وجود

... loading ...

وجود
وجود

اشرف غنی کی حکومت طالبان کے سامنے بے بس

اتوار 03 جنوری 2016 اشرف غنی کی حکومت طالبان کے سامنے بے بس

ashraf-ghani

افغانستان میں داعش کے اثر و رسوخ کے تدارک کے حوالے سے روسی صدر ولاد میر پیوٹن کی امارت اسلامیہ افغانستان کے امیر ملا اختر منصور سے براہ راست ملاقات محض کسی کے منہ سے نکلی ہوئی بات لگتی ہے ،لیکن اسے قطعی رد بھی نہیں کیا جا سکتا۔عالمی ذرائع ابلاغ بھی اس بابت گویا ہوئے ہیں۔ اور روس کے ایک خصوصی ایلچی’’ ضمیر کابلوف‘‘نامی شخص کی طرف سے بھی رابطے کی تصدیق ہوئی ہے۔البتہ امارت اسلامیہ نے تاجکستان میں ہونے والی اس ملاقات اور روسی حکام سے رابطوں کی تردید کر دی ہے۔ یہ ملاقات یارابطہ اگر ہو بھی تو اس میں کوئی قباحت نہیں،بلکہ بات چیت ہونی چاہئے۔

طالبان کہتے ہیں کہ افغانستان میں داعش کی موجودگی کا پروپیگنڈہ بڑھا چڑھا کر کیا جا رہا ہے۔ یہ بات عیاں ہے کہ افغانستان میں جہاں بھی داعش کے نام سے مسلح گروہ نے سر اُٹھایا ،ان کے خلاف طالبان نے قوت کا استعمال کیا ہے

روس کا طالبان قیادت سے روابط کا افشاء ہونا اس امر پردلالت کرتا ہے کہ روس طالبان کو افغانستان کے اندر فی الواقع ایک بڑی سیاسی و مزاحمتی قوت تسلیم کر تا ہے۔ پیش ازیں امریکا اور افغان حکومت امارت اسلامیہ کو حز ب اختلاف کہہ چکی ہے۔عالمی سیاست رُخ بدل چکی ہے ،روس پھر سے پاؤں پر کھڑا ہوگیا ہے۔ حالات اور سیاست کے اس بدلاؤ میں افغانستان کی اہمیت دو چند ہے، اور افغانستان میں طالبان ایک مسلمہ حقیقت ہیں۔جبکہ اس حقیقت کو جھٹلانا حماقت ہے۔امارت اسلامیہ افغانستان داعش کے بارے میں کسی تردّد میں مبتلا نہیں بلکہ انہیں اپنی قوت پر یقین ہے اور سمجھتے ہیں کہ انہیں افغان عوام کی حمایت حاصل ہے۔ طالبان قرار دے چکے ہیں کہ انہیں داعش کے خلاف کسی کی مدد کی ضرورت نہیں۔اس فتنہ کو مٹانے پر وہ نہ صرف قادر ہیں بلکہ کافی حد تک ان کی سرکوبی بھی کر دی گئی ہے۔ طالبان کہتے ہیں کہ افغانستان میں داعش کی موجودگی کا پروپیگنڈہ بڑھا چڑھا کر کیا جا رہا ہے۔ یہ بات عیاں ہے کہ افغانستان میں جہاں بھی داعش کے نام سے مسلح گروہ نے سر اُٹھایا ،ان کے خلاف طالبان نے قوت کا استعمال کیا ہے۔ اس گروہ میں طالبان سے منحرف ہونے والے افراد بھی شامل ہوئے ہیں،جنہوں نے لوگوں کو اپنا مطیع اور زیر دست بنانے کی خاطر عام افغانوں اور،علماء و معتبرین کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ ہزارہ قبائل کے افراد اور خواتین کا اغواء اور قتل جیسی وارداتیں بھی امارت اسلامیہ یعنی طالبان کو قبول نہ تھیں۔چنانچہ داعش سے منسلک ان افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔ امارت اسلامیہ کا افغانستان کے اندر’’ مقاومت‘‘ غیر ملکی افواج کے انخلاء اور ایک خود مختار افغان حکومت کیلئے جاری ہے۔ طالبان کوئی بیرونی ایجنڈہ نہیں رکھتے۔ امارت اسلامیہ ہمسایہ ممالک اور روس کو بھی نقصان نہ پہنچانے کا یقین دلا چکی ہے۔ طالبان ہمسایہ اور خطے کے دیگر ممالک سے پر امن بقائے باہمی کی بنیاد پر روابط اور تعلقات کے خواہاں ہیں۔یہ بات طے شدہ ہے کہ کوئی بھی ملک اگر افغانستان پر اپنی مرضی کی حکومت اور نظام مسلط کرنے کی کوشش بزور طاقت کرے گا تو ان کے خلاف اسی شدت سے مزاحمت بھی ہو گی۔روس اس مداخلت کا مزہ چکھ چکا ہے۔ اپریل 1978ء کا انقلاب در اصل ایک فتنہ تھا جس نے ہنستے بستے افغانستان کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا۔روسی فوجی حکام اور دفاعی تجزیہ کار تسلیم کر چکے ہیں کہ افغان معاشرے کیلئے انقلابِ اپریل جیسی تبدیلی قبل از وقت تھی اور 1979ء میں سوویت افواج کو افغانستان بھیجنے کا فیصلہ اس سے بھی بڑی سیاسی و عسکری غلطی تھی۔افغانستان کھنڈرتو بن گیا مگر اس کا نقصان سویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کی صورت میں سامنے آیا۔یہ اشتراکی فوجی یلغار افغانستان کے مذہبی ،سیاسی ،معاشی اور ثقافتی حالات کی یکسر ضد تھی۔روسی اعتراف کرتے ہیں کہ ایسے اقدامات اُٹھانے کی ضرورت تھی جو افغان عوام کے ذہنی معیار کے لئے قابل قبول ہوتے۔اگر ان انقلابی اقدامات کو عوام کی اکثریت کی حمایت ہوتی تو جنگ کی نوبت آتی اور نہ ہی وہاں سویت فوج بھیجنے کی ضرورت پیش آتی۔جبکہ اس کے برعکس افغانوں پر سوشلسٹ نظام نافذ کرنے کی کوشش کی گئی۔ایک روسی جنرل ’’محموت احمدووِچ گارییف ‘‘کہہ چکا ہے کہ یہ طویل تاریخی المیہ افغان عوام پر غیر مرئی نظام میں زندگی بزور قوت مسلط کرنے کی کوشش کا شاخسانہ تھا۔امریکی حملہ اور قبضہ تاریخ کا ایک اور سیاہ باب بن چکا ہے۔ امریکی دانشور و اہل علم قبضے اور جارحیت کی اس پالیسی کو درست تسلیم نہیں کرتے۔ روس اب اشتراکی نہیں رہا اس ملک کو افغان سیکولر اور اشتراکی لیڈروں کی وسعت و فکر ،سنجیدگی اور اخلاص کا بھی نا خوشگوار تجربہ ہو چکا ہے۔ افغان پولیس اور افواج روس کے دور میں بھی اخلاص،نظریاتی اور وطنی جذبہ سے عاری تھی۔ پیشہ وارانہ اہلیت حتیٰ کہ دفاعی مشینری استعمال کرنے کی بھی اہل نہ تھی۔آفیسرز عیش و عشرت میں مبتلا تھے اور عام سپاہی چوکیوں کے آلات و سامان چرانے سے گریز نہیں کرتے تھے۔خندقوں اور مورچوں میں استعمال ہونے والی لکڑی ایندھن کے طور پر جلا ڈالتے ،یعنی ملک کے دفاع سے پوری طرح غافل تھے۔روسی فوجی حکام اعتراف کرتے ہیں کہ افغان فوج سویت افواج کے شانہ بشانہ لڑنے میں ہمیشہ سرد مہری کا مظاہرہ کرتی تھی۔ ان کے مقابلے میں مجاہدین نہ صرف منظم تھے بلکہ خالص عقیدے اور نظریے کی بنیاد پر لڑ رہے تھے ،افغان پولیس اور افواج کا آج بھی وہی عالم ہے۔

اشرف غنی کی حکومت بٹی ہوئی ہے ،فوج اور پولیس میں طالبان کے مقابلے کی سرے سے سکت اور اہلیت نہیں۔سنگین پر قبضہ طالبان کی قوت کا نمونہ ہے۔ اس نوعیت کی پیشرفت افغانستان کے طول و عرض میں دیکھی جا سکتی ہے۔ کوئی قومی فوج ہوتی تو برطانوی افواج کی مزید کمک ہلمند میں طلب نہ کی جاتی۔روس کے سابق صدر ’’میخائل گور باچوف‘‘ تک نے افغانستان میں مداخلت اور انقلاب کو غلط اقدام قرار دیا۔حیرت ہمارے سیاستدانوں اور دانشوروں کی عقلوں پرہے جو اب تک ’’ثور انقلاب‘‘ کی رٹ لگائے بیٹھے ہیں۔ذہنی خباثت دیکھئے کہ آج بھی افغانستان کو آزاد اور جمہوری ملک کہنے کی گردان کرتے رہتے ہیں۔گویا ولادمیر پیوٹن تو طالبان کو سیاسی قوت ماننے کو تیار ہو گئے ہیں ،پر ہمارے ہاں لوگوں کے قلب و نگاہ کو لا حق ضمیر فروشی جیسی مہلک بیماری کا علاج آج بھی نہ ہو سکا۔اقوام عالم کو ڈرانے کے بجائے سیاسی اور جمہوری جدوجہد پر یقین رکھنے والی اسلامی تحریکات کے ساتھ تعاون اور روا داری پر مبنی تعلقات استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت بڑی طاقتوں کیلئے بھی سود مند ثابت نہیں ہوئی ہے۔ افغانستان میں داعش کی بیخ کنی کی خاطرطالبان بلا جھجھک روس سے بات چیت کریں۔ کیونکہ داعش کا قوت میں آنا در اصل امارت اسلامیہ سمیت افغانوں کے رسم و رواج اور دینی عقائد کیلئے سنگین خطرہ ثابت ہوگا۔


متعلقہ خبریں


افغان طالبان کی پوسٹرز کے ذریعے خواتین کو پردہ کرنے کی ترغیب، شہریوں کے ملے جلے جذبات وجود - اتوار 09 جنوری 2022

افغان طالبان کی مذہبی پولیس نے دارالحکومت کابل میں پوسٹرز آویزاں کر دیے جس میں افغان خواتین کو پردہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ طالبان کی جانب سے خواتین سے متعلق عائد کی گئیں حالیہ متنازع پابندیوں میں سے ایک ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پوسٹر، جس میں ایک چہرے کو برقع سے ڈھانپے دیکھا جاسکتا ہے، وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی طرف سے رواں ہفتے کیفے اور دُکانوں پر آویزاں کیے گئے ۔اگست میں اقتدار میں واپس آنے کے بعد طالبان نے خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کی آزادیوں ...

افغان طالبان کی پوسٹرز کے ذریعے خواتین کو پردہ کرنے کی ترغیب، شہریوں کے ملے جلے جذبات

بیلاروس کے صدر2021کے کرپٹ پرسن آف دی ایئر قرار وجود - بدھ 29 دسمبر 2021

آرگنائزڈ کرائم اینڈ کرپشن رپورٹنگ پراجیکٹ (او سی سی آر پی)نے سال 2021 کی کرپٹ ترین شخصیات کی فہرست جاری کردی۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق یورپی ملک بیلاروس کے صدر الیگزینڈر جی لوکاشینکو کو منظم مجرمانہ سرگرمیوں اور بدعنوانی کو آگے بڑھانے پر 2021کا کرپٹ پرسن آف دی ایئر قرار دیا گیا ۔رپورٹ کے مطابق بدعنوانی کے بارے میں مطالعہ کرنے اور رپورٹ کرنے والے چھ صحافیوں کے ایک پینل نے دنیا بھر سے 1167 نامزد افراد میں سے بیلاروسی صدرکا انتخاب کیا ۔لوکاشینکو 1994 سے صدر کی حیثیت سے اقتدا...

بیلاروس کے صدر2021کے کرپٹ پرسن آف دی ایئر قرار

افغان مہاجرین اور غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کو واپس بھیجنے کا فیصلہ وجود - هفته 18 دسمبر 2021

حکومت نے افغان مہاجرین اور غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کو واپس بھیجنے کا فیصلہ کرلیا ۔ نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت افغانستان پر اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی، اجلاس میں افغان مہاجرین اور غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کو واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ متفقہ فیصلہ ہوا 3 لاکھ افغان مہاجرین کو افغانستان واپسی بھیجا جائے گا، افغان مہاجرین اور ویزا ختم ہونے والوں کو 3 ماہ کا وقت دیا جائے گا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہم مزید بوجھ برداشت نہیں کرس...

افغان مہاجرین اور غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کو واپس بھیجنے کا فیصلہ

اشرف غنی کے کابل چھوڑنے سے قبل پاکستان سے فون کال آئی تھی، امریکی میگزین وجود - بدھ 15 دسمبر 2021

پاکستانی نمبر سے موصول ہونے والے ایک ٹیکسٹ میسج اور فون کال سے سابق مشیر قومی سلامتی حمد اللہ محب، سابق صدر اشرف غنی کے ساتھ اہلِ خانہ کے ہمراہ افغانستان چھوڑنے پر آمادہ ہوئے۔امریکی میگزین کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ طالبان جنگجوئوں کے کابل پر قبضے والے روز، 15 اگست کو تقریبا ایک بجے ایک پیغام آیا کہ طالبان کے حقانی گروپ کے سربراہ خلیل حقانی حمداللہ محب سے بات کرنا چاہتے ہیں جس پر انہوں نے خلیل حقانی کی کال اٹھالی، کال پر انہیں ہتھیار ڈالنے کا کہا گیا۔رپورٹ کے مطابق خلیل حقان...

اشرف غنی کے کابل چھوڑنے سے قبل پاکستان سے فون کال آئی تھی، امریکی میگزین

محکمہ خارجہ، دفاع افغانستان سے متعلق معلومات چھپا رہے ہیں، امریکی نگراں ادارہ وجود - اتوار 31 اکتوبر 2021

امریکی حکومت کے ایک نگران ادارے نے امریکی محکمہ خارجہ اور پینٹاگون پر الزام عائد کیا وہ افغانستان کی سابق حکومت اور فوج کے خاتمے اور امریکی فوجیوں کے ہنگامی انخلا سے متعلق معلومات فراہم کرنے سے گریزاں ہیں۔ برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق محکمہ خارجہ اور پینٹاگون کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کی وجہ سے افغان حکومت گرنے اور امریکی فوجیوں کے انخلا کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔افغانستان کی تعمیر نو کے لیے خصوصی انسپکٹر جنرل جان سوپکو نے کہا کہ اگست میں جو کچھ ہوا اس کی مکمل تصویر صرف اس...

محکمہ خارجہ، دفاع افغانستان سے متعلق معلومات چھپا رہے ہیں، امریکی نگراں ادارہ

امریکا جنگ ہار رہا تھا، اس لیے طالبان سے مذاکرات کئے،زلمے خلیل وجود - بدھ 27 اکتوبر 2021

سابق امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے اعتراف کیا ہے کہ امریکا افغانستان میں جنگ ہار رہا تھا، اس لیے طالبان کے ساتھ مذاکرات کیے۔اشرف غنی حکومت کے افراد کو نئی حکومت میں شامل کیے جانے کا امکان تھا مگر اشرف غنی کے ملک سے فرار ہونے سے سب ختم ہو گیا۔امریکی میڈیا کو انٹرویو میں زلمے خلیل زاد نے کہا کہ واشنگٹن نے صورتحال دیکھ کر فیصلہ کیا کہ دیر میں مذاکرات کرنے سے بہتر پہلے مذاکرات کرنا ہے، طالبان کے سابق صدر اشرف غنی حکومت کے ساتھ مشترکہ حکومت کے قیام کے لیے مذاکرات چل رہے تھ...

امریکا جنگ ہار رہا تھا، اس لیے طالبان سے مذاکرات کئے،زلمے خلیل

اشرف غنی کے خلاف 16کروڑ ڈالر چوری کا الزام، محافظ نے تصدیق کردی وجود - پیر 11 اکتوبر 2021

سابق افغان صدر اشرف غنی کی سیکیورٹی عملے کے ایک سینئر رکن نے امریکا کی سرکاری ایجنسی کے دعوے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے پاس مبینہ چوری کے ویڈیو شواہد موجود ہیں۔امریکی ایجنسی نے دعویٰ کیا تھا کہ سابق افغان صدر کابل سے فرار ہوتے وقت اپنے ساتھ 16 کروڑ 90 لاکھ ڈالر لے گئے تھے۔میڈیارپورٹس کے مطابق بریگیڈیئر جنرل پیراز عطا شریفی، جنہوں نے اشرف غنی کے محافظوں کی سربراہی کی تھی، نے ایک انٹرویو میں کہا کہ انہوں نے نہ صرف نقد رقم کے بھاری بیگ منتقل ہوتے دیکھے بلکہ سی سی ٹی وی ...

اشرف غنی کے خلاف 16کروڑ ڈالر چوری کا الزام، محافظ نے تصدیق کردی

امریکی وفد سے نئی شروعات پر بات ہوئی، مولوی امیر خان متقی وجود - اتوار 10 اکتوبر 2021

افغانستان کے نگراں وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے کہا ہے کہ امریکی وفد سے نئی شروعات پر بات ہوئی ہے۔ قطر کے دارالحکومت دوحا میں طالبان اور امریکا کے 2 روزہ مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے۔عرب میڈیا سے گفتگو میں مولوی امیر خان متقی نے کہا کہ امریکی وفد سے افغان امریکا تعلقات کی نئی شروعات کرنے اور افغان مرکزی بینک کے ذخائر پر سے پابندی ہٹانے سے متعلق بات ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ افغان وفد کی امریکی وفد سے ملاقات ہوئی ہے، جو کل بھی جاری رہے گی۔ افغان وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا نے ا...

امریکی وفد سے نئی شروعات پر بات ہوئی، مولوی امیر خان متقی

طالبان کا داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم وجود - جمعرات 30 ستمبر 2021

افغانستان میں طالبان نے اپنی اسپیشل فورسز کو داعش کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے داعش کے جنگجوؤں کو چن چن کر نشانہ بنائیں۔جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے طالبان کے ایک ترجمان بلال کریمی کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان فورسز نے داعش کے متعدد اراکین کو پہلے ہی یا تو ہلاک کردیا ہے یا پھر گرفتار کر لیا ہے۔ جرمن ادارے نے یہ واضح نہیں کیا کہ بلال کریمی نے اس حوالے سے کہاں گفتگو کی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طالبان نے اپنی اسپیشل فورسز کو ملک بھر میں ...

طالبان کا داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم

خواہش ہے، فریقین جلد مذاکرات کی طرف راغب ہوں، شاہ محمود کی افغان طالبان سے ملاقات وجود - جمعرات 03 اکتوبر 2019

افغانستان میں تقریباً 2 دہائیوں سے جاری تنازع کو سیاسی طور پر حل کرنے کی ازسر نو کوشش کے تحت وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی سربراہی میں پاکستانی حکام اور طالبان رہنمائوں کے درمیان دفترخارجہ میں ملاقات ہوئی ،جس میں مذاکرات کی جلد بحالی کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان افغان امن عمل کو کامیاب بنانے کیلئے اپنا مصالحانہ کردار صدق دل سے ادا کرتا رہے گا، پاکستان، صدق دل سے سمجھتا ہے جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں،افغانستان میں قیام امن کیلئے "مذاکرات"...

خواہش ہے، فریقین جلد مذاکرات کی طرف راغب ہوں، شاہ محمود کی افغان طالبان سے ملاقات

افغان صدارتی انتخاب، اشرف غنی کے بعد عبداللہ عبداللہ کا بھی کامیابی کا دعوی وجود - منگل 01 اکتوبر 2019

افغانستان میں صدارتی انتخاب کے بعد نتائج کے باقاعدہ اعلان سے قبل صدر اشرف غنی کے بعد چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ نے بھی کامیابی کا دعوی کردیاہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغانستان کے چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ نے کابل میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ انہیں اشرف غنی پر برتری حاصل ہے۔عبداللہ عبداللہ نے کامیابی کا کوئی ثبوت پیش کیے بغیر دعوی کیا کہ انتخاب میں ہمیں زیادہ ووٹ ملے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نتائج کا اعلان انڈیپنڈنٹ الیکشن کمیشن(آئی ای سی)کرے گا لیکن ہمیں زیا...

افغان صدارتی انتخاب، اشرف غنی کے بعد عبداللہ عبداللہ کا بھی کامیابی کا دعوی

افغانستان میں امدادی رقوم میں خورد برد.. عالمی برادری مزید امداد دینے میں تحفظات کاشکار صبا حیات - منگل 01 نومبر 2016

افغانستان کی مالی امداد کے لیے برسلز اجلاس میں 70ممالک اور 30 بین الاقوامی امدادی اداروں کے نمائندے شریک ہوں گے افغانستان کو مزید امداد دینے کے وعدوں کاانحصار اصلاحات اور بدعنوانی کی روک تھام کے لیے اقدامات پر ہوگا، امریکی حکام افغانستان کی حکومت ان دنوں شدید معاشی مشکلات کاشکار ہے اور صورت حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اب افغان حکومت کو نہ صرف یہ کہ سرکاری اہلکاروں کوتنخواہوں کی ادائیگی کے لیے مشکلات کا سامنا ہے بلکہ صورت حال اس حد تک خراب ہوچکی ہے کہ افغان نیشنل آرمی کے اہ...

افغانستان میں امدادی رقوم میں خورد برد.. عالمی برادری مزید امداد دینے میں تحفظات کاشکار

مضامین
وزیراعظم کے دشمن مصنوعی خیالات وجود جمعرات 27 جنوری 2022
وزیراعظم کے دشمن مصنوعی خیالات

لال قلعہ کاقیدی وجود جمعرات 27 جنوری 2022
لال قلعہ کاقیدی

''کسان ،ٹریکٹر ،ٹرالی ریلی ''کی بھی ایک پہیلی ہے وجود جمعرات 27 جنوری 2022
''کسان ،ٹریکٹر ،ٹرالی ریلی ''کی بھی ایک پہیلی ہے

اقتدار سے نکلنے پر خطرناک ہونے کا دعویٰ وجود بدھ 26 جنوری 2022
اقتدار سے نکلنے پر خطرناک ہونے کا دعویٰ

خطر۔ناک۔۔ وجود بدھ 26 جنوری 2022
خطر۔ناک۔۔

برطانیہ میں سب سے زیادہ امتیازی سلوک مسلمانوں کے ساتھ کیے جانے کا انکشاف وجود بدھ 26 جنوری 2022
برطانیہ میں سب سے زیادہ امتیازی سلوک مسلمانوں کے ساتھ کیے جانے کا انکشاف

بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا وجود بدھ 26 جنوری 2022
بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا

کووڈ صورت حال کی پیش گوئی: ’یہ کوئی قطعی سائنس نہیں‘ وجود منگل 25 جنوری 2022
کووڈ صورت حال کی پیش گوئی: ’یہ کوئی قطعی سائنس نہیں‘

حرام سے اجتناب کاانعام وجود منگل 25 جنوری 2022
حرام سے اجتناب کاانعام

سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ وجود منگل 25 جنوری 2022
سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ

حق دو کراچی کو وجود پیر 24 جنوری 2022
حق دو کراچی کو

ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟ وجود پیر 24 جنوری 2022
ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟

اشتہار

افغانستان
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا وجود پیر 24 جنوری 2022
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا

افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی وجود اتوار 23 جنوری 2022
افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی

اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ وجود جمعرات 20 جنوری 2022
اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ

طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ وجود منگل 18 جنوری 2022
طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ

افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز وجود منگل 18 جنوری 2022
افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز

اشتہار

بھارت
بھارت میں گوگل کے سی ای او سندر پچائی کیخلاف مقدمہ وجود جمعرات 27 جنوری 2022
بھارت میں گوگل کے سی ای او سندر پچائی کیخلاف مقدمہ

بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا وجود بدھ 26 جنوری 2022
بھارتی اسکول میں پرنسپل کا بچوں کو نماز کی اجازت دینا جرم بن گیا

شلپا شیٹی فحاشی پھیلانے کے مقدمے سے بری وجود منگل 25 جنوری 2022
شلپا شیٹی فحاشی پھیلانے کے مقدمے سے بری

بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام

بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا
ادبیات
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی

غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری

دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ وجود منگل 21 دسمبر 2021
دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ

سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں وجود جمعرات 16 دسمبر 2021
سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں
شخصیات
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے وجود هفته 15 جنوری 2022
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے

مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل وجود منگل 11 جنوری 2022
مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل

ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے وجود بدھ 05 جنوری 2022
ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر        ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے

سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک وجود پیر 27 دسمبر 2021
سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک

قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ (خواجہ رضی حیدر) وجود هفته 25 دسمبر 2021
قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ  (خواجہ رضی حیدر)