... loading ...

کمال ہے یہ لوگ بھی مر جاتے ہیں!
شیخ راشد بن محمد بن راشد المکتوم مر گئے۔ یہ کیا ہوا؟
۱۲؍ نومبر ۱۹۸۱ء کو یہ پیدا ہوا۔
۱۹؍ ستمبر۲۰۱۵ء کو وہ حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گیا۔
اب دیکھیے نا! عمر ہی کیاہے؟
بس ۳۳ برس اور کچھ ماہ! بس!!
اس دنیا میں کتنے ہی لوگ ہیں جو کسی توشے، کھیسے اور پیسے کے بغیر کتنی زندگی جیتے ہیں۔ مگر راشد المکتوم اُن میں سے تو نہیں تھا۔ وہ کیاتھا؟
وہ متحدہ عرب امارات کے نائب صدر ، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کا سب سے بڑا بیٹا تھا۔ جو ۱۸ بلین ڈالرز کی نقد دولت کے ساتھ دنیاکے دوچار گنے چُنے دولت مندوں میں شامل ہیں۔وہ خود شیخ راشد نور انوسٹمنٹ گروپ اور نور اسلامک بینک کا سب سے بڑا شراکت دار تھا۔یونائیٹڈ ہولڈنگ گروپ دبئی کا مالک تھا۔وہ زبیل ریسنگ انٹرنیشنل کا بھی مالک تھا۔دبئی ہولڈنگ کمپنی کا بھی وہ سب سے بڑا شراکت دار تھا۔ سب کمپنیاں اربوں ڈالر میں کھیلتی کھلاتی ، چلتی چلاتی ، اٹھلاتی لہراتی ہیں۔کمپنیاں سب کی سب ویسے ہی ہیں،بس شیخ راشد اب نہیں ہیں!
شیخ راشد ۳۳ برس کی عمر میں دولت کے ایسے انبار میں کھیلتا تھا جس کا دنیا میں کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔ وہ ایسے گھوڑے پالتا تھا جس کے نام دام ، شہر شہر گام گام گھومتے گھامتے تصور بھی نہیں کیے جاسکتے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی ساری دولت موت کی راہ میں کوئی رکاؤٹ کیوں نہیں بنی۔ ابھی ابھی جناح اسپتال سے ایک آدمی کے مرنے کی خبر آئی ہے۔ وہ ہٹا کٹا تھا، معمولی سا دل میں درد اُٹھا ۔ اور چارہ گروں نے چارہ گری نہ کی۔ مریض کی جیب خالی اور ہاتھ دعاؤں سے بھاری تھے۔ چارہ گر نے کہا دعائیں ہم کسی اور سے کروا لیں گے ، پیسوں کا بتائیں کب دیں گے؟ ابھی چندہ جمع ہورہا تھاکہ عبدالغنی کی جان بھی اڑن چھو ہوگئی۔ کتنے ہی عبدالغنی روز ہی اس دنیا سے اس حال میں چلے جاتے ہیں جن کے کھیسے میں چند پیسے ہوں تو وہ اپنی جان بچا بھی سکتے ہیں، مگر ہمارے پاس ان سب سوالوں سے بچنے کا ایک آسان نسخہ بھی ہے۔ ہر ذی نفس کو ایک دن موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ بیماری تو بس ایک بہانہ ہے۔ موت اپنے وقت پر آئی ، ٹلتی کہاں ہے؟ شاید یہ چارہ گر بھی اِسی نہ ٹلنے والی موت کے تب مدد گار ہوتے ہوں گے جب وہ پیسوں کے حساب میں مریض کو مرتا چھوڑ کر اپنی راہ لے لیتے ہیں۔ مگر راشد المکتوم کے ساتھ یہ مسئلہ تو نہیں تھا! وہ پھر بھی مر گیا!
تاریخ میں ایک دوسرا منظر بھی محفوظ ہے۔
ہارون الرشید کادور ہے۔ اور شہر کے دروازے پر ایک ضرورت مند خاتون کھڑی ہے۔ گھوڑے پر سوار کسی رئیس کی نگاہ اُس پر پڑتی ہے، وہ اس سے پوچھتا ہے کہ مسئلہ کیا ہے؟ ضرورت مند خاتون اپنی ضرورت بتاتی ہے اور رئیس اُس کے پاس موجود اشرفیوں کی پوری تھیلی اُس کے حوالے کرتا ہوا ،ہواؤں کے ساتھ فراٹے بھرنے لگتا ہے۔ عورت اُس کو جاتے ہوئے دیکھتی ہیں اور تاسف سے ایک فقرہ کہتی ہے۔ ہائے! اس دنیا میں اِس جیسے لوگ بھی مر جائیں گے!
گھوڑے پر سوار رئیس بھی مر جاتا ہے۔ اور نامعلوم دولت کے انبار رکھنے والا شیخ راشد المکتوم بھی مر جاتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ کوئی چھوڑ کر کیا جاتا ہے۔ شیخ راشد کا اندوختہ مرنے کے بعد اُس کے کسی کام کا نہیں۔ اور دردمند رئیس تاریخ کے دریچے پر کھڑا ہمیشہ ایک تحریک کا باعث بنا رہے گا۔ دنیا شیخ راشد المکتوم ایسے لوگ نہیں ، درمند دل والے بناتے ہیں۔
دردِدل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرّوبیاں
بات صرف اتنی بھی تو نہیں۔ یہ لوگ خیرات بھی تو کم نہیں کرتے۔ مثلاً مرنے والے کے زندہ باپ نے اپنے باپ کے نام سے سو ملین ڈالر سے ایک خیراتی ادارہ قائم کر رکھا ہے۔ کیا یہ خیراتی ادارہ کسی مقصد میں نہیں ڈھل سکتا ۔ مسلمانوں کو اس وقت ضرورت کس چیز کی ہے؟ مرنے والے کے باپ نے باپ رے باپ دبئی کو کیا سے کیا بنا دیا ہے؟ دنیا کا سب سے اونچا منارہ یہاں تعمیرہو رہا ہے۔ سب سے بڑی عمارت کاخواب یہاں دیکھا جاتا ہے۔ ہر وہ چیز جودنیا میں کہیں پر بھی ہے ، اُسے وہ بڑا کرکے اپنی زمین پر کھڑا کر دینا چاہتا ہے۔ بڑی عمارت ، بڑا مینارہ، بڑا باغ، بڑی نمائش، بڑا جشن، کھیل کا بڑا میلہ، گھڑ سواری کی بڑی دوڑ۔دولت بڑی اور خواہشات اُس سے بھی بڑی۔۔ مگر کیا ان حکمرانوں نے کبھی بڑا آدمی بننے کا بھی گمان پالا؟ کیا کبھی اُنہوں نے ایک بڑے انسان کے طور پر پہچانے جانے کی آرزو بھی محسوس کی؟ دنیا کے ہر بڑے آدمی نے خود کو تاریخ سے ہم کلام پایا ہے اور وہ اس سوال کے روبرو کھڑا رہا ہے کہ اُسے تاریخ میں کس نام سے یاد رکھا جائے؟مگر دبئی اور امارات کے حکمرانوں نے کبھی یہ سوچا نہیں۔ جب وہ یہ سوچیں گے تو اپنے خیراتی اداروں کو بند اور اپنی نمائشوں سے توجہ ہٹا کر ایک کام کریں گے۔دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی کا قیام !کاش دنیا کی سب سے بڑی جامعات کے قیام کے لیے ان کی وہ دولت کام آئے جو خود اُن کے بھی کسی کام نہیں آرہی۔ یہاں تک کہ قزاق اجل آکر اُنہیں اُچک لیتا ہے!
ہاں عبدالغنی کی طرح شیخ راشد المکتوم بھی مرجاتا ہے!
مگر تُف ہے! کیسے مرجاتاہے!
گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...
28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...
خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...
طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...
تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...
حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...
گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...
یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...
ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...
اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...
سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...
جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...