وجود

... loading ...

وجود

شاہد حیات کی پریس کانفرنس: جوابات نے اُلٹے سوال اُٹھا دیئے!

منگل 01 مارچ 2016 شاہد حیات کی پریس کانفرنس: جوابات نے اُلٹے سوال اُٹھا دیئے!

shahid and jahangeer

اتنی نہ بڑھا پاکیٔ داماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ

ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ شاہد حیات نے ایک پریس کانفرنس میں اُن خبروں کی تردید کی ہے جو اُن کے متعلق مختلف حلقوں میں زیر گردش ہیں۔ شاہد حیات نے اپنی پریس کانفرنس میں اپنے متعلق اُٹھائے گئے جن سوالات کے جواب دیئے ہیں ، اُس نے اُن کے متعلق مزید سوالات گہرے کر دیئے ہیں۔ شاہد حیات کی پریس کانفرنس کے چیدہ چیدہ نکات کا ذیل میں ایک جائزہ لیا جارہا ہے!

۱۔مجھ پر کیچڑ اچھالا جارہا ہے!

شاہد حیات نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ’’ ایف آئی اے کا میڈیا ٹرائل ہو رہا ہے ۔ گزشتہ کئی ہفتوں سے مجھ پر اور ایف آئی اے پر کیچڑ اچھالا جارہا ہے۔ ‘‘شاہد حیات نے اس طرح اُن پر اُٹھائے گئے سوالات کو ایف آئی اے پر کیچڑ اچھالنے کے مترادف بنا دیا ہے۔ اور میڈیا میں اُن پر اُٹھنے والے نہایت جائز سوالات کو میڈیا ٹرائل قراردے دیا ہے۔ اُنہیں ایک طویل عرصے سے ذرائع ابلاغ میں ایک ’’ایماندارافسر‘‘ کے طور پر یاد کیے جانے کی ایک عادت سی پڑ گئی ہے۔ مگر وہ اس بات سے بے خبر رہے کہ ذرائع ابلاغ میں کچھ ایسے بھی افراد رہے ہیں جنہوں نے معروضیت کا خیال رکھتے ہوئے کسی افسر کے لئے کبھی ایمانداری کی سندیں نہیں بانٹیں۔ جنگ اور جیو گروپ کی سرپرستی کے باعث وہ خود کی امیج بلڈنگ کرانے کی کوششوں میں کا میاب ضرور رہے ، مگر اُن پر ہمیشہ سے جائز سوالات بھی اُٹھتے رہے۔ سوال یہ ہے کہ اُن کے انتہائی مہنگے لائف اسٹائل پر سوا ل اُٹھانا کون سا میڈیا ٹرائل ہے؟ اُن کے شہر کے اندر مختلف کاروباری حلقوں سے منفعت بخش تعلقات کی بابت دریافت کرنا کون سا میڈیا ٹرائل ہے؟ شاہد حیات غالباً میڈیا ٹرائل کا مطلب نہیں سمجھتے! دنیا بھر میں کون سے تحقیقاتی ادارے الزامات کی بنیا دپر ملزمان کے خلاف اس طرح پریس کانفرنسیں کرتے ہیں، جس طرح شاہد حیات جیو گروپ کی سرپرستی میں کرتے ہیں۔ اُنہوں نے ایگزیکٹ کے خلاف اپنی پریس کانفرنس میں جو جو الزامات عائد کیے اُس کو ایک چارج شیٹ کی شکل میں آج تک عدالت میں جمع نہیں کراسکے مگر اس پر اُنہوں نے متعدد مرتبہ پریس کانفرنسیں کیں ۔ کیا یہ میڈیا ٹرائل نہیں؟

ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ شاہد حیات کے معاملات انتہائی مشتبہ ہو چکے ہیں اور اس کی انکوائری نہ کرنے کا مطلب دراصل وزارت داخلہ کا اپنی ذمہ داریوں سے منہ موڑنا ہوگا۔

شاہد حیات نے اے کے ڈی سیکورٹیز کے تین افراد کو گرفتار کر لیا۔ اس حوالے سے اُنہوں نے ایک پریس کانفرنس بھی کر ڈالی۔ کیا الزامات ثابت کیے بغیر افراد کے خلاف اس طرح پریس کانفرنس کرنا میڈیا ٹرائل کے ذمرے میں آتا ہے یا نہیں؟ اس ضمن میں وہ پاکستان کے قوانین کی ماں کہلانے والے برطانوی قوانین پر ایک نگاہ ڈالے اور اسکاٹ لینڈ یارڈ کے قواعد تفتیش اور طریقہ کار کو بھی دیکھیں۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات کررہی ہے مگر اسکاٹ لینڈ یارڈ نے آج تک کسی بھی حوالے سے اپنے الزامات کی تشہیر نہیں کی ، اپنی تفتیش سے قبل کسی ملزم کے حقوق اور شہرت کو داغدار نہیں کیا۔ یہ شاہد حیات کے لئے ہی نہیں خود وزیرداخلہ چودھری نثار کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہے کہ وہ یہ جاننے کی کوشش کریں کہ کیوں ایم کیوایم کے قائد اور اُس کے مختلف عہدیداران اپنے خلاف جاری تفتیش کے باوجود کھلے عام یہ کہتے ہیں کہ اُنہیں برطانوی اداروں پر پورا اعتماد ہے۔ اس لئے کہ برطانیا میں کوئی بھی شخص قانون کو موم کی ناک نہیں بنا سکتا۔

شاہد حیات جنگ اور جیو گروپ کی سرپرستی کے باعث خود کی امیج بلڈنگ کرانے کی کوششوں میں کا میاب ضرور رہے ، مگر اُن پر ہمیشہ سے جائز سوالات بھی اُٹھتے رہے۔

درحقیقت کوئی بھی شخص شاہد حیات کا میڈیا ٹرائل نہیں کررہا بلکہ خود شاہد حیات نے اپنے ہاں زیر تفتیش مقدمات میں اب تک بے گناہ افراد سمیت اُن کے اداروں کا میڈیا ٹرائل کیا ہے۔

2۔ میرے خلاف کوئی انکوائری نہیں چل رہی!

یہ اس ملک کے قانون کے لئے ایک شرم کی بات ہے کہ اس کے نفاذ کے ذمہ دار اور احترام کے حامل اداروں کے مشکوک افسران کو پریس کانفرنسوں میں آکر یہ بتانا پڑتا ہے کہ اُن کے خلاف کوئی انکوائری نہیں ہورہی۔ سندھ میں ہی نہیں ملک بھر میں ایسے لوگ اہم ترین سرکاری مناصب پر فائز ہیں جو مختلف الزامات میں لتھڑے ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں خود وزیراعظم کے سیکریڑی فواد احمد فواد کا نام بھی قابل ذکر ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ بات کہہ دینا کافی ہے کہ اُن کے خلاف کوئی انکوائری نہیں ہورہی۔ یہ تو خود ملک کے تفتیشی اداروں کی نیک نامی کا مزاق اڑانے کے مترادف ہے کہ ایک شخص جو دوسروں کی بدعنوانیوں کے خلاف تفتیش کررہا ہو، اُس پراتنے الزامات عائد کیے جاچکے ہو اور اُس کی انکوائری بھی نہ ہورہی ہو۔ دراصل شاہد حیات کو آگے بڑھ کر خود کو انکوائری کے لئے پیش کرنا چاہئے اور اُنہیں یہ ثابت کرنا چاہئے کہ وہ ایگزیکٹ اور اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف بنائے گئے مقدمے میں کسی چمک ، کسی دباؤ، یا کسی اثرورسوخ کے شکار نہیں ہوئے؟ اُنہیں اپنے پُرتکلف لائف اسٹائل کی بھی وضاحت کرنی چاہئے کہ وہ ایک سرکاری نوکری کی تنخواہ میں ایسی بھرپور زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟ اُنہیں جہانگیر صدیقی کے ساتھ اپنے مراسم کی وضاحت کے لئے بھی انکوائری کا خیرمقدم کرنا چاہئے کہ کیا وہ جہانگیر صدیقی کے ساتھ مراسم کی ایک تاریخ رکھتے ہیں، اور اُن کے کارباری حریفوں کو پریشان کرنے کے لئے اپنی سرکاری پوزیشن کا ایک طویل عرصے سے استعمال کرتے آئے ہیں یا نہیں؟ اگر شاہد حیات کو ایسے واقعات یاد نہ آرہے ہو تو وجود ڈاٹ کام رضاکارانہ طور پر اُن کی یادداشت کے لئے ایسے واقعات تفصیل سے پیش کرسکتا ہے۔

شاہد حیات کو جہانگیر صدیقی کے ساتھ اپنے مراسم کی وضاحت کے لئے بھی انکوائری کا خیرمقدم کرنا چاہئے کہ کیا وہ جہانگیر صدیقی کے ساتھ مراسم کی ایک تاریخ رکھتے ہیں، اور اُن کے کارباری حریفوں کو پریشان کرنے کے لئےاپنی سرکاری پوزیشن کا ایک طویل عرصے سے استعمال کرتے آئے ہیں یا نہیں؟

شاہد حیات کے اس موقف کے بعد کہ اُن کے خلاف کوئی انکوائری نہیں چل رہی، وزارت داخلہ کو بھی اپنے حصے کی وضاحت کرنی چاہئے کہ کیا واقعی وہ شاہد حیات کے خلاف کوئی انکوائری نہیں کر رہی؟ وزارت داخلہ کے پاس شاہد حیات کے بہت سے معاملا ت کے حوالے سے کافی تفصیلات موجود ہے۔ اگر اُن تفصیلات کے باوجود وہ شاہد حیات کے خلاف کوئی انکوائری بھی نہیں کررہی تو پھر مان لینا چاہیے کہ قانون طاقت کی ادنیٰ کنیز ہے۔ اور وزیر داخلہ کی طرف سے سچائی برتنے کے دعوے دراصل بے وقعت الفاظ سے زیادہ کچھ نہیں۔

ڈاکٹر عاصم حسین سے کوئی تعلق نہیں!

ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ شاہد حیات نے کہا ہے کہ اُن کا ڈاکٹر عاصم حسین سے کوئی تعلق نہیں۔ شاہد حیات کے پورے کیرئیر پر اگر ایک نگاہ ڈالی جائے تو اُن کا ہر دور میں کسی نہ کسی سے کوئی تعلق تو ضرور رہا ہے۔ مرتضیٰ بھٹو کیس میں وہ یہ کہتے ہوئے پائے جاتے تھے کہ اُن کا آصف علی زرداری سے کوئی تعلق نہیں۔ اے کے ڈی سیکورٹیز کے معاملے میں اُنہیں یہ وضاحت کرنا پڑی کہ اُن کا جہانگیر صدیقی سے کوئی تعلق نہیں۔ اور اب اُنہیں یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ اُن کا ڈاکٹر عاصم حسین سے کوئی تعلق نہیں۔ کچھ عرصے کے بعد شاید اُنہیں یہ بھی کہنا پڑے کہ اُن کا فواد احمد فواد سے کوئی تعلق نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہر دور میں اُنہیں اس قسم کی وضاحتیں کیوں کرنا پڑتی ہے کہ اُن کا فلاں سے تعلق ہے اور فلاں سے نہیں؟ اس کا ایک سادہ جواب تو یہ ہے کہ آج تک وہ ایسے معاملات میں ملوث رہے ہیں جس میں وہ کسی کا نقصان کسی کو فائدہ پہنچانے کے لئے کرتے رہے ہیں ۔ اے کے ڈی سیکورٹیز کے معاملے میں وہ جہانگیر صدیقی کے لئے بروئے کار آئے ۔ یہ اُن کا احساس گناہ ہے کہ جو اُن کی زبان سے اس قسم کے جملوں سے ادا ہوتا ہے کہ ’’میں کسی کا نوکر نہیں۔‘‘ ماہرین نفسیات یہ کہتے ہیں کہ کسی کا نوکر ہی ہمیشہ یہ کہتا ہے کہ میں کسی کا نوکر نہیں۔ ایک آزاد منش شخص کی زبان پر عام طور پر اس قسم کے فقرے کبھی نہیں آتے!

مقدمات کی تفتیش آخر تک لے کر جائیں گے!

شاہد حیات نے اپنی وضاحت کے اس نکتے میں تو ’’اخیر‘‘ ہی کردی۔ آٹھ ماہ سے جاری ایگزیکٹ کے مقدمے کی تفتیش کو یہ ابھی اتنا بھی آگے نہیں بڑھا سکے کہ اس کا حتمی چالان ہی پیش کردیتے ۔ اے کے ڈی سیکورٹیز کے معاملے میں شاہد حیات نے بات ریسرچ رپورٹ سے شروع کی تھی، جب یہ نکتہ شرمناک حد تک کمزور ثابت ہوا تو موصوف نے کمپنی کی ’’ لسٹنگ ‘‘ کا مسئلہ اُٹھا دیا۔ جب اُنہیں تمام متعلقہ اداوں نے بتایا کہ لسٹنگ کے معاملے میں قواعد کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی تو وہ اب مختلف جگہوں سے فائلوں کے کیڑے نکالنے میں مصروف ہیں۔ کیا ایک تفتیشی ادارے کو پریس کانفرنس میں کسی بھی ملزم کے خلاف یہ کہنے کا حق ہے کہ وہ مقدمے کو آخر تک لے کر جائیں گے۔ یہ جملہ تو بجائے خود یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ تفتیش میں متعصب ہیں اور پہلے سے نتائج ذہن میں لے کر بیٹھے ہیں۔ایک آزاد تفتیش کو بغیر کسی متعین ذہن کے جہاں وہ جارہی ہو اُسے جانے دینا چاہئے نہ کہ تفتیش سے پہلے اس کے حتمی نتائج لانے کے دھمکی آمیز دعوے کرنے چاہئے۔

آخری بات

شاہد حیات کی اس پریس کانفرنس کا وزیر داخلہ چودھری نثار کو سختی سے نوٹس لینا چاہئے کہ ایک سرکاری منصب پر فائز شخص کس طرح اپنی ذاتی وضاحتیں پیش کر سکتا ہے اور وہ کس طرح ایک ایسی زبان کو استعمال کرنے کا مرتکب ہو سکتا ہے جو اُس کے تعصب کو ظاہر کرتی ہو۔ اور کسی بھی ملزم کی تفتیش سے پہلے تقدیر کی وضاحت کرتی ہو۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ شاہد حیات کے معاملات انتہائی مشتبہ ہو چکے ہیں اور اس کی انکوائری نہ کرنے کا مطلب دراصل وزارت داخلہ کا اپنی ذمہ داریوں سے منہ موڑنا ہوگا۔ اس ضمن میں یہ تحقیق بھی کرلینی چاہیئے کہ آخر شاہد حیات کو اس پریس کا نفرنس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیا ڈاکٹر شاہد مسعود کا پروگرام اس مقصد کوپورا کرنے کے لئے سوچا گیا تھا تاکہ اُسے بنیاد بنا کر شاہد حیات کے لئے ایک وضاحتی پریس کانفرنس کا موقع نکالا جائے؟


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر