وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar
ریاستِ مدینہ کابھرم بھی کہاں ٹوٹنا تھا!! وجود - هفته 18 ستمبر 2021

وزیراعظم عمران خان وہاں داخل ہوگئے۔ انگریزی محاورہ جس کی موزوں وضاحت کرتا ہے۔ fools rush in where angels fear to tread (بے وقوف وہاں جاگھستے ہیں جہاں فرشتے بھی گریزاں رہتے ہیں) وزیراعظم عمران خان اسلام کو نوازلیگ یا پیپلزپارٹی کے بدعنوان ٹولے جیسا معاملہ سمجھتے ہیں۔ سیاست میں ''طاقت ور حلقوں'' کی ''مدد'' سے وہ حریفوں پر قابو پاسکتے ہیں ،اس دنیا کی حقیر ترین چیزوں میں شامل اقتدار کی غلام گردشوں کا مزہ لے سکتے ہیں، جو ،نہیں خود کو وہ بھی دکھا سکتے ہیں، جھوٹ کو سچ اور سچ کو ج...

ریاستِ مدینہ کابھرم بھی کہاں ٹوٹنا تھا!!

ملاعمر ! آپ یاد بہت آئے! وجود - هفته 11 ستمبر 2021

وقت کے تمام آفاق سمٹ گئے۔ ادراک کے سب روزن مقفّل ہوئے۔ آہ! آہ اظہار کے سب اسالیب عاجز کیوں ہیں؟ملا عمر ! آج آپ یاد بہت آئے!! آج 11 ستمبر ہے۔ افغان سرزمین آزاد ہے، آپ کے بیٹے حلف اُٹھاتے ہیں۔زمین پر طاقت کے پیروکاروں کا ہجوم در ہجوم ہے مگر یہ نجوم در نجوم اللہ پر ایمان رکھنے والوں کی بزمِ کہکشاں ہے۔ اب دو دہائیاں بیتتی ہیں، آج ہی وحشت ناک تاریکی ، آسمانی پیغام کی امین روشنی کے مقابل صف آرا ہوئی تھی۔ یہیں کہیں دنیا کے سفاک سورما جارج بش نے آندھی کو دربار حاضر کرتے ہوئے سورج ک...

ملاعمر ! آپ یاد بہت آئے!

فرشتہ موت کا چُھوتا ہے گو بدن تیر وجود - بدھ 08 ستمبر 2021

جسم تو فانی ہوتے ہیں، مگر فضائلِ انسانی کو موت نہیں چھوتی۔ سید علی گیلانی کوبھی کہاں چھوئے گی؟بھارت یوں قائم نہ رہے گا، مگر مردِ حریت، عزیمت کا استعارہ بن کر جیتے رہیں گے۔ دنیا اُن کی کہاں ہوتی ہے جو دھارے میں بہتے ہیں، مردانِ حریت تو دھارے کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں۔ افغانستان کا یہی سبق ہے۔ سید علی گیلانی بھی دھارے کے خلاف جبل بن کے کھڑے تھے۔ کوئی دوسرا اُن کے جیسا نہیں، یا للعجب! پاکستانیوں سے بڑھ کر پاکستانی۔ پاکستان میں اقتدار کے کھیل کی تہہ بہ تہہ کہانیوں کے زخمی، مگر کامل ز...

فرشتہ موت کا چُھوتا ہے گو بدن تیر

استعماری گماشتوں کے لیے سبق وجود - هفته 21 اگست 2021

استعماری گماشتوں کے لیے افغانستان میں ایک سبق ہے۔'' گماشتوں'' کو کوئی تحفظ حاصل نہیں۔ اشرف غنی بھاگ گیا، مگر وہ بھاگتا رہے گا، اُسے قرار نہ مل سکے گا، حساب دیتا رہے گا، گماشتوں کا یہی انجام ہوتا ہے۔ عالمی امور کے ماہر لکھاری فینین کَنینگھم نے ان گماشتوں کو ''Uncle Sam’s Running Dogs'' کہا ہے، مگر پاکستان میں یہ تاحال ''Barking Dogs'' ہیں۔ امریکی صدر 16 اگست کو اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے ہکا بکا دکھائی دیے۔ حیرت سے اُن کی آنکھیں پھٹی پڑتی تھیں۔ اس قدر سرعت سے وہ طالبان کی جھو...

استعماری گماشتوں کے لیے سبق

اللہ کو پامردیِ مومن پہ بھروسا وجود - بدھ 18 اگست 2021

یہ طالبان اُسلوب ہے! بے نیازانہ ، جارحانہ اور عاجزانہ۔ دشمن کی طاقت سے بے نیاز، خود پر بھروسے کے تیور میں انتہائی جارح اور اپنے رب کے حضور حاضر ہونے کے احساس سے نہایت مجبور وعاجز!!!بے نیازی ایسی کہ اربوں ڈالر کی پیش کشوں کی جانب نظر تک نہ اُٹھائی، جارحیت ایسی کہ بی ۔52 طیارے ، مہلک ڈرون، خطرناک میزائل نظام، حریف ملیشیائیں اور تیس ممالک کا جنگی حجم مل کر بھی اُن کے تیوروں کا مقابلہ نہ کرسکے۔ اور عاجزی ایسی کہ حریف جنگی کمانڈروں پر غالب آکر اُن کی دلجوئیاں کیں، اُنہیں معاف کیا۔...

اللہ کو پامردیِ مومن پہ بھروسا

سورہ نصر کی گونج وجود - منگل 17 اگست 2021

تاریخ اُنہیں کیسے یاد رکھے گی؟ افغانستان پر امریکی سرپرستی میں کٹھ پتلی حکومت کا قبضہ دراصل بھگوڑوں کی ایک کہانی کے طور پر سامنے آیا۔ اشرف غنی اب کسی سابقے لاحقے کے بغیر ہے۔ وہ تاجکستان فرار ہوا، ایسے کہ خود تاجکستان تسلیم نہیں کررہا کہ وہ اُن کے ملک میں وارد ہوا۔ تازہ انکشاف اشرف غنی کے کھوکھلاپن کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔ بھگوڑے اشرف غنی نے جو وقت استعفیٰ لکھنے میں صرف کرنا چاہئے تھا، وہ افغانستان سے بھاگتے ہوئے امریکی ڈالرز کو جمع کرنے میں لگایا۔ وہ بھاگتے ہوئے ڈالرز سے...

سورہ نصر کی گونج

طالبان سُرخرو ہوئے! وجود - پیر 16 اگست 2021

طالبان تاریخ کی عدالت میں سُرخرو ہوئے۔ طالبان کا بیس سالہ جہاد کامیابی کے ساتھ کابل کا چہرہ دیکھ رہا ہے۔ بھارتی مفادات کا محافظ ،امریکی گماشتہ اشرف غنی کابل سے فرار ہوگیا۔ اتوار کا سورج بھارت کی سرزمین پر روشنی لے کر نہیں اُترا۔ 15 اگست کی مناسبت سے بھارت اس روز اپنے استعماری زعم کے ساتھ یومِ آزادی مناتا ہے۔ مگر اسی روز طالبان کابل میں داخل ہوگئے۔ بھارتی طیارہ اپنے سفارتی عملے کے تحفظ کے لیے کابل کے ہوائی میدان پر پرواز کرتا رہا ، مگر اُسے اُترنے کی اجازت شام تک نہیں مل سک...

طالبان سُرخرو ہوئے!

ترک صدر اردوان توجہ دیں! وجود - هفته 17 جولائی 2021

رجب طیب اردوان قرآن کی تلاوت فرماتے ہیں تو دل موہ لیتے ہیں۔ خوب صورت آواز ، پراثر لحن!گاہے لگتا ہے ساز ، سوز سے بغلگیر ہوتا ہے۔کاش وہ دائم رہنے والی کتاب کی یہ آیت بھی اسی سوز سے پڑھیں، جس میں عالم کا پروردگار گرہ کشا ہے۔ ''اللہ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں رکھے''۔(سورة الاحزاب، آیت چار) طیب اردوان کو آخر کار فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اُس استعمار کا ایندھن بنیں گے جو اپنے ڈھب کی دنیا تشکیل دینا چاہتا ہے اور مسلمانوں میں کشتوں کے پشتے لگا رہا ہے یا پھر وہ تاریخ میں لکیر کی دو...

ترک صدر اردوان توجہ دیں!

کابل پہ دستک وجود - اتوار 04 جولائی 2021

کابل میں دوام مسجد میں گونجنے والی اذان کو ہے۔حضرتِ بلال حبشی کا تکلم اپنے ہونٹوں پہ کھِلانے والے طالبان دارالحکومت پر دستک دے رہے ہیں۔ اللہ اکبر! اللہ اکبر!!ابھی بگرام ہوائی میدان سے خود کو سمیٹنے والے امریکا کی پہلو دار شکست زیرِ بحث نہیں۔ یہ ایک طویل اور ہمہ جہت موضوع ہے، چشم کشا اور عبرت افزا بھی۔ ابھی تو مقطع میں سخن گسترانہ بات کی طرح اشرف غنی آپڑا ہے۔ امریکا کا بچہ سقہ ، اشرف غنی وہائٹ ہاؤس( قصرِ ابیض) میں ماتھا ٹیک آیا۔ کیا شاہ شجاع اور نجیب اللہ فروغ پاسکے تھے ؟آقا ...

کابل پہ دستک

ترے دماغ میں بُت خانہ ہو تو کیا کہیے وجود - جمعرات 24 جون 2021

اللہ اللہ ! طالبان تو ڈر ہی گئے ہوں گے! پینٹاگون نے دفعتاً جھرجھری لی ہے، امریکی فوجی مرکز کے ترجمان جان کربی نے اچانک کہا ہے کہ طالبان کی کارروائیوں اور انہیں حاصل ہونے والے فوائد کے باعث افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کا عمل سست کیا جا سکتا ہے ۔ امریکی ترجمان کو افغان سرزمین پر اپنے تکبر کی قبر پر احتراماً کچھ دیر خاموش کھڑے رہنا چاہئے۔ امریکی افواج کے انخلاء کے عمل میں سستی دراصل مردے کو خراب کرنا ہے۔ طالبان کو اس سے کیا فرق پڑے گا؟ البتہ امریکی غلاموں کی بات دوسری ہ...

ترے دماغ میں بُت خانہ ہو تو کیا کہیے

کُہسار باقی ہے اور افغان بھی! وجود - منگل 22 جون 2021

اگر کچھ عرصے کے لیے ہم اپنا منہ بند رکھ سکیں، شاہ محمود قریشی صاحب آپ سُن رہے ہیں! یہ افغانستان ہے، اور اس کی کچھ سفاک حقیقتیں! احمد شاہ ابدالی کا افغانستان جدید لفنگوں کے لیے نہیں۔تہذیب کے نام پر دھوکا دینے والے درندوں کا نہیں۔ بُشوں، اُباموں ، ٹرمپوں اور بائیڈنوں کا نہیں۔یہ حضرت علامہ اقبال کے خواب کا تسلسل ہے۔ یہ افغانوں کا ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اگر گوش ہوش رکھتے ہو، اور سنیں تو یہ وقت خاموشی کاہے، سکوت ِ حکیمانہ!کُہسار باقی ہے اور افغان بھی۔ فیصلہ ا...

کُہسار باقی ہے اور افغان بھی!

یہ بہ ہر لحظہ نئی دُھن پہ تھِرکتے ہوئے لوگ وجود - اتوار 20 جون 2021

ایک مشہور مقولہ تو یہ ہے کہ عوام کو وہی حکومت ملتی ہے، جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں۔ مگر کیا ایسی بھی حکومت!!1947 ء میں ہم اچھے بھلے چلے تھے، ہمارے قائد کردار میں ہمالہ کی بلندیوں کو چھوتے تھے۔ اُن کی گفتگو میں عہدِ آئندہ کی چاپ سنائی دیتی تھی۔ مگر پھر کیا ہوا؟ ہمارا واسطہ کن لوگوں سے آ پڑا؟ یہ بھی کوئی انتخاب ہے،جو پرویز مشرفوں ، زرداریوں ، شریفوں اور عمران خانوں کے درمیان کرنا پڑے؟ ملک کی دانش کو شاید لقوہ ہو گیا ہے جو ان رہنماؤں کے مابین انتخاب کی لڑائی میں جمہوریت اور آمریت کی...

یہ بہ ہر لحظہ نئی دُھن پہ تھِرکتے ہوئے لوگ

دل پھر طوافِ کوئے ملامت کو جائے ہے! وجود - منگل 15 جون 2021

ساکھ لیڈر کے لیے کرنسی کی طرح ہے۔ اس کے بغیر وہ ایک دیوالیہ پن کے شکار دکھائی دیتے ہیں۔۔ مگر ذہنی اور روحانی دیوالیے کے شکار معاشروں میں رہنما ساکھ کی زیادہ پروا نہیں کرتے۔ وہ عزت یا ساکھ کے بارے میں'' اُس بازار کی مخلوق'' کی طرح سوچتے ہیں جو سمجھتی ہے کہ عزت اللہ نے بہت دی ہے ، جتنی چلی جائے کم نہیں ہوتی۔ نواز لیگ کے صدر شہباز شریف اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو وفاقی میزانیہ پیش کیے جانے کے بعدپارلیمنٹ کے باہر اکٹھے دکھائی دیے تو اس حسین منظر کی تاریخ نے بلائیں لیں۔ ی...

دل پھر طوافِ کوئے ملامت کو جائے ہے!

جعلی تناظر ، مصنوعی لڑائیاں وجود - منگل 30 مارچ 2021

زرتشت قدیم فارس کے مفکر اور مذہبی پیشوا تھے۔ ایک افغان شہر سے ایران کا رخ کیا اور وہیں کے ہورہے۔ کوروش اعظم اور دارا نے اُن کے مذہب کو ریاستی حکم سے نافذ کیا ۔ بہت قلیل تعداد میں اُن کے ماننے والے آج بھی موجود ہیں ، جنہیں پارسی کہا جاتا ہے۔ زرتشت کی زندگی کے مطالعے میں ایک جگہ آدمی ذرا دیر کے لیے رُکتا ہے۔ دو ہزار سال قبل از مسیح میں جناب زرتشت کا تجربہ سیاست دانوں کے ساتھ کیسا رہا ہوگا کہ وہ کہتا ہے: سیاست دان کھٹی قے ہیں''۔ اللہ اللہ یہ پاکستان کے سیاست دان!!! پی ڈی ایم کی...

جعلی تناظر ، مصنوعی لڑائیاں

رہتا ہے مگر ایک عجب خوف سا دل کو وجود - بدھ 17 فروری 2021

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اقتدار کی مدت اور نوعیت پر اُٹھائے گئے سوال سے واضح ہے کہ وہ بھی طویل مدتی اقتدار کی خواہش میں مبتلا ہوچکے۔ عام طور پر یہ آرزو نظام سے زیادہ فرد کی ناگزیریت کی نفسیات سے آلودہ ہوتی ہے۔اسی نفسیات کی تہ داریوں سے انگریزی محاورے نے مختلف شکلیں اختیار کرتے ہوئے پھر یہ الفاظ اپنائے: The graveyards are full of indispensable men (قبرستان ناگزیر لوگوں سے بھرے پڑے ہیں)۔ برصغیر کی عمومی نفسیات یہی ہے۔ یہاں بت پرستی کے غلبے نے تمام مذاہب کو متاثر کیا۔ یہ...

رہتا ہے مگر ایک عجب خوف سا دل کو

آپ کا اعتبار کون کرے وجود - منگل 16 فروری 2021

سیموئل بیکٹ کا واسطہ عمران خان ایسے لوگوں سے رہا ہوگا، کہا:دنیا میں اشکوں کی تعداد ایک سی رہتی ہے“۔ ڈراما نگار کو یہ فقرہ حکومتوں کی جانب سے انسانوں کی تقدیر اور دکھوں میں کمی نہ لانے کے حوالے سے سوجھا تھا۔ عمران خان کی چال میں بھی اشک وہی بہتے ہیں جو عہد زرداری اور دورِ نوازشریف میں بہتے تھے۔ مہنگائی، بربادی، نامرادی،وہی وعدے، وہی پھندے، وہی ہتھکنڈے۔پھر ہماری ریاضت ِ نیم شبی کی صبح کہاں ہے؟ دریا نے اب اُلٹے سمت بہنا شروع کردیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ دنوں دو اہم م...

آپ کا اعتبار کون کرے

لڑائی کیا ہے؟ وجود - منگل 09 فروری 2021

لاحاصل کی خواہش فضول ہے۔ ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا، جب پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے رہنما فوجی قیادت پرسیاست میں مداخلت کاا لزام لگاتے پھرتے تھے۔ اُن پر ”سلیکٹرز“ کی پھبتی کسی جاتی تھی۔ وہ عمران خان حکومت کی نالائقیوں پر موردِ الزام ٹہرائے جاتے تھے۔ایک وقت تھا کہ مقتدر قوتوں کا ذکر انتہائی محتاط الفاظ سے کیا جاتا۔ گاؤں کی الھڑ دوشیزہ کی طرح جو اپنے محبوب کا نام لینے سے گریزاں رہتی اور پلو کے کناروں کو موڑتے ہوئے ہونٹوں کے کناروں سے ”اِن“یا ”اُن“ کے ساتھ ذکرکرتی۔جون ایلیا کو ی...

لڑائی کیا ہے؟

کشمیرکا وکیل کہاں ہے؟ وجود - جمعه 05 فروری 2021

یوم یکجہتی کشمیر ہی نہیں اب خود کشمیر بھی ایک رسمی مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ ابتر نظم مملکت نے پاکستان کے حیات وممات سے جڑے معاملات کو بھی نظروں سے اوجھل کردیا۔جب سیاست ہی اوڑھنا بچھونا بن جائے اور سیاست دانوں سے لے کر قومی اداروں کے ذمہ داروں تک سب کی ترجیح اول روزمرہ کی سیاست پر قابو پانا رہ جائے تو قومی مقاصد دھندلانے لگتے ہیں۔ کشمیر کے ساتھ بھی یہی کچھ ہورہا ہے۔ شاید ہمیں یاد نہیں رہا کہ بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے اور یہ روایتی جملہ نہیں۔ پاکستان کو جتنے سنہری مواقع اب دستیاب...

کشمیرکا وکیل کہاں ہے؟

وہ باتیں تری وہ فسانے ترے وجود - جمعرات 04 فروری 2021

وزیراعظم عمران خان کی ناکامی مکمل اور مدلل ہوچکی۔عمران خان کی سب سے بڑی ناکامی تو یہی ہے کہ اُنہوں نے اپنے ناکام اور نفرت آمیز طرزِ حکومت سے خود اپنے”حریفوں“ کے خلاف ایک ہمدردی پید اکردی ہے۔ نواز شریف اور آصف علی زرداری سے شدید نفرت کرنے والے بھی اب عمران خان کی مسلسل ناکامیوں کے باعث ان سے قدرے ہمدردی محسوس کررہے ہیں۔ یہ عمران خان کی ناکامی کا منہ بولتا اور منہ توڑتا ثبوت ہے۔ عمران خان اپنے کسی دعوے میں سچے، کسی وعدے میں پکے اور کسی نعرے میں کھرے ثابت نہیں ہوئے۔یہاں تک کہ اُ...

وہ باتیں تری وہ فسانے ترے

بکھر جائیں گے ہم کیا جب تماشا ختم ہوگا وجود - جمعه 29 جنوری 2021

افتخار عارف اپنی شاعری کی پرتوں میں تجربے کے جزوی اظہار پر قانع نہیں رہتے، گاہے پورا تجربہ نچوڑتے ہیں، اپنی ایک نظم میں تب ہی مصرعے سے سوال اُٹھایا:۔ بکھر جائیں گے ہم کیا جب تماشا ختم ہوگا مقتدر راہداریوں میں سرگوشیوں پر دھیان رکھنے والے ”خبر“ دے رہے ہیں کہ بلاول بھٹو نے تحریک عدم اعتماد کا ”شوشہ“ یوں ہی نہیں چھوڑا۔ آصف علی زرداری کی صحت ہر چند دن بعد ذرائع ابلاغ میں موضوع بحث بن جاتی ہے۔ مگر یہ کیا، وہ اچانک فعال کیوں ہوگئے؟ نواز لیگ پارلیمنٹ میں تبدیلی کی تجویز سنجیدگی س...

بکھر جائیں گے ہم کیا جب تماشا ختم ہوگا

مودی کا 56انچ سینہ اور کسان تحریک وجود - جمعرات 28 جنوری 2021

کسانوں نے پڑوسی ملک میں محروم طبقات کے لیے امید کی ایک جوت جگادی ہے۔ مودی کے تکبر کو پاؤں تلے روند دیا ہے۔ بھارتی کسانوں کی زبردست مزاحمت کا ولولہ انگیز پراؤ 26/ جنوری کو دہلی تھا۔ بھارتی آئین سال 1950ء میں اسی تاریخ کو منظور ہوا تھا،جس کے بعد یہ ایک قومی دن کے طورپر منایا جانے لگا۔ یوم جمہوریہ کے طور پر اس دن فوجی پریڈہوتی ہے اور بھارتی وزیراعظم دہلی کے لال قلعہ سے خطاب کرتے ہیں۔ بھارتی کسان زرعی اصلاحات کے نام پر متعارف کرائے گئے قوانین کو مسترد کرتے ہیں۔ یہ قوانین زرعی اج...

مودی کا 56انچ سینہ اور کسان تحریک

تیس سال پہلے کیا ہوا؟ بھولیں نہیں! وجود - منگل 19 جنوری 2021

تیس سال قبل سال 1991ء اور ماہ جنوری کی 17 تاریخ کو ہم کیسے فراموش کرسکتے ہیں؟ دو دریاؤں کی زمین پہ یہ ایک بھونچال کا دن تھا۔ دریائے دجلہ اور فرات کے درمیان واقع عراق کی سرزمین نئے امریکی ایجنڈے کا تختہئ مشق بنی تھی۔ آُپریشن صحرائے طوفان (Desert Storm) دراصل ”نیو ورلڈ آرڈر“ کا دیباچہ تھا۔ یہ آنجہانی سوویت یونین کے ساتھ سرد جنگ کے بعد جنوں خیز جنگوں کے نئے سلسلے کی ایک ابتدا تھی۔ آج کا مشرقِ وسطیٰ، اسرائیلی غلبہ، مسلمان ملکوں کی خود سپردگی اور مزاحمت کے لیے غیر ریاستی مزاج کی ...

تیس سال پہلے کیا ہوا؟ بھولیں نہیں!

تیری آخری آرام گاہ پر اللہ کی رحمت ہو! وجود - جمعه 08 جنوری 2021

وفا شعار رؤف طاہر رخصت ہوگئے! اے مرے خدا تو حافظے سے وہ سب محو کردے، جو میرے اور اس کے درمیان کہا سنا گیا۔ جس میں ہم نے اپنے قیمتی اور لذیذ ماہ وسال بِتائے۔ میرا رؤف طاہر وہ نہیں جو مستعار الفاظ میں دھڑے بندی کی تعزیت کا طالب ہو۔ وہ اس سے بے نیاز اپنے رب کے حضورسرخرو پہنچا!جہاں اُس سے یہ سوال نہیں ہوگا کہ وہ جمہوریت کی طرف داری میں کہاں کھڑا تھا؟ اللہ کا دربار اس سے بے نیاز ہے۔ مگر نحوست بھری زندگی سے کنارہ کش ہونے والے برادرِ عزیر سے”متعصبانہ تعزیتیں“ کنارہ کرنے کو تیار نہیں...

تیری آخری آرام گاہ پر اللہ کی رحمت ہو!

بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا وجود - پیر 04 جنوری 2021

سیاسی تحریکیں محض خدع و فریب پر زندگی نہیں کرسکتیں!پی ڈی ایم کا جاتی امراء اجلاس ناکام ہوا۔ حکومت اپنی ناکامیوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ مگرایسی ناکام حکومت کے لیے بھی پی ڈی ایم کا سیاسی اتحاد کوئی بڑا خطرہ پیدا کرنے میں ناکام رہا۔ پی ڈی ایم کے دس جماعتی اتحاد میں محوری جماعتیں تین ہی ہیں۔نوازلیگ اپنے ارکان کی تعداد، پیپلزپارٹی اپنی سندھ حکومت اور جمعیت علمائے اسلام اپنے کارکنان کے بل بوتے پر ایک رونق میلہ لگائے ہوئے تھیں۔پی ڈی ایم کی جماعتوں نے خود ہی حکومت جانے کی مختلف تا...

بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا

مضامین
خطہ پنجاب تاریخ کے آئینے میں وجود بدھ 22 ستمبر 2021
خطہ پنجاب تاریخ کے آئینے میں

ایشیا کا میدان وجود بدھ 22 ستمبر 2021
ایشیا کا میدان

قانون کا ڈنڈا وجود بدھ 22 ستمبر 2021
قانون کا ڈنڈا

اپوزیشن کے بغیر طاقتور احتجاج وجود بدھ 22 ستمبر 2021
اپوزیشن کے بغیر طاقتور احتجاج

امریکا کو خطرہ اندر سے ہے وجود منگل 21 ستمبر 2021
امریکا کو خطرہ اندر سے ہے

چین کے سپنے ، طالبان کے خواب وجود پیر 20 ستمبر 2021
چین کے سپنے ، طالبان کے خواب

ظلم کے خلا ف آواز اٹھانے والوں پر عتاب وجود پیر 20 ستمبر 2021
ظلم کے خلا ف آواز اٹھانے والوں پر عتاب

شاعری چھوڑو وجود اتوار 19 ستمبر 2021
شاعری چھوڑو

گرہن وجود اتوار 19 ستمبر 2021
گرہن

ریاستِ مدینہ کابھرم بھی کہاں ٹوٹنا تھا!! وجود هفته 18 ستمبر 2021
ریاستِ مدینہ کابھرم بھی کہاں ٹوٹنا تھا!!

اپنی دنیاآپ پیداکر وجود هفته 18 ستمبر 2021
اپنی دنیاآپ پیداکر

افغانستان سے امریکی پسپائی وجود هفته 18 ستمبر 2021
افغانستان سے امریکی پسپائی

اشتہار

افغانستان
طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں وجود جمعه 17 ستمبر 2021
طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں

امریکا کا نیا کھیل شروع، القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے وجود بدھ 15 ستمبر 2021
امریکا کا نیا کھیل شروع،  القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے

طالبان دہشت گرد ہیں تو پھر نہرو،گاندھی بھی دہشت گرد تھے، مہتمم دارالعلوم دیوبند کا بھارت میں کلمہ حق وجود بدھ 15 ستمبر 2021
طالبان دہشت گرد ہیں تو پھر نہرو،گاندھی بھی دہشت گرد تھے، مہتمم دارالعلوم دیوبند کا بھارت میں کلمہ حق

نئے افغان آرمی چیف نے عہدے کا چارج سنبھال لیا وجود بدھ 15 ستمبر 2021
نئے افغان آرمی چیف نے عہدے کا چارج سنبھال لیا

افغان قیادت نے مشکل کی گھڑی میں قطر کے تعاون کا شکریہ ادا کیا، سہیل شاہین وجود پیر 13 ستمبر 2021
افغان قیادت نے مشکل کی گھڑی میں قطر کے تعاون کا شکریہ ادا کیا، سہیل شاہین

اشتہار

بھارت
نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم نومبر میں بھارت کا دورہ کرے گی وجود منگل 21 ستمبر 2021
نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم نومبر میں بھارت کا دورہ کرے گی

بھارتی میڈیا کا پاکستان مخالف پروپیگنڈا ایک دفعہ پھر بے نقاب وجود پیر 20 ستمبر 2021
بھارتی میڈیا کا پاکستان مخالف پروپیگنڈا ایک دفعہ پھر بے نقاب

بھارتی رپورٹ غلط قرار،امریکی اخبار نے بھارت کو بے نقاب کر دیا وجود پیر 20 ستمبر 2021
بھارتی رپورٹ غلط قرار،امریکی اخبار نے بھارت کو بے نقاب کر دیا

کابل ایئرپورٹ کا خودکش بمبار بھارتی کالج کا طالب علم نکلا وجود اتوار 19 ستمبر 2021
کابل ایئرپورٹ کا خودکش بمبار بھارتی کالج کا طالب علم نکلا

وزیراعلیٰ پنجاب کا استعفیٰ، سونیا گاندھی کی پارٹی پر گرفت کمزورپڑنے لگی وجود اتوار 19 ستمبر 2021
وزیراعلیٰ پنجاب کا استعفیٰ، سونیا گاندھی کی پارٹی پر گرفت کمزورپڑنے لگی
ادبیات
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو! وجود جمعه 17 ستمبر 2021
تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو!

طالبان کا ’بھگوان والمیکی‘ سے موازنے پر منور رانا کے خلاف ایک اور مقدمہ وجود منگل 24 اگست 2021
طالبان کا ’بھگوان والمیکی‘ سے موازنے پر منور رانا کے خلاف ایک اور مقدمہ

عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی وجود جمعرات 28 جنوری 2021
عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی

لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟ وجود منگل 20 اکتوبر 2020
لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟
شخصیات
سینئرصحافی و افغان امورکے ماہر رحیم اللہ یوسف زئی انتقال کر گئے وجود جمعه 10 ستمبر 2021
سینئرصحافی و افغان امورکے ماہر رحیم اللہ یوسف زئی انتقال کر گئے

بلوچستان کے قوم پرست رہنما ، سردار عطااللہ مینگل کراچی میں انتقال کرگئے وجود جمعه 03 ستمبر 2021
بلوچستان کے قوم پرست رہنما ، سردار عطااللہ مینگل کراچی میں انتقال کرگئے

سچے پاکستانی، سینئر کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی انتقال کرگئے وجود جمعرات 02 ستمبر 2021
سچے پاکستانی، سینئر کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی انتقال کرگئے

پاکستان کے امجد ثاقب ایشیا کا سب سے بڑا ایوارڈ جیتنے میں کامیاب وجود بدھ 01 ستمبر 2021
پاکستان کے امجد ثاقب ایشیا کا سب سے بڑا ایوارڈ جیتنے میں کامیاب

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی طبیعت بگڑ گئی وجود بدھ 01 ستمبر 2021
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی طبیعت بگڑ گئی