وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar
شگفتہ شگفتہ بہانے ترے وجود - جمعه 12 نومبر 2021

وزیراعظم عمران خان اپنی جنگ ہار رہے ہیں۔ وہ خود کو تقدس کے ایسے مقام سے دیکھتے ہیں جو خود اُنہیں ہی دکھائی دیتا ہے۔ سوانگ بھرنا ہالی ووڈ کا کام ہے، رہنما کا نہیں۔ اگر کوئی اقتدار کو ”مزے کی چیز“ سمجھتا ہے تو وہ فاش غلطی پر ہے۔ رہنما کی پینترے بازی یا خود نمائی کارکردگی سے منسلک ہو کر نظرانداز کی جاتی ہے، لیکن اگر کوئی کارکردگی ہی خود نمائی یا پینترے بازی کی رکھتا ہو، تو وہ شکار ی نہیں رہ سکتا، وقت کے ہاتھوں شکار ہوگا۔ وزیر اعظم عمران خان کو یاد رکھنا چاہئے کہ ناموری (سلیبرٹی)...

شگفتہ شگفتہ بہانے ترے

شررفشاں ہوگی آہ میری، نفَس مرا شعلہ بار ہو گا وجود - بدھ 10 نومبر 2021

مسافر لاہور میں ہے، جہاں قرار وقیام کا احساس ہوتا ہے، مزارِ اقبال پر حاضری کو جی چاہتا ہے۔ مدت ہوئی جہاں حاضری نہیں دی۔ مسافر نے بادشاہی مسجد کے میناروں کو نظر بھر کردیکھا مگر بلندی تو یہاں قبر میں سوتی ہے۔رفعتیں تو یہاں گردن اُٹھا کر دیکھتی ہیں۔ موت نے اُن کے چہرے کو متبسم پایا ، وہ اپنی قبر میں سرخرو اُترے تھے۔کیا عجب کہ بادشاہی مسجد کے مینار روز جھک کر اُن کے لیے دُعا کرتے ہوں!!قوم 9 نومبر کو اُن کا یوم پیدائش مناتی ہے۔ بس مناتی ہے!!! وہ قوم کتنی بدقسمت ہے جس میں اقبال پی...

شررفشاں ہوگی آہ میری، نفَس مرا شعلہ بار ہو گا

خلائی مخلوق بمقابلہ جناتی مخلوق وجود - جمعه 29 اکتوبر 2021

کوئی دن گزرتا ہے کہ یہ نظام ڈھے پڑے گا۔ نظام کے محافظ'' جن'' منہ دیکھتے اور ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔ اپنا آدمی لانے کا دوطرفہ جنون اب ختم ہو جانا چاہئے! یہی وقت ہے کہ پوری بات کی جائے، اور پوری بات سمجھی جائے!!وہ گاہے جنات کے زیرِ اثر دِکھنے والا شاعر جون ایلیا کیا بات کہہ گیا حالت ِ حال کے سبب حالت ِحال ہی گئی شوق میں کچھ نہیں گیا شوق کی زندگی گئی ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک بات نہیں کہی گئی بات نہیں سنی گئی سب سے پہلے یہی مسلم لیگ ہی تختہ مشق بنی تھی۔ خواج...

خلائی مخلوق بمقابلہ جناتی مخلوق

یہ رات کب لپٹے گی؟ وجود - پیر 18 اکتوبر 2021

رات لپٹ جائے گی!سحر خور رات کل سورج کے ہی نشانے پر ہوگی!یہی نظامِ فطرت ہے۔ ابھی یہاں گائے کھڑی ہے، کل وہ مردہ ہوگی، تب یہاں گھاس اُگی ہوگی۔ حکیم محمد سعید آج ہی کے دن ہم سے روٹھ گئے تھے۔ اب تیئس سال بیتتے ہیں!اس خاکسار نے اُن کی شہادت کے ذمہ داروں کو بے نقاب کیا تھا۔ طاقت ور حلقوں میں مفادات کے سلسلوں سے تہ بہ تہ پیوستہ تحقیقات کومعلومات کی کسوٹی پر جانچ کر بے وقار کیا تھا۔ طاقت ور حلقے ناراض تھے! یاللعجب ! اسٹیبلشمنٹ کے آج مخالف نوازشریف اور اُن کے حواری بھی۔ دھمکیاں دی جات...

یہ رات کب لپٹے گی؟

میں بھول گیا تھا، وہ چیف آف آرمی اسٹاف ہے!! وجود - جمعرات 14 اکتوبر 2021

یاد آیا، آج وہ جنرل بے طرح یاد آیا۔ وہ داستان سناتا تھا، شعری ٹانکے ساتھ لگاتا جاتا۔ اپنے صحافتی مناقشوں میں وہ آزردہ کرنے والے دن تھے۔ اپنا ہی شہر خفا خفا!! بوری بند لاشوں کا زمانہ ، ایسے میںدوست ناراض،مگر میںاپنے موقف پر ثابت قدم!! جنرل ریٹائر ہو چکے تھے، مگراپنے صحافتی رفیقوں کے بابت ایک جھگڑے میں ناراض تھے۔ محمد طاہر تم جانتے نہیں ہو!!ہمت کی ، جنرل صاحب آپ بھی کب جانتے تھے، قبل از وقت ریٹائر ہونا پڑا!! اس جواب کی امید نہ کرتے تھے۔ وہ چونک گئے۔پھر مسکرا دیے!کیا شاندار آدمی...

میں بھول گیا تھا، وہ چیف آف آرمی اسٹاف ہے!!

کون اس رنگ سے جامہ سے ہوا تھا باہر وجود - پیر 04 اکتوبر 2021

کھیل ابھی ختم نہیں ہوا! زبیر عمر تاریخ کے بہاؤ میں ہے۔ فطرت کے ابدی قوانین جہاں لاگو ہوتے ہیں۔ گاہے مکافات عمل بھی!! انسان اپنی قوت اگر خود سے کشید نہ کرتا ہو، تو بساطِ حیات پر اُسے' مہرے' کی حیثیت قبول کرنا پڑتی ہے۔مہرہ ، فرزیںکاکردار ادا کرنا چاہے، تو آپے میں نہیں رہتا،جامے سے باہر دکھائی پڑتا ہے۔ زبیر عمر بھی دکھائی دیے۔وہ اپنے 'مقام' کا درست تعین نہ کرسکے۔ وہ جو کچھ بھی ہے، شاطر کی ''عنایت '' سے ہے، اپنے دم قدم سے نہیں۔ ایسے لوگوں کو اپنے نامۂ اعمال کا سامنا کرنا پڑتا ہ...

کون اس رنگ سے جامہ سے ہوا تھا باہر

ریاستِ مدینہ کابھرم بھی کہاں ٹوٹنا تھا!! وجود - هفته 18 ستمبر 2021

وزیراعظم عمران خان وہاں داخل ہوگئے۔ انگریزی محاورہ جس کی موزوں وضاحت کرتا ہے۔ fools rush in where angels fear to tread (بے وقوف وہاں جاگھستے ہیں جہاں فرشتے بھی گریزاں رہتے ہیں) وزیراعظم عمران خان اسلام کو نوازلیگ یا پیپلزپارٹی کے بدعنوان ٹولے جیسا معاملہ سمجھتے ہیں۔ سیاست میں ''طاقت ور حلقوں'' کی ''مدد'' سے وہ حریفوں پر قابو پاسکتے ہیں ،اس دنیا کی حقیر ترین چیزوں میں شامل اقتدار کی غلام گردشوں کا مزہ لے سکتے ہیں، جو ،نہیں خود کو وہ بھی دکھا سکتے ہیں، جھوٹ کو سچ اور سچ کو ج...

ریاستِ مدینہ کابھرم بھی کہاں ٹوٹنا تھا!!

ملاعمر ! آپ یاد بہت آئے! وجود - هفته 11 ستمبر 2021

وقت کے تمام آفاق سمٹ گئے۔ ادراک کے سب روزن مقفّل ہوئے۔ آہ! آہ اظہار کے سب اسالیب عاجز کیوں ہیں؟ملا عمر ! آج آپ یاد بہت آئے!! آج 11 ستمبر ہے۔ افغان سرزمین آزاد ہے، آپ کے بیٹے حلف اُٹھاتے ہیں۔زمین پر طاقت کے پیروکاروں کا ہجوم در ہجوم ہے مگر یہ نجوم در نجوم اللہ پر ایمان رکھنے والوں کی بزمِ کہکشاں ہے۔ اب دو دہائیاں بیتتی ہیں، آج ہی وحشت ناک تاریکی ، آسمانی پیغام کی امین روشنی کے مقابل صف آرا ہوئی تھی۔ یہیں کہیں دنیا کے سفاک سورما جارج بش نے آندھی کو دربار حاضر کرتے ہوئے سورج ک...

ملاعمر ! آپ یاد بہت آئے!

فرشتہ موت کا چُھوتا ہے گو بدن تیر وجود - بدھ 08 ستمبر 2021

جسم تو فانی ہوتے ہیں، مگر فضائلِ انسانی کو موت نہیں چھوتی۔ سید علی گیلانی کوبھی کہاں چھوئے گی؟بھارت یوں قائم نہ رہے گا، مگر مردِ حریت، عزیمت کا استعارہ بن کر جیتے رہیں گے۔ دنیا اُن کی کہاں ہوتی ہے جو دھارے میں بہتے ہیں، مردانِ حریت تو دھارے کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں۔ افغانستان کا یہی سبق ہے۔ سید علی گیلانی بھی دھارے کے خلاف جبل بن کے کھڑے تھے۔ کوئی دوسرا اُن کے جیسا نہیں، یا للعجب! پاکستانیوں سے بڑھ کر پاکستانی۔ پاکستان میں اقتدار کے کھیل کی تہہ بہ تہہ کہانیوں کے زخمی، مگر کامل ز...

فرشتہ موت کا چُھوتا ہے گو بدن تیر

استعماری گماشتوں کے لیے سبق وجود - هفته 21 اگست 2021

استعماری گماشتوں کے لیے افغانستان میں ایک سبق ہے۔'' گماشتوں'' کو کوئی تحفظ حاصل نہیں۔ اشرف غنی بھاگ گیا، مگر وہ بھاگتا رہے گا، اُسے قرار نہ مل سکے گا، حساب دیتا رہے گا، گماشتوں کا یہی انجام ہوتا ہے۔ عالمی امور کے ماہر لکھاری فینین کَنینگھم نے ان گماشتوں کو ''Uncle Sam’s Running Dogs'' کہا ہے، مگر پاکستان میں یہ تاحال ''Barking Dogs'' ہیں۔ امریکی صدر 16 اگست کو اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے ہکا بکا دکھائی دیے۔ حیرت سے اُن کی آنکھیں پھٹی پڑتی تھیں۔ اس قدر سرعت سے وہ طالبان کی جھو...

استعماری گماشتوں کے لیے سبق

اللہ کو پامردیِ مومن پہ بھروسا وجود - بدھ 18 اگست 2021

یہ طالبان اُسلوب ہے! بے نیازانہ ، جارحانہ اور عاجزانہ۔ دشمن کی طاقت سے بے نیاز، خود پر بھروسے کے تیور میں انتہائی جارح اور اپنے رب کے حضور حاضر ہونے کے احساس سے نہایت مجبور وعاجز!!!بے نیازی ایسی کہ اربوں ڈالر کی پیش کشوں کی جانب نظر تک نہ اُٹھائی، جارحیت ایسی کہ بی ۔52 طیارے ، مہلک ڈرون، خطرناک میزائل نظام، حریف ملیشیائیں اور تیس ممالک کا جنگی حجم مل کر بھی اُن کے تیوروں کا مقابلہ نہ کرسکے۔ اور عاجزی ایسی کہ حریف جنگی کمانڈروں پر غالب آکر اُن کی دلجوئیاں کیں، اُنہیں معاف کیا۔...

اللہ کو پامردیِ مومن پہ بھروسا

سورہ نصر کی گونج وجود - منگل 17 اگست 2021

تاریخ اُنہیں کیسے یاد رکھے گی؟ افغانستان پر امریکی سرپرستی میں کٹھ پتلی حکومت کا قبضہ دراصل بھگوڑوں کی ایک کہانی کے طور پر سامنے آیا۔ اشرف غنی اب کسی سابقے لاحقے کے بغیر ہے۔ وہ تاجکستان فرار ہوا، ایسے کہ خود تاجکستان تسلیم نہیں کررہا کہ وہ اُن کے ملک میں وارد ہوا۔ تازہ انکشاف اشرف غنی کے کھوکھلاپن کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔ بھگوڑے اشرف غنی نے جو وقت استعفیٰ لکھنے میں صرف کرنا چاہئے تھا، وہ افغانستان سے بھاگتے ہوئے امریکی ڈالرز کو جمع کرنے میں لگایا۔ وہ بھاگتے ہوئے ڈالرز سے...

سورہ نصر کی گونج

طالبان سُرخرو ہوئے! وجود - پیر 16 اگست 2021

طالبان تاریخ کی عدالت میں سُرخرو ہوئے۔ طالبان کا بیس سالہ جہاد کامیابی کے ساتھ کابل کا چہرہ دیکھ رہا ہے۔ بھارتی مفادات کا محافظ ،امریکی گماشتہ اشرف غنی کابل سے فرار ہوگیا۔ اتوار کا سورج بھارت کی سرزمین پر روشنی لے کر نہیں اُترا۔ 15 اگست کی مناسبت سے بھارت اس روز اپنے استعماری زعم کے ساتھ یومِ آزادی مناتا ہے۔ مگر اسی روز طالبان کابل میں داخل ہوگئے۔ بھارتی طیارہ اپنے سفارتی عملے کے تحفظ کے لیے کابل کے ہوائی میدان پر پرواز کرتا رہا ، مگر اُسے اُترنے کی اجازت شام تک نہیں مل سک...

طالبان سُرخرو ہوئے!

ترک صدر اردوان توجہ دیں! وجود - هفته 17 جولائی 2021

رجب طیب اردوان قرآن کی تلاوت فرماتے ہیں تو دل موہ لیتے ہیں۔ خوب صورت آواز ، پراثر لحن!گاہے لگتا ہے ساز ، سوز سے بغلگیر ہوتا ہے۔کاش وہ دائم رہنے والی کتاب کی یہ آیت بھی اسی سوز سے پڑھیں، جس میں عالم کا پروردگار گرہ کشا ہے۔ ''اللہ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں رکھے''۔(سورة الاحزاب، آیت چار) طیب اردوان کو آخر کار فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اُس استعمار کا ایندھن بنیں گے جو اپنے ڈھب کی دنیا تشکیل دینا چاہتا ہے اور مسلمانوں میں کشتوں کے پشتے لگا رہا ہے یا پھر وہ تاریخ میں لکیر کی دو...

ترک صدر اردوان توجہ دیں!

کابل پہ دستک وجود - اتوار 04 جولائی 2021

کابل میں دوام مسجد میں گونجنے والی اذان کو ہے۔حضرتِ بلال حبشی کا تکلم اپنے ہونٹوں پہ کھِلانے والے طالبان دارالحکومت پر دستک دے رہے ہیں۔ اللہ اکبر! اللہ اکبر!!ابھی بگرام ہوائی میدان سے خود کو سمیٹنے والے امریکا کی پہلو دار شکست زیرِ بحث نہیں۔ یہ ایک طویل اور ہمہ جہت موضوع ہے، چشم کشا اور عبرت افزا بھی۔ ابھی تو مقطع میں سخن گسترانہ بات کی طرح اشرف غنی آپڑا ہے۔ امریکا کا بچہ سقہ ، اشرف غنی وہائٹ ہاؤس( قصرِ ابیض) میں ماتھا ٹیک آیا۔ کیا شاہ شجاع اور نجیب اللہ فروغ پاسکے تھے ؟آقا ...

کابل پہ دستک

ترے دماغ میں بُت خانہ ہو تو کیا کہیے وجود - جمعرات 24 جون 2021

اللہ اللہ ! طالبان تو ڈر ہی گئے ہوں گے! پینٹاگون نے دفعتاً جھرجھری لی ہے، امریکی فوجی مرکز کے ترجمان جان کربی نے اچانک کہا ہے کہ طالبان کی کارروائیوں اور انہیں حاصل ہونے والے فوائد کے باعث افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کا عمل سست کیا جا سکتا ہے ۔ امریکی ترجمان کو افغان سرزمین پر اپنے تکبر کی قبر پر احتراماً کچھ دیر خاموش کھڑے رہنا چاہئے۔ امریکی افواج کے انخلاء کے عمل میں سستی دراصل مردے کو خراب کرنا ہے۔ طالبان کو اس سے کیا فرق پڑے گا؟ البتہ امریکی غلاموں کی بات دوسری ہ...

ترے دماغ میں بُت خانہ ہو تو کیا کہیے

کُہسار باقی ہے اور افغان بھی! وجود - منگل 22 جون 2021

اگر کچھ عرصے کے لیے ہم اپنا منہ بند رکھ سکیں، شاہ محمود قریشی صاحب آپ سُن رہے ہیں! یہ افغانستان ہے، اور اس کی کچھ سفاک حقیقتیں! احمد شاہ ابدالی کا افغانستان جدید لفنگوں کے لیے نہیں۔تہذیب کے نام پر دھوکا دینے والے درندوں کا نہیں۔ بُشوں، اُباموں ، ٹرمپوں اور بائیڈنوں کا نہیں۔یہ حضرت علامہ اقبال کے خواب کا تسلسل ہے۔ یہ افغانوں کا ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اگر گوش ہوش رکھتے ہو، اور سنیں تو یہ وقت خاموشی کاہے، سکوت ِ حکیمانہ!کُہسار باقی ہے اور افغان بھی۔ فیصلہ ا...

کُہسار باقی ہے اور افغان بھی!

یہ بہ ہر لحظہ نئی دُھن پہ تھِرکتے ہوئے لوگ وجود - اتوار 20 جون 2021

ایک مشہور مقولہ تو یہ ہے کہ عوام کو وہی حکومت ملتی ہے، جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں۔ مگر کیا ایسی بھی حکومت!!1947 ء میں ہم اچھے بھلے چلے تھے، ہمارے قائد کردار میں ہمالہ کی بلندیوں کو چھوتے تھے۔ اُن کی گفتگو میں عہدِ آئندہ کی چاپ سنائی دیتی تھی۔ مگر پھر کیا ہوا؟ ہمارا واسطہ کن لوگوں سے آ پڑا؟ یہ بھی کوئی انتخاب ہے،جو پرویز مشرفوں ، زرداریوں ، شریفوں اور عمران خانوں کے درمیان کرنا پڑے؟ ملک کی دانش کو شاید لقوہ ہو گیا ہے جو ان رہنماؤں کے مابین انتخاب کی لڑائی میں جمہوریت اور آمریت کی...

یہ بہ ہر لحظہ نئی دُھن پہ تھِرکتے ہوئے لوگ

دل پھر طوافِ کوئے ملامت کو جائے ہے! وجود - منگل 15 جون 2021

ساکھ لیڈر کے لیے کرنسی کی طرح ہے۔ اس کے بغیر وہ ایک دیوالیہ پن کے شکار دکھائی دیتے ہیں۔۔ مگر ذہنی اور روحانی دیوالیے کے شکار معاشروں میں رہنما ساکھ کی زیادہ پروا نہیں کرتے۔ وہ عزت یا ساکھ کے بارے میں'' اُس بازار کی مخلوق'' کی طرح سوچتے ہیں جو سمجھتی ہے کہ عزت اللہ نے بہت دی ہے ، جتنی چلی جائے کم نہیں ہوتی۔ نواز لیگ کے صدر شہباز شریف اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو وفاقی میزانیہ پیش کیے جانے کے بعدپارلیمنٹ کے باہر اکٹھے دکھائی دیے تو اس حسین منظر کی تاریخ نے بلائیں لیں۔ ی...

دل پھر طوافِ کوئے ملامت کو جائے ہے!

جعلی تناظر ، مصنوعی لڑائیاں وجود - منگل 30 مارچ 2021

زرتشت قدیم فارس کے مفکر اور مذہبی پیشوا تھے۔ ایک افغان شہر سے ایران کا رخ کیا اور وہیں کے ہورہے۔ کوروش اعظم اور دارا نے اُن کے مذہب کو ریاستی حکم سے نافذ کیا ۔ بہت قلیل تعداد میں اُن کے ماننے والے آج بھی موجود ہیں ، جنہیں پارسی کہا جاتا ہے۔ زرتشت کی زندگی کے مطالعے میں ایک جگہ آدمی ذرا دیر کے لیے رُکتا ہے۔ دو ہزار سال قبل از مسیح میں جناب زرتشت کا تجربہ سیاست دانوں کے ساتھ کیسا رہا ہوگا کہ وہ کہتا ہے: سیاست دان کھٹی قے ہیں''۔ اللہ اللہ یہ پاکستان کے سیاست دان!!! پی ڈی ایم کی...

جعلی تناظر ، مصنوعی لڑائیاں

رہتا ہے مگر ایک عجب خوف سا دل کو وجود - بدھ 17 فروری 2021

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اقتدار کی مدت اور نوعیت پر اُٹھائے گئے سوال سے واضح ہے کہ وہ بھی طویل مدتی اقتدار کی خواہش میں مبتلا ہوچکے۔ عام طور پر یہ آرزو نظام سے زیادہ فرد کی ناگزیریت کی نفسیات سے آلودہ ہوتی ہے۔اسی نفسیات کی تہ داریوں سے انگریزی محاورے نے مختلف شکلیں اختیار کرتے ہوئے پھر یہ الفاظ اپنائے: The graveyards are full of indispensable men (قبرستان ناگزیر لوگوں سے بھرے پڑے ہیں)۔ برصغیر کی عمومی نفسیات یہی ہے۔ یہاں بت پرستی کے غلبے نے تمام مذاہب کو متاثر کیا۔ یہ...

رہتا ہے مگر ایک عجب خوف سا دل کو

آپ کا اعتبار کون کرے وجود - منگل 16 فروری 2021

سیموئل بیکٹ کا واسطہ عمران خان ایسے لوگوں سے رہا ہوگا، کہا:دنیا میں اشکوں کی تعداد ایک سی رہتی ہے“۔ ڈراما نگار کو یہ فقرہ حکومتوں کی جانب سے انسانوں کی تقدیر اور دکھوں میں کمی نہ لانے کے حوالے سے سوجھا تھا۔ عمران خان کی چال میں بھی اشک وہی بہتے ہیں جو عہد زرداری اور دورِ نوازشریف میں بہتے تھے۔ مہنگائی، بربادی، نامرادی،وہی وعدے، وہی پھندے، وہی ہتھکنڈے۔پھر ہماری ریاضت ِ نیم شبی کی صبح کہاں ہے؟ دریا نے اب اُلٹے سمت بہنا شروع کردیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ دنوں دو اہم م...

آپ کا اعتبار کون کرے

لڑائی کیا ہے؟ وجود - منگل 09 فروری 2021

لاحاصل کی خواہش فضول ہے۔ ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا، جب پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے رہنما فوجی قیادت پرسیاست میں مداخلت کاا لزام لگاتے پھرتے تھے۔ اُن پر ”سلیکٹرز“ کی پھبتی کسی جاتی تھی۔ وہ عمران خان حکومت کی نالائقیوں پر موردِ الزام ٹہرائے جاتے تھے۔ایک وقت تھا کہ مقتدر قوتوں کا ذکر انتہائی محتاط الفاظ سے کیا جاتا۔ گاؤں کی الھڑ دوشیزہ کی طرح جو اپنے محبوب کا نام لینے سے گریزاں رہتی اور پلو کے کناروں کو موڑتے ہوئے ہونٹوں کے کناروں سے ”اِن“یا ”اُن“ کے ساتھ ذکرکرتی۔جون ایلیا کو ی...

لڑائی کیا ہے؟

کشمیرکا وکیل کہاں ہے؟ وجود - جمعه 05 فروری 2021

یوم یکجہتی کشمیر ہی نہیں اب خود کشمیر بھی ایک رسمی مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ ابتر نظم مملکت نے پاکستان کے حیات وممات سے جڑے معاملات کو بھی نظروں سے اوجھل کردیا۔جب سیاست ہی اوڑھنا بچھونا بن جائے اور سیاست دانوں سے لے کر قومی اداروں کے ذمہ داروں تک سب کی ترجیح اول روزمرہ کی سیاست پر قابو پانا رہ جائے تو قومی مقاصد دھندلانے لگتے ہیں۔ کشمیر کے ساتھ بھی یہی کچھ ہورہا ہے۔ شاید ہمیں یاد نہیں رہا کہ بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے اور یہ روایتی جملہ نہیں۔ پاکستان کو جتنے سنہری مواقع اب دستیاب...

کشمیرکا وکیل کہاں ہے؟

مضامین
یورپ کا مخمصہ وجود هفته 04 دسمبر 2021
یورپ کا مخمصہ

اے چاندیہاں نہ نکلاکر وجود جمعه 03 دسمبر 2021
اے چاندیہاں نہ نکلاکر

تاریخ پررحم کھائیں وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
تاریخ پررحم کھائیں

انوکھی یات۔ٹو وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
انوکھی یات۔ٹو

وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے

ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر

ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔ وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔

انسانیت کی معراج وجود اتوار 28 نومبر 2021
انسانیت کی معراج

کل۔چر وجود اتوار 28 نومبر 2021
کل۔چر

بھارتی معاشرہ تباہی کے دھانے پر وجود اتوار 28 نومبر 2021
بھارتی معاشرہ تباہی کے دھانے پر

عاصمہ جہانگیر کانفرنس اور اِدارے وجود هفته 27 نومبر 2021
عاصمہ جہانگیر کانفرنس اور اِدارے

جارحیت کے خلاف قانون وجود هفته 27 نومبر 2021
جارحیت کے خلاف قانون

اشتہار

افغانستان
15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل وجود هفته 04 دسمبر 2021
15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل

طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت وجود جمعه 03 دسمبر 2021
طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت

جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان وجود جمعه 03 دسمبر 2021
جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان

افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال

ورلڈ بینک کا افغانستان کو منجمد فنڈز سے 50کروڑ ڈالر جاری کرنے کا فیصلہ وجود بدھ 01 دسمبر 2021
ورلڈ بینک کا افغانستان کو منجمد فنڈز سے 50کروڑ ڈالر جاری کرنے کا فیصلہ

اشتہار

بھارت
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا

بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی وجود بدھ 01 دسمبر 2021
بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی

بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین وجود پیر 29 نومبر 2021
بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین

بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی وجود هفته 27 نومبر 2021
بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بھارتی دعوت نامہ مسترد کر دیا وجود جمعرات 25 نومبر 2021
چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بھارتی دعوت نامہ مسترد کر دیا
ادبیات
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام وجود منگل 26 اکتوبر 2021
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام

پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام وجود پیر 25 اکتوبر 2021
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام

اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
شخصیات
سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے وجود پیر 29 نومبر 2021
سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے

پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل وجود جمعرات 25 نومبر 2021
پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل

سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز وجود جمعه 19 نومبر 2021
سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز

صحافتی بہادری کا ایوارڈ، چینی اور فلسطینی خواتین صحافیوں کے نام وجود جمعه 19 نومبر 2021
صحافتی بہادری کا ایوارڈ، چینی اور فلسطینی خواتین صحافیوں کے نام

نواب محمد احمد خان قصوری کا قتل ذوالفقار بھٹو کی پھانسی کی وجہ کیسے بنا؟ وجود جمعرات 11 نومبر 2021
نواب محمد احمد خان قصوری کا قتل ذوالفقار  بھٹو کی پھانسی کی وجہ کیسے بنا؟