وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

فِحش یا فحش؟

پیر 22 فروری 2016 فِحش یا فحش؟

urdu-nastaliq

لاہور سے ایک بار پھر جناب محمد انور علوی نے عنایت نامہ بھیجا ہے۔ لکھتے ہیں:

’’خط لکھتے وقت کوئی 25 سال پرانا پیڈ ہاتھ لگ گیا۔ خیال تھا کہ بھیجتے وقت ’’اوپر سے‘‘ سرنامہ کاٹ دوں گا مگر ایسا نہ ہوسکا۔ اگر خاکسار کے بس میں ہوتا تو آپ کی تجویز کے مطابق اردو میں نام بدلنے کی کوشش کرتا، مگر مجھے تو سبکدوش ہوئے 20 سال ہوچکے۔ بلاشبہ آپ کا یہ سلسلہ خاصا مفید ہے۔ اسی لیے کبھی کبھی آپ کی معاونت کی غرض سے اس میں شریک ہوجاتا ہوں۔ کیونکہ کامل ہونے کا دعویٰ نہ آپ کرسکتے ہیں نہ کوئی اور۔ (25 سال پرانا پیڈ سنبھال کر رکھنا بھی کمال ہے)۔

جنوری 16 کے دوسرے شمارے میں بھی دو باتوں کی طرف توجہ دلا رہا ہوں۔ اولاً۔ اَہم اور اَحمد کے درست تلفظ کے سلسلے میں یہ بات تو آپ نے درست لکھی ہے۔ تلفظ زبر اور زیر کے درمیان کیا جاتا ہے۔ لیکن ’’لین‘‘ کا جو حوالہ دیا گیا ہے وہ درست نہیں کیونکہ لین تو ’و‘ اور ’ی‘ کی قسم ہے۔ صحیح صورت یہ ہے کہ اردو میں ہائے ہوز ہو یا حطی (ہ، ح) دونوں سے ماقبل حرف کی زبر آدھی پڑھی جاتی ہے۔ جیسے Men, Pen اور Hen وغیرہ الفاظ میں ’e‘ کی آواز ۔ اسے آپ کلیہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ مثلاً رَحمت کو عربی میں/ قرآن میں پڑھیں گے تو زبر پوری پڑھی جائے گی، مگر اردو میں یہی زبر آدھی پڑھی جائے گی۔

رحمت، زحمت، شہر، نہر، محض، بحث، اہم، رہ وغیرہ۔ ثانیاً دو رویہ کی بحث کے دوران میں آپ نے درست نشان دہی کی ہے کہ ’’رو‘‘ فارسی مصدر رفتن سے امر کا صیغہ ہے اور دوسرے مصدر روئیدن سے بھی امر ہی کا صیغہ ہے۔ مگر دونوں کے تلفظ کے فرق کو واضح نہیں کیا۔

یہ تو خیر چینل والے بھولے ہیں جن کو یہ ذمے داری سونپی گئی ہے کہ غلط تلفظ کو رواج دیا جائے۔ لیکن جہاں تک فحش کا تعلق ہے تو بہت سوں سے غلط ہی سنا جب کہ اس کا تلفظ فُحَش (ف پر پیش، ح پر زبر) ہے

جو ’’رو‘‘ رفتن سے امر ہے اس کی ’ز‘ پر زبر ہے اور اس ’ز‘ کو واولین کہتے ہیں۔ جب کہ روئیدن سے بننے والے ’’رو‘‘ میں واؤ مجہول ہے اور اس کا تلفظ ہے جیسے، تو، کو، سو، ہو، جو وغیرہ۔ ان الفاظ میں بھی ماقبل ’و‘ حرف پر ضمّہ ہے مگر پوری طرح پڑھا نہیں جاتا۔ مزید مثالیں گوشت، دوست، پوست وغیرہ۔

بھائی محمد انور علوی، بہت شکریہ۔ آپ کی بات درست ہے کہ کامل ہونے کا دعویٰ نہ آپ کر سکتے ہیں نہ کوئی اور۔ اپنے بارے میں تو یہ بات ہم شروع سے کہہ رہے ہیں۔ لیکن صورت حال یہ ہے کہ پچھلے کالم (داروگیر پر پکڑ) میں کمپوزنگ کے سہو سے ’’روبکار‘‘ روپکار ہو گیا۔ کچھ قارئین سمجھے کہ یہ بھی کوئی لفظ ہے چنانچہ کئی فون آئے کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ مطلب تو روپکار کا بھی نکالا جا سکتا ہے۔ مثلا پکار کرنے والے چہرہ۔ لیکن کچھ حق کمپوزر کا بھی ہے اور ہم نے تین غلطیوں تک کی چھوٹ دے رکھی ہے۔

امید ہے کہ اَہم کے تلفظ کے حوالے سے لاہورہی کے جناب افتخار مجاز کی تسلی (بلکہ تسلاّ) ہو گئی ہو گی۔ دراصل ہمارے مخاطب ماہرین لسانیات نہیں، ہم جیسے لوگ ہی ہوتے ہیں جو بڑی معصومیت سے پوچھتے کہ یہ جو آپ ’برو۔زَن‘ (بروزن) لکھتے ہیں اس کا مطلب اور تلفظ کیا ہے۔

ہمیں تو خوشی اس بات کی ہے کہ ہمیں دور دور تک پڑھا جارہا ہے اور اس کے سہارے ہمارا بھی نام ہو رہا ہے۔ اب دیکھیے، وہاڑی، پنجاب سے جناب اللہ داد نظامی نے ٹیلی فون کر کے داد دی ہے۔ لتمبر، خیبر پختون خوا کے عدنان صاحب کچھ عرصے سے خاموش ہیں۔ لاہور سے رضا کارانہ طور پر مخبری کرنے والے جناب افتخار مجاز نے ایک بار پھر مخبری کی ہے کہ چینل 24 پر ایک پروگرام چل رہا ہے جس میں بار بار ’’فِحش‘‘ کہا جارہا ہے۔ کسی سینئر پروڈیوسر نے بھی تصحیح نہیں کی اور یہی تلفظ دہرایا جارہا ہے۔ یہ تو خیر چینل والے بھولے ہیں جن کو یہ ذمے داری سونپی گئی ہے کہ غلط تلفظ کو رواج دیا جائے۔ لیکن جہاں تک فحش کا تعلق ہے تو بہت سوں سے غلط ہی سنا جب کہ اس کا تلفظ فُحَش (ف پر پیش، ح پر زبر) ہے۔ ٹی وی پر ہم نے ایک اورلفظ سنا ’’بل بَوتے پر‘‘ یعنی ب بالفتح۔ آپ میں بُوتا‘‘ ہو تو تصحیح کر دیجیے۔ بُوتا یعنی زور، طاقت، بل وغیرہ۔ اسی ہجے کے ساتھ ایک اور لفظ ’’بَوتا‘‘ بہ وائے مجہول ہے جس کا مطلب ہے درخت کا تنا، حقے کی نال، اور بوتہ کہتے ہیں دھات گلانے کی کٹھالی (فارسی)۔ فارسی میں بَوتہ چھوٹے درخت کو بھی کہتے ہیں۔ ممکن ہے بُوٹا اسی بوتے سے پھوٹا ہو۔ اس حوالے سے فارسی ہی کی ترکیب ہے بوتۂ خار اور بوتۂ خاک۔ یعنی کانٹوں بھرا درخت اور آدمی کا بدن جو خاک کا بوٹا ہے اور خاک ہی میں مل جائے گا۔ اور بوتہ اونٹ کے بچے کو بھی کہتے ہیں، مونث اس کا ’’بوتی‘‘ ہے۔ اس حوالے سے مزید لکھنے کا بُوتا نہیں ہے۔

آئیے، اپنے گریبان میں جھانکیں۔ ہم نے اصرار کیا تھا کہ قصائی صحیح نہیں بلکہ قسائی ہے اور اسی سے عربی میں اسم کیفیت قساوت ہے۔ جسارت کے اداریے میں قصاب بھی قساب بن گیا۔ اب یہ واضح نہیں کہ یہ چھوٹے گوشت کا ہے یا بڑے گوشت کا۔ ویسے تو وطن عزیز میں گدھوں کے قصاب بھی موجود ہیں جو صحیح معنوں میں قسائی ہیں، قساوت سے بھرے ہوئے۔ سنڈے میگزین (بقول کسے اتواری مجلہ) میں جناب نجیب ایوبی 1857ء کی جنگ آزادی کا احوال لکھ رہے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ ’’اکبر کے بعد مغل شہزادہ اورنگ زیب عالمگیر تخت نشین ہوا۔‘‘ ممکن ہے کہ اکبر کے بعد جہانگیر اور شاہجہاں کو ’’نشینی‘‘ کے لیے تخت ہی نہ مل سکا ہو۔ نجیب ایوبی تو کمال کے مورخ ہیں لیکن کسی ادیب شہیر (ایک شمارے میں جو ادیب شہر ہو گیا تھا) نے پڑھنے کی زحمت بھی گوارہ نہ کی ورنہ جنگ آزادی میں حصہ لینے والوں کو ’’باغی فوج‘‘ نہ لکھا جاتا جب کہ خود ہی اسے جنگ آزادی قرار دے رہے ہیں۔ باغی قرار دے کر تو انگریزوں کے موقف کی تائید ہو رہی ہے کہ یہ بغاوت تھی۔

چلتے چلتے ایک بات ماہنامہ قومی زبان بڑا معتبر رسالہ ہے۔ اس میں پروف ریڈنگ بھی زیادہ احتیاط سے ہونی چاہیے ورنہ غلطی سند بن جائے گی۔ بیکل اتساہی کے شعری مجموعے پُروائیاں پر تبصرے میں ان کا ایک مصرع یوں ہے ’’کیا جانے کب ناگن بن کر ڈس لے گا کوئی لکیر رے جوگی‘‘۔ کیا پتا کل کو کوئی لکیر کے مذکر ہونے کی سند میں یہ مصرع پیش کر دے۔ بہتر تھا کہ مصرعے میں سے ’گا‘ نکال دیا جاتا تو بے وزنی بھی دور ہو جاتی۔ قومی زبان کے مدیر یہ بھی طے کر لیں کہ ذرائع کا املاکیا ہے، کیا یہ ذرائع ہے یا ذرایع۔ (صفحہ 84)۔ مبصر معصومہ شیرازی کا یہ جملہ بھی دلچسپ ہے ’’پانی…… جس کی جلترنگ……‘‘ ہم نے سنا تھا کہ جل پانی ہی کو کہتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


املا مذکر یا مونث؟ اطہر علی ہاشمی - هفته 13 اگست 2016

اسلام آباد میں جا بیٹھنے والے عزیزم عبدالخالق بٹ بھی کچھ کچھ ماہر لسانیات ہوتے جارہے ہیں۔ زبان و بیان سے گہرا شغف ہے۔ ان کا ٹیلی فون آیا کہ آپ نے ’’املا‘‘ کو مذکر لکھا ہے، جبکہ یہ مونث ہے۔ حوالہ فیروزاللغات کا تھا۔ اس میں املا مونث ہی ہے۔ دریں اثنا حضرت مفتی منیب مدظلہ کا فیصلہ بھی آگیا۔ گزشتہ منگل کو جسارت میں ان کا مضمون ’’دُم پر پاؤں‘‘ شائع ہوا ہے۔ اس کی پہلی سطر ہے ’’اس لفظ (پاؤں) کی صحیح املا پانو ہے‘‘۔ مفتی صاحب کے فتوے کے مطابق بھی املا مونث ہے۔ ان کے فتوے پر تو ہم روز...

املا مذکر یا مونث؟

تلفظ کا بگاڑ اطہر علی ہاشمی - جمعه 05 اگست 2016

اردو میں املا سے بڑا مسئلہ تلفظ کا ہے۔ متعدد ٹی وی چینل کھُمبیوں کی طرح اگ آنے کے بعد یہ مسئلہ اور سنگین ہوگیا ہے۔ اینکرز اور خبریں پڑھنے والوں کی بات تو رہی ایک طرف، وہ جو ماہرین اور تجزیہ کار آتے ہیں اُن کا تلفظ بھی مغالطے میں ڈالنے والا ہوتا ہے۔ مغالطہ اس لیے کہ جو کچھ ٹی وی سے پیش کیا جاتا ہے نئی نسل اسی کو سند سمجھ لیتی ہے اور صحیح ہونے پر اصرار کرتی ہے۔ اب ان تجزیہ کاروں اور چینلی دانشوروں کی اصلاح تو ہو نہیں سکتی، یہ ممکن نہیں کہ گفتگو سے پہلے ان کے تلفظ کا امتحان لیا ...

تلفظ کا بگاڑ

تلفظ میں زیر و زبر اطہر علی ہاشمی - پیر 01 اگست 2016

ہم یہ بات کئی بار لکھ چکے ہیں کہ اخبارات املا بگاڑ رہے ہیں اور ہمارے تمام ٹی وی چینلز تلفظ بگاڑ رہے ہیں۔ ٹی وی چینلوں کا بگاڑ زیادہ سنگین ہے کیونکہ ان پر جو تلفظ پیش کیا جاتا ہے، نئی نسل اسی کو سند سمجھ لیتی ہے۔ بڑا سقم یہ ہے کہ ٹی وی پر جو دانشور، صحافی اور تجزیہ نگار آتے ہیں وہ بھی اس بگاڑ میں اضافہ کررہے ہیں اور بڑے دھڑلے سے غلط تلفظ کو فروغ دے رہے ہیں۔ خاص طور پر کئی الفاظ کو ’’زیروزبر‘‘ کردیا جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک بہت سینئر صحافی، جو بہت عمدہ اردو لکھتے ہیں اور ہم ن...

تلفظ میں زیر و زبر

گیسوئے اردو کی حجامت اطہر علی ہاشمی - هفته 23 جولائی 2016

علامہ اقبالؒ نے داغ دہلوی کے انتقال پر کہا تھا : گیسوئے اردو ابھی منت پذیر شانہ ہے ایم اے اردو کے ایک طالب علم نے اس پر حیرت کا اظہار کیا کہ داغ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ کس کے شانے کی بات کی جارہی ہے جب کہ غالب نے صاف کہا تھاکہ: تیری زلفیں جس کے شانوں پر پریشاں ہو گئیں اس سوال پر ہم بھی پریشان ہوکر رہ گئے۔ داغ دہلوی نے جس شبہ یا شکوے کا اظہار کیا تھا وہ ایسا غلط بھی نہیں۔ ٹی وی چینلوں پر گیسوئے اردو کی جس طرح حجامت بنائی جارہی ہے وہ اس کا ثبوت ہے۔ چلیے، ’’...

گیسوئے اردو کی حجامت

’’کھُد بُد‘‘ اور ’’گُڈمُڈ‘‘ اطہر علی ہاشمی - پیر 11 جولائی 2016

مجاہد بک اسٹال، کراچی کے راشد رحمانی نے لکھا ہے کہ آپ کو پڑھ کر ہم نے اپنی اردو درست کی ہے لیکن 11 اپریل کے اخبار میں مشتاق احمد خان کے کالم نقارہ کا عنوان ’’لمحہ فکریہ‘‘ ہے۔ ہے نا فکر کی بات! صحیح ’لمحہ فکریہ‘ ہے یا ’لمحہ فکر‘؟ عزیزم راشد رحمانی، جن لوگوں نے سید مودودیؒ کو نہیں پڑھا وہ کچھ بھی لکھ سکتے ہیں۔ سید نے ہمیشہ ’لمحہ فکر‘ ہی لکھا اور یہی صحیح ہے۔ وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار، داخلہ کے وزیر بھی ہیں اور وزیروں کے چودھری بھی، اس لیے ان کو بجا ہے کہ وہ ذمے دار کو ...

’’کھُد بُد‘‘ اور ’’گُڈمُڈ‘‘

’’پیشن گوئی‘‘ اور ’’غتربود‘‘ اطہر علی ہاشمی - هفته 04 جون 2016

پچھلے شمارے میں ہم دوسروں کی غلطی پکڑنے چلے اور یوں ہوا کہ علامہ کے مصرع میں ’’گر حسابم را‘‘ حسابم مرا ہوگیا۔ ہرچند کہ ہم نے تصحیح کردی تھی لیکن کچھ اختیار کمپوزر کا بھی ہے۔ کسی صاحب نے فیصل آباد سے شائع ہونے والا اخبار بھیجا ہے جس کا نام ہے ’’ لوہے قلم‘‘۔ دلچسپ نام ہے۔ کسی کا کہنا ہے کہ اس میں ’کا‘ رہ گیا ہے‘ یعنی ’لوہے کا قلم‘ ہوگا لیکن سہوِ کاتب سے ’کا‘ رہ گیا۔ روزنامہ کی لوح پر لکھا ہے ’’عوام کے ہر مسائل پر نظر‘‘۔ ’ہر‘ کے ساتھ اگر ’مسئلے‘ لکھ دیتے تو کوئی حرج نہیں تھا۔...

’’پیشن گوئی‘‘ اور ’’غتربود‘‘

اعلیٰ یا اعلا اطہر علی ہاشمی - اتوار 03 اپریل 2016

سب سے پہلے تو جناب رؤف پاریکھ سے معذرت۔ ان کے بارے میں یہ شائع ہوا تھا کہ ’’رشید حسن خان اور پاکستان میں جناب رؤف پاریکھ کا اصرار ہے کہ اردو میں آنے والے عربی الفاظ کا املا بدل دیا جائے۔‘‘ انہوں نے اس کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ خود رشید حسن خان سے متفق نہیں ہیں۔ چلیے، اس طرح ان سے فون پر گفتگو کا اعزاز حاصل ہوگیا۔ رؤف پاریکھ ایک علمی و ادبی شخصیت ہیں جن سے ہم نے بھی بہت کچھ سیکھا ہے۔ رشید حسن خان نے اردو کے لیے بہت کام کیا ہے، املا پر ان کی ایک وقیع کتاب ہے۔ ...

اعلیٰ یا اعلا

استیصال کا دلیرانہ استعمال اطہر علی ہاشمی - اتوار 07 فروری 2016

’’زبان بگڑی سو بگڑی تھی‘‘…… کے عنوان سے جناب شفق ہاشمی نے اسلام آباد کے اُفق سے عنایت نامہ بھیجا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:’’دیرپائیں کے رفیق عزیز کا چار سالہ بچہ اپنے والد سے ملنے دفتر آیا تو لوگوں سے مل کر اسے حیرت ہوئی کہ یہ لوگ آخر بولتے کیوں نہیں ہیں۔ ایک حد تک وہ یقینا درست تھا کہ یہاں پشتو بولنے والا اسے کوئی نہ ملا۔ وہ بچہ اپنا نام ’’خان بابو‘‘ بتاتا تھا، جس پر ہمارے دل میں آیا کہ ہم اپنے مقتدر استادِ فن کو ’’علی خان بابو‘‘ کہیں۔ یہ تو خیر ابتدائیہ معترضہ تھا۔ اب آتے ہیں فکاہی...

استیصال کا دلیرانہ استعمال

’’معاملات ٹھن گئے‘‘ اطہر علی ہاشمی - منگل 08 دسمبر 2015

عدالتِ عظمیٰ کے منصفِ اعظم جناب انور ظہیر جمالی نے گزشتہ منگل کو ایوانِ بالا سے بڑی رواں اور شستہ اردو میں خطاب کرکے نہ صرف عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کی لاج رکھی بلکہ یہ بڑا ’’جمالی‘‘ خطاب تھا اور اُن حکمرانوں کے لیے آئینہ جو انگریزی کے بغیر لقمہ نہیں توڑتے۔ حالانکہ عدالتِ عظمیٰ کے اعلیٰ ترین منصب پر پہنچنے والوں کا تو اوڑھنا، بچھونا ہی انگریزی ہوتا ہے۔ قانون کی تعلیم، وکالت اور پھر عدالتوں میں دائر درخواستیں پڑھنا، جو عموماً انگریزی میں ہوتی ہیں۔ ایک عام جج بھی میاں نوازشریف سے ...

’’معاملات ٹھن گئے‘‘

ایک ’’لاجواب‘‘ تحقیق اطہر علی ہاشمی - پیر 30 نومبر 2015

عزیزم آفتاب اقبال، نامور شاعر ظفر اقبال کے ماہتاب ہیں۔ اردو سے خاص شغف ہے۔ ایک ٹی وی چینل پر زبان کی اصلاح کرتے رہتے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ پروگرام مزاحیہ ہے، چنانچہ ان کی اصلاح بھی کبھی کبھی مزاح کے دائرے میں داخل ہوجاتی ہے۔ گزشتہ اتوار کو ان کا پروگرام دیکھا جس میں انہوں نے بڑا دلچسپ انکشاف کیا کہ جس کو شہر یعنی City کہا جاتا ہے، یہ دراصل عربی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ’مہینہ‘ جیسے شہرِ رمضان۔ پہلے تو ہمیں گمان ہوا کہ وہ شاید اپنے پروگرام کی نسبت سے مزاح فرما رہے ہیں، لیکن پھر...

ایک ’’لاجواب‘‘ تحقیق

’’لیے‘‘ اور ’’لئے‘‘ کا آسان نسخہ اطہر علی ہاشمی - منگل 24 نومبر 2015

اردو کے لیے مولوی عبدالحق مرحوم کی خدمات بے شمار ہیں۔ اسی لیے انہیں ’’باباے اردو‘‘کا خطاب ملا۔ زبان کے حوالے سے اُن کے قول ِ فیصل پر کسی اعتراض کی گنجائش نہیں۔ گنجائش اور رہائش کے بھی دو املا چل رہے ہیں، یعنی گنجایش، رہایش۔ وارث سرہندی کی علمی اردو لغت میں دونوں املا دے کر ابہام پیدا کردیا گیا ہے۔ چنانچہ آج کل یہ دونوں ہی رائج ہیں۔ رشید حسن خان نے ہمزہ کے بجائے ’ی‘ سے لکھا ہے یعنی گنجایش، ستایش وغیرہ۔ بات ہورہی تھی باباے اردو کی۔ ہرچند کہ خطائے بزرگاں گرفتن خطا است۔ لیکن ...

’’لیے‘‘ اور ’’لئے‘‘ کا آسان نسخہ

اردو میں لٹھ بازی اطہر علی ہاشمی - بدھ 11 نومبر 2015

چلیے، پہلے اپنے گریبان میں جھانکتے ہیں۔ سنڈے میگزین (4 تا 10 اکتوبر) میں صفحہ 6 پر ایک بڑا دلچسپ مضمون ہے لیکن اس میں زبان و بیان پر پوری توجہ نہیں دی گئی۔ مثلاً ’لٹھ‘ کو مونث لکھا گیا ہے۔ اگر لٹھ مونث ہے تو لاٹھی یقینا مذکر ہوگی۔ لٹھ کو مونث ہی بنانا تھا تو ’’لٹھیا‘ لکھ دیا ہوتا۔ مزید وضاحت کی گئی ہے کہ جس (لٹھ) کے ٹاپ پر گھنگرو اور پیتل کی گھنٹیاں‘‘۔ عدالتِ عظمیٰ کی طرف سے نفاذِ اردو کے حکم کے بعد ’’ٹاپ‘‘ کا استعمال توہین عدالت کے مترادف ہے، وزیراعظم کے انگریزی میں خطاب پر ...

اردو میں لٹھ بازی