وجود

... loading ...

وجود

بنگلہ دیش جماعت اسلامی کی جدوجہد ایک نئی سیاسی حقیقت

جمعرات 04 جون 2026 بنگلہ دیش جماعت اسلامی کی جدوجہد ایک نئی سیاسی حقیقت

عطا محمد تبسم

پاکستان میں جماعت اسلامی کیوں کامیاب نہ ہوسکی، بنگلہ دیش والوں نے ایسا کیا جادو کیا کہ وہ کامیابی میں آگے نکل گئے ؟ میں نے یہ سوال مسعود اعجازی سے پوچھا۔ مسعود اعجازی اور ان کی اہلیہ حال ہی میں بنگلہ دیش کا دورہ کرکے پاکستان لوٹے ہیں۔ وی ٹرسٹ نے ان کے تاثرات جاننے کے لیے ایک نشست کا اہتمام کیا تھا۔ مزدوروں کے حقوق کے لیے سرگرم وی ٹرسٹ کو پروفیسر شفیع ملک کی سرپرستی اور رہنمائی حاصل ہے ۔
جنوبی ایشیا کی سیاسی تاریخ میں بنگلہ دیش نے گزشتہ چند دہائیوں میں غیر معمولی تبدیلیوں کا سفرکیا ہے ۔ ایک وقت تھا جب 1971ء کے واقعات کی تلخ یادیں، سیاسی انتقام، نظریاتی تقسیم اور معاشی مشکلات اس ملک کے مستقبل پر سوالیہ نشان بنی ہوئی تھیں، لیکن آج بنگلہ دیش نہ صرف معاشی ترقی بلکہ سیاسی شعور، سماجی استحکام اور جمہوری عمل کے حوالے سے بھی ایک نئی شناخت بنا رہا ہے ۔
مسعود اعجازی اور ان کی اہلیہ کو تقریباً اڑتالیس برس بعد بنگلہ دیش کا دورہ کرنے کا موقع ملا۔ ان کے مشاہدات حیران کن تھے ۔ ان کے بقول ڈھاکہ شہر میں داخل ہوتے ہی زمین و آسمان کا فرق محسوس ہوتا ہے ۔ جدید میٹرو سسٹم، ایلیویٹڈ ایکسپریس ویز، صاف ستھری سڑکیں، بلند و بالا عمارتیں اور منظم شہری زندگی اس امر کی گواہی دیتی ہیں کہ بنگلہ دیش نے ترقی کے سفر میں قابلِ ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سائیکل رکشوں کی روایتی ثقافت آج بھی موجود ہے ، تاہم اب ان میں سے بیشتر بیٹری پاور سے چلتے ہیں جو روایت اور جدت کے حسین امتزاج کی علامت ہے ۔
تقریباً سترہ کروڑ پچاس لاکھ آبادی والے اس ملک میں دو تہائی حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے ۔ شرح خواندگی اسی فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ پاکستان میں شرح خواندگی 63فیصد ہے ۔ بنگلہ دیش کے بیرونی قرضے تقریباً اسی ارب ڈالر ہیں جبکہ قرضوں کا حجم جی ڈی پی کے مقابلے میں تقریباً اکتالیس فیصد ہے ۔ جبکہ پاکستان کے قرضوں کا حجم 138بلین ، اور جی ڈی پی کے مقابلے مین اس کی شرح 70فیصد ہے ۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بنگلہ دیش نے معاشی نظم و ضبط اور انسانی ترقی کے میدان میں پاکستان کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔
حالیہ برسوں میں بنگلہ دیشی سیاست میں جو تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، ان میں سب سے نمایاں کردار جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا ہے ۔ جماعت اسلامی نے طویل عرصے تک شدید سیاسی دباؤ، عدالتی مقدمات، پابندیوں اور قیادت کی شہادتوں کا سامناکیا ہے ۔ جماعت اسلامی کی صفِ اول کی قیادت کو پھانسیوں اور سخت ترین اقدامات کا سامنا کرنا پڑا۔ حکمران حلقوں کا خیال تھا کہ شاید اس جماعت کی تنظیمی بنیادیں کمزور ہو جائیں گی، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ جماعت نے نہ صرف نئی قیادت پیدا کی بلکہ تنظیمی استحکام، سیاسی حکمت اور سماجی خدمت کے ذریعے اپنی موجودگی کو مزید مضبوط بنایا۔ یہ کسی بھی سیاسی تحریک کی قوتِ حیات کا ثبوت ہے کہ شدید مشکلات کے باوجود وہ اپنے نظریے ، کارکنوں اور عوامی رابطے کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ۔
جماعت اسلامی کی موجودہ قیادت بالخصوص امیر جماعت ڈاکٹر شفیق الرحمن سے اکثریہ سوال کیا جاتا ہے کہ اگر ان کا راستہ روکا گیا، مخالف قوتیں متحد ہو گئیں یا بین الاقوامی دباؤ بڑھ گیا تو ان کا ردعمل کیا ہوگا، تو وہ جذباتی نعروں کے بجائے تدبر اور حکمت کی بات کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ”ہم اپنے دماغ کو ٹھنڈا اور خون کو گرم رکھتے ہوئے باہمی مشاورت اور غور و فکر سے وہ فیصلے کریں گے جو ملک اور تحریک کے لیے بہتر ہوں گے ”۔ ماضی کے برعکس جماعت نے انتخابی سیاست میں غیر ضروری نظریاتی کشیدگی سے گریز کیا۔ انتخابی مہم میں مذہبی نعروں کے استعمال کے بجائے عوامی مسائل، نوجوانوں کے مستقبل، روزگار، تعلیم اور گورننس کے موضوعات کو ترجیح دی ۔ اسی طرح بھارت مخالف بیانیے کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے سے بھی اجتناب کیا گیا۔ اس کے بجائے جماعت نے وسیع تر سیاسی اتحادوں کی جانب قدم بڑھایا، جن میں نوجوانوں کی جماعتیں، لبرل حلقے اور سیکولر سوچ رکھنے والے افراد بھی شامل تھے ۔
بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کی مقبولیت میں اضافے کی ایک اہم وجہ اس کی سماجی اور فلاحی سرگرمیاں بھی ہیں۔ جماعت نے صرف سیاسی جماعت کے طور پر نہیں بلکہ ایک خدمت گزار تنظیم کے طور پر اپنی شناخت قائم کی ہے ۔ تعلیم، صحت، تربیت، روزگار اور سماجی بہبود کے متعدد منصوبے عوام میں اس کے لیے اعتماد پیدا کر رہے ہیں۔بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی ایک خدمت گزار جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے ۔ ان کے رضاکارانہ خدمت کے کاموں کو تحسین کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ۔ ”سروس نین ڈاٹ کام ” جیسے منصوبے نہایت دلچسپ اور عملی نوعیت کے ہیں۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے پلمبر، الیکٹریشن، اے سی مکینک، کمپیوٹر ٹیکنیشن اور دیگر ہنر مند افراد رعایتی نرخوں پر خدمات فراہم کرتے ہیں۔ مساجد اور عبادت گاہوں کے لیے خدمات مفت مہیا کی جاتی ہیں۔ یہ تمام سہولیات موبائل ایپ، انٹرنیٹ اور فون کے ذریعے چوبیس گھنٹے دستیاب ہیں۔ اس منصوبے کے ساتھ تربیتی ادارے بھی قائم ہیں جو نوجوانوں کو ہنر سکھا کر باعزت روزگار فراہم کرتے ہیں۔اسی طرح خواتین کے لیے قائم کیے گئے ادارے معاشی خودمختاری اور باوقار روزگار کے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ یہ اقدامات اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جدید دور میں سیاسی جماعتوں کی کامیابی صرف جلسوں اور نعروں سے نہیں بلکہ عوام کی عملی خدمت سے مشروط ہے ۔
سوشل میڈیا کے میدان میں بھی جماعت اسلامی نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے ۔ جماعت کے کارکنوں کی ڈیجیٹل تربیت، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور نوجوان نسل کے ساتھ رابطے نے اسے نئی سیاسی قوت عطا کی ہے ۔ آج کی دنیا میں رائے عامہ کی تشکیل کا ایک بڑا میدان ڈیجیٹل پلیٹ فارمز ہیں اور بنگلہ دیشی جماعت اسلامی نے اس حقیقت کو بروقت سمجھا ہے ۔ایک اور دلچسپ پہلو بچوں کے لیے قائم کیا گیا غیر سیاسی ٹیلی ویژن چینل ہے جہاں تعلیمی پروگرام، کارٹون، ٹیلنٹ ہنٹس، ڈرامے اور تخلیقی سرگرمیاں نشر کی جاتی ہیں۔ اس طرح کے منصوبے یہ ثابت کرتے ہیں کہ معاشرے کی تعمیر صرف سیاست سے نہیں بلکہ تعلیم، ثقافت اور تربیت کے ذریعے بھی ہوتی ہے ۔
بنگلہ دیش کی سیاست کے حوالے سے ایک اہم تبدیلی یہ بھی محسوس کی جا رہی ہے کہ 1971ء کے واقعات پر مبنی سیاسی بیانیے وقت کے ساتھ اپنی شدت کھو رہے ہیں۔ نوجوان روزگار، تعلیم، ٹیکنالوجی، ترقی اور بہتر حکمرانی کے سوالات کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سیاسی جماعتیں زیادہ مقبول ہو رہی ہیں جو مستقبل کا وژن پیش کرتی ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں بنگلہ دیش کی جمہوریت قابلِ تحسین دکھائی دیتی ہے ۔ مختلف سیاسی جماعتیں شدید اختلافات کے باوجود انتخابی عمل میں شریک ہیں، اپنی اپنی پالیسیوں کے ساتھ عوام کے سامنے جا رہی ہیں اور عوامی رائے کو فیصلہ کن حیثیت دے رہی ہیں۔ بنگلہ دیش کی موجودہ صورتحال سے خطے کے دیگر ممالک، خصوصاً پاکستان، کے لیے بھی کئی اسباق موجود ہیں۔ معاشی ترقی، سیاسی استحکام، نوجوانوں کی شمولیت، ٹیکنالوجی کا استعمال، فلاحی سرگرمیاں اور جمہوری رویے کسی بھی قوم کو آگے لے جا سکتے ہیں۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن قومی ترقی کو مشترکہ مقصد بنانا ہی کامیابی کا راستہ ہے ۔
آج بنگلہ دیش ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اس کی جمہوری قوتیں، سیاسی جماعتیں اور باشعور عوام مل کر ایک نئے مستقبل کی تشکیل کر رہے ہیں۔ جماعت اسلامی کی استقامت، تنظیمی جدوجہد اور سماجی خدمت اس سفر کا اہم حصہ ہیں، جبکہ انتخابی عمل کا تسلسل اور سیاسی قوتوں کا نسبتاً ذمہ دارانہ رویہ بنگلہ دیشی جمہوریت کی مضبوطی کی علامت ہے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر