وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

اردو میں لٹھ بازی

بدھ 11 نومبر 2015 اردو میں لٹھ بازی

urdu words

چلیے، پہلے اپنے گریبان میں جھانکتے ہیں۔ سنڈے میگزین (4 تا 10 اکتوبر) میں صفحہ 6 پر ایک بڑا دلچسپ مضمون ہے لیکن اس میں زبان و بیان پر پوری توجہ نہیں دی گئی۔ مثلاً ’لٹھ‘ کو مونث لکھا گیا ہے۔ اگر لٹھ مونث ہے تو لاٹھی یقینا مذکر ہوگی۔ لٹھ کو مونث ہی بنانا تھا تو ’’لٹھیا‘ لکھ دیا ہوتا۔ مزید وضاحت کی گئی ہے کہ جس (لٹھ) کے ٹاپ پر گھنگرو اور پیتل کی گھنٹیاں‘‘۔ عدالتِ عظمیٰ کی طرف سے نفاذِ اردو کے حکم کے بعد ’’ٹاپ‘‘ کا استعمال توہین عدالت کے مترادف ہے، وزیراعظم کے انگریزی میں خطاب پر تو کسی نے توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر ہی دی ہے۔ ’’ٹاپ‘‘ ایسا لفظ نہیں جس کا اردو میں متبادل نہ ہو بشرطیکہ یہ گھوڑے کی ’’ٹاپ‘‘ نہ ہو۔ ویسے اردو میں پچھتانے کے لیے بھی آتا ہے۔ مثلاً ’’ٹاپتا رہ جانا‘‘، یعنی کسی چیز کی آرزو یا انتظار میں رہنا، افسوس کرنا، دل مار کر بیٹھ جانا۔ اور ’’ٹاپتا پھرنا‘‘ کا مطلب مارا مارا پھرنا، حیران پھرنا، بھٹکتے پھرنا۔ گھوڑے کی ٹاپ کا مطلب ہے: گھوڑے کے سُم کا حلقہ، گھوڑے کے اگلے پاؤں کی ضرب۔ حالانکہ محاورہ تو یہ ہے: ’’گھوڑے کی پچھاڑی اور حاکم کی اگاڑی سے بچو‘‘۔ ٹاپ کے اور بھی کئی معانی ہیں۔ مثلاً گھوڑے کا گھاس، دانے کے وقت پاؤں زمین پر مارنا جسے گھوڑے کا حُسنِ طلب کہہ سکتے ہیں۔ مثنوی سحرالبیان میں گھوڑے کی تعریف میں ایک شعر ہے:

نہ کھاوے، نہ پیوے، نہ سووے کبھی
نہ ٹاپے، نہ بیمار ہووے کبھی

جہاں تک ’’لٹھ کے ٹاپ‘‘ کا تعلق ہے تو اس کے لیے ’’سرے پر‘‘ یا ’’اوپر‘‘ لکھ دینا کافی تھا۔ یہ بھی نہیں تو ’’لٹھ پر‘‘ کافی تھا۔ انگریزی TOP بالکل غیر ضروری ہے۔

اسی مضمون سے انکشاف ہوا کہ ’’دف کی ڈفلی‘‘ بھی ہوتی ہے۔ جملہ ہے ’’دف کی ڈفلی کا سازینہ‘‘۔ ہمیں آلاتِ مزامیر سے ایسی کچھ واقفیت تو نہیں لیکن یہ ضرور معلوم ہے کہ دف اور ڈفلی ایک ہی چیز ہے۔ فرہنگ کے مطابق ’’دف بڑی گول ڈفلی، لکڑی کے حلقے پر ایک طرف کھال منڈھی ہوتی ہے۔ یہ کم و بیش بڑے طباق کے برابر ہوتا ہے۔ تقریباً ایک فٹ قطر کا‘‘۔ ڈفلی بجانے والے کو ڈفالچی یا ڈفالی کہتے ہیں۔ ایک مثل ہے ’’اپنی اپنی ڈفلی، اپنا اپنا راگ‘‘۔ چنانچہ مزید کہنے کی ضرورت نہیں۔

پنجاب کے اخبارات میں جملے کو مختصر کرنے کے لیے ’’کے‘‘ اور ’’میں‘‘ نکال کر ’’قصر‘‘ کردیا گیا ہے۔ آسان الفاظ میں جملے کو لنگڑا کردیا۔ مثلاً یہ جملہ دیکھیے: ’’اردو نفاذ بارے‘‘ جب کہ صحیح یوں ہوتا ’’اردو کے نفاذ کے بارے میں‘‘

یوں تو مذکورہ مضمون میں ’’متوازن ردھم‘‘ بھی استعمال کیا گیا ہے۔ Rhythm متوازن ہی ہوتا ہے۔ اس انگریزی لفظ کا مطلب ہے: وزن، بحر، باقاعدہ اتار چڑھاؤ، تناسب وغیرہ۔ اور ردھم کی جگہ ان الفاظ کا استعمال بھی برا نہیں۔ یہاں سب سے موزوں لفظ ’’تال‘‘ تھا جسے ٹال دیا گیا۔ ہمارے معروف قلم کار اور ادیب ہی غیر ضروری طور پر انگریزی الفاظ استعمال کریں گے تو اردو کیوں کر نافذ ہوگی!

ایک مزے کا جملہ نظر سے گزرا: ’’ایک ادھم برپا ہوگئی‘‘۔ جانے یہ کیا چیز ہے اور کیوں برپا ہوئی؟ لغت کے مطابق تو ’’ادہم‘‘ کا مطلب ہے: سیاہ رنگ کا گھوڑا۔ ایک بزرگ ابو بن ادھم بھی تھے جن کے بارے میں ایک انگریزی نظم بھی ہے۔ شاید ان ہی کی نسبت سے کچھ لوگ ادھمی کہلاتے ہیں۔ لیکن اگر یہ برپا کرنے والی چیز ہے تو یہ مونث نہیں مذکر ہے، لغت میں اس کے ہجے اُدھم بھی ہیں لیکن یہ اودھم ہے۔ جو بھی ہو، دونوں صورتوں میں یہ برپا کیا جاتا ہے یا مچایا جاتا ہے۔

اپنے گریباں میں بہت جھانک لیا۔ اب کہیں اور تاک جھانک کرتے ہیں۔ دبئی سے جناب منیری نے لکھا ہے کہ ’’ہمارے خیال میں قصائی کو اگر حرف ’ص‘ سے مانا جائے تو مضائقہ نہیں۔ کیونکہ یہ عربی لفظ قص سے نکلا ہے۔ قساوت سے اسے ماننے میں تصنع محسوس ہوتا ہے‘‘۔ یہ تصنع والی بات سمجھ میں نہیں آئی۔ بہرحال یہ تو طے ہے کہ قساوت کا مطلب ہر لغت میں سنگدلی اور کٹھور پن ہے اور اسی سے لفظ قسائی ہے۔ ہم جب ’اردو نیوز‘ جدہ میں تھے تو اپنے سعودی مدیر اعلیٰ کے پاس اپنے عملے کے ایک فرد کی سفارش لے گئے جن پر ہمارے خیال میں کچھ زیادتی ہورہی تھی۔ مدیراعلیٰ نے کہا ’’دیکھو ہاشمی میں قسائی نہیں ہوں‘‘۔ یعنی ’’ایسا ظالم، سنگدل نہیں ہوں۔‘‘ چلیے، قسائی ’س‘ کے ساتھ ہو یا ’ص‘ کے…… گوشت تازہ اور اچھا ہونا چاہیے۔ اور یہ جو آج کل گدھے کا گوشت کھلانے کا شور مچ رہا ہے تو ایسے لوگ واقعی ’’قسائی‘‘ ہیں۔

’’مختیار کار‘‘ اب کراچی کے اخبارات میں بھی نظر آنے لگا ہے۔ یہ کیا ہے؟ پنجاب اور سندھ میں بولنے میں تو مختیار (مخت یار) آتا ہے لیکن وہاں بھی لکھا نہیں جاتا۔ مختارکار کو مختیارکار لکھنے سے اُس کے اختیار میں کچھ اضافہ نہیں ہوجاتا۔

پنجاب کے اخبارات میں جملے کو مختصر کرنے کے لیے ’’کے‘‘ اور ’’میں‘‘ نکال کر ’’قصر‘‘ کردیا گیا ہے۔ آسان الفاظ میں جملے کو لنگڑا کردیا۔ مثلاً یہ جملہ دیکھیے: ’’اردو نفاذ بارے‘‘ جب کہ صحیح یوں ہوتا ’’اردو کے نفاذ کے بارے میں‘‘۔ ہمیں ڈر ہے کہ یہی غلط العام ہوکر فصیح نہ ہوجائے۔ لیکن یہ اختصار ابھی خبروں کی حد تک ہے۔ چلتے چلتے ایک ٹی وی چینل کی بات ہوجائے۔ ایک خاتون خبریں پیش کرنے کے بعد کہتی ہیں ’’فی الوقت کے لیے اتنا ہی‘‘۔ ہمارا خیال ہے کہ اس جملے میں ’’کے لیے‘‘ زائد ہے۔ ایک اخبار میں جملہ ہے ’’ہر دینی جماعت ایسے ہی پروگرام تشکیل دیتی ہیں‘‘۔ ہم اس سے پہلے بھی عرض کرچکے ہیں کہ ’’ہر‘‘ کے بعد واحد آنا چاہیے۔ یہ جملہ یوں ہوسکتا تھا ’’ہر دینی جماعت ایسے ہی پروگرام تشکیل دیتی ہے‘‘۔ اس سے مفہوم میں بالکل بھی فرق نہیں آتا۔ ورنہ ’’تمام دینی جماعتیں‘‘ لکھا ہوتا۔ دل تو چاہ رہا تھا کہ قارئین کو یہ جملہ بھی پڑھواتے کہ ’’احتجاجی مظاہروں میں ایجی ٹیشن کی اجازت نہیں ہوگی‘‘۔ ہم تو یہ سمجھتے رہے کہ ایجی ٹیشن کا مطلب ہی احتجاج ہے۔

’’اتائی‘‘ اور ’’عطائی‘‘ پر بھی ایک صاحب نے شبہ کا اظہار کیا ہے۔ لغات کے علاوہ رشید حسن خان کی ’’کلاسکی ادب کی فرہنگ‘‘ میں بھی ’’اتائی‘‘ ہے، یعنی جس نے کسی غیر پیشے والے کا ہنر سیکھا ہو اور وہ اس کا آبائی، خاندانی پیشہ نہ ہو، جو کسی پیشے کو باقاعدہ حاصل کیے بغیر اس میں دخل دے، عموماً طبیب یا موسیقار کے لیے مستعمل ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ اتائی کا اطلاق ہم پر بھی کیا جا سکتا ہے، جوجانے بوجھے اور پورا علم حاصل کیے بغیر زبان و بیان کی نبض ٹٹولنے بیٹھ گئے۔


متعلقہ خبریں


املا مذکر یا مونث؟ اطہر علی ہاشمی - هفته 13 اگست 2016

اسلام آباد میں جا بیٹھنے والے عزیزم عبدالخالق بٹ بھی کچھ کچھ ماہر لسانیات ہوتے جارہے ہیں۔ زبان و بیان سے گہرا شغف ہے۔ ان کا ٹیلی فون آیا کہ آپ نے ’’املا‘‘ کو مذکر لکھا ہے، جبکہ یہ مونث ہے۔ حوالہ فیروزاللغات کا تھا۔ اس میں املا مونث ہی ہے۔ دریں اثنا حضرت مفتی منیب مدظلہ کا فیصلہ بھی آگیا۔ گزشتہ منگل کو جسارت میں ان کا مضمون ’’دُم پر پاؤں‘‘ شائع ہوا ہے۔ اس کی پہلی سطر ہے ’’اس لفظ (پاؤں) کی صحیح املا پانو ہے‘‘۔ مفتی صاحب کے فتوے کے مطابق بھی املا مونث ہے۔ ان کے فتوے پر تو ہم روز...

املا مذکر یا مونث؟

تلفظ کا بگاڑ اطہر علی ہاشمی - جمعه 05 اگست 2016

اردو میں املا سے بڑا مسئلہ تلفظ کا ہے۔ متعدد ٹی وی چینل کھُمبیوں کی طرح اگ آنے کے بعد یہ مسئلہ اور سنگین ہوگیا ہے۔ اینکرز اور خبریں پڑھنے والوں کی بات تو رہی ایک طرف، وہ جو ماہرین اور تجزیہ کار آتے ہیں اُن کا تلفظ بھی مغالطے میں ڈالنے والا ہوتا ہے۔ مغالطہ اس لیے کہ جو کچھ ٹی وی سے پیش کیا جاتا ہے نئی نسل اسی کو سند سمجھ لیتی ہے اور صحیح ہونے پر اصرار کرتی ہے۔ اب ان تجزیہ کاروں اور چینلی دانشوروں کی اصلاح تو ہو نہیں سکتی، یہ ممکن نہیں کہ گفتگو سے پہلے ان کے تلفظ کا امتحان لیا ...

تلفظ کا بگاڑ

تلفظ میں زیر و زبر اطہر علی ہاشمی - پیر 01 اگست 2016

ہم یہ بات کئی بار لکھ چکے ہیں کہ اخبارات املا بگاڑ رہے ہیں اور ہمارے تمام ٹی وی چینلز تلفظ بگاڑ رہے ہیں۔ ٹی وی چینلوں کا بگاڑ زیادہ سنگین ہے کیونکہ ان پر جو تلفظ پیش کیا جاتا ہے، نئی نسل اسی کو سند سمجھ لیتی ہے۔ بڑا سقم یہ ہے کہ ٹی وی پر جو دانشور، صحافی اور تجزیہ نگار آتے ہیں وہ بھی اس بگاڑ میں اضافہ کررہے ہیں اور بڑے دھڑلے سے غلط تلفظ کو فروغ دے رہے ہیں۔ خاص طور پر کئی الفاظ کو ’’زیروزبر‘‘ کردیا جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک بہت سینئر صحافی، جو بہت عمدہ اردو لکھتے ہیں اور ہم ن...

تلفظ میں زیر و زبر

گیسوئے اردو کی حجامت اطہر علی ہاشمی - هفته 23 جولائی 2016

علامہ اقبالؒ نے داغ دہلوی کے انتقال پر کہا تھا : گیسوئے اردو ابھی منت پذیر شانہ ہے ایم اے اردو کے ایک طالب علم نے اس پر حیرت کا اظہار کیا کہ داغ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ کس کے شانے کی بات کی جارہی ہے جب کہ غالب نے صاف کہا تھاکہ: تیری زلفیں جس کے شانوں پر پریشاں ہو گئیں اس سوال پر ہم بھی پریشان ہوکر رہ گئے۔ داغ دہلوی نے جس شبہ یا شکوے کا اظہار کیا تھا وہ ایسا غلط بھی نہیں۔ ٹی وی چینلوں پر گیسوئے اردو کی جس طرح حجامت بنائی جارہی ہے وہ اس کا ثبوت ہے۔ چلیے، ’’...

گیسوئے اردو کی حجامت

’’کھُد بُد‘‘ اور ’’گُڈمُڈ‘‘ اطہر علی ہاشمی - پیر 11 جولائی 2016

مجاہد بک اسٹال، کراچی کے راشد رحمانی نے لکھا ہے کہ آپ کو پڑھ کر ہم نے اپنی اردو درست کی ہے لیکن 11 اپریل کے اخبار میں مشتاق احمد خان کے کالم نقارہ کا عنوان ’’لمحہ فکریہ‘‘ ہے۔ ہے نا فکر کی بات! صحیح ’لمحہ فکریہ‘ ہے یا ’لمحہ فکر‘؟ عزیزم راشد رحمانی، جن لوگوں نے سید مودودیؒ کو نہیں پڑھا وہ کچھ بھی لکھ سکتے ہیں۔ سید نے ہمیشہ ’لمحہ فکر‘ ہی لکھا اور یہی صحیح ہے۔ وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار، داخلہ کے وزیر بھی ہیں اور وزیروں کے چودھری بھی، اس لیے ان کو بجا ہے کہ وہ ذمے دار کو ...

’’کھُد بُد‘‘ اور ’’گُڈمُڈ‘‘

’’پیشن گوئی‘‘ اور ’’غتربود‘‘ اطہر علی ہاشمی - هفته 04 جون 2016

پچھلے شمارے میں ہم دوسروں کی غلطی پکڑنے چلے اور یوں ہوا کہ علامہ کے مصرع میں ’’گر حسابم را‘‘ حسابم مرا ہوگیا۔ ہرچند کہ ہم نے تصحیح کردی تھی لیکن کچھ اختیار کمپوزر کا بھی ہے۔ کسی صاحب نے فیصل آباد سے شائع ہونے والا اخبار بھیجا ہے جس کا نام ہے ’’ لوہے قلم‘‘۔ دلچسپ نام ہے۔ کسی کا کہنا ہے کہ اس میں ’کا‘ رہ گیا ہے‘ یعنی ’لوہے کا قلم‘ ہوگا لیکن سہوِ کاتب سے ’کا‘ رہ گیا۔ روزنامہ کی لوح پر لکھا ہے ’’عوام کے ہر مسائل پر نظر‘‘۔ ’ہر‘ کے ساتھ اگر ’مسئلے‘ لکھ دیتے تو کوئی حرج نہیں تھا۔...

’’پیشن گوئی‘‘ اور ’’غتربود‘‘

اعلیٰ یا اعلا اطہر علی ہاشمی - اتوار 03 اپریل 2016

سب سے پہلے تو جناب رؤف پاریکھ سے معذرت۔ ان کے بارے میں یہ شائع ہوا تھا کہ ’’رشید حسن خان اور پاکستان میں جناب رؤف پاریکھ کا اصرار ہے کہ اردو میں آنے والے عربی الفاظ کا املا بدل دیا جائے۔‘‘ انہوں نے اس کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ خود رشید حسن خان سے متفق نہیں ہیں۔ چلیے، اس طرح ان سے فون پر گفتگو کا اعزاز حاصل ہوگیا۔ رؤف پاریکھ ایک علمی و ادبی شخصیت ہیں جن سے ہم نے بھی بہت کچھ سیکھا ہے۔ رشید حسن خان نے اردو کے لیے بہت کام کیا ہے، املا پر ان کی ایک وقیع کتاب ہے۔ ...

اعلیٰ یا اعلا

فِحش یا فحش؟ اطہر علی ہاشمی - پیر 22 فروری 2016

لاہور سے ایک بار پھر جناب محمد انور علوی نے عنایت نامہ بھیجا ہے۔ لکھتے ہیں: ’’خط لکھتے وقت کوئی 25 سال پرانا پیڈ ہاتھ لگ گیا۔ خیال تھا کہ بھیجتے وقت ’’اوپر سے‘‘ سرنامہ کاٹ دوں گا مگر ایسا نہ ہوسکا۔ اگر خاکسار کے بس میں ہوتا تو آپ کی تجویز کے مطابق اردو میں نام بدلنے کی کوشش کرتا، مگر مجھے تو سبکدوش ہوئے 20 سال ہوچکے۔ بلاشبہ آپ کا یہ سلسلہ خاصا مفید ہے۔ اسی لیے کبھی کبھی آپ کی معاونت کی غرض سے اس میں شریک ہوجاتا ہوں۔ کیونکہ کامل ہونے کا دعویٰ نہ آپ کرسکتے ہیں نہ کوئی ا...

فِحش یا فحش؟

استیصال کا دلیرانہ استعمال اطہر علی ہاشمی - اتوار 07 فروری 2016

’’زبان بگڑی سو بگڑی تھی‘‘…… کے عنوان سے جناب شفق ہاشمی نے اسلام آباد کے اُفق سے عنایت نامہ بھیجا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:’’دیرپائیں کے رفیق عزیز کا چار سالہ بچہ اپنے والد سے ملنے دفتر آیا تو لوگوں سے مل کر اسے حیرت ہوئی کہ یہ لوگ آخر بولتے کیوں نہیں ہیں۔ ایک حد تک وہ یقینا درست تھا کہ یہاں پشتو بولنے والا اسے کوئی نہ ملا۔ وہ بچہ اپنا نام ’’خان بابو‘‘ بتاتا تھا، جس پر ہمارے دل میں آیا کہ ہم اپنے مقتدر استادِ فن کو ’’علی خان بابو‘‘ کہیں۔ یہ تو خیر ابتدائیہ معترضہ تھا۔ اب آتے ہیں فکاہی...

استیصال کا دلیرانہ استعمال

’’معاملات ٹھن گئے‘‘ اطہر علی ہاشمی - منگل 08 دسمبر 2015

عدالتِ عظمیٰ کے منصفِ اعظم جناب انور ظہیر جمالی نے گزشتہ منگل کو ایوانِ بالا سے بڑی رواں اور شستہ اردو میں خطاب کرکے نہ صرف عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کی لاج رکھی بلکہ یہ بڑا ’’جمالی‘‘ خطاب تھا اور اُن حکمرانوں کے لیے آئینہ جو انگریزی کے بغیر لقمہ نہیں توڑتے۔ حالانکہ عدالتِ عظمیٰ کے اعلیٰ ترین منصب پر پہنچنے والوں کا تو اوڑھنا، بچھونا ہی انگریزی ہوتا ہے۔ قانون کی تعلیم، وکالت اور پھر عدالتوں میں دائر درخواستیں پڑھنا، جو عموماً انگریزی میں ہوتی ہیں۔ ایک عام جج بھی میاں نوازشریف سے ...

’’معاملات ٹھن گئے‘‘

ایک ’’لاجواب‘‘ تحقیق اطہر علی ہاشمی - پیر 30 نومبر 2015

عزیزم آفتاب اقبال، نامور شاعر ظفر اقبال کے ماہتاب ہیں۔ اردو سے خاص شغف ہے۔ ایک ٹی وی چینل پر زبان کی اصلاح کرتے رہتے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ پروگرام مزاحیہ ہے، چنانچہ ان کی اصلاح بھی کبھی کبھی مزاح کے دائرے میں داخل ہوجاتی ہے۔ گزشتہ اتوار کو ان کا پروگرام دیکھا جس میں انہوں نے بڑا دلچسپ انکشاف کیا کہ جس کو شہر یعنی City کہا جاتا ہے، یہ دراصل عربی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ’مہینہ‘ جیسے شہرِ رمضان۔ پہلے تو ہمیں گمان ہوا کہ وہ شاید اپنے پروگرام کی نسبت سے مزاح فرما رہے ہیں، لیکن پھر...

ایک ’’لاجواب‘‘ تحقیق

’’لیے‘‘ اور ’’لئے‘‘ کا آسان نسخہ اطہر علی ہاشمی - منگل 24 نومبر 2015

اردو کے لیے مولوی عبدالحق مرحوم کی خدمات بے شمار ہیں۔ اسی لیے انہیں ’’باباے اردو‘‘کا خطاب ملا۔ زبان کے حوالے سے اُن کے قول ِ فیصل پر کسی اعتراض کی گنجائش نہیں۔ گنجائش اور رہائش کے بھی دو املا چل رہے ہیں، یعنی گنجایش، رہایش۔ وارث سرہندی کی علمی اردو لغت میں دونوں املا دے کر ابہام پیدا کردیا گیا ہے۔ چنانچہ آج کل یہ دونوں ہی رائج ہیں۔ رشید حسن خان نے ہمزہ کے بجائے ’ی‘ سے لکھا ہے یعنی گنجایش، ستایش وغیرہ۔ بات ہورہی تھی باباے اردو کی۔ ہرچند کہ خطائے بزرگاں گرفتن خطا است۔ لیکن ...

’’لیے‘‘ اور ’’لئے‘‘ کا آسان نسخہ