... loading ...
اونچ نیچ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آفتاب احمد خانزادہ
”نوٹس فرام اندر گراونڈ” محض ایک ناول نہیں، انسانی روح کے اندھیروں میں اترنے والی ایک ایسی فلسفیانہ دستاویز ہے جس
نے جدید انسان کے زخموں، اس کی نفسیاتی شکست، اس کی تنہائی اور اس کی پوشیدہ بغاوت کو اس شدت سے بیان کیا کہ آج بھی دنیا کا ہر
حساس انسان اس ناول میں کہیں نہ کہیں اپنا عکس دیکھ لیتا ہے۔ Fyodor Dostoevsky نے اس ناول میں کوئی ہیرو تخلیق نہیں کیا،
بلکہ ایک ایسا ٹوٹا ہوا انسان پیش کیا جو سماج سے نفرت بھی کرتا ہے اور اسی سماج کی قبولیت کا بھوکا بھی ہے۔ یہی تضاد دراصل جدید انسان کی
سب سے بڑی اذیت ہے۔انڈر گراؤنڈ مین ایک ایسا شخص ہے جو زندگی سے شکست کھا چکا ہے، مگر شکست تسلیم کرنے کے بجائے اپنے
زخموں کو فلسفہ بنا لیتا ہے۔ وہ اپنے کمرے میں بند رہتا ہے، لوگوں سے نفرت کرتا ہے، خود کو ذلیل کرتا ہے، دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے، اور پھر
انہی لوگوں کی توجہ کے لیے اندر ہی اندر تڑپتا بھی ہے۔ یہ کردار صرف روسی سماج کا نمائندہ نہیں، یہ ہر اس انسان کی تصویر ہے جو مسلسل محرومی،
احساسِ کمتری، معاشرتی ذلت اور داخلی انتشار کا شکار ہو۔
دوستو یفسکی نے اس ناول کے ذریعے جدید تہذیب کے اس جھوٹ کو بے نقاب کیا کہ صرف عقل، ترقی اور سائنسی شعور انسان کو خوشحال
بنا سکتے ہیں۔ انڈر گراؤنڈ مین چیخ چیخ کر کہتا ہے کہ انسان صرف عقل سے نہیں چلتا؛ انسان ضد، حسد، خواہش، تکلیف اور خود تباہی سے بھی
چلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات انسان جان بوجھ کر اپنی بربادی کا راستہ چنتا ہے، صرف اس لیے کہ وہ اپنی آزادی ثابت کر سکے۔ یہ
انسانی نفسیات کی شاید سب سے تلخ سچائی ہے۔جرمن فلسفی فریڈرک نٹشے نے کہا تھا کہ ”انسان ایک ایسی رسی ہے جو حیوان اور فوق البشر کے
درمیان تنی ہوئی ہے”۔انڈر گراؤنڈ مین اسی رسی پر لٹکتا ہوا وہ انسان ہے جو نہ مکمل حیوان بن پاتا ہے اور نہ ہی بلند انسانی شعور تک پہنچ پاتا
ہے۔ وہ مسلسل اپنی ہی سوچوں میں ڈوبتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کی عقل اس کے لیے اذیت بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دوستو یفسکی
کے کردار جتنے ذہین ہوتے ہیں، اتنے ہی زیادہ تباہ حال بھی ہوتے ہیں۔اس ناول کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ یہ انسان کے اندر
چھپے ہوئے منافق وجود کو بے رحم سچائی کے ساتھ ظاہر کرتا ہے۔ ہم سب اپنی زندگیوں میں کہیں نہ کہیں انڈر گراؤنڈ مین ہیں۔ ہم سب کبھی نہ
کبھی لوگوں سے نفرت کرتے ہوئے بھی ان کی محبت چاہتے ہیں۔ ہم سب اپنی ناکامیوں کا الزام سماج پر ڈالتے ہوئے بھی اندر سے اپنی
کمزوریوں سے واقف ہوتے ہیں۔ ہم سب اپنے زخم چھپاتے ہوئے اندر ہی اندر چیختے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ناول پڑھتے ہوئے
قاری کو محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی اس کے ذہن کے خفیہ ترین دروازے کھول رہا ہو۔
فرانسیسی فلسفیSartre نے کہا تھا کہ ”جہنم دوسرے لوگ ہیں”۔لیکن دوستو یفسکی اس سے بھی آگے جاتا ہے۔ وہ دکھاتا ہے کہ اصل
جہنم کبھی کبھی انسان کا اپنا ذہن بن جاتا ہے۔ ایک ایسا ذہن جو مسلسل خود کو کاٹتا رہتا ہے، خود کو ذلیل کرتا رہتا ہے، اور پھر اسی تکلیف میں
عجیب قسم کی لذت تلاش کرنے لگتا ہے۔ یہی انڈر گراؤنڈ کی اصل تاریکی ہے۔یہ ناول ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ انسان صرف روٹی کی کمی
سے نہیں ٹوٹتا؛ وہ عزت، محبت، شناخت اور معنی کی کمی سے بھی تباہ ہو جاتا ہے۔ جب کسی سماج میں نوجوانوں کو صرف زندہ رہنے کی جنگ میں
دھکیل دیا جائے، جب ان کے خوابوں کو مسلسل حقارت سے کچلا جائے، جب قابلیت سے زیادہ تعلقات کی قیمت ہو، تو پھر پورا معاشرہ ایک
اجتماعی انڈر گراؤنڈ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ وہاں لوگ زندہ تو ہوتے ہیں مگر روحانی طور پر مر چکے ہوتے ہیں۔Albert Camus نے لکھا تھا کہ ”انسان کی سب سے بڑی بغاوت یہ ہے کہ وہ بے معنی دنیا میں بھی جینے کا فیصلہ کرے”۔شاید یہی وہ نکتہ ہے جہاں دوستو یفسکی کا انڈر گراؤنڈ مین ہمیں ایک تلخ سبق دیتا ہے۔ وہ مکمل طور پر تباہ ہونے کے باوجود زندہ ہے، سوچ رہا ہے، سوال کر رہا ہے، اور اپنے وجود کی اذیت کو محسوس کر رہا ہے۔ کیونکہ جب تک انسان سوال کرتا رہتا ہے، تب تک اس کے اندر انسانیت کی کوئی نہ کوئی چنگاری باقی رہتی ہے۔
”نوٹس فرام اندر گراونڈ”کو اگر پاکستانی سماج، پاکستانی تاریخ اور پاکستانی انسان کے تناظر میں پڑھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ Fyodor Dostoevsky نے صرف روس کے ایک شکست خوردہ انسان کی کہانی نہیں لکھی تھی، بلکہ اس نے آنے والی صدیوں کے
ان تمام معاشروں کی نفسیاتی تصویر کھینچ دی تھی جہاں انسان مسلسل محرومی، ذلت، بے یقینی، خوف اور ناانصافی کے نیچے زندہ رہنے پر مجبور ہو۔
پاکستان بھی آہستہ آہستہ ایک ایسا ہی”انڈر گراؤنڈ”بنتا چلا گیا جہاں لاکھوں لوگ بظاہر زندہ ہیں مگر اندر سے ٹوٹ چکے ہیں۔یہ ملک ایک
خواب کے طور پر وجود میں آیا تھا۔ ایک ایسا خواب جس میں انصاف، برابری، عزت اور انسانی وقار کا وعدہ تھا۔ مگر تاریخ کے طویل
اندھیروں نے اس خواب کو آہستہ آہستہ ایک نفسیاتی اذیت میں بدل دیا۔ یہاں انسان نے صرف معاشی غربت نہیں دیکھی؛ اس نے
مسلسل ٹوٹتے ہوئے ادارے، جھوٹ بولتی ہوئی سیاست، منافقت میں ڈوبا ہوا اخلاقی نظام، اور طاقتور طبقوں کی بے رحمانہ بالادستی بھی
دیکھی۔ یہی وہ ماحول تھا جس نے پاکستانی انسان کے اندر ایک اجتماعی ”انڈر گراؤنڈ مین”پیدا کر دیا۔
ایک پاکستانی نوجوان کو دیکھیں۔ وہ بچپن سے سنتا ہے کہ تعلیم کامیابی کی کنجی ہے، مگر جب وہ ڈگری لے کر نکلتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے
کہ یہاں قابلیت سے زیادہ سفارش کی قیمت ہے۔ اسے کہا جاتا ہے محنت کرو، مگر وہ دیکھتا ہے کہ محنت کرنے والا اکثر ذلیل رہتا ہے جبکہ
چاپلوسی کرنے والا طاقتور بن جاتا ہے۔ یہی تضاد اس کے اندر خاموش نفرت پیدا کرتا ہے۔ وہ بظاہر خاموش رہتا ہے مگر اندر ہی اندر سماج
سے انتقام لینے لگتا ہے۔ یہی دوستو یفسکی کے انڈر گراؤنڈ مین کی اصل نفسیات تھی۔پاکستانی سماج کی سب سے بڑی ٹریجڈی یہ نہیں کہ
یہاں غربت زیادہ ہے؛ اصل المیہ یہ ہے کہ یہاں انسان کی عزت مسلسل ٹوٹتی رہتی ہے۔ ایک غریب آدمی صرف بھوکا نہیں ہوتا، وہ روزانہ
ذلیل بھی ہوتا ہے۔ اسپتال میں، دفتر میں، عدالت میں، تھانے میں، ہر جگہ اسے یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ کمزور ہے اور کمزور انسان اس
ملک میں مکمل انسان نہیں سمجھا جاتا۔ یہی مسلسل ذلت انسان کے اندر نفسیاتی زہر پیدا کرتی ہے۔ پھر وہ یا تو مکمل بے حس ہو جاتا ہے یا اندر
ہی اندر نفرت، غصے اور احساسِ محرومی کا قبرستان بن جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستانی سماج میں بڑھتی ہوئی بدتمیزی، عدم برداشت، نفسیاتی
دباؤ، مذہبی شدت، اور سوشل میڈیا پر زہریلا رویہ صرف اخلاقی مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہری اجتماعی نفسیاتی بیماری ہے۔ جب ایک معاشرہ مسلسل
ناانصافی پیدا کرتا ہے تو اس کے لوگ آہستہ آہستہ ذہنی طور پر بیمار ہونے لگتے ہیں۔ وہ دوسروں کے درد سے لاتعلق ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ خود
اندر سے زخمی ہوتے ہیں۔پاکستانی تاریخ میں بار بار طاقتور طبقوں نے عوام کو صرف ایک ہجوم سمجھا، ایک ایسا ہجوم جسے نعروں، جذبات اور
خوف کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکے۔ مگر کسی سماج کا سب سے خطرناک لمحہ وہ ہوتا ہے جب اس کے نوجوان خاموش ہونا شروع ہو جائیں۔
کیونکہ خاموش نوجوان ہمیشہ پرسکون نہیں ہوتا؛ کبھی کبھی وہ اندر سے مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہوتا ہے۔ یہی انڈر گراؤنڈ کی خاموشی ہے۔ وہ
خاموشی جو باہر سے سکون لگتی ہے مگر اندر نفسیاتی چیخوں سے بھری ہوتی ہے۔
فرانزکافکا(Franz Kafka)کے کرداروں کی طرح پاکستانی انسان بھی اکثر ایسے نظام میں زندہ رہتا ہے جہاں جرم ثابت ہونے
سے پہلے سزا شروع ہو جاتی ہے۔ غریب پیدا ہونا گویا ایک مستقل جرم ہے۔ طاقتور سے سوال کرنا خطرناک ہے۔ سچ بولنا نقصان دہ ہے۔
اور عزت کے ساتھ جینا ایک مہنگا خواب بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عام انسان آہستہ آہستہ اپنی اصل شخصیت کھو دیتا ہے۔ وہ دو چہروں کے
ساتھ جینے لگتا ہے: ایک وہ جو دنیا کو دکھاتا ہے، اور دوسرا وہ جو اندر خاموشی سے ٹوٹ رہا ہوتا ہے۔دوستو یفسکی کا سب سے بڑا کمال یہی تھا
کہ اس نے انسان کے اندر چھپے ہوئے اس زخم کو پہچان لیا تھا جسے دنیا اکثر نظر انداز کر دیتی ہے۔ پاکستان میں بھی اصل بحران صرف سیاسی یا
معاشی نہیں؛ اصل بحران روحانی اور نفسیاتی ہے۔ لوگ تھک چکے ہیں۔ وہ مسلسل زندہ رہنے کی جنگ لڑتے لڑتے اندر سے خالی ہو رہے
ہیں۔ ان کے خواب سکڑتے جا رہے ہیں۔ ان کی خواہشیں محدود ہوتی جا رہی ہیں۔ اب لوگ بڑی کامیابیوں کے خواب نہیں دیکھتے؛ وہ صرف سکون، عزت اور معمولی خوشیوں کی خواہش رکھتے ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں”نوٹس فرام انڈر گراؤنڈ”پاکستانی سماج کا آئینہ بن
جاتا ہے۔ کیونکہ یہاں بھی لاکھوں لوگ اپنے اپنے کمروں، اپنے قرضوں، اپنی محرومیوں، اپنی ناکامیوں اور اپنی خاموش چیخوں کے ساتھ
زندہ ہیں۔ وہ بظاہر روزمرہ زندگی گزار رہے ہیں مگر اندر سے ایک ایسے اندھیرے میں قید ہیں جہاں امید آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہے۔اور
شاید کسی قوم کے زوال کی سب سے خوفناک علامت یہی ہوتی ہے کہ اس کے لوگ خواب دیکھنا چھوڑ دیں۔ کیونکہ جب خواب مر جاتے ہیں
تو انسان صرف سانس لیتا ہے، زندہ نہیں رہتا۔
٭٭٭