... loading ...

وزیر اعلی سندھ مسلسل فرما رہے ہیں کہ کوئی ہے جو رینجرز اور سندھ پولیس کے درمیان غلط فہمی پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اس کی تحقیقات کی جائے گی۔دونوں فورسز ہی صوبے اور خاص طور پر کراچی میں امن وامان کے قیام میں اہم کردارادا کررہی ہیں۔ادھرسندھ رینجرزکےترجمان نے پولیس کی جانب سےاخبارات میں شائع ہونے والے اشتہارات کو کراچی میں امن کے خلاف سازش قرار دیاہے۔رینجرزکے بیان کو آسان کیاجائے تومطلب یہ بنتاہے کہ کراچی پولیس نے رینجرز اہلکاروں کے خلاف اشتہار شائع کراکے درحقیقت شہر کا امن خراب کرنے کی سازش کی ہے۔ جبکہ پولیس کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہی اپنے علاقے یا صوبے میں امن کا قیام ہے ۔
سندھ پولیس کے حکام سے جب بات کی گئی تو سرکاری طور پر وجود ڈاٹ کام کو یہی کہاگیاکہ آئی جی صاحب نے ثنا اللہ عباسی صاحب کی سربراہی میں کمیٹی(اب کمیٹی کی شکل اور سربراہی میں بھی تبدیلی کر دی گئی ہے) قائم کردی ہے مگراس نمائندے کے اصرارپر اپنا نام خفیہ رکھنے کی شرط پریہ بھی بتایا کہ قانونی طور پر پولیس نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ ثنا اللہ عباسی صاحب کی کمیٹی بھی اس میں سے کچھ برآمد نہیں کرسکے گی ۔(اس کی وجہ بھی آگے چل کر واضح ہوجائے گی۔) ذرایع کا کہناہے کہ وزیراعلی سندھ سید قائم علی شاہ کی ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبرسے ملاقات کے بعدنئی کمیٹی بنادی گئی ہے جس کے سربراہ کراچی پولیس کے سربراہ اورایڈیشنل آئی جی مشتاق مہر کو بنایا گیا ہے اور اراکین میں ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثنااللہ عباسی ، ڈی آئی جی ٹریفک امیر شیخ اور رینجرز کا نمائندہ شامل ہیں۔ ذرایع کا کہناہے کہ سب سے پہلے تنازع کی اصل وجہ کا پتہ لگانا ہوگا۔
یہ امر فطری ہے کہ ایک جنگل میں دو شیربیک وقت بادشاہ نہیں بن سکتے مگر کراچی میں دو سے زائد فورسز کو چھاپوں اور گرفتاریوں کا اختیار ہے بلکہ بعض فورسز کودوسری فورس پر بھی چھاپے مار کر گرفتار کرنے کی چھوٹ بھی ملی ہوئی ہے۔ زیادہ وقت نہیں گزرا، اورنگی ٹاؤن میں ہی رینجرز اہلکار ایک پولیس اہلکار کا پیچھا کرتے ہوئے مومن آباد تھانے میں داخل ہوگئے تھے اور اسے زبردستی اٹھا کر لے گئے ۔پولیس اہلکاروں نے اپنے پیٹی بند بھائی کو بچانے کےلیے مزاحمت بھی کی تھی ۔ بارہ جون کو پیش آنے والے واقعے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایس ایس پی اظفر مشیر نے کہا تھا کہ رینجرز اہلکاروں نے ایس ایچ او کی موجودگی میں پولیس اہلکار محمد عرف جانو کو تھپڑ مارے اور پولیس کے متعلق توہین آمیززبان بھی استعمال کی گئی انہوں نے کہاکہ وہ رینجرز کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کریں گے اس واقعے میں وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے مداخلت کی اور بات آئی گئی ہوگئی۔ مگر پولیس افسران اور اہلکاروں کےدل میں یہ واقعہ پھانس بن کر چبھ گیا۔ ذرایع کہتے ہیں کہ اشتہارات کا واقعہ اس کا ردعمل بھی ہوسکتاہے۔
رینجرز ترجمان کا کہناہے کہ وہ پولیس کی جانب سے اشتہار کی اشاعت کےخلاف قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتے ہیں ۔ اس پر جب قانونی ماہرین سے پوچھا گیاکہ قانون کی کس دفعہ یا شق کےتحت کارروائی کی جاسکے گی تو ان کا کہناتھاکہ پولیس نے انتہائی پُر کاری اور تمام قانونی تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے یہ اشتہارات شائع کرائےہیں۔ کوئی بھی شہری اپنے عزیز کی گمشدگی یا اغواکی ایف آئی آر درج کراسکتاہے۔ اس کےلیے عدالتیں بھی شہری کے حق میں ہی احکامات جاری کرتی ہیں ۔ایف آئی درج ہونے کے بعد پولیس کے لیےلازم ہوجاتاہے کہ وہ قانونی کارروائی کرے چاہے سست رفتارہی کیوں نہ ہو۔گمشدگی کی ایف آئی ردرج ہونے کے بعد بائیس اے اور بی کی کارروائی کے تحت پولیس افسراپنے فرائض انجام دیتی ہے جس کے مطابق اخبار میں اشتہار دیا جا سکتاہے۔ مذکورہ واقعے میں ایس پی انویسٹی گیشن لطیف صدیقی نے بھی محکمہ اطلاعات سندھ کو اشتہار کی اشاعت کےلیےکورنگ لیٹر فراہم کیا ۔سینئر صوبائی وزیر اطلاعات وتعلیم نثار کھوڑو نے تصدیق کی ہے کہ ایس پی کے کورنگ لیٹر کے بعد ہی محکمہ اطلاعات نے اشتہار جاری کیا ۔ ذرایع کا کہناہے کہ ایس پی کی سطح کا افسر بغیر پڑھے تو کورنگ لیٹرپر دستخط کرکے نہیں دے گااس لیے یہ بات ناقابل فہم ہے کہ انہوں نے نادانستہ طور پر لیٹر بھیج دیا انہوں نے اپنا قانونی حق استعمال کیا اور اس سے اُنہیں کوئی نہیں روک سکتاتھا۔
قانونی ماہرین کاکہناہے کہ بظاہر تو رینجرز کے تشخص کو خراب کرنے اوراسے بدنام کرنے کے الزام میں ہرجانے کا دعوی کرنے کے سوا کوئی قانون ایسا نہیں کہ پولیس کے خلاف قانون کو حرکت میں لایا جاسکے۔ رینجرز ترجمان یہ کہتے ہیں کہ یہ امن خراب کرنے کی سازش ہے تو پھر اس سازش کو ثابت کرنے کےلیے جس قدر مشقت کی ضرورت ہے وہ ناممکن کی حدود کو چھوتی ہے۔
پولیس ذرایع کا یہ بھی کہناہے کہ رینجرز کسی بھی شخص کو گرفتار کرکے جس طرح نوے دن کا ریمانڈ لے لیتی ہے۔ پولیس کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی )نے بھی اسی طرح گرفتار ملزمان کا نوے روزہ ریمانڈ لینا شروع کردیاہے۔ جس پر رینجرز اور پولیس کے درمیان ایک سرد جنگ جاری ہے۔ اب اگر سی ٹی ڈی کے سربراہ ثنااللہ عباسی اس کمیٹی کے سربراہ رہتے تو شاید وہ اپنے محکمے کو اس جنگ میں سرنگوں نہ ہونے دیتے ۔ ثنا اللہ عباسی کی سربراہی میں قائم کمیٹی کو مشتاق مہر کی سربراہی سے بدلنے کی پشت پر بھی یہی وجہ بتائی جاتی ہے۔ وجود ڈاٹ کام کو اپنے ذرایع سے پتا چلا ہے کہ یہ تبدیلی وزیراعلی اور ڈی جی رینجرز کی ملاقات کے بعد عمل میں آئی ہے ۔
سندھ حکومت کی اعلی شخصیت کے قریبی ذرائع کے مطابق رینجرز کے حوالے سے پیپلزپارٹی میں تحفظات پائے جاتے ہیں اور اس معاملے میں ان کی ہمدردیاں پولیس کے ساتھ ہیں۔ کراچی میں امن وامان کا کریڈٹ وہ رینجرز کو نہیں دیتی بلکہ وہ پولیس کو برابر کا حصے دارسمجھتی ہے ۔پارٹی کے سربراہ آصف زرداری نے مقتدر ادارے کے حوالے سے پشاور میں کی گئی اپنی متنازع تقریر سے پہلے کراچی میں رزاق آباد پولیس ٹریننگ کالج میں خطاب کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہاتھاکہ کوئی دعوی نہ کرے کہ اس نے امن قائم کیا ،یہ پولیس ہے جس کے دم سے شہر اور صوبے امن قائم ہو اہے ۔ مئی کے مہینے میں زرداری کے خطاب نے واضح کردیا تھاکہ وہ رینجرز کے بجائے پولیس کو اہمیت دینا چاہتے ہیں ۔اگلے دنوں میں مقتدر اداروں سے کشیدگی نے ثابت کردیا کہ وہ پہلے ہی حالات کا اندازا کرچکے تھے۔ اگرچہ وفاق کے دباؤ پر سندھ حکومت بھی رینجرز کے ساتھ ورکنگ ریلیشن رکھنا چاہتی ہے مگر سندھ کے حکومت مخالف بعض حلقوں کا کہناہے کہ تحقیقات میں اس معاملے کودبانے کا پروگرام تھاجسے رینجرز نے فی الحال ناکام بنا دیا ہے ۔
اب سوال یہ ہے امن وامان کے قیام کے ذمہ دار دو اداروں کے درمیان کشیدگی کسی طوفان کا پیش خیمہ بنے گی یا پھر معاملات جو ں کے توں چلتے رہیں گے ۔۔اور سندھ حکومت کا اس جنگ میں کیا کردار ہوگا؟اس کے جواب جو بھی ہو مگر اس حقیقت پر ابھی بہت کم لوگوں کی نظریں ہیں کہ اشتہاروں کے اس کھڑے کیے گیے کھڑاگ کا نتیجہ جو بھی نکلے مگر اس سے پہنچنے والے نقصانات کی تلافی جلدی ممکن نہ ہو۔ ہر سال بعض قوتوں کی جانب سے اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں میں پاکستان کے خلاف لاپتہ لوگوں کا مقدمہ زور شور سےسامنے لایا جاتا ہے۔قانونی ماہرین کےمطابق ان اشتہارات سے اب یہ ثابت کرنا کچھ زیادہ مشکل نہ رہے گا کہ یہ کام اصل میں قانون کے نفاذ کے ذمہ دار ادارے ہی کرتے ہیں۔ اس لیے ان اشتہارات کے بھیانک نتائج بہت دور تک جاتے ہیں۔ جسے قومی اداروں کو نہایت ہوشمندی سے سنبھالنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں کسی نوع کے تنازعات کو ہوا دینے کا مطلب عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر خطرناک فضا پیدا کرنے کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...
اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...
صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...
کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...
دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...
قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...
بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...
حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...
فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...
اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...
رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...