے۔ متعدد ٹی وی چینل کھُمبیوں کی طرح اگ آنے کے بعد یہ مسئلہ اور سنگین ہوگیا ہے۔ اینکرز اور خبریں پڑھنے والوں کی بات تو رہی ایک طرف، وہ جو ماہرین اور تجزیہ کار آتے ہیں اُن کا تلفظ بھی مغالطے میں ڈالنے والا ہوتا ہے۔ مغالطہ اس لیے کہ جو کچھ ٹی وی سے پیش کیا جاتا ہے نئی نسل اسی کو سند سمجھ لیتی ہے اور صحیح ہونے پر اصرار کرتی ہے۔ اب ان تجزیہ کاروں اور چینلی دانشوروں کی اصلاح تو ہو نہیں سکتی، یہ ممکن نہیں کہ گفتگو سے پہلے ان کے تلفظ کا امتحان لیا جائے۔ لیکن یہ تو ہوسکتا ہے کہ کوئی ماہرِ لسانیات پروگرام کے بعد غلط تلفظ کی اصلاح کردے۔ لیکن اس میں دانشوروں اور تجزیہ کاروں کے بگڑ بیٹھنے کا خدشہ ہے۔ کہہ سکتے ہیں کہ ہم اپنا تجزیہ پیش کررہے ہیں، اردو زبان کی کلاس نہیں لے رہے۔ بات تو صحیح ہے لیکن بھرم کھل جاتا ہے۔

ایک ٹی وی پروگرام میں عمران خان کے عزیز جناب حفیظ اﷲ نیازی کسی ’’مدبَر‘‘ کا ذکر کررہے تھے۔ انہوں نے ’ب‘ پر زبر لگا دیا۔ عربی میں زیر، زبر کے فرق سے معنی بدل جاتے ہیں۔ مدّبَر (عربی صفت مفعولی) کا مطلب ہے وہ دوا جس کی اصلاح اور درستی کی گئی ہو، اچھی طرح کیا ہوا، قابلیت سے انصرام کیا ہوا۔ جب کہ مدّبِر (ب کے نیچے زیر) کا مطلب ہے تدبیر کرنے والا، عقل مند، دانش مند، مشیر، صلاح کار، منتظم، وزیر، گورنر، ڈائرکٹر وغیرہ۔

اردو میں مدبر وزیر، گورنر اور ڈائرکٹر کے معنوں میں استعمال نہیں ہوتا۔ یوں بھی جو گورنر بن جائے اُسے خواہ مخواہ مدبر تسلیم کرلیا جاتا ہے کہ اس کے پاس بہت سی تدبیریں ہوتی ہیں۔

ایک لفظ اور ہے جس کا املا تو یہی ہے لیکن تلفظ مختلف ہے، اور وہ ہے ’’مُدْبِر‘‘۔ واپس آنے یا جانے والا، جو پیٹھ پھیرے۔ وہ جسے اس کے نصیبے نے پیٹھ دکھائی ہو۔ بدنصیب، بدبخت، واثوں بخت۔ (واثوں یا واژگوں کا مطلب ہے اوندھا، الٹا، منحوس، نامبارک، برگشتہ)۔

ایک اینکر خوشنود علی خان اپنے پروگرام میں خزانہ کا ذکر کرتے ہوئے کہہ گئے خَزانہ، جسے آفتاب اقبال خِزانہ (خ کے نیچے زیر) کہتے ہیں۔ ممکن ہے یہ محترم ظفر اقبال نے تعلیم کیا ہو۔ خَزانہ عربی کا لفظ ہے اور معنی سب کو معلوم ہیں، ان کو بھی جن کے پاس نہیں ہے۔ خزانہ پانی کے ذخیرے اور گودام کو بھی کہتے ہیں۔ سعودی عرب میں پانی کے ٹینک کو ’’مویاخزان‘‘ کہتے ہیں۔

عندیہ کا تلفظ بھی عموماً غلط سننے میں آرہا ہے، خاص طور پر برقی ذرائع ابلاغ سے۔ عِندیہ میں ’ع‘ کے نیچے زیر ہے (کسرہ) جب کہ اسے زبر کے ساتھ عَندیہ کہا جارہا ہے۔ تلفظ ٹھیک کرنا کوئی بڑا لسانی مسئلہ نہیں ہے۔ اگر عَندیہ کہا جا سکتا ہے تو عِندیہ کہنے میں کوئی دشواری نہیں ہے۔ غَلَطْ تو شاید کبھی ٹھیک نہ ہو جب تک برقی ذرائع ابلاغ پر غلْط کہا جاتا رہے۔

اخبار میں دو بھولے بسرے الفاظ پڑھنے کو ملے۔ ایک ’’تہہ بازاری‘‘ اور دوسرا ’’ٹھیکری پہرہ‘‘۔ ٹھیکری پہرہ تو پنجاب کے چھوٹے شہروں اور دیہات میں سننے میں آجاتا ہے لیکن بڑے شہروں والے شاید بھول گئے ہیں۔ تہ بازاری (نہ کہ تہہ) فارسی کا لفظ اور مونث ہے۔ یعنی وہ محصول جو اُن لوگوں سے لیا جاتا ہے جن کی دکانیں بازار میں نہیں ہوتیں بلکہ وہ سڑک کے کنارے بیٹھ کر سامان بیچتے ہیں۔ بازار کا محصول جو بازار میں چیزیں فروخت کرنے والوں سے لیا جاتا ہے۔ پنجاب کے ایک اخبار میں تہ بازاری پتھارے اور تجاوزات ہٹانے کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ کراچی میں تو بلدیہ والے سڑک کنارے یا فٹ پاتھ پر سامان بیچنے والوں کا مال و متاع عملاً تہ کرکے گاڑی میں ڈال کر لے جاتے ہیں، واپسی کے معاملات بعد میں طے ہوتے رہتے ہیں۔ بلدیہ کے ملازمین یا پولیس اہلکار بھی بال بچوں والے ہیں۔ ٹھیکری پہرہ گاؤں دیہات میں پہرے کے لیے باری مقرر کرنے کو کہتے ہیں۔ اس کا ایک شخص ذمے دار بنادیا جاتا ہے جو پہرے دار مقرر کرتا ہے۔ اس میں جانبداری بھی ہوسکتی ہے جس پر جھگڑے کی خبر اخبار میں پڑھی تھی۔

ہمزہ کا استعمال بھی متنازع ہوتا جارہا ہے۔ لیے، دیے، کیے وغیرہ میں تو ہمزہ لگانے سے تلفظ ہی بدل جاتا ہے۔ ڈاکٹر رؤف پاریکھ ماہنامہ قومی زبان میں اس حوالے سے اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ ’’گائے اور گاے (جانور) کے تلفظ میں تھوڑا سا فرق ہے۔ اسی لیے چاے بھی ہمزہ کے بغیر ہی درست ہے، اسے چائے نہیں لکھنا چاہیے۔ باباے اردو کو بابائے اردو لکھا دیکھ کر ہنسی بھی آتی ہے اور رونا بھی (یہ مذاق تو خود ماہنامہ قومی زبان میں دیکھا گیا)۔ ڈاکٹر غلام مصطفی خان مرحوم تو چاے اور گاے وغیرہ میں ہمزہ نہ لکھنے کے ضمن میں بہت احتیاط کرتے تھے‘‘۔ جہاں تک گائے کا تعلق ہے تو مولوی اسماعیل میرٹھی کی مشہور نظم میں گائے اپنے سینگوں سمیت موجود ہے۔


متعلقہ خبریں


املا مذکر یا مونث؟ اطہر علی ہاشمی - هفته 13 اگست 2016

اسلام آباد میں جا بیٹھنے والے عزیزم عبدالخالق بٹ بھی کچھ کچھ ماہر لسانیات ہوتے جارہے ہیں۔ زبان و بیان سے گہرا شغف ہے۔ ان کا ٹیلی فون آیا کہ آپ نے ’’املا‘‘ کو مذکر لکھا ہے، جبکہ یہ مونث ہے۔ حوالہ فیروزاللغات کا تھا۔ اس میں املا مونث ہی ہے۔ دریں اثنا حضرت مفتی منیب مدظلہ کا فیصلہ بھی آگیا۔ گزشتہ منگل کو جسارت میں ان کا مضمون ’’دُم پر پاؤں‘‘ شائع ہوا ہے۔ اس کی پہلی سطر ہے ’’اس لفظ (پاؤں) کی صحیح املا پانو ہے‘‘۔ مفتی صاحب کے فتوے کے مطابق بھی املا مونث ہے۔ ان کے فتوے پر تو ہم روز...

املا مذکر یا مونث؟

تلفظ میں زیر و زبر اطہر علی ہاشمی - پیر 01 اگست 2016

ہم یہ بات کئی بار لکھ چکے ہیں کہ اخبارات املا بگاڑ رہے ہیں اور ہمارے تمام ٹی وی چینلز تلفظ بگاڑ رہے ہیں۔ ٹی وی چینلوں کا بگاڑ زیادہ سنگین ہے کیونکہ ان پر جو تلفظ پیش کیا جاتا ہے، نئی نسل اسی کو سند سمجھ لیتی ہے۔ بڑا سقم یہ ہے کہ ٹی وی پر جو دانشور، صحافی اور تجزیہ نگار آتے ہیں وہ بھی اس بگاڑ میں اضافہ کررہے ہیں اور بڑے دھڑلے سے غلط تلفظ کو فروغ دے رہے ہیں۔ خاص طور پر کئی الفاظ کو ’’زیروزبر‘‘ کردیا جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک بہت سینئر صحافی، جو بہت عمدہ اردو لکھتے ہیں اور ہم ن...

تلفظ میں زیر و زبر

گیسوئے اردو کی حجامت اطہر علی ہاشمی - هفته 23 جولائی 2016

علامہ اقبالؒ نے داغ دہلوی کے انتقال پر کہا تھا : گیسوئے اردو ابھی منت پذیر شانہ ہے ایم اے اردو کے ایک طالب علم نے اس پر حیرت کا اظہار کیا کہ داغ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ کس کے شانے کی بات کی جارہی ہے جب کہ غالب نے صاف کہا تھاکہ: تیری زلفیں جس کے شانوں پر پریشاں ہو گئیں اس سوال پر ہم بھی پریشان ہوکر رہ گئے۔ داغ دہلوی نے جس شبہ یا شکوے کا اظہار کیا تھا وہ ایسا غلط بھی نہیں۔ ٹی وی چینلوں پر گیسوئے اردو کی جس طرح حجامت بنائی جارہی ہے وہ اس کا ثبوت ہے۔ چلیے، ’’...

گیسوئے اردو کی حجامت

’’کھُد بُد‘‘ اور ’’گُڈمُڈ‘‘ اطہر علی ہاشمی - پیر 11 جولائی 2016

مجاہد بک اسٹال، کراچی کے راشد رحمانی نے لکھا ہے کہ آپ کو پڑھ کر ہم نے اپنی اردو درست کی ہے لیکن 11 اپریل کے اخبار میں مشتاق احمد خان کے کالم نقارہ کا عنوان ’’لمحہ فکریہ‘‘ ہے۔ ہے نا فکر کی بات! صحیح ’لمحہ فکریہ‘ ہے یا ’لمحہ فکر‘؟ عزیزم راشد رحمانی، جن لوگوں نے سید مودودیؒ کو نہیں پڑھا وہ کچھ بھی لکھ سکتے ہیں۔ سید نے ہمیشہ ’لمحہ فکر‘ ہی لکھا اور یہی صحیح ہے۔ وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار، داخلہ کے وزیر بھی ہیں اور وزیروں کے چودھری بھی، اس لیے ان کو بجا ہے کہ وہ ذمے دار کو ...

’’کھُد بُد‘‘ اور ’’گُڈمُڈ‘‘

’’پیشن گوئی‘‘ اور ’’غتربود‘‘ اطہر علی ہاشمی - هفته 04 جون 2016

پچھلے شمارے میں ہم دوسروں کی غلطی پکڑنے چلے اور یوں ہوا کہ علامہ کے مصرع میں ’’گر حسابم را‘‘ حسابم مرا ہوگیا۔ ہرچند کہ ہم نے تصحیح کردی تھی لیکن کچھ اختیار کمپوزر کا بھی ہے۔ کسی صاحب نے فیصل آباد سے شائع ہونے والا اخبار بھیجا ہے جس کا نام ہے ’’ لوہے قلم‘‘۔ دلچسپ نام ہے۔ کسی کا کہنا ہے کہ اس میں ’کا‘ رہ گیا ہے‘ یعنی ’لوہے کا قلم‘ ہوگا لیکن سہوِ کاتب سے ’کا‘ رہ گیا۔ روزنامہ کی لوح پر لکھا ہے ’’عوام کے ہر مسائل پر نظر‘‘۔ ’ہر‘ کے ساتھ اگر ’مسئلے‘ لکھ دیتے تو کوئی حرج نہیں تھا۔...

’’پیشن گوئی‘‘ اور ’’غتربود‘‘

اعلیٰ یا اعلا اطہر علی ہاشمی - اتوار 03 اپریل 2016

سب سے پہلے تو جناب رؤف پاریکھ سے معذرت۔ ان کے بارے میں یہ شائع ہوا تھا کہ ’’رشید حسن خان اور پاکستان میں جناب رؤف پاریکھ کا اصرار ہے کہ اردو میں آنے والے عربی الفاظ کا املا بدل دیا جائے۔‘‘ انہوں نے اس کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ خود رشید حسن خان سے متفق نہیں ہیں۔ چلیے، اس طرح ان سے فون پر گفتگو کا اعزاز حاصل ہوگیا۔ رؤف پاریکھ ایک علمی و ادبی شخصیت ہیں جن سے ہم نے بھی بہت کچھ سیکھا ہے۔ رشید حسن خان نے اردو کے لیے بہت کام کیا ہے، املا پر ان کی ایک وقیع کتاب ہے۔ ...

اعلیٰ یا اعلا

فِحش یا فحش؟ اطہر علی ہاشمی - پیر 22 فروری 2016

لاہور سے ایک بار پھر جناب محمد انور علوی نے عنایت نامہ بھیجا ہے۔ لکھتے ہیں: ’’خط لکھتے وقت کوئی 25 سال پرانا پیڈ ہاتھ لگ گیا۔ خیال تھا کہ بھیجتے وقت ’’اوپر سے‘‘ سرنامہ کاٹ دوں گا مگر ایسا نہ ہوسکا۔ اگر خاکسار کے بس میں ہوتا تو آپ کی تجویز کے مطابق اردو میں نام بدلنے کی کوشش کرتا، مگر مجھے تو سبکدوش ہوئے 20 سال ہوچکے۔ بلاشبہ آپ کا یہ سلسلہ خاصا مفید ہے۔ اسی لیے کبھی کبھی آپ کی معاونت کی غرض سے اس میں شریک ہوجاتا ہوں۔ کیونکہ کامل ہونے کا دعویٰ نہ آپ کرسکتے ہیں نہ کوئی ا...

فِحش یا فحش؟

استیصال کا دلیرانہ استعمال اطہر علی ہاشمی - اتوار 07 فروری 2016

’’زبان بگڑی سو بگڑی تھی‘‘…… کے عنوان سے جناب شفق ہاشمی نے اسلام آباد کے اُفق سے عنایت نامہ بھیجا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:’’دیرپائیں کے رفیق عزیز کا چار سالہ بچہ اپنے والد سے ملنے دفتر آیا تو لوگوں سے مل کر اسے حیرت ہوئی کہ یہ لوگ آخر بولتے کیوں نہیں ہیں۔ ایک حد تک وہ یقینا درست تھا کہ یہاں پشتو بولنے والا اسے کوئی نہ ملا۔ وہ بچہ اپنا نام ’’خان بابو‘‘ بتاتا تھا، جس پر ہمارے دل میں آیا کہ ہم اپنے مقتدر استادِ فن کو ’’علی خان بابو‘‘ کہیں۔ یہ تو خیر ابتدائیہ معترضہ تھا۔ اب آتے ہیں فکاہی...

استیصال کا دلیرانہ استعمال

’’معاملات ٹھن گئے‘‘ اطہر علی ہاشمی - منگل 08 دسمبر 2015

عدالتِ عظمیٰ کے منصفِ اعظم جناب انور ظہیر جمالی نے گزشتہ منگل کو ایوانِ بالا سے بڑی رواں اور شستہ اردو میں خطاب کرکے نہ صرف عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کی لاج رکھی بلکہ یہ بڑا ’’جمالی‘‘ خطاب تھا اور اُن حکمرانوں کے لیے آئینہ جو انگریزی کے بغیر لقمہ نہیں توڑتے۔ حالانکہ عدالتِ عظمیٰ کے اعلیٰ ترین منصب پر پہنچنے والوں کا تو اوڑھنا، بچھونا ہی انگریزی ہوتا ہے۔ قانون کی تعلیم، وکالت اور پھر عدالتوں میں دائر درخواستیں پڑھنا، جو عموماً انگریزی میں ہوتی ہیں۔ ایک عام جج بھی میاں نوازشریف سے ...

’’معاملات ٹھن گئے‘‘

ایک ’’لاجواب‘‘ تحقیق اطہر علی ہاشمی - پیر 30 نومبر 2015

عزیزم آفتاب اقبال، نامور شاعر ظفر اقبال کے ماہتاب ہیں۔ اردو سے خاص شغف ہے۔ ایک ٹی وی چینل پر زبان کی اصلاح کرتے رہتے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ پروگرام مزاحیہ ہے، چنانچہ ان کی اصلاح بھی کبھی کبھی مزاح کے دائرے میں داخل ہوجاتی ہے۔ گزشتہ اتوار کو ان کا پروگرام دیکھا جس میں انہوں نے بڑا دلچسپ انکشاف کیا کہ جس کو شہر یعنی City کہا جاتا ہے، یہ دراصل عربی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ’مہینہ‘ جیسے شہرِ رمضان۔ پہلے تو ہمیں گمان ہوا کہ وہ شاید اپنے پروگرام کی نسبت سے مزاح فرما رہے ہیں، لیکن پھر...

ایک ’’لاجواب‘‘ تحقیق

’’لیے‘‘ اور ’’لئے‘‘ کا آسان نسخہ اطہر علی ہاشمی - منگل 24 نومبر 2015

اردو کے لیے مولوی عبدالحق مرحوم کی خدمات بے شمار ہیں۔ اسی لیے انہیں ’’باباے اردو‘‘کا خطاب ملا۔ زبان کے حوالے سے اُن کے قول ِ فیصل پر کسی اعتراض کی گنجائش نہیں۔ گنجائش اور رہائش کے بھی دو املا چل رہے ہیں، یعنی گنجایش، رہایش۔ وارث سرہندی کی علمی اردو لغت میں دونوں املا دے کر ابہام پیدا کردیا گیا ہے۔ چنانچہ آج کل یہ دونوں ہی رائج ہیں۔ رشید حسن خان نے ہمزہ کے بجائے ’ی‘ سے لکھا ہے یعنی گنجایش، ستایش وغیرہ۔ بات ہورہی تھی باباے اردو کی۔ ہرچند کہ خطائے بزرگاں گرفتن خطا است۔ لیکن ...

’’لیے‘‘ اور ’’لئے‘‘ کا آسان نسخہ

اردو میں لٹھ بازی اطہر علی ہاشمی - بدھ 11 نومبر 2015

چلیے، پہلے اپنے گریبان میں جھانکتے ہیں۔ سنڈے میگزین (4 تا 10 اکتوبر) میں صفحہ 6 پر ایک بڑا دلچسپ مضمون ہے لیکن اس میں زبان و بیان پر پوری توجہ نہیں دی گئی۔ مثلاً ’لٹھ‘ کو مونث لکھا گیا ہے۔ اگر لٹھ مونث ہے تو لاٹھی یقینا مذکر ہوگی۔ لٹھ کو مونث ہی بنانا تھا تو ’’لٹھیا‘ لکھ دیا ہوتا۔ مزید وضاحت کی گئی ہے کہ جس (لٹھ) کے ٹاپ پر گھنگرو اور پیتل کی گھنٹیاں‘‘۔ عدالتِ عظمیٰ کی طرف سے نفاذِ اردو کے حکم کے بعد ’’ٹاپ‘‘ کا استعمال توہین عدالت کے مترادف ہے، وزیراعظم کے انگریزی میں خطاب پر ...

اردو میں لٹھ بازی