وجود

... loading ...

وجود

امریکی ہتھیاروں کی ریورس انجینئرنگ

منگل 26 مئی 2026 امریکی ہتھیاروں کی ریورس انجینئرنگ

جاوید محمود
۔۔۔۔
امریکہ سے

امریکی کانگریس کی جانب سے ایران جنگ کے دوران امریکی فضائیہ کو پہنچنے والے نقصان کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ جاری کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ اس لڑائی کے دوران امریکہ کے 42طیارے تباہ ہوئے یا انہیں نقصان پہنچا۔ رپورٹ میں امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون سینٹرل کمانڈ سینٹ کام اور نیوز آرٹیکلز کا حوالہ دیا گیا جن کے مطابق جن طیاروں کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہوئے ان میں بغیر پائلٹ کے طیارے ، لڑاکا طیارے اور ڈرون طیارے شامل ہیں۔ دو مارچ 2026 کو سینٹ کام نے تصدیق کی کہ امریکہ کے دو ایف 15ای سینٹرائک لیگل طیارے کویت میں فرینڈلی فائر کی وجہ سے گر کر تباہ ہو گئے۔ اس واقعے میں دونوں طیاروں سے عملے کے چھ افراد باحفاظت نکلنے میں کامیاب ہو گئے ۔پانچ اپریل 2026کو سینٹ کام نے بتایا کہ امریکہ کا ایک ایف 15ای طیارہ ایران میں ایک فضائی کارروائی کے دوران گرکرتباہ ہو گیا ،جس کے دونوں پائلٹس کو ایک الگ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے دوران وہاں سے نکال لیا گیا۔ 19مارچ کے ایک نیوز آرٹیکل کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ہر جنگی کارروائیوں کے دوران ایرانی زمینی فائر نے ایک ایف 35اے طیارے کو نقصان پہنچایا ۔اس وقت امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹ کام نے تصدیق کی تھی کہ ایک امریکی ایف 35لڑا کا طیارے کو ایران کی فضائی حدود میں جنگی مشن کے بعد مشرقی وسطیٰ کے ایک ایئر بیس پر ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی تھی ۔سینٹرل کمانڈ کی طرف سے واقعے کی مزید تفصیلات نہیں دی گئی لیکن سی این این نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اس جہازکو ایران نے ہدف بنایا تھا۔ 12مارچ 2026 کو سینٹ کام نے اطلاع دی کہ دو کے سی 135 ٹینکر طیاروں کے درمیان عراق کی فضائی حدود میں ہونے والے تصادم کے نتیجے میں ایک طیارہ گر کر تباہ ہو گیا جبکہ ایک بحفاظت لینڈنگ کرنے میں کامیاب ہو گیا، گرنے والے طیارے میں عملے کے تمام چھ افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ طیارے فضا میں لڑا کا طیاروں کی فیولنگ کے کام آتے ہیں ۔14مارچ کو ایرانی میزائل اور ڈرون حملے کے دوران طیاروں کو نقصان پہنچا 135کے سی سعودی عرب کے شہزادہ سلطان ایئر بیس پر زمین پر موجود پانچ پی تھری سینٹری ایئر بونڈز ارلی وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم ایئر کرافٹ پانچ اپریل 2026کو دو ایم سی 130جے طیاروں کو جان بوجھ کر ناکارہ کیا گیا جو تباہ ہونے والے ایف 15ای طیارے کی تلاش اور ریسکیو کی کارروائیوں میں معاونت کر رہے تھے۔ خیال رہے کہ ایران نے امریکہ کے ایک ایف 15ای طیارے کو مار گرایا تھا اور اس طیارے کا ایک کریو ممبر ایران میں لاپتہ ہو گیا تھا، جس کی تلاش کے لیے امریکہ نے بڑے پیمانے پر سرچ اینڈ ریسکیو کارروائیاں کی تھیں۔ ایران میں گرنے والے امریکی لڑاکا طیارے کے دوسرے رکن کو ریسکیو کرنے کے دوران امریکی اور ایرانی فورسز کا آمنا سامنا بھی ہوا تھا، صدر ٹرمپ نے اسے بہت بڑا جنگی مشن قرار دیا تھا، جس میں امریکہ کے درجنوں طیاروں نے حصہ لیا تھا، چھ اپریلشن کے دوران نقصان پہنچا ، جنرل ڈین کے نے ایک نیوز کانفرنس میں تصدیق کی کہ پانچ اپریل کو امریکہ کے ایک ایچ ایچ 60 ڈبلیو ہیلی کاپٹر کو ریسکیو مشن کے دوران نقصان پہنچا ۔ان کا اشارہ امریکی پائلٹ کی بازیابی کے لیے کیے جانے والے ریسکیو مشن کی جانب تھا جو ایران کی جانب سے گرائے گئے ایف 15 ای طیارے کے لاپتہ کریو ممبر کے لیے کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ امریکی حکام ایران جنگ کے دوران اپنے زیادہ تر مقاصد حاصل کرنے کے دعوے کرتے رہے ہیں ۔صدر ٹرمپ بھی متعدد مواقع پر یہ کہتے رہے ہیں کہ ایران کی فضائیہ اس کی فوج اور نیوی کو تباہ کیا جا چکا ہے۔ دوسری جانب ایران نے جنگ میں ہونے والے نقصانات کی تفصیلات تاحال ظاہر نہیں کی اور اب بھی اس کا دعویٰ ہے کہ وہ امریکہ کے خلاف جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس بات کا درجنوں بار دعویٰ کر چکے ہیں کہ امریکہ نے ایران کی دفاعی صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایرانی فضائیہ کا مکمل طور خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی نیوی کے تمام جہازوں کو تباہ کر دیا گیا ۔بات یہ ہے کہ اگر یہ دعوے صحیح ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ایران جنگ جاری رکھنے کے لیے تیار ہے ۔اور ایران کا دعویٰ ہے کہ وہ چھ ماہ تک جنگ لڑ سکتا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایران کے پاس بڑی مقدار پر میزائلوں اور ڈرونز کا اسٹاک ہے اور ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایران کی نیوی کو تباہ کرنے کے دعوے غلط ہیں ۔امریکن تجزیہ کارحالیہ تنازع کے دوران ایران میں گر کر نہ پھٹنے والے امریکی اور اسرائیلی گولہ بارود کو تہران کی عسکری صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے ایک اسٹریٹیجک موقع قرار دے رہے ہیں۔ 26 اپریل کو رپورٹ کیا گیا تھا کہ پاسداران انقلاب نے ہربزگان صوبے میں 15بھاری امریکی میزائلوں کو کامیابی سے ناکارہ بنا دیا ہے اور ان ہتھیاروں کو ریورس انجینئرنگ کے لیے ٹیکنیکل اور ریسرچ یونٹس کے حوالے کر دیا ہے ۔یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان ہتھیاروں میں ایک جی بی یو 57بنکر بسٹر بم بھی شامل ہے ۔
ریورس انجینئرنگ ایک ایسا عمل ہے جس کے دوران کسی ہتھیار چیز سافٹ ویز یا مشین کو کھول کر اور اس کے حصوں کا تجزیہ کر کے یہ سمجھنے کی
کوشش کی جاتی ہے کہ وہ کس طرح کام کرتی ہے اور اسے کیسے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ایران کے سخت گیر اسٹوڈنٹ نیوز نیٹ ورک نے ان
بموں کی دریافت کو ایک تحفہ قرار دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ میدان جنگ اب ملک کی دفاعی صنعت کے لیے ایک ریسرچ لیبارٹری بن چکا ہے۔ ان کے مطابق نہ پھٹنے والے ہتھیاروں کو تجزیے کے لیے لیبارٹری منتقل کرنا ایران کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ دشمن کی خطرناک ٹیکنالوجی کی تخلیق کی نقل کر کے اس صورتحال کو ایک اسٹریٹیجک موقع میں بدل دے۔ مغربی تجزیہ کاروں نے دعویٰ کیا ہے انہیں اصل تشویش اس بات پر ہے کہ ایران جدید امریکی اور اسرائیلی ہتھیاروں کو ڈی کوٹ کر رہا ہے ۔اس رپورٹ میں ریورس انجینئرنگ کو ایران پر عائد
پابندیوں کے باعث ایک طویل عرصے سے ناگزیر ضرورت کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور ماضی کی کوششوں کی مثالیں بھی دی گئی ہیں جن میں امریکی ساختہ ہا ک میزائلوں کی نقل اور 2011میں آر کیو 170ڈرون کو قبضے میں لینا شامل ہیں ۔ایران کے انتہائی سخت گیر اخبار کہان کے چیف ایڈیٹر شریعت مداری نے ان کامیابیوں کے وسیع تر جغرافیائی سیاسی استعمال کی تجویز دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایران ریورس انجینئرنگ کرے اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی ٹیکنالوجی کو امریکہ کے حریف ممالک جیسے چین اور روس کے ساتھ شیئر کرے سخت گیر اور اسٹیبلشمنٹ کے حامی ان صارفین نے ان اطلاعات کو ہمارے لیے اچھی اور امریکہ کے لیے بری خبر قرار دیتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا جبکہ بعض نے جلد بڑے پیمانے پر ان ہتھیاروں کی تیاری کی پیش گوئی بھی کی۔ ماہرین نے اس معاملے کو محض ایک خبر نہیں بلکہ عالمی جنگ کے آغاز سے تعبیر کیا اور مغربی میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ برآمد ہونے والا ساز و سامان امریکی ٹیکنالوجی کی پوشیدہ تہوں کو بے نقاب کر سکتا ہے۔ مشرقی وسطیٰ کے تجزیہ کار احسان تکنسی نے دعویٰ کیا کہ اس صورتحال کے پیش نظر امریکہ کو نئے ہتھیاروں پر اربوں ڈالر خرچ کرنے پڑ سکتے ہیں جبکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ عسکری طور پر بھی زیادہ محتاط ہو جائے گا۔ امریکی ہتھیاروں کی ریورس انجینئرنگ امریکہ کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر