وجود

... loading ...

وجود
وجود

شام میں روس ترکی تنازع۔۔۔ جنگ پھیلنے کے آثار نمایاں

پیر 07 دسمبر 2015 شام میں روس ترکی تنازع۔۔۔ جنگ پھیلنے کے آثار نمایاں

anti-putin-demo

شام میں روس ترکی حالیہ تنازع کے تناظر میں گزشتہ دنوں دو اہم بیانات خاصی اہمیت کے حامل ہیں۔ ایک بیان سعودی نائب ولی عہد کی جانب سے دیا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ امریکا کے عراق سے انخلاء کے بعد جب عراقی امور ایران کے ہاتھ میں آئے، اس وقت سے داعش کا ظہور ہوا۔ دوسرا بیان چیچنیا کے حریت پسندوں کی جانب سے ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ’’ہم روس کو جواب دینے کے لیے اپنے قائد طیب اردگان کے حکم کے منتظر ہیں‘‘۔ بادی النظر میں دوسرا بیان علاقے میں بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں خاصا اہم ہے اور اس سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ شام کی جنگ کاجنوب سے زیادہ اب شمال کی جانب پھیلنے کا زیادہ احتما ل ہے۔اس بیان کے بعد بہت سے عرب ذرائع کو اب شامی جنگ کے شعلے ماسکو میں اٹھتے نظر آرہے ہیں۔

شام کے معاملے میں روس پر بھاری وقت اس وقت آیا جب مصر کے صحرائے سینا میں اس کا ایک مسافر بردار طیارہ دھماکے سے اڑا کر تباہ کردیا گیا تھا۔ شرم الشیخ سے پرواز بھرنے والے اس طیارے کی تباہی نے روس کو بری طرح جھنجھوڑ دیا تھا جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔ یہ شام میں روس کی مسلح مداخلت کا جواب کہا جارہا تھا۔ ابھی یہ مسئلہ تحقیق طلب تھا کہ کس طرح اس طیارے کو تباہ کیا گیا کہ ترکی نے اپنی سرحدی خلاف ورزی پر روسی لڑاکا طیارہ مار گرایا جس نے جلتی پر تیل کا کام کیا اس کے ساتھ ہی ماسکو اور انقرہ کے درمیان سخت بیانات کی سرد جنگ کا آغاز ہوگیا۔

Sukhoi-Su-34

لیکن اس حوالے سے کہا جاسکتا ہے کہ روسی صدر کے ترکی کے خلاف سخت ردعمل کے باوجودروس ترکی کے خلاف کوئی بھی عسکری کارروائی سے گریزاں رہے گا اور شام میں ہی اس کا جواب دینے کی کوشش کی جائے گی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یورپ کو سپلائی ہونی والی ساٹھ فیصد گیس براستہ ترکی یورپ سپلائی کی جاتی ہے اگر ترکی اس سپلائی کا سوئچ آف کردے تو ایک طرف یورپ کے چولہے ٹھڈے ہونے کا خطرہ ہے تو دوسری جانب گیس کی اس فروخت سے روس کو ہونے والی بڑی آمدنی بھی رک جانے کا خطرہ ہے۔ اس لیے فی الحال روس ترکی براہ راست ٹکراؤ کا خطرہ فی الحال محسوس نہیں ہورہا۔ روس کا طیارہ جس علاقے میں گرایا گیا ہے وہ ترکی سے متصل ترکی کے حمایت یافتہ ترکمان کردوں کا علاقہ ہے جن پر بمباری کے لیے روسی طیارہ آیا تھا، یہ بالکل ایسا ہے کہ شام کی پراکسی جنگ میں ترکی کے مفادات پر حملہ کردیا جائے جس کا سخت جواب ترکی کی جانب سے آیا۔ امریکا اور اسرائیل کی کوشش ہے کہ روس ترک تنازع کو ہوا دے کر اس جنگ کو ماسکو کی جانب پھیلایا جائے تاکہ روس شام سے لیکر وسطی ایشیا اور قفقاز کے علاقے تک ایک نہ سنبھلنے والی جنگ میں پھنس کر رہ جائے۔یہ بات اسرائیل اور کسی حد تک امریکا وبرطانیا کے حق میں جاتی ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ روس کو قفقاز میں ردعمل کی جنگ میں الجھا کر شمالی عراق وشام میں کردستان کی آزاد ریاست کی راہ ہموار کی جائے۔

چیچنیا کے حریت پسندوں نے کہا ہے کہ ’’ہم روس کو جواب دینے کے لیے اپنے قائد طیب اردگان کے حکم کے منتظر ہیں‘‘

گزشتہ برس تل ابیب میں روسی سفیر سیرگی یعقوبییف نے اسرائیلی انتہا پسند صیہونی جماعت لیکوڈ سے تعلق رکھنے والے نائب وزیر برائے علاقائی تعاون ’’ایوب قرا‘‘ سے خفیہ ملاقات کی تھی اور انہیں اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی تھی کہ شام میں اگر بشار الاسد کی حکومت ختم کردی گئی تو اس کی جگہ وہاں کی اسلامی تحریکیں جگہ بنا لیں گی اور اسرائیل کے حق میں ان اسلامی تحریکوں سے زیادہ بشار الاسد کی حکومت بہتر ہے۔ انہوں نے اسرائیلی وزیر سے شکوہ بھی کیا کہ اسرائیل کی جانب سے شامی مظاہرین کو خوراک اور دواؤں کی شکل میں بھیجی جانے والی امداد آگے چل کر خود اسرائیل کے حق میں بہتر نہیں رہے گی۔عرب ذرائع کے مطابق اسرائیلی وزیر ’’ایوب قرا‘‘ کا کہنا تھا کہ شامی مظاہرین کو امداد اسرائیلی حکومت کی جانب سے نہیں دی جارہی بلکہ اسرائیل میں مقیم عرب باشندے ’’انسانی ہمدردی‘‘ کے تحت یہ سامان شام ارسال کررہے ہیں۔ سبحان اللہ۔۔ ذرا اندازا لگائیں کہ اسرائیل میں مقیم عرب باشندے مقبوضہ فلسطین کے محصور علاقوں جنین اور غزہ کے مظلوم فلسطینی مسلمانوں کو ایک اسپرین کی گولی تک تو ارسال نہیں کرسکتے لیکن اسرائیلی حکومت کی مرضی کے خلاف وہ شامی عوام کے لیے ’’انسانی ہمدردی‘‘کے تحت خوراک اور دوائیں ارسال کرسکتے ہیں۔۔۔!! دوسری جانب ریاض میں مقیم چین کے سفیر ’’لی چینگ‘‘ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ چینی حکومت نے اپنے سفارتی ذرائع سے بشار الاسد حکومت سے رابطہ قائم کرکے شامی مظاہرین کے خلاف طاقت کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے کہا تھا جبکہ بیجنگ میں شامی اپوزیشن کے ایک وفد نے بھی چینی حکام سے ملاقات کی تھی۔۔۔ دوسری جانب روسی صدر پوٹن نے اس وقت عالمی میڈیا کے سامنے یہ اعلان کیا تھا کہ روس کا بشار الاسد سے تعلق صرف اس نوعیت کا ہے جس نوعیت کا برطانیہ کا ہوسکتا ہے۔ جبکہ وہاں مظاہرین کے خلاف ہونے والے طاقت کے بے دریغ استعمال کو ہم پسند نہیں کرتے۔بعد میں تل ابیب میں روسی سفیر اور اسرائیلی نائب وزیر برائے علاقائی تعاون کی خفیہ ملاقات کا بھانڈا بھی جان بوجھ کر پھوڑا گیا تھاتاکہ شامی حکومت مخالف عرب میڈیا کی توپوں کا رخ ایک مرتبہ پھر روس کی جانب ہوسکے۔

امریکا کی خواہش ہے کہ روس کو قفقاز میں ردعمل کی جنگ میں الجھا کر شمالی عراق وشام میں کردستان کی آزاد ریاست کی راہ ہموار کی جائے

جہاں تک روسی سفیر کے اسرائیل کے ساتھ اس شکوے کا تعلق ہے کہ اگر بشار کو حکومت سے ہٹا دیا گیا تو اسلام پسند قوتیں اقتدار پر قابض ہوجائیں گی جو بشار الاسد سے زیادہ اسرائیل کی مخالف ہیں تو ہم یہی سمجھتے ہیں کہ اس بات کا ادراک اسرائیلیوں کو روسیوں سے زیادہ ہے اور اسی وجہ سے وہ انقلابات کے نام پر شمالی افریقہ اور مشرق وسطی میں ایسی تبدیلیاں لا رہے ہیں جو بظاہر اسرائیل کے خلاف نظر آئیں لیکن آگے چل کر وہ انہی تبدیلیوں کو عالمی رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے استعمال کرے اور عربوں پر کاری ضرب لگا کر نصف سے زیادہ مشرق وسطی پر قابض ہوجائے۔ اس لیے شام میں خانہ جنگی کروانے کی ٹائمنگ بھی بہت دیکھ بھال کر منتخب کی گئی تھی۔عرب ذرائع کا دعوی ہے کہ شام میں جیسے ہی بشار الاسد کا اقتدار ختم ہوگاتو وہاں کی سیاسی اسلامی تحریک تیونس، مصر اور لیبیا کی طرح اس خلا کو پر کرنے آگے آئیگی جس سے اردن کی اسلامی تحریک کو اس سے زبردست تقویت حاصل ہوگی اور وہاں بھی ’’طے شدہ‘‘ منصوبے کے تحت مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوجائے گا جس میں ممکن ہے داعش بھی اپنے اقتدار کو شمالی شام اور عراق کے علاقوں میں مزید مستحکم کرسکے۔ جبکہ دوسری جانب اردن کی کٹھ پتلی امریکا اسرائیل نواز بادشاہت کے خلاف زبردست ہنگامے شروع ہوجائیں گے۔ یہ اسرائیل کے ’’بڑے دجالی صیہونی منصوبے‘‘ کے لیے آئیڈیل صورتحال ہوگی۔اس وقت صیہونی سرمایہ داروں کا کارپوریٹیڈ میڈیا شور مچائے گا کہ اسرائیل کو چاروں طرف سے انتہا پسند مسلمان حکومتوں نے گھیر لیا ہے جو کسی وقت بھی اسرائیل پر حملہ کرکے اس کا وجود مٹا دیں گی۔قطر کے دارالحکومت دوحہ جہاں پر امریکا کی سینٹرل کمانڈ کا ہیڈ کوارٹر ہے وہیں پر ’’عالم عرب کا نمائندہ نیوز چینل الجزیرہ‘‘ بڑھ چڑھ کر اسلامی تحریکوں کی کامیابیاں بیان کرے گا۔یوں تمام دنیا میں اسرائیل کے حق میں ایک فضا پیدا کردی جائے گی۔۔۔اس فضا کوبرقرار رکھتے ہوئے دو بڑے مراحل طے کرنا ابھی باقی ہوں گے۔ اسے سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم یہ سمجھیں کہ ڈالر کو کس کے سہارے اس وقت تک کھڑا کیا گیا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ڈالر عملًا زوال پذیر ہوچکا ہے لیکن یہ اب صرف تیل کے سہارے کھڑا ہے جو لوگ اور حلقے ’’پیٹرو ڈالر‘‘ کا مطلب سمجھتے ہیں وہ اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں۔ یعنی اگر تیل کا لین دین ڈالر میں کرنا بند کردیا جائے تو ڈالر کی حیثیت سگریٹ جلانے والے کاغذ سے بھی کم رہ جائے گی۔ کیونکہ اصل زر سونا ہے کاغذ کی کرنسی نہیں اور یہ بات اللہ کے آخری رسول ﷺ نے چودہ سو برس پہلے فرما دی تھی کہ ’’ایک وقت آئے گا جب دینار (سونا) اور درہم (چاندی) کے سوا تمام چیزیں وقعت کھو دیں گی۔‘‘ امریکا نے مشرق وسطی پر اپنا تسلط جماکر تیل کی قیمت ڈالر سے وابستہ کردی تھی جسے بعد میں پیٹرو ڈالر کا نام دیا گیا۔ یعنی اصل زر کی شکل سونے کے بعد تیل اختیار کرگیا تھا کیونکہ سب سے زیادہ عالمی مارکیٹ میں سونے کے بعد تیل کی مانگ ہے۔ اب اگر تیل بیچنے والے ممالک ڈالر کی بجائے سونے کی شکل میں قیمت وصول کرنے لگیں گے تو ڈالر کہاں جاکر کھڑا ہوگا سب کو اچھی طرح معلوم ہے۔ اس لیے بھی اسرائیل اس صورتحال کو اپنے عالمی اقتدار کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرے گااور امریکا کو معاشی زوال سے ڈرا کرمشرق وسطی میں اسلامی تحریکوں کے مقابل لانے کی کوشش کرے گا۔اس قسم کی صورتحال نے امریکیوں کو نہ صرف امریکا بلکہ افغانستان تک میں زچ کرکے رکھ دیا ہے۔عرب صحافتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک جانب لیبیا کے بعد اب الجزائر اور مراکش میں عوامی ردعمل کا سلسلہ سامنے آسکتا ہے تو دوسری جانب شام میں بشار الاسد کے جاتے ہی اردن کو زبردست مظاہرے اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں اور اس حوالے سے مراکش اور اردن کے شاہی خاندانوں میں نہ صرف تشویش پائی جاتی ہے بلکہ یہ شاہی خاندان جو نصف صدی سے بھی زائد عرصے سے اپنے عوام پر مسلط ہیں سرمایہ تیزی کے ساتھ مغرب میں منتقل کررہے ہیں۔

turkish-navy

ہم پہلے بھی کہتے آئے ہیں کہ پاکستان کی حفاظت کے ضامن اداروں کو مشرق وسطی کی صورتحال پر بھرپور نظر رکھنا ہوگی کیونکہ پاکستان میں اصل ہدف پاکستان کے جوہری اثاثے ہیں اور عالمی صیہونی عسکری اتحاد کبھی اسے نظر انداز نہیں کرے گا کیونکہ سب سے آخر میں پاکستان کے جوہری اثاثے ہی اسرائیل کی عالمی سیادت میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوسکیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ا س وقت ان اثاثوں کی محافظ پاک فوج کا مورال گرانے کے لیے سازشیں کی جارہی ہیں۔ پی پی اور نون لیگ کے ساتھ ساتھ دیگر سیاسی معاشی کرپٹ اداروں کے راستے میں پوری طرح روڑے اٹکانے میں مصروف ہیں۔ پاکستان کے خلاف بھارت ایک بڑا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہوچکا ہے۔ افغانستان میں اسے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ مغربی ممالک کی بھرپور حمایت حاصل ہے اور بھارت کو یہ بھی باور کرا دیا گیا ہے کہ افغانستان کے معاملے میں اگر پاکستان کا پلہ بھاری رہا تو امریکی فوج کے انخلا کے بعد سب سے زیادہ شامت بھارت کی آئے گی۔اس مقصد کے لیے شمالی علاقوں میں فرقہ ورانہ فسادات، خیبر پی کے میں دہشت گردی کی وارداتیں اور بلوچستان میں قومیت کی بنیاد پر فتنے کھڑے کرنے کا مقصد ہی یہ تھا۔ اس ساری صورتحال میں پاکستانی سیاستدانوں اور حکمران ادارے بری طرح بے نقاب ہوچکے ہیں۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


بشارالاسد کی سنگ دلی ۔۔ خون مسلم سے رنگین مملکتِ شام میں فیشن شو کی رنگینیاں وجود - اتوار 20 نومبر 2016

فیشن شو میں بچوں کو بھی نمائش کے لیے پیش کیا گیا،دوسری جانب لاکھوں بچے بھوک سے بلک رہے ہیں اور ہزاروں بچوں کے والدین کی شہادت کے باعث وہ یتیم و بے آسرا ہوچکے ہیں شام میں صدر بشار الاسد کے آبائی صوبے لاذقیہ میں شامی وزارت سیاحت کے زیر نگرانی ایک ہفتے پر مشتمل فیشن شومنعقد کیا۔ ایک طرف شامی حکومت کے طیاروں اور اس کے حلیف روس کی جانب سے شام میں حلب اور حمص اور ادلب صوبوں کے شہروں سمیت ملک کے دیگر شہروں پر بم باری کا سلسلہ شدید کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب لاذقیہ صوبے کے ا...

بشارالاسد کی سنگ دلی ۔۔ خون مسلم سے رنگین مملکتِ شام میں فیشن شو کی رنگینیاں

کابل سے القدس تک محمد انیس الرحمٰن - پیر 03 اکتوبر 2016

سولہ ستمبر 1977ء کی ایک سرد رات اسرائیلی جنرل موشے دایان پیرس کے جارج ڈیگال ائر پورٹ پر اترتا ہے، وہ تل ابیب سے پہلے برسلز اور وہاں سے پیرس آتا ہے جہاں پر وہ اپنا روایتی حلیہ بالوں کی نقلی وگ اور نقلی مونچھوں کے ساتھ تبدیل کرکے گہرے رنگ کی عینک لگاکر اگلی منزل کی جانب روانہ ہوتا ہے، اگلی منزل مراکش کا شہر رباط ہے جہاں پر اس کی ملاقات شاہ حسین خامس اور سادات کے نمائندے حسن التہامی سے طے ہے۔ تل ابیب سے مراکش پہنچنے کے لیے یورپ کے دو شہروں سے گزرنا اور پیرس میں حلیہ بدلنے کا مقص...

کابل سے القدس تک

پاکستانی دینی جماعتیں عالم عرب کی ’’عرب بہار‘‘ سے سبق حاصل کریں محمد انیس الرحمٰن - جمعرات 29 ستمبر 2016

عالم عرب میں جب ’’عرب بہار‘‘ کے نام سے عالمی صہیونی استعماریت نے نیا سیاسی کھیل شروع کیا تو اسی وقت بہت سی چیزیں عیاں ہوگئی تھیں کہ اس کھیل کو شروع کرنے کا مقصد کیا ہے اور کیوں اسے شروع کیا گیا ہے۔جس وقت تیونس سے اٹھنے والی تبدیلی کی ہوا نے شمالی افریقہ کے ساتھ ساتھ مشرق وسطی کا رخ اختیار کیا تھا اسی وقت ہم نے اسے ایک بڑے صہیونی استعماری کھیل سے تعبیر کردیا تھا۔ تیونس کا بن علی، مصر کا حسنی مبارک، شام کا بشار الاسد اوریمن کے صدر صالح کسی لحاظ سے بھی مغربی مفادات کے خلاف نہیں ...

پاکستانی دینی جماعتیں عالم عرب کی ’’عرب بہار‘‘ سے سبق حاصل کریں

لیڈراور کباڑیا محمد انیس الرحمٰن - هفته 24 ستمبر 2016

ایران میں جب شاہ ایران کے خلاف عوامی انقلاب نے سر اٹھایا اور اسے ایران سے فرار ہونا پڑاتواس وقت تہران میں موجود سوویت یونین کے سفارتخانے میں اعلی سفارتکار کے کور میں تعینات روسی انٹیلی جنس ایجنسی کے اسٹیشن ماسٹر جنرل شبارچین کو اچانک ماسکو بلایا گیا۔ کے جی بی کے سابق سربراہ یوری اندرے پوف صدر چرننکو کی موت کے بعد سوویت یونین کے صدر بن چکے تھے۔ جنرل شبارچین نے ایرانی انقلاب کے حوالے سے اپنے صدر کو جو رپورٹ پیش کی اس کے مطابق شاہ ایران امریکا کی مدد سے سابق وزیر اعظم مصدق کی طر...

لیڈراور کباڑیا

کسنجر کا خواب اور نئی عالمی’’دجالی تقسیم‘‘ محمد انیس الرحمٰن - اتوار 18 ستمبر 2016

جن دنوں امریکامیں نائن الیون کا واقعہ رونما ہوا تھا اس وقت مسلم دنیا میں کوئی ادارہ یا شخصیت ایسی نہ تھی جو اس واقعے کے دور رس عواقب پر حقیقت پسندانہ تجزیہ کرکے اسلامی دنیا کو آنے والی خطرات سے آگاہ کرسکتی۔مغرب کے صہیونی میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ نے منفی پروپیگنڈے کی وہ دھول اڑائی کہ کوئی بھی سمت کے صحیح تعین کی طرف راغب نہیں ہوسکا بلکہ مسلم دنیا کے ممالک اور ان کی انتظامیہ کا یہ حال تھا کہ کچھ نہ کرنے کے باوجود وہ اپنے آپ کو چور محسوس کرنے لگے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس...

کسنجر کا خواب اور نئی عالمی’’دجالی تقسیم‘‘

امریکا و روس جنگ بندی پر متفق، بشار جنگ جاری رکھنے پر مصر وجود - جمعرات 15 ستمبر 2016

شام کے صدر بشار الاسد نے امریکا اور روس کی مدد سے ہونے والی جنگ بندی سے چند گھنٹے پہلے پورے شام کو دوبارہ اپنی سرکار کے زیر نگیں لانے کا عزم ظاہر کیا۔ قومی ٹیلی وژن نے دکھایا کہ اسد دمشق کے نواحی علاقے داریا کا دورہ کر رہے تھے کہ جو بہت عرصے سے باغیوں کے قبضے میں تھا اور گزشتہ مہینے سرکاری افواج نے اس کو دوبارہ فتح کیا ہے۔ اسی علاقے کی ایک مسجد میں بشار نے نماز عید بھی ادا کی، جس کی تصاویر اس وقت ذرائع ابلاغ میں گردش کر رہی ہے۔ اپنی تازہ گفتگو میں شامی صدر نے جنگ بندی کے ...

امریکا و روس جنگ بندی پر متفق، بشار جنگ جاری رکھنے پر مصر

افغان مہاجرین کی پاکستان سے جبری بے دخلی بھارت کے لیے خوش خبری محمد انیس الرحمٰن - هفته 03 ستمبر 2016

دنیا کی معلوم تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ قدرت نے جب کبھی کسی قوم پر احتساب کی تلوار لٹکائی تو اس کی معیشت کو تباہ کردیا گیا۔قران کریم نے بھی چند مثالوں کے ذریعے عالم انسانیت کو اس طریقہ احتساب سے خبردار کیا ہے جس میں سب سے واضح مثال یمن کے ’’سد مارب‘‘ کی تباہی ہے۔ جزیرہ العرب کے جنوب میں یمن کے مقام پر قائم قوم سبا کی تہذیب معلوم تاریخ میں دنیا کی چار بڑی اور طاقتور تہذیبوں میں شمار ہوتی تھی ان کی مضبوط معیشت کا دارومدار قوم سبا کے قدیم دارالحکومت مارب میں قائم...

افغان مہاجرین کی پاکستان سے جبری بے دخلی بھارت کے لیے خوش خبری

ترکی کا "دہشت گردوں کے خلاف کھلی جنگ" کا اعلان وجود - پیر 29 اگست 2016

ترکی کے وزیر اعظم بن علی یلدرم نے اعلان کیا ہے کہ ترکی اب دہشت گردی کے خلاف کھلی جنگ کا سامنا کر رہا ہے۔ جمعے کو کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کی جانب سے حملے میں 11 افراد کی ہلاکت کے بعد اپنے بیان میں وزیر اعظم نے کہا کہ وہ ترکی میں دہشت گردی کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کریں گے۔ "کوئی دہشت گرد تنظیم ترکی کو مجبور نہیں کر سکتی۔ ہم نے ان دہشت گردوں کے خلاف کھلی جنگ کا اعلان کیا ہے۔" روزنامہ حریت کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ "جس طرح جنگ آزادی میں بابائے قوم نے کہا تھا "آزادی یا ...

ترکی کا

ترکی کے امریکی حمایت یافتہ کردوں پر حملے وجود - هفته 27 اگست 2016

شام کے شمالی علاقوں میں داخل ہونے کے ایک روز بعد ترک فوجی دستوں کے منبج شہر کے گرد امریکا کے حمایت یافتہ کرد جنگجوؤں کے خلاف حملے جاری ہیں۔ گو کہ ان حملوں کا آغاز جرابلس کے قصبے سے داعش کو نکالنے کے لیے ہوا تھا لیکن ترک حکام نے واضح کیا ہے کہ اس آپریشن کا بڑا مقصد کردوں کو کچلنا ہے۔ ترک ریاستی حکام نے کرد گروپ 'وائی پی جی' کے اہداف پر گولہ باری کو "انتباہ" قرار دیا ہے۔ کردوں کا کہنا ہے کہ یہ حملے "صریح جارحیت" ہیں۔ ترکی کا کہنا ہے کہ وہ کردوں کے اثر و رسوخ کو پھیلنے سے رو...

ترکی کے امریکی حمایت یافتہ کردوں پر حملے

شام تنازع: چین روس کے ساتھ مل کر بشار الاسد کی مدد کرے گا وجود - جمعرات 18 اگست 2016

چین بھی شام تنازع میں شامل ہونے کے قریب ہے۔ بیجنگ دمشق کے ساتھ قریبی فوجی تعلقات کا خواہشمند ہے اور اس بحران میں "اہم کردار ادا کرنا چاہ رہا ہے۔" چینی تربیت کاروں کی جانب سے شامی اہلکاروں کی تربیت پر گفتگو ہو چکی ہے اور اس امر پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے کہ چینی افواج شام کو انسانی امداد فراہم کریں گی۔ یہ انکشاف پیپلز لبریشن آرمی کے ایک اعلیٰ سطحی عہدیدار نے بتائی۔ روس کے سرکاری خبری ادارے "رشیا ٹوڈے" کے مطابق چین کے سینٹرل ملٹری کمیشن میں دفتر برائے بین الاقوامی عسکری ...

شام تنازع: چین روس کے ساتھ مل کر بشار الاسد کی مدد کرے گا

روس شام پر حملوں کے لیے ایرانی فضائی اڈوں کا استعمال کرنے لگا وجود - بدھ 17 اگست 2016

روس نے پہلی بار شام میں میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کے لیے ایران میں موجود فضائی اڑے استعمال کیے ہیں، اور یوں مشرق وسطیٰ کے معاملات میں اپنی مداخلت کو مزید توسیع دے دی ہے۔ تہران کے ساتھ ماسکو کے تعلقات کس نہج تک پہنچ گئے ہیں، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ روز روس کے ٹی یو- 22 ایم3 بمبار طیاروں اور سخوئی-34 لڑاکا بمباروں نے ایران کے ہمدان ایئربیس سے اڑان بھری اور پھر شام میں مختلف اہداف کو نشانہ بنایا۔ یہ تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ روس...

روس شام پر حملوں کے لیے ایرانی فضائی اڈوں کا استعمال کرنے لگا

ترکی میں ناکام انقلاب : امریکا اور روس میں براہ راست ٹکراؤ کے امکانات محمد انیس الرحمٰن - منگل 16 اگست 2016

ترکی کے صدر طیب اردگان نے گزشتہ دنوں امریکی سینٹرل کمانڈ کے چیف جنرل جوزف ووٹیل پر ناکام بغاوت میں ملوث افراد کی معاونت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا کو اپنی اوقات میں رہنا چاہئے۔ اس سے پہلے جنرل جوزف نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ترکی میں بغاوت میں ملوث سینکڑوں ترک فوجی افسروں کی گرفتاری سے دونوں ملکوں کے تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔ترکی میں بغاوت کی ناکامی کے بعد اسے امریکا کی جانب سے دھمکی قرار دیا جاسکتاہے جبکہ ترک صدر طیب اردگان کا کہنا ہے کہ امریکا پہلے ہی اس ...

ترکی میں ناکام انقلاب : امریکا اور روس میں براہ راست ٹکراؤ کے امکانات

مضامین
سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ وجود منگل 25 جنوری 2022
سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ

حق دو کراچی کو وجود پیر 24 جنوری 2022
حق دو کراچی کو

ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟ وجود پیر 24 جنوری 2022
ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟

خود کو بدلیں وجود پیر 24 جنوری 2022
خود کو بدلیں

تجارتی جنگیں احمقوں کا کھیل وجود هفته 22 جنوری 2022
تجارتی جنگیں احمقوں کا کھیل

دھرنے،احتجاج اور مظاہرے وجود هفته 22 جنوری 2022
دھرنے،احتجاج اور مظاہرے

بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا

تحریک انصاف اور پورس کے ہاتھی وجود جمعه 21 جنوری 2022
تحریک انصاف اور پورس کے ہاتھی

بلوچستان میں نئی سیاسی بساط وجود جمعه 21 جنوری 2022
بلوچستان میں نئی سیاسی بساط

کورونا،بھنگ اور جادو وجود جمعه 21 جنوری 2022
کورونا،بھنگ اور جادو

ترک صدر کا ممکنہ دورہ سعودی عرب اور اس کے مضمرات ؟ وجود جمعرات 20 جنوری 2022
ترک صدر کا ممکنہ دورہ سعودی عرب اور اس کے مضمرات ؟

قومی سلامتی پالیسی اور خطرات وجود بدھ 19 جنوری 2022
قومی سلامتی پالیسی اور خطرات

اشتہار

افغانستان
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا وجود پیر 24 جنوری 2022
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا

افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی وجود اتوار 23 جنوری 2022
افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی

اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ وجود جمعرات 20 جنوری 2022
اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ

طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ وجود منگل 18 جنوری 2022
طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ

افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز وجود منگل 18 جنوری 2022
افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز

اشتہار

بھارت
بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام

بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا

بھارتی آرمی چیف اور وزیر داخلہ کی گرفتاری کیلئے برطانیہ میں درخواست دائر وجود جمعرات 20 جنوری 2022
بھارتی آرمی چیف اور وزیر داخلہ کی گرفتاری کیلئے برطانیہ میں درخواست دائر

بھارت،کالج میں حجاب پہننے والی مسلم طالبات کو کلاس سے نکال دیا گیا وجود بدھ 19 جنوری 2022
بھارت،کالج میں حجاب پہننے والی مسلم طالبات کو کلاس سے نکال دیا گیا

سرحدی تنازع،نیپال کی بھارت سے سڑکوں کی یکطرفہ تعمیر روکنے کی اپیل وجود منگل 18 جنوری 2022
سرحدی تنازع،نیپال کی بھارت سے سڑکوں کی یکطرفہ تعمیر روکنے کی اپیل
ادبیات
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی

غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری

دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ وجود منگل 21 دسمبر 2021
دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ

سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں وجود جمعرات 16 دسمبر 2021
سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں
شخصیات
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے وجود هفته 15 جنوری 2022
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے

مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل وجود منگل 11 جنوری 2022
مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل

ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے وجود بدھ 05 جنوری 2022
ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر        ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے

سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک وجود پیر 27 دسمبر 2021
سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک

قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ (خواجہ رضی حیدر) وجود هفته 25 دسمبر 2021
قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ  (خواجہ رضی حیدر)