وجود

... loading ...

وجود

قربانی اور ہمارے معاشرے کی حقیقت

منگل 02 جون 2026 قربانی اور ہمارے معاشرے کی حقیقت

محمد آصف

عید الاضحیٰ کا مبارک موقع امتِ مسلمہ کے لیے محض ایک تہوار نہیں بلکہ ایثار، اطاعت، قربانی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا عظیم پیغام
لے کر آتا ہے ۔ یہ وہ دن ہے جب دنیا بھر کے مسلمان حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بے مثال اطاعت و
فرمانبرداری کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ قربانی دراصل جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنے نفس، خواہشات، مفادات اور برائیوں کو اللہ تعالیٰ
کے حکم کے سامنے قربان کرنے کا درس دیتی ہے ۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قربانی کی حقیقی روح اور مقصد کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے ۔ آج بہت سے لوگوں
کے نزدیک قربانی صرف ایک رسم، روایت یا معاشرتی نمائش بن کر رہ گئی ہے ، حالانکہ اسلام میں قربانی کا اصل مقصد تقویٰ، اخلاص اور اللہ
تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے ۔قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
”اللہ تک نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون، بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے ”۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ قربانی کا اصل معیار جانور کی قیمت، جسامت یا تعداد نہیں بلکہ قربانی کرنے والے کا اخلاص، تقویٰ اور نیت
ہے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا حکم دیا تو انہوں نے بلا چون و چرا اللہ
کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بھی اپنے والد کی اطاعت کرتے ہوئے اپنی جان اللہ کی راہ میں پیش
کرنے کے لیے آمادگی ظاہر کر دی۔ یہ واقعہ انسان کو سکھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنی سب سے محبوب چیز بھی قربان کر دینی
چاہیے ۔
نبی کریم ۖ نے بھی قربانی کو زندہ رکھا اور اپنی امت کو اس عظیم عبادت کی تعلیم دی۔ یہی وجہ ہے کہ قربانی سنت ِابراہیمی بھی ہے اور
سنتِ مصطفوی ۖ بھی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آج ہم واقعی اس سنت کی روح کو سمجھ رہے ہیں؟ آج لاکھوں جانور ذبح کیے جاتے ہیں، مگر
کیا ہماری زندگیوں میں قربانی کی روح نظر آتی ہے ؟ اگر کوئی شخص سارا سال لوگوں کے حقوق غصب کرتا رہے ، رشوت لیتا رہے ، جھوٹ
بولتا رہے ، ملاوٹ کرتا رہے ، چوری اور دھوکے سے مال کماتا رہے اور پھر عید کے دن ایک یا دو مہنگے جانور ذبح کر دے تو کیا وہ قربانی
کے اصل مقصد کو حاصل کر لے گا؟
حقیقت یہ ہے کہ قربانی سے پہلے اپنے کردار، اخلاق اور کمائی کا جائزہ لینا ضروری ہے ۔ اسلام صرف ظاہری عبادات کا نام نہیں بلکہ
حلال رزق، دیانت داری، انصاف اور حقوق العباد کی ادائیگی بھی دین کا اہم حصہ ہیں۔ ہمارے معاشرے میں بعض لوگ رشوت، کرپشن،
فراڈ اور ناجائز ذرائع سے دولت جمع کرتے ہیں۔ کوئی سرکاری خزانے کو لوٹتا ہے ، کوئی کمیشن اور رشوت کے ذریعے مال بناتا ہے ، کوئی چوری
اور ڈاکے کے ذریعے دولت حاصل کرتا ہے ، اور پھر اسی مال سے قربانی کر کے خود کو نیک ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اسلام میں ایسی
کمائی کو سخت ناپسند کیا گیا ہے ۔نبی کریم ۖ نے فرمایا: ”اللہ پاک ہے اور پاک چیز ہی قبول کرتا ہے ”۔
جب مال ہی ناپاک اور ناجائز ذرائع سے حاصل کیا گیا ہو تو پھر ایسی عبادت کی قبولیت کے بارے میں انسان کو ضرور فکر مند ہونا چاہیے ۔
ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ ملاوٹ ہے ۔ دودھ فروش دودھ میں پانی ملا کر فروخت کرتا ہے ۔ دکاندار ناقص چیز کو اعلیٰ معیار کی چیز بنا کر
پیش کرتا ہے ۔ بعض تاجر کم تولتے ہیں اور گاہکوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ کوئی اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ کرتا ہے تو کوئی جعلی مصنوعات بیچ
کر لوگوں کی صحت اور مال دونوں کو نقصان پہنچاتا ہے ۔نبی کریم ۖ نے ایک مرتبہ اناج کے ڈھیر میں ہاتھ ڈالا تو اندر سے گیلا اناج نکلا۔
آپ ۖ نے فرمایا:”جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں”۔
سوچنے کی بات ہے کہ جو شخص سارا سال دھوکہ دہی اور ملاوٹ کرتا رہے ، کیا صرف جانور ذبح کر دینے سے وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک
کامیاب ہو جائے گا؟ بعض لوگ بجلی چوری کو معمولی جرم سمجھتے ہیں۔ وہ پورا سال غیر قانونی کنڈے لگا کر یا مختلف طریقوں سے بجلی استعمال
کرتے ہیں اور پھر عید کے موقع پر قربانی کے بڑے بڑے جانور خرید کر اپنی دینداری کا اظہار کرتے ہیں۔ حالانکہ بجلی چوری دراصل قومی
خزانے اور عوامی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے ۔ اسلام میں دوسروں کے حقوق کی پامالی سخت گناہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے حقوق معاف
ہو سکتے ہیں لیکن بندوں کے حقوق کی معافی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک حق دار معاف نہ کر دے ۔
قربانی کا ایک افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ بعض لوگوں نے اسے نمود و نمائش کا ذریعہ بنا لیا ہے ۔ مہنگے جانور خریدنا، سوشل میڈیا پر ان کی
تشہیر کرنا، تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنا اور دوسروں پر اپنی حیثیت جتانا ایک عام رجحان بنتا جا رہا ہے ۔ کئی لوگ ایک نہیں بلکہ دو دو یا تین تین
جانور صرف اس لیے خریدتے ہیں کہ لوگ ان کی تعریف کریں اور انہیں مالدار سمجھیں۔ حالانکہ اسلام میں ریاکاری اور دکھاوے کی سخت
مذمت کی گئی ہے ۔
نبی کریم ۖ نے فرمایا:
”اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ”۔
اگر قربانی کا مقصد اللہ کی رضا کے بجائے لوگوں کی تعریف حاصل کرنا ہو تو ایسی عبادت اپنی اصل روح سے محروم ہو جاتی ہے ۔ قربانی
صرف جانور کے گلے پر چھری پھیرنے کا نام نہیں بلکہ اپنے اندر موجود برائیوں کو ختم کرنے کا نام بھی ہے ۔ اگر ہم واقعی قربانی کی روح کو
زندہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں: رشوت کو قربان کرنا ہوگا۔ کرپشن کو قربان کرنا ہوگا۔ جھوٹ اور دھوکہ دہی کو قربان کرنا ہوگا۔ ملاوٹ اور کم تولنے
کو قربان کرنا ہوگا۔ چوری اور فراڈ کو قربان کرنا ہوگا۔ تکبر، حسد اور ریاکاری کو قربان کرنا ہوگا۔ دوسروں کے حقوق پامال کرنے کی عادت کو
قربان کرنا ہوگا۔ جب تک ہماری زندگیوں میں یہ قربانیاں شامل نہیں ہوتیں، تب تک صرف جانور ذبح کرنا قربانی کے مکمل مقصد کو پورا نہیں
کر سکتا۔
عید الاضحی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصل اہمیت ظاہری نمود و نمائش کی نہیں بلکہ دل کے تقویٰ، اخلاص اور پاکیزہ
کردار کی ہے ۔ اگر ہم سارا سال حرام کمائی، رشوت، ملاوٹ، فراڈ، چوری، کم تولنے اور حقوق العباد کی پامالی میں مبتلا رہیں اور پھر قربانی کے
جانور ذبح کر کے خود کو کامیاب سمجھیں تو یہ قربانی کی روح کے منافی ہے ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قربانی کو محض ایک رسم یا معاشرتی مقابلہ نہ بنائیں بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اطاعت، حضرت
اسماعیل علیہ السلام کی فرمانبرداری اور نبی کریم ۖ کی سنت کو اپنی زندگیوں میں عملی طور پر نافذ کریں۔ جب ہماری کمائی حلال، معاملات
صاف، کردار دیانت دار اور نیت خالص ہوگی تو تب ہماری قربانی بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہوگی اور یہی قربانی کا حقیقی پیغام ہے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر