... loading ...

یورپ کی طرف ہجرت کرنے والے تقریباً 500 افراد بحیرۂ روم میں کشی ڈوبنے سے مارے گئے ہیں۔ یہ حادثہ اٹلی اور لیبیا کے درمیان سمندر میں پیش آیا اور اس کی خبر دو بین الاقوامی اداروں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین اور بین الاقوامی انجمن برائے مہاجرت نے ان 41 بچ جانے والے افراد کے بیانات کی روشنی میں دی ہے، جنہیں ایک کمرشل بحری جہاز نے سنیچر کی شب بچایا تھا۔ یہ حالیہ چند سالوں میں اپنی نوعیت کے بڑے حادثوں میں سے ایک ہے۔
ایک طرف جہاں زمینی راستے سے مہاجرین اور تارکین وطن کی بڑی تعداد یورپ کا رخ کر رہی ہے اور اب تک 10 لاکھ سے زیادہ مہاجر یورپ میں سکونت اختیار کر چکے ہیں، جن کی اکثریت کا تعلق خانہ جنگی کے شکار شام، افغانستان اور عراق سے ہے۔ وہیں پر شمالی افریقہ سے بھی بڑی تعداد ایک اچھی زندگی کے خواب سجائے سمندری راستے سے یورپ جارہی ہے جو حد سے زیادہ بھری ہوئی کشتیوں کے ذریعے لیبیا سے اٹلی پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں اور اب تک ہزاروں افراد اس خطرناک کوشش میں مارے گئے ہیں۔
ان دونوں معتبر عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ 200 افراد گزشتہ ہفتے لیبیا کے ساحلی شہر طبرق سے روانہ ہوئے تھے جو بحیرۂ روم میں ایک بڑی کشتی کے ذریعے یورپ پہنچنا چاہتے تھے جس میں پہلے ہی سینکڑوں افراد سوار تھے۔ یہ افراد ایک کشتی کے ذریعے پہلے سے مسافروں سے بھری ہوئی کشتی تک پہنچے اور ان کی منتقلی کے ساتھ ہی وہ ڈوبنے شروع ہوگئی۔ بھگدڑ کے دوران مسافروں نے سمندر میں کودنا شروع کردیا تاکہ وہ چھوٹی کشتیوں کے ذریعے اپنی جانیں بچائیں لیکن بہت کم لوگ ہی بچ سکے اور بڑی تعداد سمندر کی لہروں کی نذر ہوگئی۔ مارے جانے والے عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔
بین الاقوامی ادارۂ مہاجرت نے اسے ایک دلخراش واقعہ قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ حکام اس واقعے کی تحقیقات کریں گے تاکہ اسباب کا بھی علم ہو سکے اور انہیں اسمگل کرنے والے مجرموں کو بھی قرار واقعی سزا دی جا سکے۔ اقوام متحدہ کے مطابق بچنے والوں میں 23 صومالی، 11 ایتھوپیئن، چھ مصری اور ایک سوڈانی شامل ہیں۔
گزشتہ سال اپریل ہی کے مہینے میں وسطی بحیرۂ روم میں ایک کشتی ڈوب گئی تھی جس میں 772 افراد مارے گئے تھے۔ اس سے پہلے اکتوبر 2013ء میں بھی اسی علاقے میں ایک کشتی ڈوبی تھی جس میں 800 افراد کی جانیں گئی تھیں۔ ایسے بھی کئی واقعات پیش آئے ہیں جن میں 400 سے 500 افراد کی جانیں گئی ہیں۔
18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...
27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...
صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...
داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...
گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...
پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...
پہلی منزل کی تلاش مکمل، دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں،غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا' گل پلازہ میں پھنسے دکاندار کا آخ...
اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، وینزو...
گل پلازہ واقعے کے بعد ریسکیو کا کام اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آگ کس وجہ سے لگی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ریسکیو گل پلازہ کو آگ ...
واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں، ذمے داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر یہاں سیکڑوں شہری قتل ہورہے ہیں کسی نے اپنا ناشتہ تک نہیں چھوڑا، سیمینار سے خطاب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ گل پلازا میں آگ لگی، کیوں باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا؟ ...
عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے ح...
حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ...