... loading ...

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کو آج پانچ سال بیت گئے۔ برطانیہ کی انصاف پسند سرزمین پر قتل جیسا واقعہ ہوگیا، لیکن اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود آج تک ملزمان انصاف کے کٹہرے میں نہیں آسکے۔ لیکن لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے ایک مرتبہ پھر تحقیقات سے اپنی وابستگی کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ قتل کے ذمہ داران کی تلاش جاری ہے۔
بدھ کو اپنی ویب سائٹ پر جاری ہونے والے ایک بیان میں اسکاٹ لینڈ یارڈ نے عمران فاروق قتل کیس کی تحقیقات پر ہونے والی پیشرفت سے بھی آگاہ کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ تحقیقات کے دوران پولیس اب تک ساڑھے 4 ہزار سے زائد افراد سے بات کرچکی ہے جبکہ 7 ہزار 700 کے قریب دستاویزات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 4 ہزار 325 دستاویز قبضے میں بھی لی گئی ہیں۔
ڈاکٹر عمران فاروق کو 16 ستمبر 2010ء کو اس وقت اپنے گھر کے باہر قتل کردیا گیا تھا جب وہ اپنے گھر واپس جا رہے تھے۔ ان کے قتل میں ایک گھریلو چاقو اور اینٹ کا استعمال کیا گیا تھا، جو جائے وقوعہ سے برآمد بھی ہوئے۔
اسکاٹ لینڈ یارڈ کا کہنا ہے کہ”عمران فاروق کا قتل ایک انتہائی سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت اور کئی افراد کی مدد کے ذریعے کیا گیا ہوگا، اور ہوسکتا ہے کہ اس میں چند افراد نادانستہ طور پر مدد یا معلومات فراہم کرنے میں شامل رہے ہوں۔”
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات کے سلسلے میں پاکستانی اداروں کے ساتھ مسلسل رابطہ ہے تاکہ وہ شواہد اکٹھے کیے جا سکیں جو قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے تک لا سکیں۔ پولیس نے اب تک معاملے میں محسن علی سید اور کاشف خان کامران کو مطلوب قرار دیا ہے۔ 30 سالہ محسن فروری 2010ء میں برطانیہ گئے تھے اور عمران فاروق کے قتل کے دن یعنی 16 ستمبر 2010ء کو فرار ہوئے جبکہ 36 سالہ کاشف 10 ستمبر 2010ء کو پہنچے اور محض چھ روز بعد مبینہ طور پر یہ واردات کرنے کے بعد برطانیہ سے بھاگ گئے۔ دونوں نے لندن اکیڈمی آف مینجمنٹ سائنسز میں داخلہ حاصل کرکے برطانیہ کا ویزا حاصل کیا تھا اور لندن میں مختلف مقامات پر قیام بھی کیا۔ تحقیقات اور فون ریکارڈز سے ظاہر ہوا ہے کہ دونوں عموماً ایک ساتھ حرکت کرتے تھے اور مبینہ طور پر متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کے ایک قریبی رشتہ دار کے ساتھ گہرے رابطے میں تھے۔ 16 ستمبر کو قتل کے چند گھنٹوں بعد ہی وہ سری لنکا جانے والی ایک پرواز میں تھے اور وہاں سے ہوتے ہوئے 19 ستمبر کو کراچی پہنچے۔ کہا جا رہا ہے کہ میٹروپولیس پولیس کے پاس خاطر خواہ شواہد موجود ہیں کہ محسن اور کاشف ہی نے عمران فاروق کا قتل کیا اور برطانیہ سے بھاگے۔
محسن علی دو ماہ بعد بلوچستان میں فرنٹیئر کور کے ہاتھوں گرفتار ہوئے جہاں ان کے ہمراہ ایک اور ملزم خالد شمیم کو دھر لیا گیا تھا۔ یہ وہی خالد شمیم ہیں جن سے جولائی میں اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم نے اپنے دورۂ پاکستان میں تفتیش کی تھی اور معظم علی خان سے بھی سوال و جواب کیے تھے۔ رواں سال کراچی سے گرفتار ہونے والے معظم علی خان پر الزام ہے کہ انہوں نے محسن اور کاشف کے ٹکٹ، ویزے اور مالی معاملات کا انتظام کیا تھا۔ البتہ کاشف کے بارے میں فی الوقت کچھ نہیں معلوم بلکہ یہ افواہ بھی ہے کہ وہ زندہ نہیں ہیں۔ خالد شمیم پر الزام ہے کہ وہ قتل کے منصوبے کا حصہ ہیں اور تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ وہ محسن اور کاشف سے ملے اور معظم سے ان کی ملاقات کا اہتمام بھی کیا۔
اپنے تمام ایم پی ایز کو ہر شہر میں احتجاج کی ہدایت کرتا ہوں، ہمارا رویہ آنے والے منگل کو مزید سخت ہوگا، پورا پاکستان دیکھے گا پی ٹی آئی ایک مٹھی ہو کر میدان میں نکل رہی ہے،وزیراعلیٰ پولیس نے اسلام آباد میں منتخب نمائندوں کو روکنے کیلئے فائرنگ کی،وقت نے ثابت کر دیا سائفر معامل...
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے متعلقہ افسران کو بلا کر ہدایات دے دیں مجھے یقین دلایا ہے کہ مقدمات عید کے بعد لگ جائیں گے، سلمان اکرم راجا چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے عمران خان کے مقدمات عید کے بعد مقرر کرانے کی یقین دہانی کرا دی۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلم...
نجی کمپنیوں کے مالک، سی ای اوز، پارٹی بوائز، سیاستدان، بیوروکریٹ شامل ہیں شوبز کی بیشتر شخصیات کے نام، نمبرز اور گھر کے پتے حاصل کرلیے گئے ہیں ،ذرائع قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں انکشاف ہوا ہے کہ انمول پنکی کے کسٹمرز میں 881 اہم شخصیات شامل تھیں۔نجی کمپنیوں کے مالک، سی ای ا...
متحدہ قومی موومنٹ قیادت کی شہباز شریف سے ملاقات ،کسی بھی آئینی ترمیم پر بات نہیں ہوئی،ذرائع آئندہ بجٹ میں ٹیکس ریلیف پر بات کی،کراچی پیکیج اور کے فور پر گفتگو کی، اندرونی کہانی سامنے آگئیں متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم) قیادت کی وزیراعظم سے ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ...
پراکسیز اور منفی پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کی پیشرفت روکنے کی کوششیں ناکام ہوں گی، عوام کی ثابت قدم حمایت سے مسلح افواج دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے پُرعزم ہیں بلوچستان میں امن و استحکام اور ریاستی رٹ برقرار رکھنے کیلئے افسران اور جوانوں کے بلند حوصلے، آپریشنل تیاری اور پیشہ و...
انکوائری کے دوران عدالت میںپیشی کے وقت پنکی کو موبائل فون دینے کا انکشاف سیکیورٹی میں کئی خامیاں سامنے آئیں ، ملزمہ کو غیر معمولی سہولتیں فراہم کی گئیں،رپورٹ کوکین گینگ کی سرغنہ انمول عرف پنکی کی عدالت میں پہلی پیشی کے دوران غیر معمولی پروٹوکول دیئے جانے کے معاملے پر کراچی پ...
نظم و ضبط، قیادت اور پیشہ ورانہ تربیت کی درخشاں روایات کا امین ہے،شہباز شریف ایران، امریکا جنگ نے خطے کو غیریقینی صورتحال، معاشی چیلنجز سے دوچار کر دیا،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہمیں اپنے محافظوں پر فخر ہے، جو ہماری خودمختاری کے نگہبان ہیں۔کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئ...
سکیورٹی فورسز کا خورج کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر ضلع شیوا میں کامیاب کارروائی انڈین ا سپانسرڈشرپسندوں سے فائرنگ کا تبادلہ، اسلحہ ، گولہ بارود برآمد،آئی ایس پی آر سکیورٹی فورسز کے شمالی وزیرستان میں آپریشن کے دوران 22 خوارج جہنم واصل ہوگئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئ...
امریکا ایران جنگ کے بادل پھر منڈلانے لگے،امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کی ایران جنگ دوبارہ چھڑنے کے امکان پر گفتگو ، ٹرمپ اس ہفتے قومی سلامتی ٹیم سے مشاورت کریں گے پینٹاگون نے ایران میں اہداف کا چنا ئوکرلیا، توانائی اور انفرااسٹرکچر سمیت مزید اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بن...
عالمی حالات کو جواز بناکر مہنگائی، عام آدمی 2 وقت کی روٹی سے محروم ہوگیا، سیاستدانوں کی کمپرومائز پالیسیوں نے جمہوریت کو کمزور کیا،22 مئی کو ملکگیرمہنگائی کیخلاف احتجاجی تحریک شروعہوگی حکمران امن و امان کے قیام میں سنجیدہ نہیں،ملک میں باغیانہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے،مسلح گروہ فوجی...
تفتیشی افسر پر تشدد، دھمکیوں اور زبردستی مخصوص افراد کے نام لینے کیلئے دبائو ڈالنے کے سنگین الزامات عائد کردیئے میڈیا نمائندوں کے کمرہ عدالت میں داخلے پر پابندی ،صحافیوں کو دھکیل کر ملزمہ کے قریب آنے سے روکنے کی کوشش منشیات اور قتل کے مقدمات میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی نے...
فیصل ایدھی کے بیٹے سعد ایدھی بھی شامل، غزہ کو امداد پہنچانے کا ایک پرامن مشن ہے اسرائیلی فورسز نے گرفتارکرلیا،وطن واپس لانا پاکستان کی ذمے داری ہے،سعدایدھی غزہ کے لیے روانہ ہونے والے امدادی مشن میں شامل پاکستان کے سماجی کارکن سعد ایدھی سمیت متعدد بین الاقوامی کارکنوں کو اسرائ...