وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

روس عالمی انٹرنیٹ سے غائب

منگل 20 اکتوبر 2015 روس عالمی انٹرنیٹ سے غائب

Vladimir-Putin

روس چند ایسے تجربات کررہا ہے جن کے ذریعے وہ دیکھے گاکہ وہ ورلڈ وائیڈ ویب سے نکل سکتا ہے یا نہیں تاکہ ملک کے اندر اور بیرون ملک معلومات کی ترسیل کو گھٹایا جا سکے۔

ماہرین نے برطانیہ کے روزنامہ ٹیلی گراف کو بتایا ہے کہ یہ تجربات کسی بھی ممکنہ مقامی سیاسی بحران کی صورت میں معلومات کو مکمل طور پر اپنے اختیار میں رکھا جا سکے اور اس سے بھی بڑھ کر مقصد یہ تھا کہ عالمی ناٹرنیٹ سے جدا ہونے کے بعد روس کا انٹرنیٹ کام جاری رکھ سکتا ہے یا نہیں۔

معلوم ہوا ہے کہ اس خاص تجربے کا حکم وزارت مواصلات اور قومی انٹرنیٹ ادارے نے دیا تھا تاکہ ڈی پی آئی نامی ٹریفک کنٹرول سسٹم کو استعمال کرکے خارجی مواصلاتی چینل کو بلاک کیا جا سکے۔

ایک روسی اخبار کے مطابق گزشتہ سال جولائی میں بھی ایسا ہی ایک تجربہ کیا گیا تھا۔ اس میں جانچا گیا تھا کہ اگر ویب کے دیگر حصوں سے الگ کردیا جائے تو کیا روس کے متعدد ڈومین ناموں پر مبنی قومی انٹرنیٹ زندہ رہ سکتا ہے؟

روس کے حکام نے ایسے کسی بھی تجربے کی مکمل طور پر تردید کی ہے، جیسا کہ وہ ہمیشہ کرتے آئے ہیں۔


متعلقہ خبریں


ترکی امریکی ڈالر سے پیچھا چھڑانے اور نیٹو سے نکل جانے پر غور کرنے لگا وجود - هفته 13 اگست 2016

انقرہ اور مغرب کے درمیان تلخ کلامی کے بعد ترکی نے امریکی ڈالرز سے پیچھا چھڑانے اور نیٹو سے نکل جانے کے منصوبوں پر غور شروع کردیا ہے۔ نیٹو کی جانب سے ترکی کو یاددہانی کے صرف ایک روز بعد کہ وہ اب بھی نیٹو کا رکن ہے، ترک وزیر خارجہ مولود چاووش اوغلو نے کہا ہے کہ ملک دفاعی صنعت کے تعاون کے لیے نیٹو سے باہر دیگر آپشنز پر بھی غور کر سکتا ہے، البتہ اس کا پہلا انتخاب ہمیشہ نیٹو اتحادیوں کے ساتھ تعاون ہوگا۔ یہ بیان و فوری تردید اسی روز سامنے آئی ہے جب ترکی نے کہا کہ وہ شام میں...

ترکی امریکی ڈالر سے پیچھا چھڑانے اور نیٹو سے نکل جانے پر غور کرنے لگا

ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کو روس نے ہیک کیا، ایف بی آئی کا شبہ وجود - منگل 26 جولائی 2016

امریکی ایف بی آئی کو شبہ ہے کہ روس کے سرکاری حمایت یافتہ ہیکرز نے ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کے نیٹ ورکس میں دال ہو کر ای میلز چرائی ہیں جو جمعے کو وکی لیکس پر پیش کی گئیں۔ یہ وہ آپریشن تھا جس کے بارے میں متعدد امریکی حکام اب سمجھتے ہیں کہ صدارتی انتخابات کو ڈونلڈ ٹرمپ کے حق میں جھکانے کا ایک قدم ہے۔ یہ نظریہ کہ ماسکو ڈونلڈ ٹرمپ کو مدد دینے کے لیے یہ اقدامات اٹھا رہا ہے جو بارہا روسی صدر ولادیمر پوتن کو سراہ چکے ہیں اور نیٹو کے خاتمے کا بھی کہہ چکے ہیں، اوباما انتظامیہ میں بہت...

ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کو روس نے ہیک کیا، ایف بی آئی کا شبہ

طیب اردوغان نے معافی مانگ لی: روس کا دعویٰ وجود - منگل 28 جون 2016

روس نے کہا ہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوغان نے اپنے روسی ہم منصب ولادیمر پوتن سے رابطہ کرکے اس واقعے پر معذرت طلب کرلی ہے جس میں ترک افواج نے شامی سرحد پر ایک روسی طیارہ مار گرایا تھا۔ اس حرکت کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات سخت کشیدہ ہوگئے تھے۔ واقعے کے بعد روس کے صدر ولادیمر پوتن نے بارہا ترکی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس پر معافی مانگے اور اب یہ تازہ ترین قدم انقرہ کے ساتھ تعلقات کے خاتمے میں مددگار ہو سکتا ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ "ترک سربر...

طیب اردوغان نے معافی مانگ لی: روس کا دعویٰ

روس نے اچانک شام سے فوجیں واپس بلانے کا اعلان کردیا وجود - منگل 15 مارچ 2016

روس کے صدر ولادیمر پوتن نے سوموار کی شب اچانک شام سے روسی افواج کے انخلا کا اعلان کردیا ہے اور کہا ہے کہ ماسکو نے اپنے اہداف حاصل کرلیے ہیں۔ کریملن سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق صدر نے وزیر دفاع سرگئی شوئیگو اور وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ ملاقات کی، جس میں انہوں نے کہا کہ " وزارت دفاع اور مسلح افواج کو جو اہداف دیے گئے تھے وہ بنیادی طور پر حاصل کرلیے گئے ہیں، اس لیے میں وزیردفاع کو حکم دیتا ہے کہ کل سے شام میں موجود افواج کے اہم حصے کو واپس بلا لیں۔" اس اچا...

روس نے اچانک شام سے فوجیں واپس بلانے کا اعلان کردیا

شامی بحران حل کرنے کے لئے روسی صدر اور سعودی فرمانروا میں رابطہ وجود - هفته 20 فروری 2016

روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے شام کی صورت حال پر ٹیلی فون پر تبادلہ خیال کیا ہے ، گفتگو میں دونوں رہنماوؤں نے اس بحران کے حل میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ کریملن سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماوؤں کے درمیان 19 فروری (جمعہ )کو ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی ہے جس میں روسی صدر نے خادم الحرمین الشریفین کو روس کے دورے کی دعوت بھی دی ہے جو انھوں نے قبول کر لی ہے۔ سعودی عرب اور روس شامی بحران کے معاملے میں مخا...

شامی بحران حل کرنے کے لئے روسی صدر اور سعودی فرمانروا میں رابطہ

یارب! اپنے خط کو ہم پہنچائیں کیا علی منظر - منگل 19 جنوری 2016

آج بہت دنوں بعد کسی کو خط لکھنے کے لئے قلم اٹھایا، تو خیال آیا کہ ہمیں دوست کا پتہ ہی معلوم نہیں ۔ سستی، بے پروائی اور وقت کی کمی کے بہانے تو پہلے بھی تھے، پھر بھی ہم طوعاً وکرہاً خط لکھ ہی لیا کرتے تھے۔ برق گرے اس ای میل پر جب سے ہم اپنے کمپیوٹر کے ذریعے انٹرنیٹ سے متصل ہوئے ہیں، ہمیں دوستوں کا پتہ نہیں اُن کا برقی پتہ محفوظ رکھنا پڑتا ہے۔ اور موبائل کی آمد کے بعد سے تو گویا قلم و کاغذ سے رہا سہا تعلق بھی جا تا رہا۔ خط و کتابت اب ماضی بعید کا قصہ بن چکا ہے۔ کورے کاغذ کی خوشب...

یارب! اپنے خط کو ہم پہنچائیں کیا

روس اور شام کے معاہدے کی خفیہ تفصیلات منظر عام پر وجود - جمعه 15 جنوری 2016

روس اور شام نے گزشتہ اگست میں ایک معاہدہ کیا تھا جس کے بعد ماسکو کو خانہ جنگی کے شکار شام میں کھلی فوجی موجودگی کی اجازت ملی تھی اور گزشتہ چند ماہ میں روس نے کھلے بندوں شام میں کارروائیاں کی ہیں یہاں تک کہ ایک سرحدی تنازع میں ایک ترکی کے ہاتھوں ایک طیارہ بھی کھویا ہے۔ 26 اگست 2015ء کو دمشق میں ہونے والے معاہدے کی بیشتر تفصیلات منظر عام پر نہیں آئی تھیں لیکن اب روس میں معاہدے کا کچھ متن سامنے آیا ہے جس کے مطابق یہ معاہدہ لامحدود مدت کے لیے ہے۔ اس معاہدے کے لگ بھگ ایک م...

روس اور شام کے معاہدے کی خفیہ تفصیلات منظر عام پر

اشرف غنی کی حکومت طالبان کے سامنے بے بس جلال نورزئی - اتوار 03 جنوری 2016

افغانستان میں داعش کے اثر و رسوخ کے تدارک کے حوالے سے روسی صدر ولاد میر پیوٹن کی امارت اسلامیہ افغانستان کے امیر ملا اختر منصور سے براہ راست ملاقات محض کسی کے منہ سے نکلی ہوئی بات لگتی ہے ،لیکن اسے قطعی رد بھی نہیں کیا جا سکتا۔عالمی ذرائع ابلاغ بھی اس بابت گویا ہوئے ہیں۔ اور روس کے ایک خصوصی ایلچی’’ ضمیر کابلوف‘‘نامی شخص کی طرف سے بھی رابطے کی تصدیق ہوئی ہے۔البتہ امارت اسلامیہ نے تاجکستان میں ہونے والی اس ملاقات اور روسی حکام سے رابطوں کی تردید کر دی ہے۔ یہ ملاقات یارابطہ اگر...

اشرف غنی کی حکومت طالبان کے سامنے بے بس

روس نے اپنے جدید ہتھیار آزمانے کے لیے شام کو تجربہ گاہ بنا دیا وجود - جمعه 11 دسمبر 2015

روس نے 2008ء میں جارجیا میں کامیابی کا اعلان کیا لیکن اس فتح کو دھندلایا روس کی زمینی و فضائی افواج کی ناقص کارکردگی نے، جس کی وجہ سے جنگ روسی توقعات سے کہیں زیادہ غیر منظم اور خونریز ثابت ہوئی۔ اس کے بعد ولادیمر پیوتن نے، جو اس وقت وزیر اعظم تھے، افواج کی تعداد کو گھٹانے، تربیت کو بہتر بنانے اور پرانے ہتھیاروں کی جگہ نئے اسلحہ کی شمولیت کا ایک جامع پروگرام بنایا۔ اب شام میں ڈھائی ماہ سے جاری فضائی کارروائی کے ذریعے اپنی فوجی اصلاحات کو میدان عمل میں آزما رہا ہے۔ رواں ہفت...

روس نے اپنے جدید ہتھیار آزمانے کے لیے شام کو تجربہ گاہ بنا دیا

شام میں روس ترکی تنازع۔۔۔ جنگ پھیلنے کے آثار نمایاں محمد انیس الرحمٰن - پیر 07 دسمبر 2015

شام میں روس ترکی حالیہ تنازع کے تناظر میں گزشتہ دنوں دو اہم بیانات خاصی اہمیت کے حامل ہیں۔ ایک بیان سعودی نائب ولی عہد کی جانب سے دیا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ امریکا کے عراق سے انخلاء کے بعد جب عراقی امور ایران کے ہاتھ میں آئے، اس وقت سے داعش کا ظہور ہوا۔ دوسرا بیان چیچنیا کے حریت پسندوں کی جانب سے ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ’’ہم روس کو جواب دینے کے لیے اپنے قائد طیب اردگان کے حکم کے منتظر ہیں‘‘۔ بادی النظر میں دوسرا بیان علاقے میں بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں خاصا اہ...

شام میں روس ترکی تنازع۔۔۔ جنگ پھیلنے کے آثار نمایاں

ترکی کو پچھتانا پڑے گا، اللہ ہی جانتا ہے طیارہ کیوں گرایا: ولادیمر پوتن وجود - جمعه 04 دسمبر 2015

روس کے صدر ولادیمر پوتن نے کہا ہے کہ ترکی کی قیادت کو روسی طیارہ گرانے پر پچھتانا پڑے گا۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ انہوں نے یہ قدم کیوں اٹھایا اور اللہ نے ترک حکمرانوں کو سزا دینے کا فیصلہ کیا ہے اس لیے ان کی عقل اور ذہن کو ماؤف کردیا ہے۔ یہ انتہائی سخت بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب واقعے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر پہلی بار باضابطہ رابطہ ہوا ہے۔ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور ان کے ترک ہم منصب مولود جاووسوغلو کے درمیان بلغراد میں ملاقات ہوئی ہے۔ گو کہ اس سے خ...

ترکی کو پچھتانا پڑے گا، اللہ ہی جانتا ہے طیارہ کیوں گرایا: ولادیمر پوتن

ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا ہے، ترکی کو بھرپور جواب دیا جائے گا: روس وجود - منگل 24 نومبر 2015

شام-ترک سرحد پر روسی طیارے کے مار گرائے جانے کے بعد توقعات کے مطابق روس کی جانب سے انتہائی سخت ردعمل سامنے آیا، جس کے صدر ولادیمر پوتن نے نہ صرف ترکی پر داعش کی پشت پناہی کا الزام لگایا ہے بلکہ کہا ہے کہ ترکی کو اس کی حرکت کا جواب ضرور دیا جائے گا۔ ولادیمر پوتن اس وقت ساحلی شہر سوچی میں موجود ہیں، جہاں وہ اردن کے شاہ عبد اللہ دوئم کے ساتھ ملاقات کر رہے ہیں۔ یہ خبر موصول ہوتے ہی انہوں نے کہا ہے کہ "ہمارے فوجی دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں اپنی جانیں خطرے میں ڈال رہے ہیں اور ...

ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا ہے، ترکی کو بھرپور جواب دیا جائے گا: روس