وجود

... loading ...

وجود

دنیا کے کئی ممالک سے بھی زیادہ طاقتور کاروباری ادارے

اتوار 20 مارچ 2016 دنیا کے کئی ممالک سے بھی زیادہ طاقتور کاروباری ادارے

metanationals

اگر ہم ایک نظر ایکسینچر (Accenture) پر ڈالیں تو آپ کو ایسا لگے گا کہ یہ کسی بھی امریکی ادارےکا خواب ہو سکتا ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے مشاورتی ادارے کے سفر کا آغاز اکاؤنٹنگ فرم آرتھر اینڈرسن کے چھوٹے سے شعبے کے طور پر 1950ء کی دہائی میں ہوا تھا۔ اس کا پہلا بڑا منصوبہ جنرل الیکٹرک کے ایک کارخانے میں ایک کمپیوٹر کی تنصیب کے لیے مشاورت دینا تھا۔ چند دہائیوں کے بعد 1989ء تک یہ شعبہ اتنا بڑا ہوگیا تھا کہ اسے الگ ادارے کی شکل دی گئی: اینڈرسن کنسلٹنگ۔

اگر کاروباری گہرائی دیکھیں تو ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی اٹھان ٹھیک امریکی مزاج کے مطابق ہوئی۔ اس لیے نہیں کہ ادارے نے میکسیکو، جاپان اور دیگر ممالک میں دفاتر کھولے؛ بین الاقوامی توسیع کئی امریکی اداروں کا تقاضہ ہوتی ہے۔ بلکہ اس لیے کہ اینڈرسن کنسلٹنگ نے منافع دیکھے – کم ٹیکس، سستے کارکن، آسان قوانین – سرحدوں سے بالاتر ہو کر اور ان کا فائدہ اٹھانے کے لیے ایک نئی ترکیب۔ 2001ء تک جب ایکسینچر کے نام سے عوامی سطح پر جانے کا فیصلہ کیا گیا، یہ فرنچائزز پر مبنی ایک بڑے جال میں تبدیل ہو چکا تھا۔

ادارے کی تشکیل برمودا میں ہوئی اور یہ 2009ء تک وہیں موجود رہا، جب اسے آئرلینڈ منتقل کیا گیا، یعنی ایک اور کم ٹیکس رکھنے والے ملک میں۔ آج ایکسینچر کے ملازمین کی تعداد 3 لاکھ 73 ہزار ہے اور یہ 55 ممالک کے 200 سے زیادہ شہروں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ مشیران حاصل کردہ کام کے لیے مقامات پر جاتے ہیں لیکن زیادہ تر علاقائی مراکز جیسا کہ پراگ اور دبئی کے دفاتر کو جوابدہ ہوتے ہیں۔ رہائش کے مسائل کی وجہ سے ہیومن ریسورس کا شعبہ یقینی بناتا ہے کہ ملازمین بہت زیادہ وقت اپنے پروجیکٹ مقامات پر نہ گزاریں۔

یہ ہے میٹانیشنلز کا عہد، یعنی ایسے ادارے جو ایکسینچر کی طرح دراصل کسی ملک کے نہیں۔ یہ اصطلاح ایو دوز، ہوزے سانتوس اور پیٹر ولیمسن جیسے کاروباری و تزویراتی ماہرین نے 2001ء میں ایک کتاب میں متعارف کروائی تھی۔ اس وقت بھی میٹانیشنلز ابھرتا ہوا رحجان تھے۔ یہ اپنی قومی اساس پر فخر کرنے والے اداروں کی روایات سے ایک انحراف تھے۔ جیسا کہ جنرل موٹرز کے صدر چارلس ولسن نے 1950ء کی دہائی میں کہا تھا کہ “جو ملک کے لیے بہتر ہوگا وہ جنرل موٹرز کے لیے بھی بہتر ہوگا۔” لیکن آج کاروبار میں ریاست کی کوئی تمیز نہیں رہی۔

صرف ایپل کے ہاتھ میں ہی اتنا پیسہ ہے کہ وہ دنیا کے دو تہائی ممالک کے جی ڈی پیز سے زیادہ ہے

ایکسون موبل، یونی لیور، بلیک راک، ایچ ایس بی سی، ڈی ایچ ایل، ویزا – یہ ادارے افراد، کارخانوں، ایگزیکٹو مقامات یا بینک کھاتوں کے لیے ان کو اختیار کرتے ہیں جو دوستانہ ہوں، جہاں وسائل بے بہا ہوں اور رابطے ہموار ہوں۔ ہوشیاری یہ ہے کہ میٹانیشنل ادارے قانونی سکونت کسی ایک ملک میں رکھتے ہیں، کارپوریٹ انتظامیہ دوسرے میں، مالیاتی اثاثے تیسرے میں اور انتظامی عملہ دیگر متعدد ممالک میں۔ چند بڑے امریکی نژاد ادارے – جی ای، آئی بی ایم، مائیکروسافٹ وغیرہ – مجموعی طور پر کئی ٹریلین ڈالرز کے ٹیکس سے آزاد اثاثے رکھتے ہیں جن کی ادائیگی سوئٹزرلینڈ، لکسمبورگ، کے مین جزائر یا سنگاپور میں کی جاتی ہے۔ اس رحجان کو دیکھتے ہوئے پالیسی سازوں نے اس پیسے کو “بے وطن آمدنی” قرار دیا، جبکہ امریکی صدر براک اوباما نے ایسے اداروں کو امریکا کے “کارپوریٹ بھگوڑے” کہا۔
یہ بات حیران کن نہیں ہے کہ کمپنیاں اپنے مفادات کے لیے نئے راستے تلاش کریں، بلکہ حیران کن تو یہ ہوگا جب وہ ایسا نہ کریں۔ البتہ میٹانیشنلز کا عروج محض پیسہ بنانے کے نئے طریقے ہی نہیں بلکہ یہ “عالمی سپر پاور” کی تعریف کو بھی بگاڑ رہا ہے۔

سپر پاور کی اصطلاح پر بحث بنیادی طور پر ریاستوں کی وجہ سے کی جاتی ہے کہ کیا کوئی ملک امریکا کے درجے اور اثر کا مقابلہ کر سکتا ہے؟ جون 2015ء میں پیو ریسرچ سینٹر نے 40 ممالک میں ایک سروے کیا اور پایا کہ 48 فیصد افراد سمجھتے ہیں کہ چین سپر پاور کی حیثیت سے امریکا کو پیچھے چھوڑ چکا ہے یا چھوڑ دے گا، جبکہ صرف 35 فیصد افراد نے کہا کہ وہ ایسا کبھی نہیں کر پائے گا۔ لیکن معاملے پر اس پہلو سے بھی غور کرنا چاہیے کہ کیا ریاستیں مل کر کاروباری اداروں کو پیچھے چھوڑ پائیں گی؟ اس وقت صرف ایپل کے ہاتھ میں ہی اتنا پیسہ ہے کہ وہ دنیا کے دو تہائی ممالک کے جی ڈی پیز سے زیادہ ہے۔

2008ء کے مالیاتی بحران کے بعد امریکی کانگریس ڈوڈ-فرینک ایکٹ منظور کیا تاکہ بینکوں کو حد سے زیادہ بڑھنے اور کسی مصیبت کی زد میں آنے سے روکا جا سکے۔ اس قانون نے چند چھوٹے مالیاتی اداروں کو تو کچل ہی دیا، لیکن بڑے بینک – جن کا کام کئی ممالک تک پھیلا ہوا تھا – کہیں زیادہ بڑے بن گئے۔ آج 10 بڑے بینک بدستور دنیا بھر میں لگ بھگ 50 فیصد اثاثہ جات رکھتے ہیں۔ دریں اثناء، یورپی یونین کے عہدیداران ایسی عمومی ٹیکس بیس پالیسی لانے کی کوشش کررہے ہیں جو اداروں کو ترجیحی نرخوں کا فائدہ اٹھانے سے روک سکے۔ لیکن اگر ایسا ہوا تب یہ ادارے میٹانیشنل مواقع کے لیے براعظموں کی طرف دیکھیں گے۔

تو کیا کاروباری ادارے ریاستوں سے بالاتر ہو سکتے ہیں؟ چند لوگ سمجھتے ہیں ایسا ہو سکتا ہے۔ 2013ء میں بالاجی شری نواسن، جو اب وینچر کیپٹل کمپنی اینڈریسن ہورووٹز میں شراکت دار ہیں، ایک ایسی بات کہی تھی جس پر خاصی بحث ہوئی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ سلیکون ویلی اب وال اسٹریٹ بلکہ امریکی حکومت سے بھی زیادہ طاقتور ہو چکی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کیونکہ ان اداروں کا تمام تر کام آن لائن ہے تو یہ امریکا سے باہر ایک الگ معاشرہ تخلیق کر سکتے ہیں۔

اب جبکہ ایک میٹانیشنل کو اس کے صدر دفاتر کے مقام کی بنیاد پر ٹیکس دائرے میں لانے کا چلن متروک ہو چکا ہے، شری نواسن کا یہ راستہ ٹیکنالوجی کو نیا خیال دے سکتا ہے۔ اگر ادارے بغیر کسی ریاست کے اس طرح کام کریں تو وہ اپنی مرضی کے مطابق زیادہ دوستانہ، سازگار اور مواقع سے بھرپور علاقوں میں جا سکتے ہیں۔

ذیل میں آپ ان اداروں کے بارے میں کچھ بنیادی معلومات جان سکتے ہیں جو کئی ممالک سے زیادہ طاقتور ہیں:

multinationals


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر