... loading ...

پلوٹونیم اور یورینیم خطرناک دھاتیں ہیں، اور اس کے انسانی جسم پر تجربات کے بارے میں سوچ کر ہی روح کانپ جاتی ہے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ پلوٹونیم اور یورینیم کے خفیہ انجکشن لگا کر جانچا گیا کہ انسانی جسم پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں تو آپ کے ذہن میں پہلا تصور یہی آئے گا کہ ایسی حرکت کوئی دہشت گرد تنظیم ہی کرسکتی ہے،لیکن نہیں! یہ کام دنیا میں انسانی حقوق اور آزادی کے سب سے بڑے علمبردار امریکا کا ہے جس کے خفیہ پروگرام کے تحت عام شہریوں پر ایسے تجربات کیے گئے کہ انسانیت شرما جائے۔ مسیحا کہلانے والے ڈاکٹر اور سائنس دان دراصل حکومتی کارندے تھے جنہوں نے ان کاموں میں سرکار کا ساتھ دیا۔
ان تجربات کا آغاز 1945ء میں اوکرج (Oak Ridge) نیوکلیئر تنصیب میں کام کرنے والے ایک ملازم سے ہوا۔ایب کیڈی نامی شخص ایک کار حادثے کا شکار ہوا اور جب اسے ہوش آیاتو معلوم ہوا کہ وہ چند ڈاکٹروں کے پاس ہے جوبجائے اس کی ہڈیاں جوڑنے کے اسے مختلف انجکشن دےرہے ہیں۔ یاد رہے کہ ایب کیڈ بھی سیاہ فام تھا، اسی طرح جیسے 1929ء سے 1974ء تک اسٹرلائزیشن پروگرام میں بڑے پیمانے پر سیاہ فاموں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس خفیہ پروگرام کی بڑی شکار وہ غریب سیاہ فام عورتیں تھیں، جن کا کوئی والی وارث نہیں تھا ۔ یہاں تک کہ اس منصوبے میں 10 سال تک کی عمر کے بچوں کو بھی ہمیشہ کے لیے بانجھ کردیا گیا۔ بہرحال، 53 سالہ ایب کیڈ کو ٹوٹے ہوئے بازوؤں اور ٹانگ کے ساتھ ہی بستر سے باندھ دیا گیا اور ان کی صحت کے ریکارڈز دیکھنے کے بعد انہیں 10 اپریل کو پلوٹونیم کا پہلا انجکشن دیا گیا، جو 4.7 مائیکروگرام کا تھا۔ یہ آج تک معلوم نہیں ہوسکا کہ اس خطرناک منصوبے کی منظوری امریکی حکومت میں کس نے دی تھی؟ اس زمانے میں سائنس دان تابکاری کے منفی اثرات سے اچھی طرح آگاہ تھے اور کینسر اور تابکاری کے نتیجے میں امراض خاصے عام تھے۔ اس کے باوجود سائنس دانوں کو دلچسپی تھی کہ پلوٹونیم آئسوٹوپس کے زندہ اجسام پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
کیڈ سے قبل ان سائنس دانوں نے چند جانوروں پر بھی تجربات کیے تھے اور اس کے بدترین اثرات دیکھ چکے تھے۔ چند جانوروں کو تو براہ راست ریڈیو ایکٹو فضلہ تک دیا گیا۔ اس خطرناک کام کے دوران خود سائنس دان مکمل حفاظتی آلات میں رہتے بلکہ تجربات کے بعد ان کی مکمل جانچ کی جاتی اور حفظ ماتقدم کے تحت علاج بھی کیا جاتا لیکن وہ دوسرے انسانوں کے جسموں میں براہ راست یہ زہر انڈیل رہے تھے۔
اگلے پانچ دن تک سائنس دان کیڈ کے بول و براز کا جائزہ لیتے رہے تاکہ پلوٹونیم کے جسم پر بڑنے والے اثرات دیکھے جا سکیں۔ 15 اپریل تک ان کی ایک ہڈی تک نہیں جوڑی گئی کیونکہ ہڈیوں کی بافتوں کا جائزہ لینا اس عمل کا حصہ تھا اور کیڈ کو اس تجربے کے لیے منتخب بھی اسی لیے کیا گیا تھا۔ ان تجربات کے دوران کیڈ کے کل 15 دانت نکالے گئے اور انہیں کبھی پتہ نہیں چل سکا کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ بعد ازاں 1953ء میں کیڈ چل بسے۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ پہلا اور آخری تجربہ نہیں تھا۔ اس کے بعد تین مزید انسانوں کو تجربات کی بھینٹ چڑھایا گیا۔ ایک 60 سالہ پھیپھڑے کے سرطان کا مریض، ایک 50 سال کی سینے کے سرطان میں مبتلا عورت اور ایک نوجوان جسے ہوج کنز لمفوما(Hodgkin’s lymphoma) تھا۔ اس نوجوان کا ریکارڈ دستیاب نہیں ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے کسی بھی دوسرے شخص سے 15 گنا زیادہ پلوٹونیم دیا گیا، تقریباً 95 مائیکروگرام۔
بعد ازاں اس تحقیق کو بڑے پیمانے پر پھیلا دیا گیا۔ پہلے روچیسٹر یونیورسٹی اس منصوبے میں شامل ہوئی اور پلوٹونیم کے علاوہ پولونیم اور یورینیم جیسے ریڈیوایکٹو آئسوٹوپس بھی انسانی جسم پر آزمائے گئے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا جیسے ادارے بھی بعد میں اس کام میں شامل ہوئے۔
یہ کراہیت آمیز اور قابل نفرت عمل کوئی واحد واقعہ نہیں۔ حکومت کے انسانوں پر تجربات بلکہ طبی نسل پرستی کی ایک بڑی مثال Tuskegee syphilis تجربہ ہے۔ 1932ء سے 1972ء تک امریکا کی ریاست الاباما میں سرکاری صحت عامہ خدمات کے تحت چلایا گیا۔ اس دوران ریاست کے سیاہ فام مردوں پر بڑے پیمانے پر تجربات کیے گئے اور وہ بیچارے سمجھتے رہے کہ حکومت ان کو مفت طبی خدمات فراہم کررہی ہے۔
یہ فہرست تھمی نہیں، اس میں اقلیتیں بھی ہیں اور معذور افراد بھی۔ جبری بانجھ پن سے لے کر خفیہ انجکشن لگانے تک، حکومت کے انسانوں پر تجربات کی ایک طویل تاریخ ہے جو امریکا رکھتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج بھی امریکا کی فیڈرل ڈرگ اتھارٹی نے پارے جیسی خطرناک اور زہریلی شے کے غذائی اشیا میں استعمال پر پابندی نہیں لگا رکھی۔ حیران مت ہوں، ہوسکتا ہے آپ بھی کسی تجربے کا حصہ ہوں۔
گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...
28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...
خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...
طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...
تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...
حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...
گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...
یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...
ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...
اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...
سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...
جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...