وجود

... loading ...

وجود

عبرت یا عزت ؟

منگل 02 جون 2026 عبرت یا عزت ؟

بے لگام / ستار چوہدری

یہ حکمران اورطاقتور لوگ!! کبھی فرصت کے چند لمحے نکال کر ڈوبتے ہوئے سورج کو دیکھیں!! وہی سورج جس کی روشنی میں شہرجاگتے ہیں، فصلیں پکتی ہیں، سمندرچمکتے ہیں اورپہاڑ اپنی شان دکھاتے ہیں،دن بھرآسمان پرحکمرانی کرنے والا سورج شام ہوتے ہی خاموشی سے افق کے پیچھے اترجاتا ہے ، نہ وہ اپنے عروج کو بچانے کے لیے آسمان سے چمٹتا ہے ، نہ رات کے آنے کے خلاف کوئی اعلانِ جنگ کرتا ہے ۔۔ پھرکسی صبح طلوعِ آفتاب کا منظر دیکھیں!! رات کتنی ہی سیاہ کیوں نہ ہو، اندھیرا کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو، وہ سورج کی واپسی کو نہیں روک سکتا، روشنی اپنے وقت پرآتی ہے اوراندھیرا اپنے وقت پرچلا جاتا ہے ، فطرت شاید صدیوں سے انسان کو یہی سبق دے رہی ہے کہ دوام صرف تبدیلی کو حاصل ہے ۔ اقتدار، اختیار، شہرت اوردولت سب عارضی مسافر ہیں۔مجھے اکثر حیرت ہوتی ہے کہ یہ حکمران، طاقتور لوگ، بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھے ہوئے افراد آخرکس خوش فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔؟ وہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ سورج سے زیادہ طاقتورکوئی منظ ہماری آنکھوں نے نہیں دیکھا، مگروہ بھی ہ شام غروب ہوجاتا ہے ،تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ تخت ہمیشہ باقی نہیں رہے ، تاج ہمیشہ سروں پرنہیں سجے ۔ اورمحلات ہمیشہ آباد نہیں رہے ، باقی اگرکچھ رہا تو صرف انسان کا کردار، اس کا انصاف، اس کا رویہ اوراس کے فیصلے ۔
اقتدار کا ایک عجیب نشہ ہوتا ہے ،یہ نشہ شراب کی طرح آنکھوں کو سرخ نہیں کرتا، بلکہ بصیرت کو دھندلا دیتا ہے ،انسان اپنے گرد کھڑے
چاپلوسوں کی آوازتوسن لیتا ہے ، مگر عوام کی خاموش آہوں کو سننے کی صلاحیت کھو دیتا ہے ، اسے ہر تنقید سازش لگنے لگتی ہے ، ہراختلاف دشمنی
محسوس ہونے لگتا ہے ۔ اورہرسچ بولنے والا شخص خطرہ دکھائی دینے لگتا ہے ۔مگرتاریخ کا المیہ یہ ہے کہ طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ اکثر
ایک حقیقت بھول جاتے ہیں، طاقت احترام پیدا نہیں کرتی، انصاف احترام پیدا کرتا ہے ۔لوگ کسی حاکم سے اس لیے محبت نہیں کرتے کہ
اس کے پاس فوجیں ہیں، خزانے ہیں یا اختیارات ہیں،لوگ اس لیے محبت کرتے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ انصاف کرتا ہے ، ان کے زخم سمجھتا
ہے اور اپنی طاقت کو خدمت کے لیے استعمال کرتا ہے ، انتقام کے لیے نہیں،جب طاقت انصاف سے خالی ہوجائے تو وہ خوف میں بدل
جاتی ہے ، اور خوف کبھی مستقل وفاداری پیدا نہیں کرسکتا،خوف سے جھکے ہوئے سر، دل سے ساتھ نہیں ہوتے ، وہ خاموش تو رہ سکتے ہیں،
مگرمطمئن نہیں رہتے ، اورجب معاشروں کے سینوں میں جمع ہونے والی بے چینی حد سے بڑھ جائے تو پھر وہ خاموشی بھی ایک دن آواز بن
جاتی ہے ،تاریخ کی سب سے بڑی بغاوتیں میدانوں میں پیدا نہیں ہوئیں، وہ پہلے لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوئیں،نفرت جب مسلسل
ناانصافی سے ملتی ہے تو آہستہ آہستہ بغاوت کا روپ دھار لیتی ہے ،یہی وجہ ہے کہ طاقت کا بے جا استعمال وقتی طور پر لوگوں کو دباسکتا ہے ، مگر
ان کے خیالات، ان کی خواہشات اوران کے احساسات کو ہمیشہ کے لیے قید نہیں کرسکتا۔ اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں بہت سے حکمران
غلطی کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ خاموشی رضامندی ہے ، حالانکہ بعض اوقات خاموشی صرف طوفان سے پہلے کا سکوت ہوتی ہے ۔
عجیب بات ہے کہ انسان اپنی زندگی میں سب کچھ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے ، مگر سب سے اہم چیز بھول جاتا ہے ”وقت ”۔وقت وہ
بادشاہ ہے جس کے سامنے ہر بادشاہ نے سرجھکایا ہے ،اس نے تاج اچھال کرزمین پر گرتے دیکھے ہیں، اس نے تخت لرزتے دیکھے ہیں،
اس نے ایسے محلات ویران ہوتے دیکھے ہیں جن کے دروازوں پر کبھی عام آدمی کا گزر بھی محال تھا،شاید اسی لیے تاریخ کا مطالعہ انسان کو
عاجزی سکھاتا ہے ،کل جو لوگ خود کو ناقابلِ شکست سمجھتے تھے ، آج ان کے نام صرف کتابوں کے چند صفحات میں قید ہیں، ان کے لشکر مٹی
ہوگئے ، ان کے محلات کھنڈرات بن گئے ، ان کے خزانے دوسروں کی ملکیت بن گئے ،اگر کچھ باقی رہا تو لوگوں کی زبانوں پران کے بارے
میں ایک فیصلہ باقی رہا، کچھ نام عزت کے ساتھ لیے جاتے ہیں اورکچھ عبرت کے طورپر۔اصل سوال یہ نہیں کہ انسان کتنی دیر اقتدار میں
رہا،اصل سوال یہ ہے کہ جب وہ اقتدار سے رخصت ہوا تو لوگوں نے اس کے لیے دعا کی یا بددعا۔؟کیونکہ دنیا کا سب سے بڑا اعزازلمبی
حکمرانی نہیں، بلکہ اچھا ذکر ہے ،انسان جب قبر میں اترتا ہے تو اس کے ساتھ نہ پروٹوکول جاتا ہے ، نہ محافظ، نہ گاڑیاں، نہ عہدے اور نہ
اختیارات،اس کے ساتھ صرف اس کے اعمال، فیصلے اور لوگوں کے دلوں میں چھوڑی ہوئی یادیں جاتی ہیں۔کاش طاقت کے ایوانوں میں
بیٹھے لوگ یہ سمجھ سکیں کہ عوام صرف ووٹوں کا ہجوم نہیں ہوتے ،یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی دعائیں تختوں کو مضبوط بھی کرتی ہیں۔ اور جن کی
آہیں سلطنتوں کی بنیادیں بھی ہلا دیتی ہیں،دنیا کی کوئی طاقت عوام کے دل جیتنے سے بڑی نہیں۔ اور دنیا کی کوئی کمزوری عوام کے دل ہارنے
سے زیادہ خطرناک نہیں۔
رات کے پچھلے پہر، جب شور تھم جائے اور دنیا اپنی مصروفیتوں سے بے خبر سو رہی ہو، تب یہ حکمران اورطاقتورلوگ اگر اپنے ضمیر کے
سامنے بیٹھ جائیں تو بہت سی حقیقتیں خود بخود آشکار ہوجائیں،وہ حقیقتیں جنہیں دن کے ہنگامے ، اقتدار کے نعروں اور تعریفوں کے شور میں
سننا مشکل ہوجاتا ہے ،یہی وہ لمحہ ہوگا جب ایک سوال ان کے سامنے ضرور کھڑا ہوگا۔آخرمیں بچے گا کیا؟ یہ کرس؟ یہ اختیار؟ یہ محلات؟ یہ
بینک بیلنس؟ یا پھر لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ؟ دنیا کا عجیب دستور ہے ، وہ طاقتور سے خوف کھا سکتی ہے ، اس کی تعظیم کرسکتی ہے ، اس کے
سامنے جھک بھی سکتی ہے ، مگر اسے ہمیشہ یاد نہیں رکھتی، یاد صرف انہیں رکھا جاتا ہے جنہوں نے اپنی طاقت کو دوسروں کے لیے آسانی پیدا
کرنے میں استعمال کیا ہو،جنہوں نے کمزور کے حق کی حفاظت کی ہو،جنہوں نے انصاف کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی ہو۔اس کے برعکس جو
لوگ اپنی طاقت کو دوسروں کو دبانے ، آوازوں کو خاموش کرنے اور انسانوں کو کمتر ثابت کرنے میں صرف کرتے ہیں، وہ وقتی طور پر کامیاب
ضرور نظر آتے ہیں، مگر تاریخ ان کے بارے میں بڑا بے رحم فیصلہ لکھتی ہے ،کیونکہ تاریخ کی عدالت میں نہ سرکاری ترجمان ہوتے ہیں، نہ
چاپلوس درباری، نہ پروٹوکول اور نہ ہی اقتدار کا رعب،وہاں صرف کردار پیش ہوتا ہے ۔اورکردارکے سامنے ہرعہدہ چھوٹا پڑجاتا ہے ۔
شاید اسی لیے میں چاہتا ہوں کہ یہ حکمران، یہ طاقتور لوگ، کسی دن اپنے محلات کی بلند دیواروں سے باہر نکلیں اورخاموشی سے ڈوبتے ہوئے
سورج کو دیکھیں،وہ سورج جو روزانہ انہیں ایک پیغام دیتا ہے ، مگر اقتدار کے شور میں وہ پیغام سنائی نہیں دیتا،پیغام یہ کہ عروج ہمیشہ کے لیے
نہیں ہوتا،پھر کسی صبح طلوعِ آفتاب کو دیکھیں اورسمجھنے کی کوشش کریں کہ روشنی کو روکنے کی طاقت کسی اندھیرے میں نہیں ہوتی،رات جتنی بھی
لمبی ہوجائے ، آخرکار اسے ہارنا پڑتا ہے ، فطرت کا یہی قانون ہے اور تاریخ کا بھی۔اقتدار کی اصل خوبصورتی اس میں نہیں کہ آپ کتنے
لوگوں کو خاموش کراسکتے ہیں، بلکہ اس میں ہے کہ کتنے لوگ آپ کے جانے کے بعد بھی آپ کا نام احترام سے لیتے ہیں،طاقت کا اصل
امتحان مخالف کو کچلنا نہیں، بلکہ انصاف کرنا ہے ،کیونکہ خوف سے چلنے والی حکومتیں کچھ عرصہ چل سکتی ہیں، مگر دلوں پر حکومت صرف انصاف
کرتا ہے اور پھرایک دن،وہ دن ضرور آتا ہے جب محلات خاموش ہوجاتے ہیں، دفاتر کسی اور کے قبضے میں چلے جاتے ہیں، سرکاری
گاڑیوں کے دروازے کسی اور کے لیے کھلنے لگتے ہیں، محافظ کسی اور کے آگے پیچھے چل رہے ہوتے ہیں، اور کبھی ناقابلِ رسائی سمجھے جانے
والے لوگ تاریخ کی ایک سطر بن کر رہ جاتے ہیں،تب دنیا ایک ہی سوال پوچھتی ہے ،اس انسان نے اپنی طاقت کے ساتھ کیا کیا تھا۔؟
لوگ اس کی دولت نہیں گنتے ، اس کے عہدے نہیں گنواتے ، اس کے محلات کا رقبہ نہیں ناپتے ،وہ صرف یہ یاد رکھتے ہیں کہ اس کے دور میں
انصاف زندہ تھا یا نہیں، کمزور محفوظ تھا یا نہیں۔ اور انسان کو عزت ملی تھی یا نہیں۔کیونکہ آخرکارانسان مرجاتے ہیں، تخت الٹ جاتے ہیں،
سلطنتیں بکھرجاتی ہیں، مگر کردار زندہ رہتے ہیں۔اورتاریخ کے ماتھے پروہی نام روشن رہتے ہیں جنہوں نے طاقت کو اپنا خدا نہیں بنایا، بلکہ
اسے ایک امانت سمجھ کر استعمال کیا۔ ورنہ وقت کے پاس ایک ہی انجام ہے ، وہ ہربلند مینار کو جھکا دیتا ہے ، ہرطاقتور کو کمزور کر دیتا ہے ۔
اورہرحکمران کو یہ یاد دلا دیتا ہے کہ سورج کی طرح تمہیں بھی ایک دن غروب ہونا ہے ، مگر فیصلہ تمہارا ہے کہ تمہارے بعد لوگ تمہیں عبرت
کے طور پریاد کریں گے یا عزت کے ساتھ ؟


متعلقہ خبریں


مضامین
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر