وجود

... loading ...

وجود

کمال مولیٰ مسجد پر ظالمانہ قبضہ

بدھ 27 مئی 2026 کمال مولیٰ مسجد پر ظالمانہ قبضہ

معصوم مرادآبادی

مدھیہ پردیش کے دھار ضلع میں واقع کمال مولیٰ مسجد کی721سالہ تاریخ میں یہ پہلا جمعہ تھا کہ وہاں مسلمانوں کو سجدہ ریز ہونے کی اجازت نہیں ملی۔انھوں نے احتجاجاً اپنے بازوؤں پر کالی پٹیاں باندھ کر گھروں پر نمازادا کی۔ اس کے باوجود دھار ضلع کے ایس پی سچن شرما نے انھیں دھمکایا کہ ہمت ہے تو آگے آؤ۔اتنا ہی نہیں انھوں نے بھارت ماتا کی جے کا نعرہ جس انداز میں لگایا اسے دیکھ کر یوں محسوس ہوا کہ وہ آئینی ذمہ داریوں سے بندھے ہوئے کوئی پولیس آفیسر نہیں بلکہ بجرنگ دل کے کارکن ہوں۔ سچن شرما کے اس جارحانہ عمل میں بی جے پی حکومت کا وہ گھمنڈ صاف نظر آتا ہے جس کا سرچشمہ اقتدار اور اکثریت کا غرور ہے ۔یہاں یہ سوال اہم ہوجاتا ہے کہ کیا یہ ملک اب قانون اور آئین کے راستے پر آگے بڑھے گا یا پھر یہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا نظام قائم ہوجائے گا۔ مدھیہ پردیش حکومت نے صدیوں پرانی کمال مولیٰ مسجد پر قبضہ کرنے کے لیے جوجال بچھایا تھا، اس میں محکمہ آثار قدیمہ، پولیس اور عدالت سبھی شریک ہیں۔کسی کو بھی اپنی آئینی ذمہ داریوں کا پاس نہیں ہے ۔گویا شریک جرم ہونا ان کے لیے فخر کی علامت بن گیا ہے ۔
کمال مولا مسجد کو مندر قراردینے کے عدالتی فیصلے کے بعد مسلمانوں میں ایسی ہی بے چینی پیدا ہوگئی ہے جیسی کہ اس سے پہلے بابری مسجد کی اراضی ہندوفریق کو سونپ دینے کے فیصلے سے پیدا ہوئی تھی۔ فرق یہ ہے کہ بابری مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کا فیصلہ ملک کی سب سے بڑی عدالت یعنی سپریم کورٹ نے سنایا تھا اور کمال مولا مسجد کو دیوی سرسوتی کا مندر قرار دینے کی ہمت مدھیہ پردیس ہائی کورٹ نے دکھائی ہے ۔ عدالت عالیہ نے تاریخی شواہد، ریونیو ریکارڈ اور دھار ریاست کے گزٹ نوٹیفکیشن کو نظر انداز کرکے محکمہ آثار قدیمہ کی مجہول رپورٹ کی بنیاد پر ایک ایسا فیصلہ صادر کیا جس کی جانبداری چھپائے نہیں چھپ رہی ہے ۔ سب سے زیادہ حیرت اس بات پر ہے کہ ملک میں عبادت گاہوں کے تحفظ سے متعلق ایکٹ مجریہ1991کی موجودگی کے باوجود عدالتیں زعفرانی عناصر کی درخواستوں پرمسجدوں کے خلاف جو فیصلے صادر کررہی ہیں ان سے ملک میں قانون کی حکمرانی کے لیے سنگین چیلنج پیدا ہوگئے ہیں۔ مسجدوں کے سروے کرواکے انھیں متنازع قرار دینا اب عدالتوں کا روز کا معمول بن گیا ہے ۔ ہرتاریخی مسجد کے نیچے مندر کے باقیات تلاش کئے جارہے ہیں اور اس انتہائی خطرناک سرگرمی کو عدلیہ، قانون اور سرکاری مشنری سب کا تحفظ حاصل ہے ۔ بابری مسجد کے مقام پر ناجائز رام مندر کی تعمیر ایک ایسا ناسور ہے جس سے مسلمان بری طرح چور ہیں۔ مسلمانوں کا خیال تھا کہ بابری مسجد کے بعد یہ سلسلہ رک جائے گا اور وہ امن وچین کی زندگی گزارسکیں گے ، لیکنیہ خیال قطعی غلط ثابت ہوا ہے کیونکہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک مستقل پٹارہ کھل گیا ہے ۔
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے کمال مولا مسجد کو مندر قراردے کر وہاں ہندوؤں کو پوجا پاٹ کی اجازت دینے کے ساتھ ساتھ مرکزی
حکومت سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ لندن کے برٹش میوزیم میں رکھی ہوئی واگ دیوی کی مورتی واپس لائے تاکہ اسے یہاں نصب کرکے پوری
طرح مندر کی شکل دی جاسکے ۔ ظاہر ہے عدالت کا یہ حکم اس کی جانبداری اور ناانصافی کا گواہ ہے ۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں مسلمانوں پر
یہ ‘احسان’ ضرور کیا ہے کہ انھیں دھار میں کہیں اور مسجد بنانے کی اجازت مل سکتی ہے ۔مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ ایودھیا تنازع پر
سپریم کورٹ کے فیصلے کی نقل معلوم ہوتا ہے کیونکہ سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی اراضی ہندو فریق کو سونپتے ہوئے یہ حکم بھی دیا تھا کہ حکومت
مسلمانوں کو ایودھیا کی حدود میں کہیں اور مسجد بنانے کے لیے اراضی الاٹ کرے ۔ بلاشبہ ایودھیا سے دور ایک گاؤں میں یہ اراضی الاٹ
بھی کی گئی اور ایک خوبصورت مسجد کا نقشہ بناکر اسے نچایابھی گیا، لیکن وہ جگہ آج بھی خاک پھانک رہی ہے اور وہاں ابھی تک مسجد کی ایک
اینٹ بھی نہیں رکھی گئی ہے ۔ ظاہر ہے مسلمانوں کو اس مسجد سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ، اس لیے یہاں اس کا مز ید ذکر کرنا بھی فضول ہے ۔
ان دونوں ہی عدالتی فیصلوں میں ایک مماثلت ضرور ہے اور وہ یہ کہ ملک کی وہ عدالتیں جن کا کام انصاف فراہم کرنا ہے ازخود ایک فریق بن
گئی ہیں۔ یعنی وہ اکثریتی فرقہ کے حق میں فیصلے صادر کرنے کو ہی انصاف سمجھنے لگی ہیں۔ عدالتوں پر ہی کیا موقوف، اس وقت ملک میں
جمہوریت کے جتنے بھی ادارے ہیں وہ یک رخی ہوگئے ہیں۔ یعنی وہ آئین وقانون کا نفاذ کرنے کی بجائے حکومت وقت کی خوشنودی
حاصل کرنے کے لیے ہی سب کچھ کررہے ہیں۔ حکومت بھی ایسے لوگوں کو بھرپور خیال رکھ رہی ہے اور انھیں پوری بے شرمی کے ساتھ
سرکاری عہدے بانٹ رہی ہے ۔ آپ کو یاد ہوگا کہ ایودھیا کیس کا فیصلہ صادر کرنے والی دستوری بنچ کے سربراہ جسٹس رنجن گوگوئی کو راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیا گیا تھا اور اس بنچ کے ایک دوسرے جج کو گورنر بنایا گیا تھا۔ راجیہ سبھا کی ممبری اور گورنر کی کرسی کوئی بری چیز نہیں ہے ، لیکن جب یہ کرسیاں کسی کو اس وقت ملیں جب وہ اپنی آئینی ذمہ داریوں سے روگردانی کرکے ناانصافی اور ظلم کی بنیاد ڈالے تو یقینا یہ ذلت کا طوق بن جاتی ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ جب جسٹس گوگوئی نے راجیہ سبھا کے ممبر کے طورپر حلف لیا تھا تو ایوان میں موجود اپوزیشن اراکین نے شیم شیم کے نعرے اتنی زور سے لگائے تھے کہ پورا ایوان گونج اٹھا تھا، لیکن جسٹس گوگوئی کے چہرے پر ندامت اور شرمندگی کا بوجھ نہیں تھا۔ پچھلے دنوں جب جسٹس گوگوئی اپنی راجیہ سبھا سیٹ سے سبکدوش ہوئے تو معلوم ہوا کہ انھوں نے چھ سال کے عرصے میں نہ تو کوئی سوال پوچھا اور نہ ہی کسی بحث میں حصہ لیا۔ یعنی ان کے پورے چھ سال خاموشی میں گزرگئے ۔ سنا ہے کہ کمال مولامسجد کو مندر قراردینے والی مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی بنچ کے جسٹس وجے کمار شکلا کے بیٹے کو فوری طورپر نوازا گیا ہے اور انھیں ایک اہم قانونی ذمہ داری سونپی گئی ہے ۔ عین ممکن ہے کہ جسٹس شکلا اور جسٹس آلوک اوستھی کو بھی سبکدوشی کے بعد نئی ذمہ داریاں سونپی جائیں۔معاملہ صرف عدالت تک محدود نہیں ہے بلکہ اگر آپ محکمہ آثار قدیمہ پر نظر ڈالیں تو وہ بھی حاکمان وقت کے سامنے سرنگوں نظر آتا ہے ۔ حالانکہ اس محکمہ کا قیام تاریخی عمارتوں کی ان کی اصل ہیئت کے ساتھ حفاظت کرنا ہے مگر ایودھیا تنازعہ کی طرح دھار کے تنازعہ میں بھی اس محکمہ نے شرمناک کردار اداکیا
ہے ۔ محکمہ آثار قدیمہ نے اپنی رپورٹ میں کمال مولا مسجد کو دیوی سرسوتی کا مندر ثابت کرنے کے لیے ایڑھی سے چوٹی تک زور لگادیا۔
حالانکہ یہ وہی محکمہ ہے جس نے کمال مولامسجد کو مسلم عبادت گاہ تسلیم کرتے ہوئے یہاں مسلمانوں کو نماز جمعہ کی اجازت دے رکھی تھی۔اس
سے پہلے 1951میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل نے واضح طورپر احکام جاری کئے تھے کہ کہ کمال مولا مسجد میں
صرف مسلمان نماز پڑھیں گے ، یہاں کسی اور مذہب کی عبادت نہیں ہوسکتی۔لیکن محکمہ آثار قدیمہ کی نیت بدل گئی ہے اور وہ شرپسندوں کو ہمنوا بن گیا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ عدالتی فیصلے کے بعد محکمہ آثار قدیمہ نے بھوج شالا کو سرسوتی کا مندر اور تہذیبی ریسرچ کا قدیم مرکز قراردیتے ہوئے ہندوؤں کو بلا روک ٹوک آنے جانے کی اجازت دے دی ہے اور مسلمانوں کا داخلہ ممنوع قراردے دیا ہے ۔ اس سے پہلے 2003 میں محکمہ آثار قدیمہ نے ہندو فریق کو صرف منگل اور بسنت پنچمی کے دن پوجا کی اجازت دی تھی جبکہ ہر جمعہ کو یہاں نمازادا کی جاتی تھی، مگر ہائی کورٹ نے اپنے تازہ فیصلے میں اس حکم نامہ کو مسترد کردیا ہے اور اب وہاں مسلمانوں کا کوئی عمل دخل نہیں ہے ۔ مسجد کے منبر اور محراب کے نیچے پوجا پاٹ جاری ہے ۔حالانکہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے ، مگر سپریم کورٹ نے ابھی حتمی فیصلہ ہونے تک وہاں پوجا پاٹ پر کوئی روک نہیں لگائی ہے ۔
اب آئیے حکومت کی طرف جس نے ہائی کورٹ میں تمام تاریخی اور زمینی حقائق کو جھٹلاتے ہوئے اپنے تحریری بیان میں کہا کہ دھار میں واقع بھوج شالہ کبھی بھی مسجد نہیں تھی، لہٰذا یہاں مسلمانوں کو نماز پڑھنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔عدالت میں داخل حلف نامے میں مدھیہ پردیش حکومت نے کہا ہے کہ مسلمانوں کو متنازعہ مقام پر نماز کی اجازت محض فرقہ وارانہ کشیدگی کے ازالہ کے لیے دی گئی تھی۔مدھیہ پردیش حکومت کا سراسر جھوٹا یہ بیان اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ کمال مولا مسجد کو مندر قراردینے کی سازش میں صوبائی حکومت، محکمہ آثار قدیمہ اور عدالت سبھی شامل ہیں اور یہ سب ایک طے شدہ حکمت عملی کے تحت ہوا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس معاملے میں سپریم کورٹ کیا رخ
اختیار کرتا ہے ، کیونکہ اسی نے کمال مولا مسجد کے پیروکاروں کو انصاف حاصل کرنے کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت دی
تھی۔کیا سپریم کورٹ عدالت عالیہ کی طرف سے کی گئی صریح ناانصافی کا ازالہ کرے گا؟
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر