... loading ...
اونچ نیچ
۔۔۔۔۔۔۔
آفتاب احمد خانزادہ
ڈیڈ سول(Dead Soulsمحض ایک ناول نہیں بلکہ ایک تہذیبی دستاویز، ایک اخلاقی مرثیہ، اور ایک فلسفیانہ چیخ ہے جو انسان کے اندر مر جانے والی سچائیوں کا نوحہ سناتی ہے،نکولائی گوگل ( Nikolai Gogol)نے اس تخلیق میں نہ صرف اپنے عہد کے روس کو پیش کیا بلکہ انسان کی ازلی کمزوریوں، فریبِ ذات، اور روحانی زوال کو ایک ایسے آئینے میں دکھایا ہے جس سے نظریں چرانا ممکن نہیں، یہ آئینہ محض خارجی دنیا کا عکس نہیں بلکہ باطن کی تاریکیوں کا انکشاف ہے جہاں انسان اپنی ہی بنائی ہوئی حقیقتوں کے جال میں قید ہو جاتا ہے، انیسویں صدی کا روس جاگیرداری، غلامی (Serfdom) اور بیوروکریسی کے شکنجے میں اس طرح جکڑا ہوا تھا کہ انسان کی حیثیت ایک زندہ وجود سے گھٹ کر ایک اندراج، ایک عدد اور ایک سرکاری کاغذ کی سطر بن کر رہ گئی تھی، ریاستی نظام کی فرسودگی اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ مردہ کسان بھی زندہ شمار ہوتے تھے اور انہی کی بنیاد پر ٹیکس وصول کیا جاتا تھا، یہ محض انتظامی خرابی نہیں بلکہ ایک ایسی تہذیبی بے حسی تھی جس میں حقیقت اپنی معنویت کھو چکی تھی، یہی وہ مقام ہے جہاں گو گول کا استعارہ اپنی پوری شدت کے ساتھ ابھرتا ہے کیونکہ ”مردہ روحیں” صرف مرے ہوئے کسان نہیں بلکہ ایک ایسے معاشرے کی علامت ہیں جس کا ضمیر مر چکا ہے مگر اس کا جسم اب بھی حرکت میں ہے، اسی پس منظر میں Pavel Ivanovich Chichikovایک کردار نہیں بلکہ ایک چلتی پھرتی علامت کے طور پر سامنے آتا ہے، وہ اس نظام کا استحصال کرتا ہے مگر درحقیقت وہ اسی نظام کی پیداوار ہے، اس کی چالاکی، اس کی منصوبہ بندی اور اس کی حرص کسی انفرادی برائی کا اظہار نہیں بلکہ اس اجتماعی زوال کی علامت ہے جہاں ہر شخص کسی نہ کسی شکل میں اسی کھیل کا حصہ بن چکا ہے، چچیکوف مردہ روحیں خریدتا ہے مگر حقیقت میں وہ ایک ایسے سماج کی روحوں کی تجارت کر رہا ہوتا ہے جو پہلے ہی اپنی معنویت کھو چکی ہیں، گو گول کے پیش کردہ زمیندار محض کردار نہیں بلکہ انسانی نفسیات کے بکھرے ہوئے استعارے ہیں جہاں ہر فرد ایک خاص اخلاقی بیماری کی علامت بن کر سامنے آتا ہے، کوئی حرص میں اس قدر ڈوبا ہوا ہے کہ اس کے لیے ہر رشتہ، ہر قدر اور ہر سچ محض ایک سودا بن جاتا ہے، کوئی جمود اور سستی کا ایسا شکار ہے کہ زندگی اس کے لیے حرکت کے بجائے ایک ٹھہرا ہوا تعفن بن جاتی ہے، کوئی خود فریبی میں اس حد تک گم ہے کہ اسے اپنی کھوکھلاہٹ کا احساس تک نہیں ہوتا، اور کوئی ظاہری شرافت کے پردے میں ایک ایسی اندرونی ویرانی کو چھپا رہا ہے جو کسی بھی لمحے بے نقاب ہو سکتی ہے، یہ تمام کردار مل کر ایک ایسے معاشرے کی تصویر بناتے ہیں جہاں انسان زندہ ہونے کے باوجود اپنی روح سے محروم ہو چکا ہے، گوگول کا طنز یہاں محض ہنسی پیدا کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک بے رحم آلہ ہے جو تہذیبی نقابوں کو چاک کر دیتا ہے، وہ قاری کو ہنساتا ہے مگر اسی ہنسی کے اندر ایک ایسی چبھن رکھ دیتا ہے جو اسے اپنے ہی وجود پر سوال اٹھانے پر مجبور کر دیتی ہے، یہی وہ مقام ہے جہاں ناول اپنی ادبی حدود سے نکل کر ایک گہرے فلسفیانہ مکالمے میں داخل ہو جاتا ہے کیونکہ ”روح” کا سوال محض مذہبی یا اخلاقی نہیں بلکہ وجودی بن جاتا ہے، اگر انسان کے اندر سچائی، محبت اور احساس مر جائیں تو کیا باقی رہ جاتا ہے، کیا وہ اب بھی ایک مکمل انسان ہے یا صرف ایک چلتا پھرتا سایہ جو اپنی ہی ذات کے ملبے پر کھڑا ہے، گوگول اس سوال کا کوئی واضح جواب نہیں دیتا بلکہ قاری کو اس بے چینی کے ساتھ چھوڑ دیتا ہے کہ شاید ہم سب کسی نہ کسی درجے میں اسی کہانی کا حصہ ہیں، تہذیبی سطح پر یہ ناول ایک ایسی دنیا کو بے نقاب کرتا ہے جہاں حقیقت کاغذوں میں دفن ہو چکی ہے، جہاں اخلاقیات مفاد کے تابع ہو چکی ہیں اور جہاں انسان اپنی اصل سے کٹ کر ایک مصنوعی وجود میں تبدیل ہو چکا ہے، ایسا معاشرہ بظاہر چلتا پھرتا نظر آتا ہے مگر حقیقت میں وہ ایک مردہ جسم ہوتا ہے جس میں زندگی کی حرارت باقی نہیں رہتی، گوگول کا اسلوب اس پورے بیانیے کو ایک خاص شدت عطا کرتا ہے کیونکہ وہ حقیقت نگاری اور علامت نگاری کو اس طرح یکجا کرتا ہے کہ قاری بیک وقت ایک حقیقی دنیا اور ایک علامتی کائنات دونوں میں سفر کر رہا ہوتا ہے، اس کی زبان میں ایک عجیب تضاد پایا جاتا ہے جہاں مزاح اور اداسی ایک ساتھ چلتے ہیں، وہ ہنسی کو ایک پردے کے طور پر استعمال کرتا ہے مگر اس پردے کے پیچھے ایک گہرا المیہ چھپا ہوتا ہے، وہ ہمیں روس کے دیہاتوں، زمینداروں اور سرکاری دفاتر کی سیر کرواتا ہے مگر درحقیقت وہ ہمیں انسان کے اندر کے اندھیروں میں لے جا رہا ہوتا ہے جہاں ہر سوال کا جواب ایک اور سوال بن جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ Dead Souls کسی نتیجے پر نہیں پہنچتا بلکہ ایک کھلے سوال پر ختم ہوتا ہے، ایک ایسا سوال جو قاری کے شعور میں گونجتا رہتا ہے کہ کیا ہم واقعی زندہ ہیں یا صرف زندہ ہونے کا وہم پالے ہوئے ہیں، اور شاید یہی اس ناول کی سب سے بڑی طاقت ہے کہ یہ ہمیں دوسروں کا نہیں بلکہ اپنا احتساب کرنے پر مجبور کر دیتا ہے کیونکہ اس کے آئینے میں سب سے واضح چہرہ ہمارا اپنا ہوتا ہے۔
ڈیڈ سول(Dead Souls)جب Nikolai Gogol کے روس سے نکل کر پاکستان کے تاریخی، سماجی اور نفسیاتی منظرنامے میں داخل ہوتا ہے تو یہ محض ایک ادبی متن نہیں رہتا بلکہ ایک زندہ استعارہ بن جاتا ہے جو ہمارے اجتماعی وجود کی پرتیں کھولتا ہے، انیسویں صدی کے روس میں”مردہ روحوں”کا تصور ایک فرسودہ بیوروکریٹک نظام کی پیداوار تھا مگر پاکستان کی تاریخ میں یہ استعارہ ایک اور بھی پیچیدہ اور گہری صورت اختیار کر لیتا ہے کیونکہ یہاں مسئلہ صرف نظام کی خرابی کا نہیں بلکہ ایک مسلسل تاریخی بے سمتی، شناختی بحران اور اخلاقی انتشار کا ہے جو قیامِ پاکستان کے بعد سے مختلف ادوار میں مختلف شکلوں میں سامنے آتا رہا ہے، ریاست کی تشکیل ایک خواب کے ساتھ ہوئی تھی مگر جلد ہی یہ خواب طاقت کی کشمکش، ادارہ جاتی تضادات اور طبقاتی تقسیم کی نذر ہو گیا، یہاں بھی انسان کی حیثیت بتدریج ایک زندہ شعور سے کم ہو کر ایک عدد، ایک ووٹ، ایک فائل اور ایک شناختی کارڈ تک محدود ہوتی گئی، جیسے گوگول کے روس میں مردہ کسان کاغذوں میں زندہ تھے ویسے ہی ہمارے سماج میں زندہ انسان عملاً غیر مؤثر ہو کر محض ریکارڈ کا حصہ بن جاتے ہیں، اسی تناظر میں Pavel Ivanovich Chichikov کا کردار پاکستانی سماج میں مختلف شکلوں میں ابھرتا ہے، وہ صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک رویہ ہے، ایک ذہنیت ہے جو ہر اس شخص میں نظر آتی ہے جو نظام کی خامیوں کو درست کرنے کے بجائے ان سے فائدہ اٹھانے کو اپنی کامیابی سمجھتا ہے، یہاں چچیکوف سیاست دان بھی ہو سکتا ہے، بیوروکریٹ بھی، کاروباری طبقہ بھی اور عام شہری بھی جو چھوٹے پیمانے پر اسی کھیل کا حصہ بن جاتا ہے، وہ مردہ روحیں خریدتا نہیں بلکہ یہاں مردہ اقدار، مردہ اصول اور مردہ ضمیر بیچے اور خریدے جاتے ہیں، پاکستانی سماج کے مختلف طبقات گوگول کے زمینداروں کی طرح مختلف اخلاقی بیماریوں کی نمائندگی کرتے ہیں، کہیں طاقت کی ہوس ہے جو جمہوریت کو ایک رسم میں بدل دیتی ہے، کہیں دولت کی اندھی دوڑ ہے جو انسان کو انسان نہیں رہنے دیتی، کہیں مذہب کو ایک آلہ بنا کر ضمیر کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور کہیں مایوسی اور بے حسی اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ ظلم بھی معمول لگنے لگتا ہے، یہ سب مل کر ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کرتے ہیں جہاں زندگی بظاہر جاری ہے مگر اس کے اندر ایک گہرا خلا موجود ہے، یہی وہ مقام ہے جہاں”مردہ روحیں”کا استعارہ اپنی سب سے زیادہ شدت کے ساتھ پاکستانی تناظر میں ظاہر ہوتا ہے کیونکہ یہاں روح کی موت محض انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی ہو چکی ہے، تاریخ کے مختلف ادوار میں ہم نے سیاسی عدم استحکام، مارشل لا، ادارہ جاتی ٹوٹ پھوٹ، اور سماجی ناانصافی کو بار بار دہرایا ہے مگر ہر بار اسے ایک نئی شکل دے کر قبول بھی کر لیا ہے، یہ قبولیت دراصل وہ لمحہ ہے جہاں انسان اپنی مزاحمتی روح کھو دیتا ہے اور ایک خاموش تماشائی بن جاتا ہے، گوگول کے ناول میں طنز ایک ہتھیار تھا مگر یہاں طنز خود ایک حقیقت بن چکا ہے کیونکہ جو کچھ وہاں مضحکہ خیز لگتا تھا وہ یہاں معمول کا حصہ محسوس ہوتا ہے، پاکستانی انسان کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ وہ بیک وقت مظلوم بھی ہے اور نظام کا حصہ بھی، وہ ظلم کا شکار بھی ہے اور کبھی کبھی اسی ظلم کو آگے بڑھانے والا بھی، اس دوہری کیفیت نے اس کی شناخت کو ایک مستقل تضاد میں مبتلا کر دیا ہے جہاں وہ سچ کو جانتے ہوئے بھی اس سے نظریں چرا لیتا ہے کیونکہ سچ کا سامنا کرنا اس کے لیے ایک وجودی خطرہ بن چکا ہے، ادبی لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو پاکستان کا بیانیہ بھی کسی حد تک اسی طرح کا ہے جہاں حقیقت اور فسانہ ایک دوسرے میں گھل مل گئے ہیں، قومی بیانیے، تاریخی تشریحات اور سماجی تصورات اکثر اس طرح ترتیب دیے جاتے ہیں کہ وہ ایک تسلی بخش کہانی تو بن جائیں مگر حقیقت کی پوری عکاسی نہ کر سکیں، یہی وہ مقام ہے جہاں گوگول کا اسلوب ہمارے لیے ایک آئینہ بن جاتا ہے کیونکہ وہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ طنز کے ذریعے سچ کو کیسے بے نقاب کیا جا سکتا ہے، فلسفیانہ سطح پر یہ سوال اور بھی گہرا ہو جاتا ہے کہ اگر ایک معاشرہ مسلسل اپنے تضادات کے ساتھ جیتا رہے اور انہیں حل کرنے کے بجائے ان کے ساتھ سمجھوتہ کر لے تو کیا وہ واقعی زندہ رہتا ہے یا صرف زندہ ہونے کا وہم برقرار رکھتا ہے، پاکستانی انسان کی نفسیات میں یہ وہم ایک مستقل کیفیت کی صورت اختیار کر چکا ہے جہاں امید اور مایوسی، شعور اور بے حسی، مزاحمت اور اطاعت ایک ساتھ موجود رہتے ہیں، یہی تضاد اسے مکمل طور پر مرنے بھی نہیں دیتا اور مکمل طور پر زندہ بھی نہیں ہونے دیتا، Dead Souls اس تناظر میں محض ایک ناول نہیں بلکہ ایک ایسا فکری آلہ بن جاتا ہے جو ہمیں اپنے ماضی، حال اور باطن کا تجزیہ کرنے پر مجبور کرتا ہے، یہ ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ اصل بحران باہر کے نظام سے زیادہ اندر کے انسان کا ہے کیونکہ جب تک انسان کے اندر سچائی، دیانت اور احساس زندہ نہیں ہوتے تب تک کوئی بھی نظام اسے زندہ نہیں رکھ سکتا، اور شاید یہی سب سے تلخ حقیقت ہے کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں جسم زندہ ہیں مگر روحیں مسلسل مر رہی ہیں، اور اس سب کے بیچ سب سے بڑا سوال وہی رہ جاتا ہے جو گوگول نے اٹھایا تھا مگر اب وہ ہمارے لیے زیادہ ذاتی اور زیادہ تکلیف دہ ہو چکا ہے کہ کیا ہم واقعی زندہ ہیں یا ہم بھی اپنی اپنی جگہوں پر صرف ”مردہ روحیں”بن چکے ہیں۔
٭٭٭