وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

مکتبۂ فکر اور تقرری

جمعرات 27 اگست 2015 مکتبۂ فکر اور تقرری

Urdu

صورتِ حال کچھ یوں ہے کہ ’’نہ تم باز آؤ، نہ ہم باز آئیں‘‘۔ ہم عوام کو مرد بنانے پر تلے ہوئے ہیں لیکن یہ جو برقی ذرائع ابلاغ ہیں، یہ ہمارے مقابلے پر ڈٹے ہوئے اور عوام کو ’’مونث‘‘ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ یہ ذرائع ابلاغ برق رفتار بھی ہیں اور چوبیس گھنٹے غلطی کا ابلاغ کرتے رہتے ہیں۔ سمع و بصر دونوں طرف سے حملہ آور ہیں۔ اس پر مستزاد جو سیاستدان ٹی وی چینلوں پر جلوہ فرما ہوتے ہیں وہ بھی عوام کو مونث ہی کہتے ہیں۔ حال یہ ہوگیا ہے کہ خود ہمارے بچے بھی یہی بولنے لگے ہیں کہ ’’عوام کچھ کرتی ہی نہیں‘‘۔ جو مضامین موصول ہوتے ہیں ان میں عوام کو مذکر بناتے بناتے جی ’’اوب‘‘ جاتا ہے۔ اوب کا لفظ اب متروک ہوتا جارہا ہے حالانکہ اکتاہٹ کے معنوں میں اچھا ہے، ہندی الاصل ہے۔

گزشتہ دنوں (پیر،27 جنوری) جسارت کی ایک خبر میں ’’2 ٹوک‘‘ پڑھ کر جی خوش ہوگیا۔ اب شاید دوراہا، دو طرفہ، دوبار وغیرہ بھی اسی طرح لکھا جائے۔ کچھ تو اردو کی خبرایجنسیاں اپنا کمال دکھاتی ہیں اور کچھ نیوز ڈیسک پر بیٹھے ہوئے ماہرین اور پھر پروف ریڈر صرفِ نظر کرتے ہیں۔ یہی کیا، بڑے معروف قلم کاروں اور ادیبوں کو مذبح خانہ اور مقتل گاہ لکھتے ہوئے دیکھا ہے جو چھپا بھی ہے۔ ان الفاظ میں خانہ اور گاہ غیر ضروری ہیں۔ مصالحہ اور مسالہ تو متنازع فیہ ہیں۔ اصل تو مصالحہ ہی ہے جس کا مطلب ہے ’’اصلاح‘‘ کرنے والا۔ حکیموں اور ماہرین مطبخ نے طویل تجربے کے بعد ایسے مصالحے تیارکیے جو نہ صرف کھانے کی اصلاح کریں بلکہ ایک دوسرے کے نقصانات کا ازالہ بھی کریں۔ تاہم اب لوگوں نے سہولت کے لیے اسے ’’مسالہ‘‘ کرلیا ہے۔ ایک صاحب کا کہنا ہے کہ یہ بھی ٹھیک ہے کہ یہ چیزیں مسل کر ڈالی جاتی ہیں۔ مگر اب مسلنے اور پیسنے کا جھنجھٹ ہی ختم ہوتا جارہا ہے۔

ایک اور معاملہ ہے جس سے ہم مسلسل الجھتے رہتے ہیں، اور وہ ہے ’’لیے، دیے، کیے وغیرہ۔ یہ الفاظ ہمزہ کے ساتھ لئے، دئے، کئے اتنی کثرت سے لکھے جارہے ہیں کہ شاید کچھ عرصہ بعد ان ہی کو فصیح قرار دے دیا جائے۔ لیکن سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ہمزہ کے ساتھ تو تلفظ بدل جاتا ہے، مثلا ’’گئے‘‘۔ اب اسی وزن پر لئے اور کئے وغیرہ کو پڑھنا چاہیے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ لغت میں بھی یہ الفاظ لیے، دیے، کیے یعنی ہمزہ کے بجائے ی کے نکتوں کے ساتھ ہیں۔ سید مودودیؒ زبان کے لحاظ سے بھی مستند ہیں۔ انہوں نے اپنی تمام تحریروں اور تفہیم القرآن میں بھی اسی طرح استعمال کیا ہے، لیکن اُس وقت حیرت ہوتی ہے جب مولانا مرحوم کے خوشہ چین اور جماعت کے عہدہ دار اس کا لحاظ نہیں رکھتے جیسے انہوں نے مولانا کو توجہ سے پڑھا ہی نہ ہو۔ تاہم حافظ محمد ادریس صاحب اس کا خاص خیال رکھتے ہیں اور لیے، دیے رہتے ہیں۔ گزشتہ دنوں منصورہ سے ایک ہدایت نامہ بسلسلہ انتخابات جاری ہوا جس میں ’’میعاد‘‘ کو معیاد لکھا گیا ہے۔ یقینا یہ کمپوزنگ کی غلطی ہوگی۔

’’آئے روز‘‘ کی غلطی بہت عام ہے۔ بقول طالب الہاشمی یہ زبردستی کی ترکیب ہے۔ اس کا لکھنا اور بولنا روزمرہ کے خلاف ہے۔ صحیح روزمرہ ’’آئے دن‘‘ ہے۔ اسی طرح ’’دن بہ دن‘‘ کی ترکیب بھی غلط ہے۔ ہم نے ایک جگہ ’’دن پر دن‘‘ لکھا تو کمپوزر نے ہماری ’’تصحیح‘‘ کردی۔ یا تو دن پر دن لکھا جائے یا روز بروز۔ ’’آئے روز‘‘ کی طرح ’’دن بہ دن‘‘ بھی روزمرہ کے خلاف ہے۔ ایک ترکیب ’’مکتبہ فکر‘‘ بہت عام ہے۔ یہ غلط ہے۔ صحیح ترکیب ’’مکتب فکر‘‘ ہے۔ جمع کی صورت میں مکاتیب فکر کے بجائے ’’مکاتب فکر‘‘ لکھنا چاہیے کیونکہ مکتب کی جمع مکاتب ہے، مکاتیب نہیں۔ مولانا مرحوم نے ہمیشہ مکتب فکر لکھا ہے اور ہم نے بھی اپنی اصلاح کرلی ہے، ورنہ ہم بھی مکتبۂ فکر لکھتے اور بولتے رہے ہیں۔

’’تقرر‘‘ کی جگہ ’’تقرری‘‘ بہت عام ہوگیا ہے۔ اخبارات میں یہی لکھا جارہا ہے۔ یہی نہیں بلکہ انکساری، تنزلی، قراری وغیرہ بھی ماہرین لسانیات کی رائے میں بالکل غلط ہیں ورنہ فصاحت کے خلاف تو ہیں ہی۔ جو، کاش اور گو کے ساتھ ’’کہ‘‘ کا اضافہ بھی فصاحت کے خلاف ہے لیکن ’’جو کہ‘‘، ’’کاش کہ‘‘، ’’گو کہ‘‘ بہت عام ہے۔ کہیں پڑھا تھا کہ ’’تابع دار‘‘ بھی غلط ہے۔ اس کا مطلب تابع رکھنے والا ہے نہ کہ اطاعت گزار۔ چنانچہ بہتر ہے کہ صرف تابع لکھا جائے۔

اب آتے ہیں کراچی سے موصول ہونے والے ایک خط کی طرف۔ خط جناب سلیم الدین کی طرف سے ہے۔ ہمیں یاد پڑتا ہے کہ انہوں نے اس سے پہلے ٹی وی چینلز پر تلفظ کی عام غلطیوں کی طرف توجہ دلائی تھی۔ امید ہے کہ وہ آئندہ بھی توجہ دلاتے رہیں گے۔ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ یہ کالم ’’صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لیے‘‘۔ جناب سلیم الدین لکھتے ہیں:

’’میں نے کل ہی فرائیڈے اسپیشل، 13 سے 19 نومبر اور 22 سے 28 نومبر کو پڑھا۔ زباں بگڑی میں دو باتیں بیان کرنا چاہتا ہوں۔

وہ آئے بزم میں اتنا تو میر نے دیکھا
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی

اس شعر کو محترم استاد شان الحق حقی نے میر ہی کا ثابت کیا تھا لیکن یہ شعر فکر رامپوری کا بھی نہیں ہے۔ یہ شعر عزم رامپوری کا ہے، ان کے دیوان میں موجود ہے، اور یوں ہے:

وہ آئے بزم میں اتنا تو عزمؔ نے دیکھا
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی

بزم اور عزم ہم قافیہ ہیں اور اس سے شعر کا حسن بھی بڑھ گیا ہے۔

2۔ دو چشمی ھ اردو کا کوئی حرف نہیں ہے، لہٰذا کوئی لفظ اس سے شروع نہیں ہوتا ہے۔ یہ دوسرے حرف کے ساتھ مل کر آواز دیتا ہے۔

جیسے ب کے ساتھ ’بھ، پھ، تھ، ٹھ، چھ، وغیرہم۔ یہ ملا کر پڑھے جاتے ہیں، جب کہ ’’ہ‘‘ حرف کی علیحدہ آواز دیتا ہے۔

بہاری (بے ہاری)، بھاری (بھ ا ر ی)، دہلوی (دے ہل و ی)، دھلوی (دھ لوی) وغیرہ۔ اردو کا مزاج عربی کا نہیں ہے۔ امید ہے تصحیح فرما لیں گے۔‘‘

ہمارا خیال ہے کہ میرؔ سے منسوب شعر کے پہلے مصرع پر کئی شعرا نے حق جمایا ہے۔ کچھ شعر ہم نے جمع بھی کیے تھے۔ ان میں سے ایک میں نہ تو فکر تھا نہ عزم، بلکہ یہ کوئی ’’برق صاحب‘‘ تھے۔ انہوں نے بھی بزم میں جاکر چراغ گل کردیے تھے۔ بہرحال، سلیم الدین صاحب کا شکریہ۔ دوچشمی ھ پر ہماری رائے محفوظ ہے۔


متعلقہ خبریں


وزیراعظم نواز شریف اپنی شیروانی کہیں رکھ کر بھول گئے؟ عارف عزیز پنہور - منگل 27 ستمبر 2016

زندہ قومیں اپنی زبان کو قومی وقار اور خودداری کی علامت سمجھا کرتی ہیں اور اسی طرح قومی لباس کے معاملے میں بھی نہایت حساسیت کا مظاہرہ کرتی ہیں ۔ روس‘ جرمنی‘ فرانس اور چینی رہنما کسی بھی عالمی فورم پر بدیسی زبان کو اپنے خیالات کے اظہار کا ذریعہ نہیں بناتے، بلکہ اپنی ہی زبان میں خطاب کرتے ہیں ،یہ معاملہ صرف بڑی طاقتوں کا ہی نہیں ہے ایران کی رہنما بھی عالمی فورمز پر اظہار خیالات کیلئے فارسی کا ہی سہارا لیتے ہیں، جبکہ عرب لیڈر بالعموم عربی میں ہی خطاب کرتے ہیں یہاں تک کہ ہمارے...

وزیراعظم نواز شریف اپنی شیروانی کہیں رکھ کر بھول گئے؟

وفاقی وزراء بھی نفاذِ اردو کے مخالف ہیں، مشیرِ وزیراعظم عرفان صدیقی وجود - پیر 25 جولائی 2016

وزیر اعظم نواز شریف کے مشیر عرفان صدیقی نے قومی زبان اردو کے سرکاری زبان کے طور پر نفاذ کے حوالے یہ اعتراف کیا ہے کہ اس میں صرف بیورو کریسی ہی رکاوٹ نہیں بلکہ اس سلسلے میں عدالتی فیصلے کے نفاذ کے خلاف مختلف وزراء بھی ہیں۔ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے پاکستان قومی زبان تحریک کے زیراہتمام قومی نفاذ اردو کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ قومی زبان تحریک کے زیراہتمام منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا کہ ہر صوبے میں اردو اور علاقائی زبان پڑھائی...

وفاقی وزراء بھی نفاذِ اردو کے مخالف ہیں، مشیرِ وزیراعظم عرفان صدیقی

’’کھُد بُد‘‘ اور ’’گُڈمُڈ‘‘ اطہر علی ہاشمی - پیر 11 جولائی 2016

مجاہد بک اسٹال، کراچی کے راشد رحمانی نے لکھا ہے کہ آپ کو پڑھ کر ہم نے اپنی اردو درست کی ہے لیکن 11 اپریل کے اخبار میں مشتاق احمد خان کے کالم نقارہ کا عنوان ’’لمحہ فکریہ‘‘ ہے۔ ہے نا فکر کی بات! صحیح ’لمحہ فکریہ‘ ہے یا ’لمحہ فکر‘؟ عزیزم راشد رحمانی، جن لوگوں نے سید مودودیؒ کو نہیں پڑھا وہ کچھ بھی لکھ سکتے ہیں۔ سید نے ہمیشہ ’لمحہ فکر‘ ہی لکھا اور یہی صحیح ہے۔ وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار، داخلہ کے وزیر بھی ہیں اور وزیروں کے چودھری بھی، اس لیے ان کو بجا ہے کہ وہ ذمے دار کو ...

’’کھُد بُد‘‘ اور ’’گُڈمُڈ‘‘

فصل کی برداشت اور تابع دار اطہر علی ہاشمی - بدھ 22 جون 2016

پنجاب میں زراعت کے تعلق سے ایک اصطلاح نظر سے گزری جو ہمارے لیے نئی ہے اور ممکن ہے بہت سے لوگوں کے لیے بھی نئی ہو۔ یہ ہے ’’برداشت‘‘ کا استعمال۔ ویسے تو عوام ہی بہت کچھ برداشت کررہے ہیں اور صورتِ حال پر برداشتہ خاطر (بیزار، اداس، آزردہ) بھی ہیں۔ لیکن ایوب زرعی تحقیقاتی ادارے، فیصل آباد کے ڈائریکٹر نے کسانوں کو ہدایت کی ہے کہ ’’گندم کی فصل برداشت کے مرحلے میں داخل ہوگئی، بروقت کٹائی کا انتظام کرلیں‘‘۔ اسی طرح لاہور سے محکمہ زراعت کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ ’’چنے کی فصل برداشت ...

فصل کی برداشت اور تابع دار

خودرا فضیحت اطہر علی ہاشمی - اتوار 12 جون 2016

فارسی کی ایک مثل ہے ’’خودرا فضیحت دیگراں را نصیحت‘‘۔ یعنی خود تو غلط کام کرنا، دوسروں کو نصیحت کرنا۔ فضیحت کا مطلب رسوائی، ذلت، بدنامی بھی ہے۔ یہ محاورہ یوں یاد آیا کہ کچھ قارئین غلطیوں کی نشاندہی کرکے یہی مثل سنا دیتے ہیں۔ اب ہم کیا کریں کہ اپنے جن صحافی ساتھیوں کی زبان درست کرنے کی سعیٔ نامشکور کرتے ہیں وہی پڑھنے کی زحمت نہیں کرتے اور طعنہ ہمیں سننا پڑتا ہے۔ ’’ہبہ‘‘ عطیے وغیرہ کو کہتے ہیں۔ لڑکیوں کے نام بھی رکھے جاتے ہیں کہ وہ بھی عطیۂ خداوندی ہیں۔ لیکن جانے کیوں یہ نا...

خودرا فضیحت

’’غیر معمولی ترقیاں و مراعاتیں‘‘ اطہر علی ہاشمی - بدھ 20 اپریل 2016

ایک ہفت روزہ کے سرورق پر سرخی ہے ’’پیپلزپارٹی تتّر بتّر ہوسکتی ہے‘‘۔ یعنی دونوں جگہ ’ت‘ پر تشدید ہے۔ پڑھ کر خوشگوار حیرت ہوئی، کیونکہ عموماً لوگ بغیر تشدید کے تتربتر کردیتے ہیں جب کہ تشدید کے ساتھ ہی صحیح ہے۔ فرہنگ آصفیہ، فیروزاللغات وغیرہ میں بھی اسی طرح ہے، اور اردو کی کلاسیکی کتاب باغ و بہار میں بھی دونوں ٹکڑوں میں ’ت‘ پر تشدید ہے۔ رشید حسن خان کے مطابق جو لوگ بغیر تشدید کے تتربتر کہتے ہیں، یہ بھی درست ہے۔ ایک جملہ عموماً استعمال کیا جاتا ہے ’’لگ گیا تیر، نہیں تو تکّا‘‘...

’’غیر معمولی ترقیاں و مراعاتیں‘‘

دار۔و۔گیر پر پکڑ اطہر علی ہاشمی - بدھ 03 فروری 2016

گزشتہ تحریر میں ہم نے ’دارو‘ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’یاد رہے دارو گیر میں بھی دارو موجود ہے لیکن یہ ایک الگ لفظ ہے۔ دارو گیر کا دارو سے کیا تعلق ہے، یہ ماہرین ہی بتاسکتے ہیں‘‘۔ یہ معاملہ ازراہِ تفنن ہم نے ماہرین پر چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ سب سے پہلے تو جسارت کے پروف ریڈر گزجناب ندیم نے اطلاع دی کہ یہ تو دو الگ الگ الفاظ ہیں یعنی دار۔و ۔ گیر۔ اور پھر ماہرین نے دارو گیر شروع کردی۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ ماسٹرز ایسوسی ایشن ضلع رحیم یار خان کے صدر محمد انور علوی نے لاہور سے متوجہ کیا ہے ...

دار۔و۔گیر پر پکڑ

’’مولک‘‘ اور ’’ایلم‘‘ اطہر علی ہاشمی - جمعه 29 جنوری 2016

علامہ طاہر اشرفی علماء کے سرخیل ہیں۔ انہوں نے غالباً عربی بھی پڑھی ہوگی، ورنہ اردو تو ضرور پڑھی ہوگی۔ اب اگر اتنے کلّے‘ ٹھلے کے اور جسیم عالم بھی ملک کو ’’مولک‘‘ کہیں تو تھوڑی سی حیرت تو ہوگی۔ اگر پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اﷲ علم کو ’’ایلم‘‘کہیں تو یہ اُن کو زیب دیتا ہے بلکہ اُن کی شخصیت سے مطابقت بھی رکھتا ہے۔ ہم نے وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کو کبھی ’’ذمے وار‘‘ کہنے پر نہیں ٹوکا کہ انہیں ٹوکنے کے لیے وزیراعلیٰ سندھ کافی ہیں۔ ایک بہت پڑھے لکھے صحافی جناب خورش...

’’مولک‘‘ اور ’’ایلم‘‘

یارب! اپنے خط کو ہم پہنچائیں کیا علی منظر - منگل 19 جنوری 2016

آج بہت دنوں بعد کسی کو خط لکھنے کے لئے قلم اٹھایا، تو خیال آیا کہ ہمیں دوست کا پتہ ہی معلوم نہیں ۔ سستی، بے پروائی اور وقت کی کمی کے بہانے تو پہلے بھی تھے، پھر بھی ہم طوعاً وکرہاً خط لکھ ہی لیا کرتے تھے۔ برق گرے اس ای میل پر جب سے ہم اپنے کمپیوٹر کے ذریعے انٹرنیٹ سے متصل ہوئے ہیں، ہمیں دوستوں کا پتہ نہیں اُن کا برقی پتہ محفوظ رکھنا پڑتا ہے۔ اور موبائل کی آمد کے بعد سے تو گویا قلم و کاغذ سے رہا سہا تعلق بھی جا تا رہا۔ خط و کتابت اب ماضی بعید کا قصہ بن چکا ہے۔ کورے کاغذ کی خوشب...

یارب! اپنے خط کو ہم پہنچائیں کیا

پڑھتے کیوں نہیں؟ ارشاد محمود - جمعه 11 دسمبر 2015

ایک دوست کی فرمائش پر اردوڈائجسٹ خریدنے اسلام آبادکے ایک کتاب گھر جانا ہوا۔ غیر ارادی طور پرمالک سے گپ شپ شروع ہوگئی۔ کہنے لگا کہ ابھی بھی اردو ڈائجسٹ کے کافی قارئین ہیں لیکن سب معمر افراد ہیں۔ نوجوانوں میں خال خال ہی کوئی ڈائجسٹ خریدتا ہے حتیٰ کہ سب رنگ اور خواتین ڈائجسٹ کے بھی نئے خریدار بن نہیں رہے ۔ بتانے لگا کہ کسی زمانے میں انگریزی کی ریڈرز ڈائجسٹ دُکان پر دو سوکے لگ بھگ آتی اور ہاتھوں ہاتھ نکل جاتیں۔ طلبہ اورکم آمدنی والے نوجوان پرانے شمار ے سستے داموں فراہم کرنے ...

پڑھتے کیوں نہیں؟

یہ وطیرہ کیا ہے؟ اطہر علی ہاشمی - پیر 16 نومبر 2015

جناب پرویز رشید وفاقی وزیر اطلاعات ہیں اور اس لحاظ سے تمام صحافیوں کے سرخیل ہیں۔ ان کا فرمانا ہمارے لیے سند ہے۔ لاہور کا معرکہ جیتنے پر وہ فرما رہے تھے کہ فلاں کی تو ضمانت تک ضَبَطْ (بروزن قلق‘ شفق‘ نفخ وغیرہ یعنی ضَ۔بَط) ہوگئی۔ اب جو مثالیں ہم نے دی ہیں نجانے ان کا تلفظ وہ کیا کرتے ہیں۔ بطور مثال ہم نے غَلط کا لفظ نہیں لکھا، کیونکہ یہ عجب تماشا ہے کہ غلط کو ضبط کے وزن پر اور ضبط کو غلط کے وزن پر بولا جارہا ہے۔ جناب پرویز رشید تو کبھی پی ٹی وی کے افسرِ اعلیٰ بھی رہ چکے ہیں۔ ج...

یہ وطیرہ کیا ہے؟

پرشکوہ بروزن جوابِ شکوہ اطہر علی ہاشمی - هفته 07 نومبر 2015

ہمارے وفاقی وزیر چودھری نثار تو ذمہ داری کو ذمہ واری کہتے رہیں گے، انہیں ان کی ذمہ واری پر چھوڑتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب جناب شہبازشریف شمسی توانائی کی کارکردگی پر وضاحت پیش کرتے ہوئے ’’اوسط‘‘ کو بروزن دوست‘ گوشت وغیرہ کہتے رہے اور بار بار کہتے رہے۔ لیکن یہ تو حکمران طبقہ ہے۔ اسے زیبا ہے کہ جو چاہے کہے۔ البتہ جن کا تعلق صحافت سے ہے اور بہت پرانا ہے، انہیں دوبارہ اردو پڑھ لینی چاہیے۔ ٹی وی چینل ڈان کے نمائندۂ حیدرآباد جناب علی حسن بڑے سینئرصحافی ہیں۔ وہ حیدرآباد کی ایک قدیم ع...

پرشکوہ بروزن جوابِ شکوہ