وجود

... loading ...

وجود

عمران شیخ رہائی کے بعد دبئی فرار! قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ مجروح

هفته 09 اپریل 2016 عمران شیخ رہائی کے بعد دبئی فرار! قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ مجروح

imran shaikh js

دوسو بلین سے زائد کی بدعنوانیوں میں دھنسے جہانگیر صدیقی کے رازداں عمران شیخ اپنی پراسرار رہائی کے بعد گزشتہ دنوں اچانک دبئی فرار ہو گیے۔ عمران شیخ جنگ او رجیو گروپ کے سربراہ میر شکیل الرحمان کے سمدھی جہانگیر صدیقی کے تمام کرتوتوں سے آگاہ تھے۔ جہانگیر صدیقی کے سرکاری مسائل کو حل کرنے اور اُن کے مختلف فراڈز کو سرکاری اداروں میں چھان بین سے روکنے کے کاموں پر مامور عمران شیخ سندھ پولیس ، ایف آئی اے اور نیب میں خاصا اثرورسوخ رکھتے ہیں۔ اپنے تعلقات پر نازاں اور سرکاری اداروں کو جہانگیر صدیقی کی مرضی کے مطابق ڈھالنے کے ماہر عمران شیخ کو جب اچانک گرفتار کیا گیا تو وہ جہانگیر صدیقی کے بیٹے علی جہانگیر کے گھر سے نکلے تھے۔ اُن کی گرفتاری کی پشت پر دراصل ایف آئی اے کے ڈائریکٹر سندھ شاہد حیات سے اُن کے تعلقات اور اُنہیں مختلف مواقع پر فوائد پہنچانے کی چھان بین کا محرک تھا۔مگر دوران حراست اُنہوں نے اُن سے بھی بڑھ کر سندھ پولیس ، ایف آئی اے کے دیگر افسران اور نیب کے ذمہ داران سے اپنے منفعت بخش تعلقات کے ذریعے مختلف ناجائز کام کرانے کی ہوشربا تفصیلات اُگل دیں۔

جہانگیر صدیقی کے سرکاری مسائل کو حل کرنے اور اُن کے مختلف فراڈز کو سرکاری اداروں میں چھان بین سے روکنے کے کاموں پر مامور عمران شیخ سندھ پولیس ، ایف آئی اے اور نیب میں خاصا اثرورسوخ رکھتے ہیں۔

اُن سے تفتیش کے بعد یہ بھی انکشاف ہوا تھا کہ وہ سندھ پولیس کے پانچ ڈی آئی جیز کی رقوم بیرون ملک بھیجنے کے ایک سلسلے سے بھی پوری طرح آگاہ ہیں۔ خود عمران شیخ کو جہانگیر صدیقی سے متعارف کرانے والے سلطان خواجہ کے متعلق بھی بعض حقائق پہلی مرتبہ منکشف ہوئے جس نے کراچی میں ایماندار پولیس افسران کی ایمانداری کا پول کھول کر رکھ دیا۔ عمران شیخ نے جہانگیر صدیقی کی بدعنوانیوں پر پھیلے مافیائی طرز کے پورے کھیل کو بے نقاب کردیا۔ ان تمام تفصیلات کے بعد عمران شیخ کی پراسرار رہائی کے بعد محسوس یہ ہورہا تھا کہ اب تحقیقات کا دائرہ بتدریج وسیع ہوگا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں سےیہ امید کی جارہی تھی کہ وہ عمران شیخ کے انکشافات کی روشنی میں شاہد حیات کے خلاف تحقیقات کا آغاز کریں گے۔ مزید برآں جہانگیر صدیقی کے دوسو بلین کی بدعنوانیوں کے حقائق پر اب قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آئیں گے۔ جہانگیر صدیقی کے بھارت کےکاروباری حلقوں سے تعلقات کے متعلق ہونے والے انکشاف کی روشنی میں یہ چھان بین کی جاسکے گی کہ آخر کیوں بھارت سے آنے والے اکثر وفود کی میزبانی جہانگیر صدیقی کے کہنے پر عمران شیخ کیا کرتے ہیں؟سندھ پولیس کے وہ افسران جنہوں نے اپنی جعلی ایمانداری کا تاثر نقش کرنے کے لیے غیر معمولی محنت اور ڈرامے بازیاں کی ہیں، اُن کی منی لانڈرنگ اور اربوں روپے کی بدعنوانیوں کے ذرائع کیا ہیں؟ اور اُس میں جہانگیر صدیقی کے گاڈ فاڈر طرز کا عمل دخل کتنا ہے؟

ابتدا میں بعض حلقوں میں یہ سوال اُٹھا تھا کہ عمران شیخ کے سنسنی خیز انکشافات کے بعد اُن کی رہائی آخر عمل میں ہی کیوں آئی؟ تاہم یہ ایک غیر معمولی پہلو تھا کہ عمران شیخ نے رہائی کے بعد اُن سے ہونے والی تفتیش کے متعلق خود اپنے ادارے کے لوگوں کو بھی کچھ نہیں بتایا۔ سندھ پولیس کے افسران بھی اُن سے ابتدا میں کچھ لاتعلق اور فاصلے پر دکھائی دیے۔ یہاں تک کہ خود جہانگیر صدیقی کے قریبی افراد بعض حلقوں میں یہ چھان بین کرتے ہوئے پائے گیے کہ عمران شیخ نے دوران حراست انکشافات کی کتنی قے کی ہے۔ مگر عمران شیخ نے اپنے قریبی حلقوں کو بھی بس یہی کہنے پر اکتفا کیا کہ اُن کے ساتھ خیر کا معاملہ ہوا، اور کسی کے متعلق کوئی پوچھ گچھ نہیں کی گئی۔ اُن کےاس موقف پر خود اُن کے اپنے ادارے کے ذمہ داران اور ایف آئی اے اور نیب کے افسران نے بھی اعتماد نہیں کیا۔جہانگیر صدیقی کےباخبر قریبی حلقوں کے مطابق ان حالات میں عمران شیخ کو پاکستان سے کچھ عرصے کے لیے بیرون ملک نکالنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ آئندہ پیش آنے والے غیر متوقع حالات میں عمران شیخ سے متعلق کسی اندیشے سے بچا جاسکے۔
ان حالات کے باوجود دوسری طرف قانون فافذ کرنے والے اداروں کے متعلق یہ سوال اُٹھ رہا ہے کہ آخر اتنے سنسنی خیز انکشافات اور اُس کےمقفل ثبوتوں کی چابی رکھنے والے عمران شیخ کو کراچی سے دبئی فرارہونے کا موقع کیوں دیا گیا؟اس پیش رفت پر نگاہ رکھنے والے ذہنوں میں یہ سوال بھی موجود ہے کہ کیا ا س معاملے میں بھی اداروں پر سیاسی دباؤ نے کام دکھا یا ہے؟ وجوہات کچھ بھی ہوں، مگر عمران شیخ کے کراچی ائیرپورٹ سے منظور کاکا کی طرح فرار ہونے کے واقعے نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے!!!!


متعلقہ خبریں


مطالبات پورے ہونے تک دھرنا جاری رہے گا ،اپوزیشن اتحاد کا فیصلہ وجود - منگل 17 فروری 2026

ہمارا مطالبہ ہے بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج کو ان سے ملنے دیا جائے،پارٹی رہنماؤں اور فیملی کی سے ملاقات کروائی جائے،اراکین کی پارلیمنٹ کے مرکزی دروازے پر نعرے بازی جنید اکبر اور شہریار آفریدی سمیت دیگر اراکین کا سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا مہم اور بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی جان...

مطالبات پورے ہونے تک دھرنا جاری رہے گا ،اپوزیشن اتحاد کا فیصلہ

سانحہ گل پلازہ ،مدد کوکوئی نہیں آیا، آگ بجھانے کے آلات نہیں تھے، تحقیقاتی کمیشن میں متاثرین کے بیانات قلمبند وجود - منگل 17 فروری 2026

، لوگ روپڑے 23 متاثرین نے بیانات قلمبندکروادیے، امدادی اداروں کی کارکردگی کا پول کھول دیا، سراسرغفلت کا مظاہرہ کیا گیا، فائر بریگیڈ کے پاس پانی ختم ہوچکا تھا، بلڈنگ کے اندر کوئی داخل نہیں ہوا، عینی شاہدین آپ سب شہدا کے لواحقین ہیں چاہتے تھے آپ سے شروعات کی جائے، ہمیں شہادتوں ...

سانحہ گل پلازہ ،مدد کوکوئی نہیں آیا، آگ بجھانے کے آلات نہیں تھے، تحقیقاتی کمیشن میں متاثرین کے بیانات قلمبند

گڈز ٹرانسپورٹ کاکرایوں میں 3 فیصد اضافے کا اعلان وجود - منگل 17 فروری 2026

وفاقی اور پنجاب حکومت کی پالیسیوں سے ٹرانسپورٹرز شدید دباؤ کا شکار ہیں،شہزاد اعوان ایندھن مہنگا ہونے کی وجہ سے اخراجات میں براہِ راست اضافہ ہوتا ہے، میڈیا سے گفتگو صدر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس ملک شہزاد اعوان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر سخت ردعمل دیتے...

گڈز ٹرانسپورٹ کاکرایوں میں 3 فیصد اضافے کا اعلان

یو اے ای کی سیکیورٹی پاکستان کی سلامتی کا لازمی حصہ ، فیلڈ مارشل وجود - منگل 17 فروری 2026

چیف آف ڈیفنس فورسز کی اماراتی مشیر سلامتی شیخ طحنون بن زاید النہیان سے ملاقات دونوں رہنماؤںکا خطے کی صورتحال، امن و سلامتی کے فروغ کیلئیمسلسل رابطوں پر زور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی سلامتی اور استحکام پاکستان کی سل...

یو اے ای کی سیکیورٹی پاکستان کی سلامتی کا لازمی حصہ ، فیلڈ مارشل

غزہ میں اسرائیل کی جنگ بندی خلاف ورزیاں، 11 فلسطینی شہید وجود - منگل 17 فروری 2026

شمالی غزہ میں خیمہ بستی پر حملے میں6جبکہ جنوبی حصے میں ایک اور حملے میں 5 فلسطینی شہید ہوئے حماس جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے جواب میں مبینہ اہداف کو نشانہ بنایا، اسرائیل ڈیفنس فورسز غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، تازہ حملوں میں مزید 11 فلسطین...

غزہ میں اسرائیل کی جنگ بندی خلاف ورزیاں، 11 فلسطینی شہید

قانون سازی پر مشاورت ،حکومت کا پیپلز پارٹی کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ وجود - پیر 16 فروری 2026

کوئی بھی سرکاری بل پارلیمان میں پیش کرنے سے پہلے پیپلزپارٹی سے پیشگی مشاورت اور منظوری لازمی قرار دے دی ،فیصلہ ایوان صدر سے بعض بلز کی واپسی کے بعد کیا گیا،میڈیا رپورٹس شیری رحمان کی سربراہی میں کمیٹی قائم ،مجوزہ قانون سازی پر مشاورت کرے گی، پہلے اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لیا...

قانون سازی پر مشاورت ،حکومت کا پیپلز پارٹی کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ

اپوزیشن اتحاد کاعمران خان کی اسپتال منتقلی کیلئے احتجاج جاری وجود - پیر 16 فروری 2026

شاہراہ دستور مکمل بند ،پارلیمنٹ ہاؤس، پارلیمنٹ لاجز اور کے پی ہاؤس میں دھرنے جاری،ذاتی ڈاکٹروں کی عدم موجودگی میں عمران کا کوئی علاج شروع نہ کیاجائے ،ترجمان پی ٹی آئی ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نیعمران کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ مکمل کیا، ڈاکٹر فاروق، ڈاکٹر سکندر اور ڈاکٹرعارف شام...

اپوزیشن اتحاد کاعمران خان کی اسپتال منتقلی کیلئے احتجاج جاری

کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،شرجیل میمن وجود - پیر 16 فروری 2026

حکومت مذاکرات کیلئے تیار ،جماعت اسلامی کو اپنے طرزِ عمل پر نظرثانی کرنا ہوگی منعم ظفر کون ہوتے ہیں جو قانون کی خلاف ورزی کریں، سینئر صوبائی وزیرکی گفتگو سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،حکومت مذاکر...

کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،شرجیل میمن

پیپلز پارٹی نے وہی کیا جو اس کی تاریخ ہے،حافظ نعیم وجود - پیر 16 فروری 2026

رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق سمیت ہمارے 50 سے زائد کارکنان گرفتار اور لاپتا ہیں پرامن رہ کر اپنا احتجاج جاری رکھیں گے دستبردار نہیں ہوں گے،امیر جماعت اسلامی امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ میں پیپلز پارٹی کو خبردار کرتا ہوں کہ وہ سابق بنگلادیشی وزیر اعظم...

پیپلز پارٹی نے وہی کیا جو اس کی تاریخ ہے،حافظ نعیم

بوری بند لاشیں دینے والوں کو کراچی سے کھلواڑ کا اختیار نہیں ملے گا، وزیراعلیٰ سندھ وجود - پیر 16 فروری 2026

سندھ نے پاکستان بنایا، ورغلانے والے سن لیں، صوبے کے باسی کسی کے ورغلانے میں نہیں آئیں گے سندھ متحد رہے گا، کل بھی کچھ لوگوں نے صوبہ بنانے کی بات کی ہے، انہیں کہتا ہوں چپ کرکے بیٹھ جاؤ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ بوری بند لاشیں دینے والوں کو کراچی سے کھلواڑ ...

بوری بند لاشیں دینے والوں کو کراچی سے کھلواڑ کا اختیار نہیں ملے گا، وزیراعلیٰ سندھ

وزیراعظم نے رمضان ریلیف پیکیج 38 ارب تک بڑھا دیا وجود - اتوار 15 فروری 2026

پچھلے سال رقم 20 ارب مختص کی گئی تھی، اس سال 38 ارب مقرر کیے ہیں، شہباز شریف چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میںمستحقین کو فی خاندان 13 ہزار دیے جائیں گے،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے رمضان ریلیف پیکج کا اعلان کردیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا تقریب سے خطاب کرتے ...

وزیراعظم نے رمضان ریلیف پیکیج 38 ارب تک بڑھا دیا

عمران کی صحت پر سیاست کروں گا نہ کرنے دوں گا،سہیل آفریدی وجود - اتوار 15 فروری 2026

میرے پاکستانیوں! عمران خان صاحب کی صحت میرے لیے سیاست سے بڑھ کر ہے احساس ہیبانی پی ٹی آئی کی صحت پر کارکنوں میں غم و غصہ ہے، وزیراعلیٰ پختونخوا کا پیغام وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ عمران خان کی صحت پر خود سیاست کروں گا اور نہ کسی کو کرنے دوں گا۔سماجی را...

عمران کی صحت پر سیاست کروں گا نہ کرنے دوں گا،سہیل آفریدی

مضامین
بنگلہ دیشی انتخابات اور حسینہ واجد کی مسکراہٹ وجود منگل 17 فروری 2026
بنگلہ دیشی انتخابات اور حسینہ واجد کی مسکراہٹ

جیفری ایپسٹین جرائم کا نیٹ ورک وجود منگل 17 فروری 2026
جیفری ایپسٹین جرائم کا نیٹ ورک

موضوع کی تلاش وجود منگل 17 فروری 2026
موضوع کی تلاش

جدید دور کا پاکستان اورقائداعظم کے نظریہ ٔ ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط وجود پیر 16 فروری 2026
جدید دور کا پاکستان اورقائداعظم کے نظریہ ٔ ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط

امریکہ میں بھارتی دہشت گردی وجود پیر 16 فروری 2026
امریکہ میں بھارتی دہشت گردی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر