وجود

... loading ...

وجود

جب خواب مرجائیں!

هفته 06 جون 2026 جب خواب مرجائیں!

بے لگام / ستار چوہدری

قوموں کے زوال کی تاریخ میں ایک دن ایسا بھی آتا ہے جس کا ذکر کسی سرکاری رپورٹ میں نہیں ملتا، جس کی خبرکسی ٹی وی چینل کی
بریکنگ نیوز نہیں بنتی، اورجس پرکوئی قومی سوگ بھی نہیں منایا جاتا، مگرحقیقت میں وہی دن سب سے خطرناک ہوتا ہے ،” وہ دن جب ایک
غریب آدمی خواب دیکھنا چھوڑ دیتا ہے ”۔ بھوک انسان کو کمزور کرتی ہے ، مگرخواب اسے زندہ رکھتے ہیں۔ خالی جیب والا مزدورسارا دن
دھوپ میں اینٹیں اٹھاتا ہے کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ شاید اس کا بیٹا اس کی طرح مزدور نہیں بنے گا، ریڑھی لگانے والا شخص سردی، گرمی
اور بارش برداشت کرتا ہے کیونکہ اس کے دل میں ایک چھوٹا سا خواب زندہ ہوتا ہے کہ ایک دن اس کی اپنی دکان ہوگی، کسان قرضوں میں
ڈوبا ہونے کے باوجود بیج زمین میں اس لیے ڈالتا ہے کہ اسے اگلے موسم کی امید ہوتی ہے ، انسان صرف روٹی پرزندہ نہیں رہتا، وہ امید
پربھی زندہ رہتا ہے ، مگرمعاشروں پرایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب غربت صرف جیبوں میں نہیں رہتی، دلوں میں اتر جاتی ہے ،جب
محرومی صرف حالات نہیں رہتی بلکہ تقدیر بن جاتی ہے ،جب غریب آدمی یہ مان لیتا ہے کہ اس کے بچوں کی زندگی بھی وہی ہوگی جو اس کی
اپنی ہے ، جب وہ اپنے بیٹے کو ڈاکٹر، انجینئر یا افسر بنتے ہوئے تصور کرنا چھوڑدیتا ہے ، جب وہ اپنی بیٹی کے بہتر مستقبل کے خواب کو محض ایک
مذاق سمجھنے لگتا ہے ،یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب غربت خطرناک ترین شکل اختیارکرلیتی ہے ،کیونکہ بھوکا آدمی کبھی نہ کبھی کھانا ڈھونڈ لیتا ہے ، مگر جس
آدمی کی امید مرجائے ، وہ پھر کچھ نہیں ڈھونڈتا،۔اورشاید ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ یہاں غریب بہت ہیں، بلکہ یہ
ہے کہ آہستہ آہستہ غریبوں کے خواب چھوٹے ہوتے جا رہے ہیں، اورکچھ تو ایسے بھی ہیں جنہوں نے خواب دیکھنے کی ہمت ہی چھوڑ دی
ہے۔
کبھی غریب آدمی کے پاس دولت نہیں ہوتی تھی، مگراس کے پاس امید ضرور ہوتی تھی، وہ جانتا تھا کہ راستہ مشکل ہے ، لیکن بند نہیں،
اسے یقین ہوتا تھا کہ محنت، تعلیم، ہن یا قسمت کا کوئی دروازہ ایک دن اس کے لیے بھی کھل سکتا ہے ،مگرجب ایک معاشرے میں مواقع
صرف چند لوگوں کی جاگیربن جائیں، تو امید آہستہ آہستہ دم توڑنے لگتی ہے ،غریب آدمی تب نہیں ٹوٹتا جب وہ امیر کو بڑی گاڑی میں دیکھتا
ہے ،وہ اس وقت ٹوٹتا ہے جب اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس گاڑی تک پہنچنے کا راستہ اس کے لیے ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے ،جب اسے
لگنے لگتا ہے کہ قانون، نظام، تعلیم، روزگاراورانصاف سب کچھ چند خاندانوں، چند طبقات اورچند طاقتورحلقوں کے گرد گھوم رہا ہے ،اس کے
بعد ایک عجیب تبدیلی آتی ہے ،لوگ شکایت کرنا چھوڑ دیتے ہیں،پہلی نظر میں یہ اچھی بات لگتی ہے ، مگردرحقیقت یہ خطرے کی گھنٹی ہوتی ہے
،کیونکہ شکایت کرنے والا شخص ابھی امید رکھتا ہے ،وہ سمجھتا ہے کہ شاید حالات بدل سکتے ہیں،مگرجوشخص خاموش ہوجائے ، جو سوال کرنا چھوڑ
دے ، جو احتجاج سے زیادہ بے حسی کو ترجیح دینے لگے ، اس کے اندر کہیں نہ کہیں خواب مرچکا ہوتا ہے ،ایسے معاشروں میں بچے بھی جلدی
بڑے ہو جاتے ہیں،بارہ سال کا بچہ اپنے والد کی آنکھوں میں موجود تھکن پڑھ لیتا ہے ، اسے معلوم ہوجاتا ہے کہ گھر کے حالات کیا ہیں۔ وہ
آہستہ آہستہ اپنے خوابوں کی فہرست مختصر کرنے لگتا ہے ، پہلے وہ پائلٹ بننا چاہتا تھا، پھراستاد بننے کا سوچا، پھر کسی دفتر میں نوکری کا خواب
دیکھا، اور آخرکارصرف روزگار کی تلاش اس کا سب سے بڑا خواب بن جاتی ہے ،یہ تبدیلی کسی ایک فرد کی نہیں ہوتی، پوری نسلوں کی ہوتی
ہے ،اورجب کسی قوم کے بچوں کے خواب سکڑنے لگیں تو سمجھ لیجیے کہ مسئلہ معیشت سے کہیں بڑا ہو چکا ہے ، کیونکہ معیشت دولت پیدا کرتی
ہے ، لیکن خواب مستقبل پیدا کرتے ہیں،اورجس قوم کا مستقبل خوابوں سے خالی ہو جائے ، وہاں عمارتیں تو بن سکتی ہیں، مگر ترقی نہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف جنگوں سے تباہ نہیں ہوتیں، بعض اوقات وہ اندر ہی اندر اس وقت مرنا شروع ہو جاتی ہیں جب ان کے
عام لوگوں کو یقین ہو جائے کہ ان کی زندگی کبھی نہیں بدلے گی ،دنیا کی بڑی تبدیلیاں ہمیشہ محلات سے نہیں، جھونپڑیوں سے جنم لیتی رہی
ہیں، ہرعظیم قوم کے پیچھے لاکھوں عام لوگ ہوتے ہیں جو یقین رکھتے ہیں کہ ان کے بچوں کا کل آج سے بہتر ہوگا،یہی یقین انہیں صبح بسترسے اٹھاتا ہے ، یہی یقین انہیں مشکلات سے لڑنے کا حوصلہ دیتا ہے ،مگرجب یہ یقین ختم ہو جائے تو معاشرہ ایک خطرناک بیماری میں
مبتلا ہو جاتا ہے ، ” لوگ جینا توجاری رکھتے ہیں، مگرآگے بڑھنا چھوڑ دیتے ہیں ”۔آپ نے ایسے چہرے ضروردیکھے ہوں گے جو بظاہرزندہ
ہوتے ہیں مگران کی آنکھوں میں مستقبل نہیں ہوتا،وہ کام کرتے ہیں، کھاتے ہیں، سوتے ہیں، مگر ان کے اندر کسی نئے دن کا انتظار نہیں
ہوتا، ان کے لیے کل اورآج میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔ شاید یہی وہ مرحلہ ہے جہاں معاشرتی زوال اپنی سب سے خاموش شکل اختیارکرتا
ہے ،کیونکہ شورمچاتی ہوئی غربت نظرآ جاتی ہے ، مگر خاموش مایوسی نظر نہیں آتی،ایک بھوکے آدمی کی تصویر اخبار میں چھپ سکتی ہے ، مگر ایک
ٹوٹے ہوئے خواب کی تصویر کوئی کیمرہ نہیں بنا سکتا۔افسوس یہ ہے کہ ہم ترقی کو سڑکوں، پلوں، عمارتوں اوراعدادوشمار سے ناپتے ہیں،ہم یہ
نہیں دیکھتے کہ عام آدمی کے دل میں کتنی امید باقی ہے ،کتنے نوجوان اب بھی یقین رکھتے ہیں کہ تعلیم ان کی تقدیر بدل سکتی ہے ۔ کتنے مزدور
سمجھتے ہیں کہ محنت کا صلہ مل سکتا ہے ،کتنے کسان اگلی فصل کے ساتھ اگلا خواب بھی بوتے ہیں،کیونکہ اصل ترقی خزانے میں جمع دولت نہیں،
بلکہ لوگوں کے دلوں میں جمع امید ہوتی ہے ،جس دن ایک قوم کا غریب آدمی اپنے بچے کو دیکھ کر یہ کہنا چھوڑ دے کہ بیٹا،!! ” تم مجھ سے
بہترزندگی گزارو گے ”، اس دن خطرے کی گھنٹی بج چکی ہوتی ہے ،اورشاید ہمارے عہد کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ ہم غربت ختم کرنے
کی بات تو بہت کرتے ہیں، مگرکیا ہم غریب کے دل میں مرتی ہوئی امید کو بھی بچا رہے ہیں؟
شاید اسی لیے دانشور کہتے ہیں کہ کسی ملک کی حالت جاننی ہو تو اس کے ایوانوں کو نہیں، اس کی گلیوں کو دیکھو، یہ مت دیکھو کہ حکمران کیا کہہ
رہے ہیں، یہ دیکھو کہ عام آدمی کیا سوچ رہا ہے ۔ یہ مت پوچھو کہ قومی خزانے میں کتنے ارب ہیں، یہ پوچھو کہ ایک مزدور اپنے بچے کے
مستقبل کے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے ،کیونکہ قوموں کا اصل سرمایہ سونا، چاندی، تیل یا خزانے نہیں ہوتے ، بلکہ وہ خواب ہوتے ہیں جو
عام لوگوں کے دلوں میں پل رہے ہوتے ہیں، جس معاشرے میں غریب آدمی یہ یقین رکھتا ہو کہ اس کا بچہ اس سے بہتر زندگی گزار سکتا ہے ،
وہاں امید زندہ رہتی ہے ، محنت زندہ رہتی ہے اور ترقی کے دروازے کھلے رہتے ہیں، مگر جہاں یہ یقین ختم ہو جائے ، وہاں دولت کے انبار بھی
معاشرے کو زندہ نہیں رکھ سکتے ،ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ غریب کو صرف خیرات نہیں چاہیے ، اسے موقع چاہیے ۔ اسے صرف روٹی نہیں چاہیے ،
اسے راستہ چاہیے ۔ اسے صرف زندہ رہنے کا سامان نہیں چاہیے ، اسے آگے بڑھنے کی وجہ چاہیے ۔ کیونکہ انسان کی سب سے بڑی ضرورت
کبھی صرف پیٹ بھرنا نہیں رہی، اس کی سب سے بڑی ضرورت یہ یقین ہے کہ اس کی آج کی محنت کل کو بہتر بنا سکتی ہے ،اگرکوئی حکومت،
کوئی نظام، کوئی معاشرہ اپنے غریب لوگوں کے دلوں میں یہ یقین پیدا کرنے میں ناکام ہو جائے تو پھر اس کی بلند عمارتیں، چمکتی سڑکیں
اورترقی کے دعوے محض خوبصورت پردے بن کر رہ جاتے ہیں،قومیں اس دن نہیں مرتیں جب ان کے لوگ بھوکے ہوں، کیونکہ بھوک سے
لڑا جا سکتا ہے ، قومیں اس دن نہیں مرتیں جب ان پرمشکلات آئیں، کیونکہ مشکلات کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے ،۔ قومیں دراصل اس دن مرنا
شروع ہوتی ہیں، جب ایک غریب باپ اپنے بچے کو دیکھ کر یہ سوچنا چھوڑ دے کہ ”تمہارا کل میرے آج سے بہتر ہوگا ”،اورجس دن خواب
مرجائیں، اس دن صرف ایک انسان نہیں مرتا، اس کے ساتھ ایک قوم کا مستقبل بھی دفن ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔


متعلقہ خبریں


مضامین
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش وجود بدھ 17 جون 2026
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش

علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب وجود بدھ 17 جون 2026
علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب

ایک تقریب ملتوی ہوگئی!! وجود منگل 16 جون 2026
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!!

جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے! وجود منگل 16 جون 2026
جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے!

کب تک ؟ وجود منگل 16 جون 2026
کب تک ؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر