وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

دار۔و۔گیر پر پکڑ

بدھ 03 فروری 2016 دار۔و۔گیر پر پکڑ

urdu words

گزشتہ تحریر میں ہم نے ’دارو‘ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’یاد رہے دارو گیر میں بھی دارو موجود ہے لیکن یہ ایک الگ لفظ ہے۔ دارو گیر کا دارو سے کیا تعلق ہے، یہ ماہرین ہی بتاسکتے ہیں‘‘۔ یہ معاملہ ازراہِ تفنن ہم نے ماہرین پر چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ سب سے پہلے تو جسارت کے پروف ریڈر گزجناب ندیم نے اطلاع دی کہ یہ تو دو الگ الگ الفاظ ہیں یعنی دار۔و ۔ گیر۔ اور پھر ماہرین نے دارو گیر شروع کردی۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ ماسٹرز ایسوسی ایشن ضلع رحیم یار خان کے صدر محمد انور علوی نے لاہور سے متوجہ کیا ہے کہ ’’آپ نے دار و گیر کے عطف کو دار سے جوڑ کر دارو بنادیا‘ العجب‘‘۔ ہم نے کوئی فیصلہ نہیں دیا تھا بلکہ ماہرین سے پوچھا تھا کہ دار و گیر میں دارو کیوں ہے۔ محمد انور علوی نے مزید دو غلطیوں کی نشاندہی کی ہے۔ ایک تو یہ کہ ’’قرون مظلمہ کا ترجمہ DARK AGE دیا ہے جبکہ قرون جمع ہے قرن کی، تو پھر ترجمہ بھی AGES ہوگا‘‘۔ بجا اور درست۔ دوسری ’’یہ کلیہ تو معروف ہے کہ جو عوام کی زبان پر چڑھ گیا وہی صحیح ہے۔ اس سلسلے میں جو دو اصطلاحیں ہم نے پڑھی سنی ہیں وہ ’غلط العام‘ اور ’غلط العوام‘ ہیں۔ ان میں سے اول الذکر صحیح بلکہ فصیح، جبکہ دوسری غلط‘‘۔ یہ بھی صحیح ہے اور ہم اس کے لیے اپنی مصروفیت کو جواز نہیں بناسکتے۔ ہمیں تو اس بات کی خوشی ہے کہ ہیڈ ماسٹروں کے ہیڈ بھی اس سلسلے کو مفید پاتے ہیں۔ طالب علمی کے زمانے میں تو کسی طالب علم کی یہ جرأت نہیں ہوتی تھی کہ ہیڈ ماسٹر سے براہِ راست کلام کرسکے، الاّ یہ کہ سرزنش کے لیے طلب کیا جائے۔ ہمارے لیے یہ اطلاع دلچسپ ہے کہ ہیڈ ماسٹروں نے بھی اپنی تنظیم بنارکھی ہے۔ ویسے کیا اس کا اردو میں ترجمہ نہیں ہوسکتا مثلاً ’ضلعی تنظیم صدر مدرسان‘ یا ’صدر مدرسوں کی ضلعی تنظیم‘۔ محمد انور علوی اس پر ضرور غور کریں۔

لاہور سے جناب افتخار مجاز نے پوچھا ہے کہ صحیح لفظ ’اَہم‘ ہےیا ’اِہم‘؟ لغت کے اعتبار سے تو صحیح اَہم (الف پر زبر) ہے لیکن ایسے کئی الفاظ ہیں جو اردو میں آکر لیٹ جاتے ہیں۔

جب ہم دوسروں کی غلطیاں پکڑتے ہیں تو ضروری ہے کہ ہماری غلطی کی نشاندہی بھی کی جائے۔ یہ کام منظر عباسی صاحب بڑے اہتمام سے کرتے ہیں ۔

لاہور سے جناب افتخار مجاز نے پوچھا ہے کہ صحیح لفظ ’اَہم‘ ہے یا ’اِہم‘؟ لغت کے اعتبار سے تو صحیح اَہم (الف پر زبر) ہے لیکن ایسے کئی الفاظ ہیں جو اردو میں آکر لیٹ جاتے ہیں۔ اہلِ پنجاب ’’اَحمد‘‘ کا تلفظ بہت صحیح اور عربی قاعدے کے مطابق (الف پر زبر) ادا کرتے ہیں، لیکن اہم یا احمد جیسے الفاظ کا تلفظ اردو میں زیر اور زبر کے درمیان ادا کیاجاتا ہے۔ عربی کا ایک لفظ ہے ’’لِین‘‘۔ مونث ہے اور اس کا مطلب ہے نرمی۔ ساکن ’و‘ اور ’ی‘ کی وہ آواز جب ان سے پہلے کوئی حرف مفتوح آئے مثلاً طَور۔شَے۔ لِین سے لینت ہے یعنی نرمی، ملائمت۔

افتخار مجاز نے ایک اور مخبری کی ہے۔ لکھتے ہیں: ایک میگزین میں ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے ایک کتاب کے بارے میں لکھتے ہوئے ترجمہ کی گئی چند لائنیں کوٹ کی ہیں (حوالہ دیا ہے)’’میں نے کچھ عرصہ اس بات پر غور و فکر کیا کہ آیا مجھے یہ یادداشتیں ’’آغاز سے شروع‘‘ کرنی چاہئیں۔‘‘یہ پرتگالی کی ترجمہ شدہ کتاب میں مترجم کی سطح ہے جو ڈاکٹر صاحب کو پسند آئی ہے۔ اگر یہ کسی پرتگالی کتاب کا ترجمہ ہے تو ممکن ہے پرتگالی میں آغاز سے شروع کیا جاتا ہو۔ لیکن یہ تو ہمارے اخبارات میں بہت عام ہے، یعنی آغاز اور شروع کی یکجائی ۔ ہوسکتا ہے انعام الحق جاوید کی نظر سے یہ جملہ نہ گزرا ہو جس کا کھوج افتخار مجاز نے لگایا ہے۔ بعض لوگ کھوج کو مونث بھی بولتے ہیں یعنی ’’کھوج لگائی‘‘۔ لیکن یہ پکّا پکّا مذکر ہے۔

ایک اور لفظ برقی ذرائع ابلاغ پر تواتر سے سننے میں آرہا ہے ’’کال عدم‘‘۔ اب چونکہ یہ کالعدم لکھا جاتا ہے تو ضروری ہوا کہ اسے پڑھا بھی ’’کال عدم‘‘ جائے۔ غنیمت ہے کہ ابھی ’’بالکل‘‘ کو کسی نے اسی طرح ’’بال کل‘‘ کہنا شروع نہیں کیا۔ اور کہتے بھی ہوں تو ہم نے نہیں سنا۔

جناب محمود شام بہت ہی سینئر صحافی ہیں، اتنے کہ جب ہم اسکول میں تھے تو انہیں نوائے وقت میں پڑھا کرتے تھے۔ وہ ایک رسالہ ’اطراف‘ کے نام سے بھی نکال رہے ہیں۔ اس میں بھی پروف کی کئی غلطیاں ہوتی ہیں، تاہم 2015ء کے آخری اور 2016ء کے پہلے شمارے میں صفحہ 10 پر ایک ذیلی سرخی ہے ’’عدم برداشت عدم تحفظ کو جنم دیتی ہے‘‘۔ شاید برداشت کی نسبت سے ’’دیتی ہے‘‘ لایا گیا ہے، لیکن اس کا تعلق ’’عدم‘‘ سے ہے جو مذکر ہے۔ چنانچہ صحیح جملہ یوں ہوتا ’’عدم برداشت عدم تحفظ کو جنم دیتا ہے‘‘۔ ممکن ہے مضمون نگار خاتون نے سوچا ہو کہ جنم دینا تو مونث کا کام ہے، مذکر کا نہیں۔

ہم لغت میں تصدیق کررہے تھے کہ واقعی کھوج مذکر ہے یا نہیں۔ کھ سے شروع ہونے والے الفاظ میں ایک لفظ ’’کھنّس‘‘ پر نظر پڑی۔ یہ کھنس پنجاب میں تو بہت عام ہے اور بعض لوگ اس کا تلفظ ’’خنس‘‘ بھی کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے رہے کہ یہ خالص پنجابی لفظ ہے، لیکن لغت کے مطابق یہ ہندی سے اردو میں آیا ہے گو کہ اردو میں اس کا استعمال نہیں دیکھا۔ کھنّس کا مطلب ہے: نفرت، حقارت، دشمنی، بیر، عداوت، غصہ، حسد، رشک وغیرہ۔عوامی بول چال میں کہتے ہیں ’’اس نے اپنی کھنّس مجھ پر نکالی‘‘۔ کھنس سے ’’کھنسانا‘‘ ہے، مگر یہ تو اہلِ پنجاب بھی استعمال نہیں کرتے۔

خیبرپختون خوا کے وزیراعلیٰ جناب پرویز خٹک سیدھے آدمی ہیں۔وہ بھی اقتصادی راہداری پرتنقید میں حصہ لیتے ہوئے دو رویہ کو ’’دو روّیہ‘‘ کہہ رہے تھے۔ ’’کال عدم‘‘ والی مشکل یہاں بھی ہے کہ رویہ اور روّیہ (تشدید کے ساتھ) ایک ہی طرح لکھا جاتا ہے تو پھر بولا بھی ایک ہی طرح جائے گا۔ ممکن ہے پرویز خشک نے ایک ہی لفظ سے دونوں کام نکالے ہوں یعنی رویّے کی شکایت بھی کردی۔ لیکن قابل

تعریف بات یہ ہے کہ اردو اُن کی مادری زبان نہیں لیکن وہ اردو بولتے ہیں، چنانچہ تلفظ میں کسی گڑبڑ کی پکڑ نہیں کرنی چاہیے۔ دوسرے یہ کہ کتنے ہی ایسے ’’اہلِ زبان‘‘ ہیں جن کی مادری زبان اردو ہے لیکن غلط سلط تلفظ کرتے ہیں۔ اور خود ہمارا تلفظ کون سا سوفیصد صحیح ہے!

جہاں تک ’’رویہ‘‘ کا تعلق ہے تو یہ ’’رو‘‘ سے ہے اور فارسی کا لاحقہ فاعل ہے، چلنے والے کا معنیٰ دیتا ہے جیسے تیزرو، راہرو۔ مرزا غالب کا مشہور شعر ہے:

رو میں ہے رخشِ عمر، کہاں دیکھیے تھمے
نَے ہاتھ باگ پہ ہے نہ پا ہے رکاب میں

رخش کا مطلب گھوڑا ہے، لیکن جانے کیوں بعض لڑکیوں کے نام رخشی رکھ دیے جاتے ہیں! رو فارسی مصدر رفتن سے صیغہ امر ہے۔ ’ر‘ پر پیش لگادیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے: منہ، چہرہ، شکل صورت، سامنے کا حصہ، سبب، وجہ، رعایت، لحاظ، امید، تمنا، آرزو، حیلہ، بہانہ وغیرہ۔ روپوش، روسیاہ، روپکار (تحریر، حکم، پروانہ)، روداد وغیرہ۔ جہاں تک روّیہ کا تعلق ہے تو یہ بھی فارسی سے آیا ہے اورآج کل تو بہت ہی آرہا ہے۔ مذکر ہے اور مطلب ہے: دستور، رسم و رواج، چال چلن، برتاؤ، روش، وضع وغیرہ۔ ایک ’رو‘ روئیدن مصدر سے صیغہ امر ہے جس کا مطلب ہے: اگنے والا…… جیسے خودرو، وغیرہ۔


متعلقہ خبریں


فصل کی برداشت اور تابع دار اطہر علی ہاشمی - بدھ 22 جون 2016

پنجاب میں زراعت کے تعلق سے ایک اصطلاح نظر سے گزری جو ہمارے لیے نئی ہے اور ممکن ہے بہت سے لوگوں کے لیے بھی نئی ہو۔ یہ ہے ’’برداشت‘‘ کا استعمال۔ ویسے تو عوام ہی بہت کچھ برداشت کررہے ہیں اور صورتِ حال پر برداشتہ خاطر (بیزار، اداس، آزردہ) بھی ہیں۔ لیکن ایوب زرعی تحقیقاتی ادارے، فیصل آباد کے ڈائریکٹر نے کسانوں کو ہدایت کی ہے کہ ’’گندم کی فصل برداشت کے مرحلے میں داخل ہوگئی، بروقت کٹائی کا انتظام کرلیں‘‘۔ اسی طرح لاہور سے محکمہ زراعت کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ ’’چنے کی فصل برداشت ...

فصل کی برداشت اور تابع دار

خودرا فضیحت اطہر علی ہاشمی - اتوار 12 جون 2016

فارسی کی ایک مثل ہے ’’خودرا فضیحت دیگراں را نصیحت‘‘۔ یعنی خود تو غلط کام کرنا، دوسروں کو نصیحت کرنا۔ فضیحت کا مطلب رسوائی، ذلت، بدنامی بھی ہے۔ یہ محاورہ یوں یاد آیا کہ کچھ قارئین غلطیوں کی نشاندہی کرکے یہی مثل سنا دیتے ہیں۔ اب ہم کیا کریں کہ اپنے جن صحافی ساتھیوں کی زبان درست کرنے کی سعیٔ نامشکور کرتے ہیں وہی پڑھنے کی زحمت نہیں کرتے اور طعنہ ہمیں سننا پڑتا ہے۔ ’’ہبہ‘‘ عطیے وغیرہ کو کہتے ہیں۔ لڑکیوں کے نام بھی رکھے جاتے ہیں کہ وہ بھی عطیۂ خداوندی ہیں۔ لیکن جانے کیوں یہ نا...

خودرا فضیحت

’’غیر معمولی ترقیاں و مراعاتیں‘‘ اطہر علی ہاشمی - بدھ 20 اپریل 2016

ایک ہفت روزہ کے سرورق پر سرخی ہے ’’پیپلزپارٹی تتّر بتّر ہوسکتی ہے‘‘۔ یعنی دونوں جگہ ’ت‘ پر تشدید ہے۔ پڑھ کر خوشگوار حیرت ہوئی، کیونکہ عموماً لوگ بغیر تشدید کے تتربتر کردیتے ہیں جب کہ تشدید کے ساتھ ہی صحیح ہے۔ فرہنگ آصفیہ، فیروزاللغات وغیرہ میں بھی اسی طرح ہے، اور اردو کی کلاسیکی کتاب باغ و بہار میں بھی دونوں ٹکڑوں میں ’ت‘ پر تشدید ہے۔ رشید حسن خان کے مطابق جو لوگ بغیر تشدید کے تتربتر کہتے ہیں، یہ بھی درست ہے۔ ایک جملہ عموماً استعمال کیا جاتا ہے ’’لگ گیا تیر، نہیں تو تکّا‘‘...

’’غیر معمولی ترقیاں و مراعاتیں‘‘

’’مولک‘‘ اور ’’ایلم‘‘ اطہر علی ہاشمی - جمعه 29 جنوری 2016

علامہ طاہر اشرفی علماء کے سرخیل ہیں۔ انہوں نے غالباً عربی بھی پڑھی ہوگی، ورنہ اردو تو ضرور پڑھی ہوگی۔ اب اگر اتنے کلّے‘ ٹھلے کے اور جسیم عالم بھی ملک کو ’’مولک‘‘ کہیں تو تھوڑی سی حیرت تو ہوگی۔ اگر پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اﷲ علم کو ’’ایلم‘‘کہیں تو یہ اُن کو زیب دیتا ہے بلکہ اُن کی شخصیت سے مطابقت بھی رکھتا ہے۔ ہم نے وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کو کبھی ’’ذمے وار‘‘ کہنے پر نہیں ٹوکا کہ انہیں ٹوکنے کے لیے وزیراعلیٰ سندھ کافی ہیں۔ ایک بہت پڑھے لکھے صحافی جناب خورش...

’’مولک‘‘ اور ’’ایلم‘‘

یہ وطیرہ کیا ہے؟ اطہر علی ہاشمی - پیر 16 نومبر 2015

جناب پرویز رشید وفاقی وزیر اطلاعات ہیں اور اس لحاظ سے تمام صحافیوں کے سرخیل ہیں۔ ان کا فرمانا ہمارے لیے سند ہے۔ لاہور کا معرکہ جیتنے پر وہ فرما رہے تھے کہ فلاں کی تو ضمانت تک ضَبَطْ (بروزن قلق‘ شفق‘ نفخ وغیرہ یعنی ضَ۔بَط) ہوگئی۔ اب جو مثالیں ہم نے دی ہیں نجانے ان کا تلفظ وہ کیا کرتے ہیں۔ بطور مثال ہم نے غَلط کا لفظ نہیں لکھا، کیونکہ یہ عجب تماشا ہے کہ غلط کو ضبط کے وزن پر اور ضبط کو غلط کے وزن پر بولا جارہا ہے۔ جناب پرویز رشید تو کبھی پی ٹی وی کے افسرِ اعلیٰ بھی رہ چکے ہیں۔ ج...

یہ وطیرہ کیا ہے؟

پرشکوہ بروزن جوابِ شکوہ اطہر علی ہاشمی - هفته 07 نومبر 2015

ہمارے وفاقی وزیر چودھری نثار تو ذمہ داری کو ذمہ واری کہتے رہیں گے، انہیں ان کی ذمہ واری پر چھوڑتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب جناب شہبازشریف شمسی توانائی کی کارکردگی پر وضاحت پیش کرتے ہوئے ’’اوسط‘‘ کو بروزن دوست‘ گوشت وغیرہ کہتے رہے اور بار بار کہتے رہے۔ لیکن یہ تو حکمران طبقہ ہے۔ اسے زیبا ہے کہ جو چاہے کہے۔ البتہ جن کا تعلق صحافت سے ہے اور بہت پرانا ہے، انہیں دوبارہ اردو پڑھ لینی چاہیے۔ ٹی وی چینل ڈان کے نمائندۂ حیدرآباد جناب علی حسن بڑے سینئرصحافی ہیں۔ وہ حیدرآباد کی ایک قدیم ع...

پرشکوہ بروزن جوابِ شکوہ

لالچ مذکر یا مونث؟ اطہر علی ہاشمی - جمعرات 05 نومبر 2015

آئیے، آج ایک بچے کے خط سے آغاز کرتے ہیں جو غالباً بچوں کے رسالے ’ساتھی‘ کا قاری ہے۔ برخوردار نے لکھا ہے کہ ’’انکل‘ آپ ہمیں تو سمجھاتے ہیں کہ ’’لالچ‘‘ مونث نہیں مذکر ہے، لیکن سنڈے میگزین (6 تا 12 ستمبر) میں ایک بڑے قلمکار نے صفحہ 6 پر اپنے مضمون میں کم از کم چھ بار لالچ کو مونث لکھا ہے۔ اس سے اگلے صفحے پر دوسرے مضمون نگار نے بھی لالچ کو مونث ہی ثابت کیا ہے (بہشت کی لالچ)۔ اب آپ ہی بتائیے، ہم کس کی بات مانیں؟ ہماری تو اپنے دوستوں سے بحث ہوتی رہتی ہے کہ لالچ مذکر ہے، مونث نہیں۔ ...

لالچ مذکر یا مونث؟

نقص ِامن یا نقضِ امن اطہر علی ہاشمی - هفته 31 اکتوبر 2015

عدالتِ عظمیٰ کے حکم پر آئین کے مطابق قومی زبان اردو کو اس کا جائز مقام دینے کی کوششیں شروع ہوگئی ہیں۔ 1973ء کے آئین میں اردو کو سرکاری زبان بنانے کے لیے غالباً 10 سال کی مدت طے ہوئی تھی۔ ایسے کئی دس سال گزر گئے۔ لیکن اب عدالت نے نہ صرف حکم جاری کیا ہے بلکہ نئے منصفِ اعلیٰ نے اپنا حلف بھی اردو میں لیا ہے۔ سرکاری سطح پر قومی زبان اردو کی جب اہمیت مسلّم ہوجائے گی تو اردو بولنے، لکھنے میں بھی بہتری آئے گی۔ چین سے تعلقات کے پیش نظر چینی زبان سکھانے کا سرکاری اہتمام کیا جارہا ہے تو...

نقص ِامن یا نقضِ امن

امرت سر اطہر علی ہاشمی - جمعرات 15 اکتوبر 2015

محترم عمران خان نیا پاکستان بنانے یا اسی کو نیا کرنے کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک نیا محاورہ بھی عنایت کردیا ہے۔10 اگست کو ہری پور میں خطاب کرتے ہوئے سانحہ قصور کے حوالے سے انہوں نے پُرجوش انداز میں کہا ’’میرا سر شرم سے ڈوب گیا‘‘۔ انہوں نے دو محاوروں کو یکجا کردیا۔ دیکھا جائے تو کوئی شخص اُس وقت تک پوری طرح نہیں ڈوبتا جب تک اس کا سر نہ ڈوبے۔ چُلّو بھر پانی میں ڈوبنا محاورہ تو ہے لیکن عملاً ممکن نہیں۔ ممکن ہے خان صاحب کو یہ کہنا اچھا نہ لگا ہو کہ ’’سر ...

امرت سر

اینچا تانی کی کھینچا تانی اطہر علی ہاشمی - پیر 12 اکتوبر 2015

عزیزم آفتاب اقبال معروف شاعر ظفر اقبال کے ’’اقبال زادے‘‘ ہیں۔ اردو سے محبت اپنے والد سے ورثے میں پائی ہے۔ ایک ٹی وی چینل پر پروگرام کرتے ہیں۔ پروگرام کی نوعیت تو کچھ اور ہے تاہم درمیان میں آفتاب اقبال اردو کے حوالے سے چونکا دینے والے انکشافات بھی کر جاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے بتایا کہ ’’کھینچا تانی‘‘ اصل میں اینچا تانی ہے۔ کپڑا بُنتے ہوئے دائیں سے بائیں اور اوپر سے نیچے دو دھاگے چلتے ہیں جو اینچا تانی کہلاتے ہیں۔ یقینا یہ الفاظ لغت میں موجود ہیں۔ اسی کو تانا بانا بھی کہا ج...

اینچا تانی کی کھینچا تانی

بیرون ممالک اطہر علی ہاشمی - بدھ 16 ستمبر 2015

چلیے، آغاز اپنی غلطی سے کرتے ہیں اور اس یقین کے ساتھ کہ آئندہ بھی کریں گے۔ پچھلے شمارے میں سرزد ہونے والے سہو کی نشاندہی روات سے ایک ذہین شخص ذہین احمد نے کی ہے۔ روات اسلام آباد کے قریب ایک چھوٹا سا قصبہ تھا، ممکن ہے اب بڑا شہر ہوگیا ہو، اسلام آباد کی قربت کا فائدہ ضرور ہوا ہوگا۔ پچھلے شمارے میں ہم نے ’’بانگ دہل‘‘ استاد دامن کے دامن میں ڈال دی تھی۔ یہ معرکتہ الآرا مجموعہ استاد امام دین گجراتی کا ہے جن کا ایک شعر یہ ہے: تیری اماں نے پکائے مٹر مام دینا تو کوٹھے پہ چڑھ ...

بیرون ممالک

رفاعی یا رفاہی اطہر علی ہاشمی - اتوار 06 ستمبر 2015

صوبہ خیبرپختون خوا کے شہر کرک سے ایک اخبار ’’دستک‘‘ کے نام سے شائع ہوتا ہے۔ زبان کے حوالے سے یہ سلسلہ وہاں بھی شائع ہورہا ہے، جس کا فائدہ یہ ہے کہ پشتو بولنے والے اُن بھائیوں سے بھی رابطہ ہورہا ہے جو اردو میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اردو کو قومی سطح پر تو اب تک رائج نہیں کیا گیا لیکن اس زبان کی خوبی یہ ہے کہ آپ ملک کے کسی بھی حصہ میں چلے جائیں، یہ زبان بولنے اور سمجھنے والے مل جائیں گے۔ خیبر پختون خوا کے ایک شہر سے ایک استاد کا ٹیلی فون آیا۔ انہوں نے مزے کی بات بتائی کہ ہم جب ارد...

رفاعی یا رفاہی