وجود

... loading ...

وجود

پاکستان سپر لیگ: بدعنوانیوں کے نرغے میں

پیر 25 جنوری 2016 پاکستان سپر لیگ: بدعنوانیوں کے نرغے میں

Pakistan-Super-League-PSL

پاکستان سپر لیگ کے حوالے سے نجم سیٹھی کے تمام دعوے دھوکے اور ریت کے گھروندے ثابت ہورہے ہیں۔ ٹیمیں تحفظات سے دوچار ہیں۔ اسپانسرر مسلسل اعتراضات اُٹھا رہے ہیں اور نشریات کے حقوق کے معاملات بھی غیر شفافیت کے باعث سوالات کے نرغے میں ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ پی ایس ایل کے چیئرمین نجم سیٹھی سب کی ہتھیلیوں پر سرسوں جما رہے ہیں اور اِسے ’’آپس کی بات‘‘ بنا کر ٹالنے میں لگے ہیں۔

وجود ڈاٹ کام ملنے والی اطلاعات کے مطابق پاکستان سپر لیگ کے لئے پی سی بی کے پاس پیسے ہی نہیں ہیں۔ پی سی بی نے اس کے لئے 93کروڑ روپے کا ہدف رکھا تھا۔ جو اُسے ٹیموں اور اسپانسرز سے ملنے تھے۔ اس ضمن میں حبیب بینک اس کا مرکزی اسپانسر (کفیل) تھا ۔ جس سے 23 کروڑ روپے ملنا تھے۔ باقی ملنے والے پیسوں کے تمام معاملات بدعنوانیوں کے گہرے ا ندھیرے میں ہیں۔

نجم سیٹھی پاکستان سپر لیگ کے اس پورے دائرے کو پیسوں کے جس مرکز پر گھما رہے ہیں ، اور اِسے جس طرح جیوسوپر کو زندگی دینےاور میر شکیل الرحمان کو خوش کرنے کے لئے وسعت دیتے جارہے ہیں ، وہ کرکٹ کو کوڑا کرکٹ بنا دے گی۔

اے آر وائی کی جانب سے پیسے تو نہیں دیئے جا رہے۔ مگر وہاں سے پی سی بی کو مسلسل اعتراضات ضرور بھیجے جارہے ہیں۔ اے آر وائی کے دو مرکزی اعتراضات یہ سامنے آئے ہیں کہ لاہور قلندر کی ٹیم کے ساتھ جیو کا نام کیوں چپکا ہوا ہے؟اور پی سی ایل کی میچوں کو دکھانے کے حقوق جیو سوپر کو کیوں اور کیسے مل گیے؟یہ دونوں سوالات بدعنوانیوں کی بدنام تفصیلات رکھتے ہیں۔

لاہور قلندر کے سی ای او دراصل رانا فواد ہیں۔ جو جیو نیوز کے ڈائریکٹر نیوز رانا جواد کے بھائی ہیں۔ وہ کاروباری معاملات کا ایسا کیا پس منظر رکھتے ہیں یا پھر وہ کون سی مالیاتی پوزیشن کے حامل ہیں کہ ایک پوری ٹیم کو خرید سکیں؟ ظاہر ہے کہ اُن کی یہ پوزیشن اُن کے سالانہ ٹیکس کی تفصیلات میں بھی جھلکنی چاہئے۔ مگر وہاں تو مکمل سناٹاطاری ہے۔ چنانچہ چاروں طرف سے یہ آواز سنائی دے رہی ہے کہ اس کے پیچھے کوئی اور نہیں خود ’’جیو‘‘ کے میر شکیل الرحمان ہیں۔ اور اُنہوں نے ایک فرنٹ مین کے طور پر رانا فواد کو آگے رکھا ہے۔ اے آر وائی کی طرف سے یہ اعتراض باربار آرہا ہے کہ اگر جیو ، لاہور قلندر کا میڈیا پارٹنر ہے تو وہاں تک محدود رہنے کے بجائے ٹیم کے ساتھ اپنا نام کیسے چپکا بیٹھا ہے؟ظاہر ہے کہ نجم سیٹھی یہ چاہتے ہیں کہ ’’آپس کی بات ‘‘ بس آپس میں ہی رہے۔

اس ضمن میں دوسرا بڑا اعتراض جیو سوپر کو پاکستان سپر لیگ کے تمام میچ دکھانے کے حقوق پر سامنے آرہا ہے۔ پاکستان سپر لیگ کے نشریاتی حقوق کے لئے واحد بولی ٹین اسپورٹس کی طرف سے آئی تھی۔ یہ بات بجائے خود اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ سپر لیگ کرکٹ کی دنیا میں کتنی متاثرکن یا کشش کا باعث بن سکی ہے؟ مگر سپر لیگ کے واحد کرتا دھرتا نجم سیٹھی نے اس معاملے کو بھی آلود ہ کردیا ہے۔ عام طور پر ٹین اسپورٹس کو ملنے والے حقوق پر پی ٹی وی اسپورٹس کو سرکاری حیثیت ملنے کے باعث میچ دکھانے کے اجازت دے دی جاتی ہے۔ جسے ٹین اسپورٹس گوارا کرتا ہے۔ مگرایسا پہلی بار ہورہا ہے کہ سپر لیگ کے میچ ٹین اسپورٹس اور پی ٹی وی اسپورٹس کے علاوہ جیو سوپر بھی دکھائے گا۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا کہ تین چینل ایک میچ دکھا رہے ہوں!یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نجم سیٹھی نے جیو سوپر کو اس کی اجازت کیسے دی؟ نجم سیٹھی جیو کے ملازم بھی ہیں اور ایک پروگرام ـ’’آپس کی بات‘‘ میں دانشوری بگھارنے کے ساتھ طوطے سے فال نکالنے کی طرز پر چڑیا اڑاتے پھرتے ہیں۔ ایک ادارے کے ساتھ اپنی منفعت بخش وابستگی کے ساتھ وہ اُس ادارے کو اب تک کے نامعلوم طریقے سے میچ دکھانے کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ یہ معاملہ کچھ اور وجوہات کی وجہ سے بھی حساس ہے۔

جیو سوپر ، جیو نیٹ ورک کا ایک ناکام منصوبہ ثابت ہوا ہے۔ وہ ماضی میں دوسال قبل کے ڈومیسٹک سیزن کے طے شدہ پیسے پی سی بی کو نہ دے کر ڈیفالٹ ہو چکا ہے۔ اسی باعث جیو سوپر کسی بھی میچ کو دکھانے کے حقوق کے حوالے سے اپنی کسی صلاحیت کا مظاہرہ بھی نہیں کر پارہا تھا۔

جیو سوپر ، جیو نیٹ ورک کا ایک ناکام منصوبہ ثابت ہوا ہے۔ وہ ماضی میں دوسال قبل کے ڈومیسٹک سیزن کے طے شدہ پیسے پی سی بی کو نہ دے کر ڈیفالٹ ہو چکا ہے۔ اسی باعث جیو سوپر کسی بھی میچ کو دکھانے کے حقوق کے حوالے سے اپنی کسی صلاحیت کا مظاہرہ بھی نہیں کر پارہا تھا۔ مثلاً گزشتہ برس جیو سوپر ڈومیسٹک میچز دکھانے کے نشریاتی حقوق بھی لینے میں ناکام رہا ۔ انٹر نیشنل کرکٹ کونسل نے اگلے پانچ برسوں کے لئے کرکٹ دکھانے کے جونشریاتی حقوق فروخت کئے ہیں، اُن میں سے کسی ایک میچ کے بھی حقوق خریدنے میں جیو سوپر ناکام رہا ہے۔ چنانچہ ان مسلسل ناکامیوں کے باعث خود جیو سوپر کے ملازمین کا حال بہت پتلاہے۔ پرانے ملازمین کو تنخواہیں نہیں دی جارہیں۔ ادارے کے اندر چھانٹی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ ان بدتر حالات کے باعث میر شکیل الرحمان نے جیو سوپر کو جیو انٹرٹینمنٹ اور فلمز میں تبدیل کرنے کی ٹھان لی تھی۔ مگر نجم سیٹھی نے جیو سوپر کو پاکستان سپر لیگ کے میچز دکھانے کی اجازت دے کر ایک نئی زندگی دے دی ہے۔ کرکٹ ماہرین کا خیال ہے کہ سوپر لیگ پاکستان کرکٹ کے تن مردہ میں تو جان نہیں ڈال سکے گی مگر آخری سانسیں لیتے جیو سوپر کی زندگی کا سامان کر جائے گی۔ یہ ایک عجیب گورکھ دھندہ بن چکا ہے کہ سپر لیگ کے ’’پروڈکشن ‘‘ کے حقوق سن سیٹ پلس وائن کو ملے ہیں، براڈ کاسٹنگ کے حقوق ٹین اسپورٹس کو ملے ہیں۔ مگر سرکاری چینل کے باعث پی ٹی وی اسپورٹس بھی میچ دکھا سکے گا۔ اور نجم سیٹھی کے باعث جیو سوپر بھی میچ دکھانے کا حق رکھے گا۔ ملکی فیصلے ذاتی وابستگیوں کی جس بدبودار سطح سے ہور ہے ہیں ، اس پر کسی کو دھیان دینے کی فرصت ہی نہیں ہے۔ یہ سب کچھ نجم سیٹھی کی بدولت ہو رہا ہے اور دولت کے ہیر پھیر کے ساتھ ’’آپس کی بات‘‘ میں دفن ہورہا ہے۔

پاکستان سپر لیگ کرکٹ کے کسی بڑے اور مثالی واقعے کے بجائے بہت بڑے اسکینڈل میں تبدیل ہو رہی ہے۔ کیونکہ اس میں کہیں پر بھی شفافیت نظر نہیں آرہی۔ اور مالیاتی بے قاعدگیوں کے بہت سے قصے ابھی سے گردش کرنے لگے ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ سپر لیگ میں حصہ لینے والی ٹیموں کے کھلاڑیوں کے بھی تحفظات سامنے آرہے ہیں۔ پی سی بی نے کھلاڑیوں کی آمدنی پر 36 فیصد ٹیکس لگا دیا ہے۔ جس پر کھلاڑیوں نے تحفظات کا اظہار کر دیا ہے۔ اس ضمن میں دو کرکٹ ٹیموں کے کھلاڑیوں نے وجود ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُنہیں پہلے یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ اُنہیں اپنی آمدنی میں سے 36فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا جو بہت زیادہ ہے۔

یہ اور ایسے بہت سے مسائل ہیں جس کے باعث ابھی تک پاکستان سپر لیگ کی مہم ہی شروع نہیں کی جاسکی۔ پاکستان سپر لیگ کا آغاز 4 فروری سے ہونا ہے مگر ابھی تک اس کے آثار ہی کسی مہم سے نہیں دکھا رہے ہیں ۔ سپر لیگ کا کھڑاگ اس سے پہلے بھی دو بار ڈالاجا چکا ہے مگر یہ روبہ عمل نہیں آسکی۔ اب کی بار اس کا بیڑہ نجم سیٹھی نے اُٹھا یا اور وہ خود پاکستان سپر لیگ کے چیئرمین بن گیے۔ پی سی بی کے چیئرمین شہریار خان نے خود کو اس پورے کھیل سے الگ کر لیا ۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ معاملہ ایک بڑے اسکینڈل میں تبدیل ہو رہا ہے۔ اور یہ کھیل نہیں بلکہ ایک کھلواڑ ہورہا ہے۔ جس میں رشوت ، پیسے اور آمدنی کے گھن چکر سب کو چکراکر رکھ دیں گے۔ مالیاتی بے قاعدگیوں کے بڑے پیمانے پر ابھی سے اُبھرنے والے آثار کے باعث کرکٹ کے ماہرین یہ رائے زنی کررہے ہیں کہ پاکستان سپر لیگ ایک سفید ہاتھی ثابت ہونے والا ہے۔ نجم سیٹھی پاکستان سپر لیگ کے اس پورے دائرے کو پیسوں کے جس مرکز پر گھما رہے ہیں ، اور اِسے جس طرح جیوسوپر کو زندگی دینے اور میر شکیل الرحمان کو خوش کرنے کے لئے وسعت دیتے جارہے ہیں ، وہ کرکٹ کو تو کوڑا کرکٹ بنا دے گی۔ مگر کچھ لوگوں کی جیبوں کو بہت گرم کردے گی۔ اور یہ آپس کی بات نہیں۔ سب کی زبانوں پر چلنے والی بات ہے۔


متعلقہ خبریں


حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار وجود - بدھ 17 جون 2026

حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...

حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا وجود - بدھ 17 جون 2026

میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات وجود - بدھ 17 جون 2026

ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب وجود - بدھ 17 جون 2026

منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان وجود - بدھ 17 جون 2026

رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت وجود - منگل 16 جون 2026

ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ وجود - منگل 16 جون 2026

81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن وجود - منگل 16 جون 2026

عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

مضامین
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش وجود بدھ 17 جون 2026
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش

علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب وجود بدھ 17 جون 2026
علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب

ایک تقریب ملتوی ہوگئی!! وجود منگل 16 جون 2026
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!!

جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے! وجود منگل 16 جون 2026
جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے!

کب تک ؟ وجود منگل 16 جون 2026
کب تک ؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر