وجود

... loading ...

وجود

خاموش چہرہ

اتوار 31 مئی 2026 خاموش چہرہ

بے لگام / ستار چوہدری

۔۔۔۔۔۔۔۔
صرف کتابیں مت پڑھیں،
کبھی زندگی کے اوراق بھی پلٹ کر دیکھیے ۔۔۔۔
کبھی
کسی بوڑھے برگد کے نیچے بیٹھ کر
ہوا کی لرزتی سانسوں کو سنیے ،
وہ آپ کو بتائیں گی
کہ مضبوط دکھائی دینے والے درخت بھی
اکثر اندر سے ٹوٹے ہوتے ہیں۔۔
صرف کتابیں مت پڑھیں،
کبھی ڈھلتے سورج سے پوچھیں
کہ رخصت ہونا کتنا مشکل ہوتا ہے ،
اور یہ بھی
کہ ہر شام کے ماتھے پر
تنہائی کا ایک زرد داغ کیوں ہوتا ہے ۔
کبھی سوکھے پتوں کو ہاتھ میں لے کر دیکھیں،
وہ درختوں سے بچھڑ کر بھی
ہوا کے ساتھ سفر کرتے رہتے ہیں،
جیسے کچھ لوگ
اپنوں سے جدا ہو کر بھی
یادوں کے موسم میں زندہ رہتے ہیں۔
صرف کتابیں مت پڑھیں،
ٹھٹھرتی شاموں کو بھی پڑھا کریں،
ان کے سرد ہاتھوں میں
بچھڑنے والوں کی خاموش دعائیں ہوتی ہیں،
اور دھند میں لپٹے راستے
اکثر اُن لوگوں کی طرح لگتے ہیں
جو منزل سے پہلے ہی تھک گئے ہوں۔
برستے بادلوں کو غور سے دیکھیے ،
یہ صرف پانی نہیں برساتے ،
کئی برسوں سے جمع درد بھی
قطروں میں بہا دیتے ہیں۔
کبھی بارش میں بھیگتی کھڑکیوں کے پاس بیٹھ کر
سوچیے ۔۔۔۔۔
کچھ آنکھیں آخر
اتنی خاموشی سے کیوں رو لیتی ہیں۔۔۔؟
صرف کتابیں مت پڑھیں،
خاموش آنکھوں کا ترجمہ بھی سیکھیے ،
کیونکہ ہر شخص
اپنے دکھ زبان سے بیان نہیں کرتا۔
کچھ لوگ
مسکراہٹ اوڑھ لیتے ہیں
تاکہ دنیا ان کی ٹوٹ پھوٹ نہ پڑھ سکے ۔
اداس منظروں کو بھی پڑھا کریں،
ویران راستوں پر چلتے ہوئے
آپ کو احساس ہوگا
کہ تنہائی صرف اکیلے ہونے کا نام نہیں،
کبھی ہجوم بھی
انسان کو اندر سے خالی کر دیتا ہے ۔
صرف کتابیں مت پڑھیں،
ادھورے چاند کو بھی غور سے دیکھیے ،
وہ ہر مہینے
کچھ راتیں کم رہ کر جیتا ہے ،
جیسے کچھ لوگ
اپنی خواہشوں کا آدھا حصہ مار کر
رشتے نبھاتے ہیں۔
ٹوٹتے تاروں سے پوچھیے ،
زمین تک پہنچنے سے پہلے
کتنے خواب جل جاتے ہیں۔
اور یہ بھی
کہ ہر چمکتی چیز
ہمیشہ خوش قسمت نہیں ہوتی۔
صرف کتابیں مت پڑھیں،
ادھ کھلے پھولوں کو بھی محسوس کیجیے ،
بعض خوشبوئیں
وقت سے پہلے مر جاتی ہیں،
اور کچھ محبتیں
اظہار سے پہلے ہی دفن ہو جاتی ہیں۔
بہتے چشموں کو دیکھیے ،
وہ پتھروں سے ٹکرا کر بھی
رکنا نہیں سیکھتے ،
شاید اسی لیے
زندگی بہنے والوں کو زندہ رکھتی ہے ۔
سوکھے دریاؤں کے کنارے کھڑے ہو کر سوچیے ،
ہر خاموشی کے پیچھے
کوئی نہ کوئی قیامت ضرور گزری ہوتی ہے ۔
کوئی دریا
یونہی پیاسا نہیں مرتا۔
صرف کتابیں مت پڑھیں،
عام سے چہروں کو بھی پڑھا کریں،
کسی مزدور کے پسینے میں
ادھورے خواب ملیں گے ،
کسی ماں کی آنکھوں میں
جاگتی دعاؤں کے چراغ،
کسی باپ کی خاموشی میں
ٹوٹتے حوصلوں کی آواز،
اور کسی بچے کی ہنسی میں
وقت سے پہلے چھن جانے والی معصومیت۔
کبھی ریلوے اسٹیشن پر بیٹھ کر
جاتی ہوئی ٹرینوں کو دیکھیے ،
ہر ڈبے میں
کوئی امید سفر کرتی ہے ،
کوئی جدائی روتی ہے ،
اور کوئی شخص
اپنے شہر کو آخری بار دیکھتا ہے ۔
صرف کتابیں مت پڑھیں،
کبھی قبرستان بھی جایا کریں،
وہاں خاموش قبریں
انسان کی ساری انا کو
چند لمحوں میں دفن کر دیتی ہیں۔
وہاں جا کر معلوم ہوتا ہے
کہ آخر میں
نہ عہدے ساتھ جاتے ہیں،
نہ دولت،
نہ تعریفیں،
صرف اعمال
مٹی کے ساتھ لیٹتے ہیں۔
کبھی رات کے آخری پہر
تنہا آسمان کو دیکھیے ،
ستاروں کی چمک میں
آپ کو اُن لوگوں کے خواب ملیں گے
جو دنیا سے ہار گئے
مگر امید سے نہیں۔
صرف کتابیں مت پڑھیں،
زندگی کو پڑھنا سیکھیے
کیونکہ بعض اوقات
ایک خاموش چہرہ
ہزار کتابوں سے زیادہ سکھا دیتا ہے ،
اور ایک اداس لمحہ
پوری عمر کا فلسفہ بن جاتا ہے ۔
کتابیں علم دیتی ہیں،
مگر زندگی
سمجھ عطا کرتی ہے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر