وجود

... loading ...

وجود

پاک چین جوہری تعاون

بدھ 27 مئی 2026 پاک چین جوہری تعاون

ریاض احمدچودھری

پاک چین دوطرفہ تعلقات اور مثالی دوستی ایک مضبوط ”ہرموسم کی تزویراتی اشتراکی شراکت داری” میں تبدیل ہوچکی ہے، بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی حالات کے باوجود یہ دوستی مسلسل مضبوط، مؤثر اور تزویراتی اہمیت کی حامل ہوتی گئی ہے۔ پاکستان، چین کے صدر شی جن پنگ کی مدبرانہ قیادت اور مختلف شعبہ جات میں چین کے تعاون کو بیحد قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔پاکستان ”ایک چین” کے اصول پر اپنے غیرمتزلزل سفارتی مؤقف کا اعادہ کرتا ہے، پاکستان کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی ترجیحات میں چین کی مضبوط معاونت نے غیرمعمولی کردار ادا کیا۔سی پیک نے پاکستان میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی، توانائی کے تحفظ،صنعتی تعاون میں بے پناہ کردار ادا کیا ہے، دنیا میں پاکستان اور چین کثیرالجہتی تعاون، پْرامن بقائے باہمی اور جامع ترقی کے اصولوں پر کاربند ہیں۔
پاک چین لازوال دوستی کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے ملک کے سب سے بڑے جوہری بجلی گھر چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ یونٹـ5 کی تعمیر کا باقاعدہ آغاز کر کے ایک اہم سنگ میل حاصل کر لیا۔ چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ 2030 تک تعمیراتی کام مکمل ہونے کے بعد قومی گرڈ کو 1200 میگاواٹ مزید بجلی دینا شروع کر دے گا جس سے ملک میں ماحول دوست اور قابلِ بھروسہ بیس لوڈ نیوکلیئر انرجی کی مجموعی پیداواری صلاحیت 4700 میگاواٹ سے زائد ہو جائے گی۔چین کے اپنے طور پر تیارکردہ پریشرائزڈ واٹر ری ایکٹر ٹیکنالوجی ہوا لونگ 1 پر مبنی دنیا کے پہلے ری ایکٹر فْوچِھنگ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے یونٹ نمبر 5نے ایک ہزار دن کا مسلسل محفوظ اور مستحکم آپریشن مکمل کرلیا جس کے دوران یہ گرڈ کو 37 ارب کلو واٹ آور سے زائد صاف توانائی فراہم کر چکا ہے۔ فو چھنگ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے تیسرے مرحلے کے ڈپٹی منیجر ڑو جن گانگ کے مطابق یہ سنگ میل ہوا لونگ 1 کی حفاظت اور تکنیکی ترقی کو ثابت کرتا ہے اور دنیا بھر میں صاف توانائی کی ترقی میں چین کے مثبت کردار کو اجاگر کرتا ہے۔
چائنہ نیشنل نیوکلیئر کارپوریشن(سی این این سی)کا تیار کردہ ہوالونگ 1، جدید تیسری نسل کا پریشرائزڈ واٹر ری ایکٹر ہے جوتمام ملکیتی حقوق کا حامل ہے۔ یہ ٹیکنالوجی 30 سال سے زائد عرصے پر محیط چین کی نیوکلیئر تحقیق، ڈیزائن، تعمیر اور آپریشن کے تجربے کا نچوڑ ہے اور اس کے تکنیکی معیارات بین الاقوامی جدید معیارات پر پورا اترتے ہیں۔ دنیا کے پہلے ہوا لونگ 1 یونٹ کی تعمیر 2015 میں چین کیمشرقی صوبے فوجیان کے شہر فوچھنگ میں شروع ہوئی تھی جبکہ آزمائشی منصوبے کی مکمل تکمیل 2022 میں ہوئی۔ ہوا لانگ 1 ٹیکنالوجی کو اب بڑے پیمانے پر اپنایا جا چکا ہے۔ اب تک ہوا لونگ 1 کے 41 ری ایکٹرز چین اور بیرون ملک میں یا تو کام کر رہے ہیں یا زیر تعمیر ہیں جس سے یہ دنیا بھر میں تیسری نسل کاسب سے بڑا نیوکلیئر فلیٹ بن گیا ہے۔
چینی نیوکلیئر ماہرین عالمی منڈیوں میں بھی فعال طور پر مواقع تلاش کر رہے ہیں۔مئی 2021 میں ہوا لونگ 1 نیوکلیئر پاور پلانٹ(کےـ2) نے شہر کراچی میں بجلی پیدا کرنا شروع کی۔ جولائی 2023 میں چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ میں ایک نئے ہوا لونگ 1 ری ایکٹر کی تعمیر کا آغاز ہوا۔ چین سے بھجوائے کئے گئے دوسرے ہوا لونگ 1 نیوکلیئر ری ایکٹر، کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ کےـ3 یونٹ نے 18 اپریل کو کامیابی سے حتمی منظوری حاصل کرلی۔ اس سے بیرونِ ملک پہلے ہوا لونگ 1 منصوبے کے تحت دونوں یونٹس (کےـ2 اور کےـ3) کی مکمل ترسیل ہوئی جس نہ صرف چین کی اس ٹیکنالوجی کی پختگی ظاہر ہوتی ہے بلکہ اس کی عالمی منڈی کے لئے موافقت کی بھی تصدیق ہوتی ہے۔منصوبے کی کامیاب تکمیل بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت صاف توانائی میں تعاون کے لئے قابلِ تقلید “چینی حل” فراہم کرتی ہے۔ یہ منصوبہ “مشترکہ مستقبل کے حامل چینـپاکستان معاشرے” کی تشکیل کے لئے چین اور پاکستان کے مل کر کام کرنے اور ہر موسم کی تزویراتی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کی جیتی جاگتی مثال بھی ہے۔چین نے صاف توانائی کے میدان میں ایک نئی مثال قائم کرتے ہوئے ایسی جدید ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے جس میں نمک، سورج کی روشنی اور ہزاروں آئینوں کی مدد سے کم لاگت بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔ اس نظام میں تقریباً 12 ہزار آئینے سورج کی شعاعوں کو ایک بلند ٹاور کی جانب منعکس کرتے ہیں۔ اس عمل سے پیدا ہونے والی شدید حرارت ٹاور کے اندر موجود نمک کو انتہائی بلند درجہ حرارت تک گرم کر دیتی ہے۔ بعد ازاں اسی گرم نمک کی حرارت استعمال کرتے ہوئے پانی کو بھاپ میں تبدیل کیا جاتا ہے، جو ٹربائن چلانے کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔چینی حکام کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے پیدا ہونے والی توانائی لاکھوں گھروں تک پہنچائی جا رہی ہے، جبکہ مزید منصوبوں پر بھی کام جاری ہے جن سے ہزاروں میگاواٹ اضافی بجلی حاصل ہونے کی توقع ہے۔ اس نظام کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ نمک حرارت کو طویل وقت تک محفوظ رکھ سکتا ہے، جس کی وجہ سے سورج غروب ہونے کے بعد بھی کئی گھنٹوں تک بجلی پیدا کرنا ممکن رہتا ہے۔توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس نوعیت کے منصوبے پاکستان کے صحرائی علاقوں میں متعارف کرائے جائیں تو ملک میں سستی اور متبادل توانائی کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر