... loading ...

پاکستان میں سطحیت کے غلبے نے ایک ایسا رجحان پیدا کردیا ہے کہ ہر جگہ مختلف آراء رکھنے والے باہم دست وگریبان نظر آتے ہیں ۔ اور کوئی بھی واقعہ ہو جائے، اُس واقعے کے اپنے تناظر پر نگاہ رکھنے کے بجائے اُسے اپنے حریفوں کے خلاف استعمال کرنے کا ایک موقع بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان کا لبرل اور سیکولر طبقہ ایک غیر جانب دار رویے کے بجائے دراصل سب سے زیادہ انتہاپسندانہ اور متعصبانہ نقطہ نظر کا علمبردار بن کر سامنے آیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب پوری قوم عبدالستار ایدھی کی موت پر غم زدہ تھی، لبرل اور سیکولر طبقے کے انتہا پسند علمبردار میدان میں آکر مختلف علمائے کرام کی کئی سال پُرانی آراء کو اُ نہیں نشانہ تنقید بنانے کے لیے سامنے لا رہے ہیں۔ عبدالستار ایدھی ایک انتہائی سادہ آدمی تھے، اُن کی پوری زندگی محض ایک ڈگر پر عملیت پسندی کی آئینہ دار تھی۔ جس میں موجود کوئی فلسفہ زندگی تھا، تو وہ خود اُنہیں بھی پتہ نہیں تھا۔ وہ صرف اور صرف ایک سادہ زندگی کے ساتھ جو بات صحیح طور پر سمجھ چکے تھے، اُس کے نام اپنی زندگی کر چکے تھے۔ مگر اِسے ایک مفکرانہ شان دینے کی کوشش کرتے ہوئے کچھ عناصر نے اِسے علماء کے خلاف تنقید کا جواز اور موقع بنانے کی کوشش کی۔ حیرت انگیز طور پر یہ وہ طبقہ ہے جو مذہب ، توہین رسالت یہاں تک کہ خدا کے وجود پر بھی کھلی گفتگو کا حق مانگتا ہے۔ مگر اُسے علمائے کرام کی عبدالستارایدھی پر رائے زنی (صحیح و غلط سے بے نیاز) گوارا نہیں۔ وہ اِسے انسانیت کے نام پر ایک ایسی تقدیس میں لے جانا چاہتے ہیں جہاں بات کرنا دشوار ترین بن جائے، مگر وہ خدا، توہین رسالت ،مذہب اور اس نوع کے دیگر موضوعات کی تقدیس کو اس قدر نیچے گرادینا چاہتے ہیں کہ جس پر ہر قسم کے شرابی دانشوراورمحفلوں کی شمعیں بن کر جینے والی مخلوق پست سے پست سطح کی گفتگو بھی کرنے میں آزاد رہیں۔
بعض علماء کی جانب سے گزشتہ برسوں میں عبدالستار ایدھی کے بعض خیالات پر رائے زنی کی جاتی رہی ہے۔ مگر وہ عبدالستار ایدھی کی زندگی کی باتیں تھیں جسے سیکولر اور لبرل طبقے نے اپنے مخصوص اہداف کے تحت عبدالستار ایدھی کی موت کے بعد بننے والے ماحول میں پورے مذہبی طبقے کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
پڑوسی ملک بھارت کے مسلمان بھی کچھ اس سے ملتے جُلتے حالات سے گزررہے ہیں۔ جہاں ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف بھارت کے ہندو ذرائع ابلاغ وہی کچھ کر رہے ہیں جو پاکستان میں سیکولر اور لبرل انتہا پسند ” دانشور”کر رہے ہیں۔ بھارتی ذرائع ابلاغ سے وابستہ ہندو انتہاپسند دانشور ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف دارالعلوم دیوبند کے کچھ پرانے فتووں کو موجودہ حالات میں استعمال کررہا ہے۔ جس پر دارالعلوم دیوبند کے ترجمان نے ایک زبردست وضاحت جاری کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق دارالعلوم دیوبند نے بھارتی اخبارات میں جاری ایسی رپورٹوں کی شدید الفاظ میں تردید کی ہے کہ جس میں ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف ایک پرانے فتوے کا حوالہ دے کریہ تاثر دیا گیا تھا کہ دارالعلوم دیوبند بھی یہ سمجھتا ہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کی تقریروں سے متاثر ہو کر ہی ڈھاکا میں دہشت گردانہ حملہ کیا گیا تھا۔ اس ضمن میں دارالعلوم کے ترجمان اشرف عثمانی نے دوٹوک طور پر وضاحت کی ہے کہ “کچھ معاملات پر ڈاکٹر ذاکر نائیک کے متعلق چند مخالف فقہی آراء ماضی میں ضرور دی گئی تھی، مگر انہیں چند اخبارات اور نیوز چینلز ذاکر نائیک کے خلاف خبروں اور رپورٹوں میں اب استعمال کرر ہے ہیں۔ ماضی میں ذاکر نائیک کے حوالے سے جو فتوے جاری کیے گیےتھے ، اُنہیں اب ذاکر نائیک پر دہشت گردی کے الزامات سے جوڑ کر پیش کرنا غلط اور قابل اعتراض ہے۔ ”
دار العلوم دیوبند کی اس ادارہ جاتی وضاحت کے علاوہ بھی اکثر علمائے کرام نے اپنی الگ سے جاری کی گئی وضاحتوں میں کہا ہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کو ایک وسیع تر سازش کے تحت پھنسایا جارہا ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن مولانا خالد رشید فرنگی محل نے کہا ہے کہ “ایک ایسے شخص کو جس کے دیڑھ کروڑ کے قریب مداح ہوں، کسی ایک یا چند مداحوں کی غلط حرکتوں کے لیے کیسے موردِ الزام ٹہرایا جاسکتا ہے۔ یہ صریح ناانصافی ہے۔”
مذکورہ تناظر میں دیکھا جائے تو دارالعلوم دیوبند کا ڈاکٹر ذاکر نائیک کے حوالے سے طرزِعمل پاکستان کے مذہبی طبقے کے لئے بھی رہنما ہے۔ مگر اس سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت میں بی جے پی کے ہندو انتہاپسندانہ عزائم سے وابستہ ذرائع ابلاغ کے مختلف افراد جو کچھ ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف کر رہے ہیں اور اس ضمن میں مسلمانوں کے مختلف طبقات کی پرانی آراء کو جس طرح گرد جھاڑ جھاڑ کر استعمال کررہے ہیں عین وہی طرزِ عمل پاکستان میں لبرل اور سیکولر انتہا پسنددانشوروں نے عبدالستار ایدھی کے حوالے سے مذہبی طبقے کی پرانی آراء کو استعمال کرکے اختیار کر رکھا ہے۔
گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...
28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...
خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...
طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...
تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...
حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...
گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...
یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...
ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...
اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...
سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...
جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...