وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

خودرا فضیحت

اتوار 12 جون 2016 خودرا فضیحت

urdu words

فارسی کی ایک مثل ہے ’’خودرا فضیحت دیگراں را نصیحت‘‘۔ یعنی خود تو غلط کام کرنا، دوسروں کو نصیحت کرنا۔ فضیحت کا مطلب رسوائی، ذلت، بدنامی بھی ہے۔ یہ محاورہ یوں یاد آیا کہ کچھ قارئین غلطیوں کی نشاندہی کرکے یہی مثل سنا دیتے ہیں۔ اب ہم کیا کریں کہ اپنے جن صحافی ساتھیوں کی زبان درست کرنے کی سعیٔ نامشکور کرتے ہیں وہی پڑھنے کی زحمت نہیں کرتے اور طعنہ ہمیں سننا پڑتا ہے۔

’’ہبہ‘‘ عطیے وغیرہ کو کہتے ہیں۔ لڑکیوں کے نام بھی رکھے جاتے ہیں کہ وہ بھی عطیۂ خداوندی ہیں۔ لیکن جانے کیوں یہ نام ’’حبہ‘‘ لکھا جانے لگا ہے۔

مثال کے طور پر منگل 3 مئی کے اخبار میں کھیلوں کے صفحے پر صحافیوں ہی سے متعلق خبر میں کراچی پریس کلب کے سیکرٹری کا نام ’’علاؤ الدین‘‘ چھپا ہے تو کیا کیا جا سکتا ہے! جو صاحب اس صفحے کے نگران ہیں انہوں نے کبھی یہ پڑھا ہی نہیں ہوگا کہ علاء الدین میں واؤ نہیں آتا۔ ہمیں یقین ہے کہ خود علاء الدین خانزادہ بھی یہ غلطی نہیں کرتے ہوں گے۔ اسی خبر میں ’’سپر سیکس‘‘ کرکٹ ٹورنامنٹ کا حوالہ ہے۔ اب کون پوچھے کہ یہ سپرسیکس کیا ہے اور کیا یہ فحش نہیں ہے! یعنی اردو بھی غلط اور انگریزی بھی غلط۔ کھیلوں کے صفحے کے نگران کے پاس تو یہ دلیل ہوسکتی ہے کہ کھلاڑیوں یا کھیل کے صفحے کے نگران کا زبان سے کیا تعلق! دورۂ انگلستان کے لیے 35 کھلاڑیوں کے انتخاب کی خبر میں بار بار یہ بتایا گیا ہے کہ انضمام الحق چیف سلیکٹر ہیں۔ غالباً ایک بار لکھنے سے تسلی نہیں ہوئی۔ یہ الفاظ کی فضول خرچی ہے جو دیگر خبروں میں بھی نظر آتی ہے۔ رکن کو ممبر لکھنا تو شاید کوئی مجبوری ہے۔ ہمیں یہ بھی یقین ہے کہ یہ سطور بھی متعلقہ افراد نہیں پڑھیں گے۔

’’ہائے‘‘ کا استعمال عموماً جمع بنانے کے لیے کیا جاتا ہے، جیسے مرزا غالب کا مصرع ہے

کاو کاو سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ

یا ’’شب ہائے جدائی‘‘ وغیرہ۔ لیکن جہاں جمع کا صیغہ ہو وہاں ’’ہائے‘‘ استعمال نہیں کی جاتی، جیسے یہ جملہ ’’رشحات ہائے قلم‘‘۔ رشحات خود جمع ہے اس لیے یہاں ہائے ہائے کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ رشحات ’’رشحہ‘‘ کی جمع ہے، عربی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ٹپکنا، قطرہ، پسینہ وغیرہ۔

آج کل ٹی وی چینلوں اور بیانات میں اے ٹی ایم مشین کا بڑا تذکرہ ہے۔ وزیراعظم ہوں، وزیراطلاعات ہوں یا دیگر وزراء، حتیٰ کہ مولانا فضل الرحمن بھی…… سب اے ٹی ایم مشین کی بات کررہے ہیں اور اتنا نہیں معلوم کہ اس میں ’’ایم‘‘ مشین ہی کے لیے ہے۔ لیکن شاید صرف ATM کہنے سے بیان میں زور پیدا نہیں ہوتا۔ اسی طرح بارہا کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی کا نام نظر سے گزرا۔ اس میں بھی آخری ایس (S) سوسائٹی ہی کے لیے ہے۔ چنانچہ آخر میں سوسائٹی لکھنا، کہنا غلط ہے۔ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں، ان کا خیال رکھنے سے کچھ نہیں بگڑتا۔

’’تمغا‘‘ صحیح ہے یا ’’تغما‘‘؟ کئی لغات میں تغما کو صحیح قرار دیا گیا ہے، تاہم فرہنگ آصفیہ کے مطابق ترکی میں صحیح تمغا ہے، جب کہ اردو میں تغما ہے۔ یہ بات بالکل الٹ گئی ہے کیونکہ اردو میں عموماً تمغا بولا اور لکھا جارہا ہے۔ لیکن اخبارات میں تمغہ بھی نظر سے گزرتا ہے جو بالکل غلط ہے اور اسے غلط العام بھی نہیں کہا جا سکتا۔ ایک اور مزے کا لفظ اخبارات میں نظر آتا ہے ’’پانی والا تالاب‘‘۔ تالاب میں تو پہلے ہی پانی موجود ہے۔ یہ دو الفاظ کا مرکب ہے یعنی تال۔آب۔ تالاب کے لیے صرف تال بھی مستعمل ہے جیسے ’’تالوں میں تال بھوپال تال باقی سب تلیاں‘‘۔ سنا ہے کہ بھارتی ریاست بھوپال میں بہت بڑا تالاب ہے۔

حکمران اپنے جلسوں کو تو بہت بڑا بناتے ہیں تاہم دوسروں کے جلسوں کو ’’جلسی‘‘ کہتے ہیں۔ یہ حکمرانوں کا حق ہے۔ لیکن عربی میں ایک لفظ ’’جلوسی‘‘ ہے۔ یہ صفت ہے اور منسوب بہ جلوس ہے۔ مطلب ہے سامانِ جلوس، شاہی جلوس کے ملازم۔ اب اگر اردو میں ’جلوس‘ شان و شوکت، کروفر کے جلوس نکلنے اور نکالنے کے معنوں میں آگیا ہے تو ’’جلوسی‘‘ بھی لے لینا چاہیے، اور سامان جلوس کے بجائے اسے کسی چھوٹے جلسے کے لیے بطور طنز استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سنڈے میگزین یکم تا 7 مئی کے شمارے میں صفحہ دو پر ایک سرخی ہے ’’آلاتِ موسیقی سنبھال کر رکھیں جائیں گے‘‘۔ سرخی سجانے والے صاحب اگر ’’رکھیں‘‘ کی جگہ ’’رکھے‘‘ لکھ دیتے توکوئی حرج نہیں تھا۔ جب آگے جمع آرہی ہو تو اس سے پہلے واحد آتا ہے یعنی ’’رکھے جائیں گے‘‘ ہونا چاہیے تھا۔

’’ہبہ‘‘ عطیے وغیرہ کو کہتے ہیں۔ لڑکیوں کے نام بھی رکھے جاتے ہیں کہ وہ بھی عطیۂ خداوندی ہیں۔ لیکن جانے کیوں یہ نام ’’حبہ‘‘ لکھا جانے لگا ہے۔ سنڈے میگزین میں بچوں کے صفحہ پر ایک نام ’حبہ‘ ہے جب کہ اس کا مطلب کچھ اور ہی ہے۔ عربی میں حَب گولی، قرص یا گول ڈھکن کوکہتے ہیں۔ حب ہی حبہ ہے جو بطور نام کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے۔ ایک دواخانے کی مشہور دوا ہے ’’حب کبد نوشادری‘‘۔ یہ گولیاں ہیں اور کبد جگر کو کہتے ہیں، نوشادر اس کا ایک جزو ہے۔

حب کی ’ح‘ پر اگر پیش لگا دیا جائے تو یہ حُب ہوجائے گا جس کا مطلب ہے محبت۔ حُب اﷲ تو سنا ہی ہوگا۔ اسی سے محب، محبت، محبوب وغیرہ الفاظ بنتے ہیں۔ محب اﷲ بھی نام ہوتا ہے۔

سہ ماہی ’بیلاگ‘ کراچی کے جنوری تا مارچ کے شمارے میں محترم عزیز جبران انصاری نے وہ الفاظ درج کیے ہیں جن کا استعمال تشدید اور بغیر تشدید دونوں طرح جائز ہے مثلاً کیفیت۔ بطور دلیل دو شعر دیے ہیں:

کیفیت خاص ہے گویا مری مجبوری کی
حال جو یار کا ہنگامِ قسم ہوتا ہے

داغ دہلوی

دوسرا شعر اشرف کا ہے:

ہمارے ساتھ وہ گل رو نکھر کے آیا تھا
چمن کی کیفیت اٹھتی جو ابر چھا جاتا

اسی طرح حیثیت اردو میں بغیر تشدید کے مستعمل ہے:

چلے گی سامنے میرے نہ تمکنت تیری
رقیب مجھ کو ہے معلوم حیثیت تیری

انسانیت کا معاملہ بھی یہی ہے، گو کہ آج کل انسانیت تشدید کے ساتھ ہی نظر آرہی ہے اور انسان متشدد ہوگیا ہے۔


متعلقہ خبریں


فصل کی برداشت اور تابع دار اطہر علی ہاشمی - بدھ 22 جون 2016

پنجاب میں زراعت کے تعلق سے ایک اصطلاح نظر سے گزری جو ہمارے لیے نئی ہے اور ممکن ہے بہت سے لوگوں کے لیے بھی نئی ہو۔ یہ ہے ’’برداشت‘‘ کا استعمال۔ ویسے تو عوام ہی بہت کچھ برداشت کررہے ہیں اور صورتِ حال پر برداشتہ خاطر (بیزار، اداس، آزردہ) بھی ہیں۔ لیکن ایوب زرعی تحقیقاتی ادارے، فیصل آباد کے ڈائریکٹر نے کسانوں کو ہدایت کی ہے کہ ’’گندم کی فصل برداشت کے مرحلے میں داخل ہوگئی، بروقت کٹائی کا انتظام کرلیں‘‘۔ اسی طرح لاہور سے محکمہ زراعت کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ ’’چنے کی فصل برداشت ...

فصل کی برداشت اور تابع دار

’’غیر معمولی ترقیاں و مراعاتیں‘‘ اطہر علی ہاشمی - بدھ 20 اپریل 2016

ایک ہفت روزہ کے سرورق پر سرخی ہے ’’پیپلزپارٹی تتّر بتّر ہوسکتی ہے‘‘۔ یعنی دونوں جگہ ’ت‘ پر تشدید ہے۔ پڑھ کر خوشگوار حیرت ہوئی، کیونکہ عموماً لوگ بغیر تشدید کے تتربتر کردیتے ہیں جب کہ تشدید کے ساتھ ہی صحیح ہے۔ فرہنگ آصفیہ، فیروزاللغات وغیرہ میں بھی اسی طرح ہے، اور اردو کی کلاسیکی کتاب باغ و بہار میں بھی دونوں ٹکڑوں میں ’ت‘ پر تشدید ہے۔ رشید حسن خان کے مطابق جو لوگ بغیر تشدید کے تتربتر کہتے ہیں، یہ بھی درست ہے۔ ایک جملہ عموماً استعمال کیا جاتا ہے ’’لگ گیا تیر، نہیں تو تکّا‘‘...

’’غیر معمولی ترقیاں و مراعاتیں‘‘

دار۔و۔گیر پر پکڑ اطہر علی ہاشمی - بدھ 03 فروری 2016

گزشتہ تحریر میں ہم نے ’دارو‘ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’یاد رہے دارو گیر میں بھی دارو موجود ہے لیکن یہ ایک الگ لفظ ہے۔ دارو گیر کا دارو سے کیا تعلق ہے، یہ ماہرین ہی بتاسکتے ہیں‘‘۔ یہ معاملہ ازراہِ تفنن ہم نے ماہرین پر چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ سب سے پہلے تو جسارت کے پروف ریڈر گزجناب ندیم نے اطلاع دی کہ یہ تو دو الگ الگ الفاظ ہیں یعنی دار۔و ۔ گیر۔ اور پھر ماہرین نے دارو گیر شروع کردی۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ ماسٹرز ایسوسی ایشن ضلع رحیم یار خان کے صدر محمد انور علوی نے لاہور سے متوجہ کیا ہے ...

دار۔و۔گیر پر پکڑ

’’مولک‘‘ اور ’’ایلم‘‘ اطہر علی ہاشمی - جمعه 29 جنوری 2016

علامہ طاہر اشرفی علماء کے سرخیل ہیں۔ انہوں نے غالباً عربی بھی پڑھی ہوگی، ورنہ اردو تو ضرور پڑھی ہوگی۔ اب اگر اتنے کلّے‘ ٹھلے کے اور جسیم عالم بھی ملک کو ’’مولک‘‘ کہیں تو تھوڑی سی حیرت تو ہوگی۔ اگر پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اﷲ علم کو ’’ایلم‘‘کہیں تو یہ اُن کو زیب دیتا ہے بلکہ اُن کی شخصیت سے مطابقت بھی رکھتا ہے۔ ہم نے وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کو کبھی ’’ذمے وار‘‘ کہنے پر نہیں ٹوکا کہ انہیں ٹوکنے کے لیے وزیراعلیٰ سندھ کافی ہیں۔ ایک بہت پڑھے لکھے صحافی جناب خورش...

’’مولک‘‘ اور ’’ایلم‘‘

یہ وطیرہ کیا ہے؟ اطہر علی ہاشمی - پیر 16 نومبر 2015

جناب پرویز رشید وفاقی وزیر اطلاعات ہیں اور اس لحاظ سے تمام صحافیوں کے سرخیل ہیں۔ ان کا فرمانا ہمارے لیے سند ہے۔ لاہور کا معرکہ جیتنے پر وہ فرما رہے تھے کہ فلاں کی تو ضمانت تک ضَبَطْ (بروزن قلق‘ شفق‘ نفخ وغیرہ یعنی ضَ۔بَط) ہوگئی۔ اب جو مثالیں ہم نے دی ہیں نجانے ان کا تلفظ وہ کیا کرتے ہیں۔ بطور مثال ہم نے غَلط کا لفظ نہیں لکھا، کیونکہ یہ عجب تماشا ہے کہ غلط کو ضبط کے وزن پر اور ضبط کو غلط کے وزن پر بولا جارہا ہے۔ جناب پرویز رشید تو کبھی پی ٹی وی کے افسرِ اعلیٰ بھی رہ چکے ہیں۔ ج...

یہ وطیرہ کیا ہے؟

پرشکوہ بروزن جوابِ شکوہ اطہر علی ہاشمی - هفته 07 نومبر 2015

ہمارے وفاقی وزیر چودھری نثار تو ذمہ داری کو ذمہ واری کہتے رہیں گے، انہیں ان کی ذمہ واری پر چھوڑتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب جناب شہبازشریف شمسی توانائی کی کارکردگی پر وضاحت پیش کرتے ہوئے ’’اوسط‘‘ کو بروزن دوست‘ گوشت وغیرہ کہتے رہے اور بار بار کہتے رہے۔ لیکن یہ تو حکمران طبقہ ہے۔ اسے زیبا ہے کہ جو چاہے کہے۔ البتہ جن کا تعلق صحافت سے ہے اور بہت پرانا ہے، انہیں دوبارہ اردو پڑھ لینی چاہیے۔ ٹی وی چینل ڈان کے نمائندۂ حیدرآباد جناب علی حسن بڑے سینئرصحافی ہیں۔ وہ حیدرآباد کی ایک قدیم ع...

پرشکوہ بروزن جوابِ شکوہ

لالچ مذکر یا مونث؟ اطہر علی ہاشمی - جمعرات 05 نومبر 2015

آئیے، آج ایک بچے کے خط سے آغاز کرتے ہیں جو غالباً بچوں کے رسالے ’ساتھی‘ کا قاری ہے۔ برخوردار نے لکھا ہے کہ ’’انکل‘ آپ ہمیں تو سمجھاتے ہیں کہ ’’لالچ‘‘ مونث نہیں مذکر ہے، لیکن سنڈے میگزین (6 تا 12 ستمبر) میں ایک بڑے قلمکار نے صفحہ 6 پر اپنے مضمون میں کم از کم چھ بار لالچ کو مونث لکھا ہے۔ اس سے اگلے صفحے پر دوسرے مضمون نگار نے بھی لالچ کو مونث ہی ثابت کیا ہے (بہشت کی لالچ)۔ اب آپ ہی بتائیے، ہم کس کی بات مانیں؟ ہماری تو اپنے دوستوں سے بحث ہوتی رہتی ہے کہ لالچ مذکر ہے، مونث نہیں۔ ...

لالچ مذکر یا مونث؟

نقص ِامن یا نقضِ امن اطہر علی ہاشمی - هفته 31 اکتوبر 2015

عدالتِ عظمیٰ کے حکم پر آئین کے مطابق قومی زبان اردو کو اس کا جائز مقام دینے کی کوششیں شروع ہوگئی ہیں۔ 1973ء کے آئین میں اردو کو سرکاری زبان بنانے کے لیے غالباً 10 سال کی مدت طے ہوئی تھی۔ ایسے کئی دس سال گزر گئے۔ لیکن اب عدالت نے نہ صرف حکم جاری کیا ہے بلکہ نئے منصفِ اعلیٰ نے اپنا حلف بھی اردو میں لیا ہے۔ سرکاری سطح پر قومی زبان اردو کی جب اہمیت مسلّم ہوجائے گی تو اردو بولنے، لکھنے میں بھی بہتری آئے گی۔ چین سے تعلقات کے پیش نظر چینی زبان سکھانے کا سرکاری اہتمام کیا جارہا ہے تو...

نقص ِامن یا نقضِ امن

امرت سر اطہر علی ہاشمی - جمعرات 15 اکتوبر 2015

محترم عمران خان نیا پاکستان بنانے یا اسی کو نیا کرنے کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک نیا محاورہ بھی عنایت کردیا ہے۔10 اگست کو ہری پور میں خطاب کرتے ہوئے سانحہ قصور کے حوالے سے انہوں نے پُرجوش انداز میں کہا ’’میرا سر شرم سے ڈوب گیا‘‘۔ انہوں نے دو محاوروں کو یکجا کردیا۔ دیکھا جائے تو کوئی شخص اُس وقت تک پوری طرح نہیں ڈوبتا جب تک اس کا سر نہ ڈوبے۔ چُلّو بھر پانی میں ڈوبنا محاورہ تو ہے لیکن عملاً ممکن نہیں۔ ممکن ہے خان صاحب کو یہ کہنا اچھا نہ لگا ہو کہ ’’سر ...

امرت سر

اینچا تانی کی کھینچا تانی اطہر علی ہاشمی - پیر 12 اکتوبر 2015

عزیزم آفتاب اقبال معروف شاعر ظفر اقبال کے ’’اقبال زادے‘‘ ہیں۔ اردو سے محبت اپنے والد سے ورثے میں پائی ہے۔ ایک ٹی وی چینل پر پروگرام کرتے ہیں۔ پروگرام کی نوعیت تو کچھ اور ہے تاہم درمیان میں آفتاب اقبال اردو کے حوالے سے چونکا دینے والے انکشافات بھی کر جاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے بتایا کہ ’’کھینچا تانی‘‘ اصل میں اینچا تانی ہے۔ کپڑا بُنتے ہوئے دائیں سے بائیں اور اوپر سے نیچے دو دھاگے چلتے ہیں جو اینچا تانی کہلاتے ہیں۔ یقینا یہ الفاظ لغت میں موجود ہیں۔ اسی کو تانا بانا بھی کہا ج...

اینچا تانی کی کھینچا تانی

بیرون ممالک اطہر علی ہاشمی - بدھ 16 ستمبر 2015

چلیے، آغاز اپنی غلطی سے کرتے ہیں اور اس یقین کے ساتھ کہ آئندہ بھی کریں گے۔ پچھلے شمارے میں سرزد ہونے والے سہو کی نشاندہی روات سے ایک ذہین شخص ذہین احمد نے کی ہے۔ روات اسلام آباد کے قریب ایک چھوٹا سا قصبہ تھا، ممکن ہے اب بڑا شہر ہوگیا ہو، اسلام آباد کی قربت کا فائدہ ضرور ہوا ہوگا۔ پچھلے شمارے میں ہم نے ’’بانگ دہل‘‘ استاد دامن کے دامن میں ڈال دی تھی۔ یہ معرکتہ الآرا مجموعہ استاد امام دین گجراتی کا ہے جن کا ایک شعر یہ ہے: تیری اماں نے پکائے مٹر مام دینا تو کوٹھے پہ چڑھ ...

بیرون ممالک

رفاعی یا رفاہی اطہر علی ہاشمی - اتوار 06 ستمبر 2015

صوبہ خیبرپختون خوا کے شہر کرک سے ایک اخبار ’’دستک‘‘ کے نام سے شائع ہوتا ہے۔ زبان کے حوالے سے یہ سلسلہ وہاں بھی شائع ہورہا ہے، جس کا فائدہ یہ ہے کہ پشتو بولنے والے اُن بھائیوں سے بھی رابطہ ہورہا ہے جو اردو میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اردو کو قومی سطح پر تو اب تک رائج نہیں کیا گیا لیکن اس زبان کی خوبی یہ ہے کہ آپ ملک کے کسی بھی حصہ میں چلے جائیں، یہ زبان بولنے اور سمجھنے والے مل جائیں گے۔ خیبر پختون خوا کے ایک شہر سے ایک استاد کا ٹیلی فون آیا۔ انہوں نے مزے کی بات بتائی کہ ہم جب ارد...

رفاعی یا رفاہی