وجود

... loading ...

وجود

عمران خان اور ریحام کے درمیان طلاق کی قانونی حیثیت پر اٹھتے سوالات، کپتان کے قریبی حلقے پریشان !

جمعرات 05 نومبر 2015 عمران خان اور ریحام کے درمیان طلاق کی قانونی حیثیت پر اٹھتے سوالات، کپتان کے قریبی حلقے پریشان !

Imran-Khan-Reham-divorce

عمران خان اور ریحام کے مسئلے پر اب ذرائع ابلاغ کا اُٹھایا ہوا گردو غبار بیٹھ رہا ہے تو بنیادی اور ٹھوس نوعیت کے حقیقی سوالات اُبھر رہے ہیں۔ جو عمران خان کے لیے زیادہ پریشان کن ثابت ہونے والے ہیں۔

پہلا سوال تو یہی ہے کہ کیاعمران خان اورریحام کے درمیان قانونی طلاق واقع ہوگئی؟ اگریہ درست ہے تو پھر ریحام خان باربار انکار کیوں کر تی ہیں کہ فریقین نے طلاق کا فیصلہ کیاہے مگراس کے قانونی مراحل طے ہونے باقی ہیں ۔پہلے دن کے ٹویٹ سےآخری اطلاعات تک وہ یہی کہتی رہیں کہ طلاق ابھی نہیں ہوئی ۔ ریحام خان کی باتیں عمران خان اور انکے محبین کو بےقرارکیے دے رہی ہیں اور یہی ان کی پریشانی کاسبب ہے ؟ وجود ڈاٹ کام پر انہی کالموں میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ ریحام کی لندن روانگی کے بعد آخر ایسی کیا مجبوری آن پڑی تھی کہ بلدیاتی الیکشن سے ایک دن پہلے اعلان کرنے کا جوا کھیلا گیا؟ذرائع کا کہنا ہے کہ ریحام کی زبان کے نیچے عمران خان اور تحریک انصاف کا مستقبل دبا ہے۔ پاکستان پریس کلب مانچسٹر کی تقریب سے خطاب میں ریحام تو پراعتماد تھیں مگر عمران خان کی طلاق کے بعدپہلی مرتبہ عوام میں آمد اعتماد سےخالی تھی، وہ صحافی کے سوال پر آپے سے باہر ہوگئےجبکہ ریحام نے صحافیوں کے سوالوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔مگراخلاق کا دامن تھامے رہیں انہیں جو کہنا تھا اپنے خطاب میں بین السطور کہہ گئیں ۔ یہی وجہ ہے ان کے جملوں پر عمران خان اور ان کے قریبی حلقوں کو تشویش ہوئی۔ انہوں نے مصالحت کاروں کے ذریعے ریحام کو وضاحتی ٹویٹ کےلیے مجبور کیا اور انہیں پاکستان واپسی بھی فی الحال ملتوی کرنے کےلیے کہا ۔

ریحام کی زبان کے نیچے عمران خان اور تحریک انصاف کا مستقبل دبا ہے۔ پاکستان پریس کلب مانچسٹر کی تقریب سے خطاب میں ریحام پراعتماد تھیں مگر عمران خان کی طلاق کے بعد پہلی مرتبہ عوام میں آمد اعتماد سےخالی تھیں

سوال پھر پیدا ہوتا ہے کہ جب عمران خان نے طلاق دینے کا اعلان کردیا تو پھر مصالحت کاروں کی ضرورت ہی کیوں ہے؟ذرائع کا کہناہے کہ درحقیقت مصالحت کاروں کی موجود گی ہی عمران خان کی سب سے بڑی طاقت اور ریحام کی بڑی کمزوری ہے۔ ذرائع نے دعوی کیاہے کہ ریحام خان برطانوی شہری ہیں اور عمران خان سے ان کا نکاح برطانیہ میں بھی رجسٹرڈ ہے ذرائع کو یقین ہے کہ ریحام خان نکاح کے اس سرٹیفیکٹ کی نقل فی الحال کسی کو دینے پر آمادہ نہیں ہیں۔ مگر اس سرٹیفکیٹ کو دیکھنے والوں نے وجود ڈاٹ کام کو بتایا ہے اس پر درج تاریخ اورپاکستان کے نکاح کی تاریخ میں فرق ہے ۔ تاریخ کے فرق کے شواہد منظرعام پر آنے سے عمران خان کی شخصیت پر اٹھنے والے سوال تحریک انصاف سے وابستہ لوگوں میں تلاطم برپا کرسکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق عمران خا ن اور انکےقریبی لوگوں کے یہی باتیں پریشانی کا سبب بنی ہیں ۔ ریحام خان برطانوی شہری کی حیثیت سے بہت کچھ کا مطالبہ کرسکتی ہیں اور ان کے مطالبات کی منظوری کے بعد بھی وہ خبریں افشاء کرسکتی ہیں ۔ریحام خان کو یہ شکوہ ہے ان کے بارے میں عارف نظامی ودیگرکے ذریعے عمران خان یا ان کے قریبی لوگوں نے خبریں منکشف کرائیں اور جب ان کے ہاتھ لندن میں یہ موقع آیا تو معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تحریک انصاف نے طلاق کا باضابطہ اعلان کردیا۔

مصالحت کار ریحام کو یقین دلانے کی کوشش کررہے ہیں وہ اگر زبان بند رکھیں تواس خلاف ورزی کی بھی بھاری قیمت ادا کی جاسکتی ہے ۔اس ضمن میں تفصیلات بھی طے کی جارہی ہیں ذرائع کا کہناہے مصالحت کار وں کی کوشش ہے کہ ریحام کی پاکستان آمد سے پہلےہی فریقین کسی معاہدے پر پہنچ جائیں۔ریحام کے ہاتھ میں اب کئی بڑے پتے ہیں جو اگر انہوں نے ظاہر کردئیےتو پاکستان کی تیسری بڑی پارلیمانی جماعت پر اٹھنے والے سوال کافی گڑبڑ پیدا کرسکتے ہیں کیونکہ عمران خان اب کسی گیارہ رکنی کرکٹ ٹیم کے کپتان نہیں کہ مغربی میڈیا انہیں پلے بوائے کہےاور پاکستانی میڈیا ان کی پردہ پوشی کرتا رہے۔ اس وقت پاکستانی میڈیا کے عقاب نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔ ریحام خان کے پاس موجود بازی کے خفیہ پتوں میں سے ایک نکاح کی برطانیہ میں رجسٹریشن ہے، جسے ابھی وہ پوری طرح منکشف کرنے کے لیے تیار نہیں، اس ضمن میں ریحام خان نے اپنے پاس اور کیا کیا کچھ چھپا رکھا ہے اس کی تفصیلات وجود ڈاٹ کام کے قارئین کو رفتہ رفتہ پیش کردی جائینگی۔یہ امر واضح رہے کہ ریحام خان نے پاکستان آمد کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس وقت عمران خان کے قریبی حلقے یہ چاہتے ہیں کہ وہ پاکستان آنے کا فوری فیصلہ کرنے سے اجتناب کرے کیوں کہ پاکستانی ذرائع ابلاغ کے لیے ریحام خان کو پاکستان میں قابو کرنا زیادہ آسان ہو گا ۔ لہذا عمران خان کے قریبی حلقوں کااصرار یہ ہے کہ اب ریحام لندن میں رک کر اس پورے معاملے سے جڑے تمام مسائل کو ایک بار طے کر لے ۔


متعلقہ خبریں


28ویں آئینی ترمیم روکنے کیلئے پی ٹی آئی متحرک، سہیل آفریدی کے نام بلاول کا خصوصی پیغام وجود - اتوار 24 مئی 2026

وزیر اعلیٰ کی گزشتہ ایک ہفتے میںگورنر خیبر پختونخوا کیساتھ مسلسل تین اہم ملاقاتیں،مولانا فضل الرحمان سے تبادلہ خیال،اپوزیشن کا ممکنہ اتحاد آئینی ترمیم کی راہ میںبڑی رکاوٹ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان یکساں موقف اختیار کرنے کی کوشش ، دونوں جماعتیںکافی حد تک قریب آچکی ہ...

28ویں آئینی ترمیم روکنے کیلئے پی ٹی آئی متحرک، سہیل آفریدی کے نام بلاول کا خصوصی پیغام

بنوں میں آپریشن، 15دہشتگرد ہلاک، 2 اہلکار شہید وجود - اتوار 24 مئی 2026

3 جوان زخمی ،سیکیورٹی فورسز کا میریان میں خفیہ اطلاع پر کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن پولیس اور دہشتگردوںمیں فائرنگ کا تبادلہ،متعدد خوارج کے زخمی ہونے کی اطلاعات بنوں کے علاقے میریان میں خفیہ اطلاع پر کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا جس میں 15 دہشت گرد مارے گئے، 2 پولی...

بنوں میں آپریشن، 15دہشتگرد ہلاک، 2 اہلکار شہید

پنجاب تباہی سے بچ گیا،13 دہشت گرد گرفتار وجود - اتوار 24 مئی 2026

دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر سی ٹی ڈی کا مختلف شہروں میں آپریشن لاہور سے فتنہ الخوارج کا خطرناک دہشت گرد مختار گرفتار،دھماکہ خیز موادبرآمد دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر سی ٹی ڈی نے پنجاب کے مختلف شہروں میں 58 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 13 دہشت گرد گرفتار کر لئے ۔سی ...

پنجاب تباہی سے بچ گیا،13 دہشت گرد گرفتار

ایران سے ڈیل یا بمباری ، چانس ففٹی ففٹی ہیں،ڈونلڈ ٹرمپ وجود - اتوار 24 مئی 2026

جنگ دوبارہ کرنی یا نہیں، اتوار تک فیصلہ کرینگے،دو چیزیں ہوسکتی ہیں اچھی ڈیل یا شدید بمباری صرف ایسا معاہدہ قبول کروں گا جس میں یورینیم افزودگی اور ذخیرے کا معاملہ حل ہو، صدر کی گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ڈیل کا ففٹی ففٹی چانس ہے، جنگ دوبارہ کرنی یا...

ایران سے ڈیل یا بمباری ، چانس ففٹی ففٹی ہیں،ڈونلڈ ٹرمپ

پی ٹی آئی کی ملک گیراحتجاجی تحریک شروع،عمران خان کو جیل میں خطرہ ہے،شاندانہ گلزار وجود - هفته 23 مئی 2026

سابق وزیراعظم نے پہلے ہی کہہ دیا تھا میرے خلاف سازش کی جا رہی ہے جس سے پاکستان کو نقصان ہوگا، عدالت میں پٹیشن دائر کی جا رہی ہے، بانی کو سائفر کیس میں بیرونی سازش کا نشانہ بنایا گیا ہمارا ون پوائنٹ ایجنڈا عمران خان کی رہائی ،موجودہ حکمرانوں نے ملک کو مہنگائی، بدامنی،بے یقینی کی ...

پی ٹی آئی کی ملک گیراحتجاجی تحریک شروع،عمران خان کو جیل میں خطرہ ہے،شاندانہ گلزار

فیلڈمارشل عاصم منیر کی اعلیٰ ایرانی شخصیات سے ملاقاتیں،امریکا ،ایران معاہدے کے قریب پہنچ گئے، جلد اعلان متوقع وجود - هفته 23 مئی 2026

ایران امریکا تنازع پرپاکستان کی ثالثی رنگ لانے لگی؟ ایران امریکا معاہدے کا 9 نکاتی مسودہ سامنے آگیا،جنگ بندی، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی، پابندیوں میں نرمی اور یورینیم تنازع پر تجاویز شامل دونوں فریقین فوجی، سویلین یا اقتصادی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کے پابند ہوں گے، ابتدائی م...

فیلڈمارشل عاصم منیر کی اعلیٰ ایرانی شخصیات سے ملاقاتیں،امریکا ،ایران معاہدے کے قریب پہنچ گئے، جلد اعلان متوقع

منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی 18 مقدمات میں جیل منتقل وجود - هفته 23 مئی 2026

سخت سیکیورٹی کے حصار میں جوڈیشل کمپلیکس منتقل کرکے مختلف عدالتوں میں پیش عدالت نے تفتیش میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث یہ فیصلہ سنایا،وکیل ملزمہ پنکی منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کو قتل اور منشیات کے مجموعی طور پر 18 مقدمات میں سخت سیکیورٹی کے حصار میں جوڈیشل کمپلیکس منتقل کرکے مخ...

منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی 18 مقدمات میں جیل منتقل

امریکا نے ایران پر حملے کیلئے فضائی حدود نہیں مانگی، پاکستان وجود - هفته 23 مئی 2026

امریکا کی جانب سے ایسا کوئی مطالبہ موصول نہیں ہوا، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان اپنے پانی کے ایک قطرے پر سمجھوتہ نہیں کرے گا،ہفتہ وار بریفنگ پاکستان نے ایران پر ممکنہ حملے کیلئے امریکا کی جانب سے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی خبروں کو دوٹوک انداز میں مسترد کردیا ہے۔اسلام ا...

امریکا نے ایران پر حملے کیلئے فضائی حدود نہیں مانگی، پاکستان

ایرانی افزودہ یورینیم کا مستقبل، امریکا کو روس چین مذاکرات کھٹکنے لگے وجود - هفته 23 مئی 2026

ایران کا افزودہ یورینیم امریکا کیساتھ کسی بھی امن معاہدے میں سب سے اہم مسئلہ ہے ایران کے پاس موجود 441 کلوگرام یورینیم 60 فیصد تک افزودہ کیا جا چکا ہے،جوئی ہڈ امریکا کے محکمہ خارجہ میں ایرانی امور کے سابق قائم مقام سربراہ جوئی ہڈ نے کہا ہے کہ ایران کا انتہائی افزودہ یورینیم ا...

ایرانی افزودہ یورینیم کا مستقبل، امریکا کو روس چین مذاکرات کھٹکنے لگے

شہدا کی قربانیاں قوم کی امانت، دہشت گردی کیخلاف آخری حد تک لڑیں گے(فیلڈ مارشل) وجود - جمعه 22 مئی 2026

کسی شرپسند کو ملک کا امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، ملک بھر میں پائیدار امن و استحکام کے قیام تک دہشتگردوں کیخلاف جنگ پوری قومی قوت اور بھرپور عزم کیساتھ جاری رہے گی شہداء اور غازی اس قوم کا دائمی فخر ہیں،سید عاصم منیرکاجی ایچ کیو میں فوجی اعزازات کی تقریب سے خطاب،50 اف...

شہدا کی قربانیاں قوم کی امانت، دہشت گردی کیخلاف آخری حد تک لڑیں گے(فیلڈ مارشل)

شمالی وزیرستا ن ، دہشت گرد سرغنہ خارجی سمیت 5 دہشت گرد ہلاک وجود - جمعه 22 مئی 2026

اسپن وام میں سکیورٹی فورسزکا آپریشن،زیر زمین بنکر، سرنگیں، بارودی جال بچھا رکھا تھا خارجی سرغنہ عمر عرف جان میر عرف ثاقب تور کے سر کی قیمت 30 لاکھ روپے مقرر تھی شمالی وزیرستان کے علاقے سپن وام میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے آپریشن میں انتہائی مطلوب دہشت گرد سرغنہ خارجی سمیت پ...

شمالی وزیرستا ن ، دہشت گرد سرغنہ خارجی سمیت 5 دہشت گرد ہلاک

منفرد مثال، دنیا چین کے بغیر ترقی نہیں کرسکتی، وزیراعظم وجود - جمعه 22 مئی 2026

چینی بھائیوں کیلئے اعلیٰ ترین پیمانے کی سیکیورٹی فراہم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے شہبازشریف کا پاک چین سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ پر پیغام ، مبارکباد پیش وزیر اعظم شہباز شریف نے کہاہے کہ سی پیک نے ملک کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، توانائی کے تحفظ اور صنعتی تعاون ...

منفرد مثال، دنیا چین کے بغیر ترقی نہیں کرسکتی، وزیراعظم

مضامین
مدھیہ پردیش میں مسجد تنازع وجود اتوار 24 مئی 2026
مدھیہ پردیش میں مسجد تنازع

کیا ہماری معلومات محفوظ ہیں؟ وجود اتوار 24 مئی 2026
کیا ہماری معلومات محفوظ ہیں؟

ایک دن کا وزیراعظم وجود اتوار 24 مئی 2026
ایک دن کا وزیراعظم

اسرائیل کی مکروہ چال وجود هفته 23 مئی 2026
اسرائیل کی مکروہ چال

مودی کی عالمی سطح پر سبکی وجود هفته 23 مئی 2026
مودی کی عالمی سطح پر سبکی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر