وجود

... loading ...

وجود
وجود

یہ کمپنی نہیں چلے گی!!

منگل 20 فروری 2024 یہ کمپنی نہیں چلے گی!!

یہ کمپنی نہیں چلے گی، اس کے ساتھ ایک مسئلہ ہو گیا۔ مسئلہ نہایت سنجیدہ ہے، وضاحت کے لیے ذرا دلچسپ پیرایہ ڈھونڈتے ہیں۔ برطانوی وزیراعظم چرچل دوران جنگ صدر روز ویلٹ سے ملنے امریکا گئے۔ ایک صبح چرچل نہا دھو کر اپنا جسم تولیے سے خشک کر رہے تھے کہ روز ویلٹ اُن کے کمرے میں پہنچ گئے۔ چرچل کے جسم پر کپڑے نہ دیکھ کر واپس جانے لگے۔ چرچل نے کہا: مسٹر روزویلٹ واپس جانے کی ضرورت نہیں، برطانیا، امریکا سے کچھ بھی ڈھکا چھپا نہیں رکھنا چاہتا”۔ بات یہاں تک رہے تو ختم ہو جاتی۔ پاکستانی نظام کے کرداروں کے ساتھ مسئلہ یہ ہوا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لیے ”امریکا، برطانیا” تو بن گئے۔ مگر اُن کا معاملہ چرچل اور روز ویلٹ تک محدود نہیں رہا۔ باقیوں نے بھی اُنہیں ”برطانیا امریکا” ہوتے دیکھ لیا۔ اُن کی یہ حالت عوام سے ڈھکی چھپی نہیں رہی۔ اب تولیہ ڈالنے سے کیا ہوگا؟ یہ کمپنی نہیں چلے گی۔
حکومت کا فارمولا ایک دباؤ میں بن رہا ہے۔ قیدی کی مسکراہٹ بندوبست کے رکھوالوں کو پریشان کیے رکھتی ہے۔ سیاست دانوں کا پورا ٹولہ اپنے تضادات، مفادات میں گردن گردن دھنسا ہے۔ نون لیگ اور پیپلزپارٹی سر جوڑ کر بیٹھی ہے۔ اُنہیں جوڑنے موڑنے کے لیے نظام کا دستِ قضا بھی حرکت میں ہے۔ مسلم لیگ نون نے اپنا تماشا خود بنا لیا ہے۔ ایک سیاسی جماعت خاندانی ورثے کی طرح اقتدار کی جمع تقسیم میں جُتی ہے۔ یہاں ملک کا کوئی ذکر ہی نہیں۔ اپنے نہایت محدود مینڈیٹ اور اپنے سیاسی مراکز سے شرمناک شکست سمیٹ کر نون لیگ کو یہ اندازا ہو چکا ہے کہ وہ عوامی حقارت کا ہدف ہے۔ اس میں کوئی جادوئی تبدیلی آنے والی نہیں۔ چنانچہ اب سیاست سے زیادہ حکومت بچانے اور مستقبل کے بجائے موقع تاڑنے کی نفسیات کام کر رہی ہے۔ ایک دباؤ یہ بھی ہے کہ عمران خان اقتدار میں آ گیا تو نظام، عدلیہ اور سرکاری اداروں کے اکٹھ سے مقدمات سمیت جن جن مسائل سے جان چھڑائی ہے، وہ سب زیادہ بھیانک طور پر دوبارہ پیچھا کرنے لگیں گے۔ اس خوف میں نون لیگ ہی نہیں پیپلزپارٹی بھی جکڑی ہوئی ہے۔ مگر یہاں خوف اور لالچ کا ”ہائبرڈ ذہن” کام کررہا ہے۔ زراری کا لمڈا کھیلن کو وزارت عظمیٰ کا چاند مانگ رہا ہے۔ مگر دو سال کا اُسے بہلاوا مل رہا ہے، وہ بھی پانچ سالہ اقتدار کے آخری دوسال۔ کون نہیں جانتا یہ بندو بست اگلے دس ماہ کی زندگی کا بھی یقین نہیں دلا سکتا۔ بلاول نے ضد میں ایڑیاں رگڑنے والے بچے کی طرح ”ناں ناں” کر دیا ہے۔ اسحق ڈار کو یاد دلانا پڑا، اقتدار کا فارمولا طے ہونے سے قبل عوام میں بات نہ کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ کوئی لمحہ جاتا ہے کہ اقتدار کا فارمولا بن جائے گا مگر یہ کٹا چھنی برقرار رہے گی۔ دھاندلی زدہ انتخاب کے بعد بے وقار اقتدار کی ایک قیمت ہے جو اتحادی چکاتے رہیں گے۔ یہاں تک کہ باہم دست و گریباں ہوں گے۔ یہ کمپنی نہیں چلے گی۔
بے ہنگم دھاندلی کے باوجود حکومت ”کہیں کی اینٹ اور کہیں کا روڑا، بھان متی نے کنبہ جوڑا” کے بمصداق ہوگی۔ بھان متی کا کنبہ اپنے اپنے حصے کے لے لڑتا رہے گا۔ وفاق اور پنجاب میں شہباز شریف اور مریم نواز کا اقتدارعوام کو مزید متنفر کرے گا۔ بلوچستان میں زرداری جتھہ وہی کرے گا جو سندھ میں کرتا ہے۔ ریاست کی بندوبستی طاقتوں کو اپنے ساتھ منافع بخش طریقے سے ملوث کرے گا۔ لالچ سے اندھے سرکاری افسران سندھ، بلوچستان میں زرداری کے سسٹم اور پٹہ مافیا کو پھلنے پھولنے دیں گے۔ شرجیل میمن، ناصر حسین شاہ، علی حسن زرداری، انور مجید وغیرہ وغیرہ ایسے لوگ جادوئی ٹوپیاں گھماتے گھماتے اربوں کو کھربوں میں بدلیں گے۔ نون لیگ، پیپلزپارٹی ایک دوسرے کے لیے وہی ”امریکا برطانیا” ہو جائیں گے۔ نظام اپنی رہی سہی آبرو بھی کھوتا جائے گا۔ ملک کی سوکھی رگوں سے خون کے آخری قطرے نچوڑنے والی یہ جونکیں پروا نہ کریں گی کہ مسائل کیسے منہ کھولے کھڑے ہیں؟ مہنگائی کا اژدھا بے قابو رہے گا۔ بے پناہ قرض کی ادائی کا دباؤ عوام کی جیبوں پر پڑے گا، جو پہلے ہی سولہ ماہ کے اقتدار میں کافی سکڑ چکی ہیں۔ عالمی سطح پر ایک غیر مقبول اور دھاندلی زدہ حکومت کو زیادہ پزیرائی نہیں مل سکے گی۔ حکومت اپنے سیاسی فیصلوں میں کمزور ثابت ہو گی۔ زیرِدباؤ حکومت خارجی سطح پر پاکستان کے روایتی کردار کو برباد کرنے کا باعث بنے گی۔ ایک کمزور حکومت کبھی عالمی طاقتوں کے سامنے ٹہر نہیں سکتی۔ سیاسی کمزوری نے جنرل پرویز مشرف کو امریکا کے سامنے ڈھیڑ کیا۔ جس کے باعث پاکستان ، دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کا ایندھن بن کر سلگتا رہا۔ اس کے بدترین اثرات سے پاکستان ابھی تک نکل نہیں سکا۔ ابھی حکومت بنی نہیں کہ خارجہ پالیسی کی سطح پر ایک پسپائی گزشتہ روز ہوئی۔ اقوام متحدہ کے تحت قطر میں ہونے والی دو روزہ کانفرنس میں پاکستان نے افغانستان کیلئے اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی کے تقرر کی حمایت کر دی۔ یہ طالبان کے افغانستان کے موقف کے برخلاف پاکستان کی پوزیشن ہے۔ اس سے قبل پاکستان، افغان طالبان کی حمایت میں اس کا مخالف تھا۔ افغان طالبان کی کچھ شرطیں ہیں اور وہ اس کانفرنس کا بائیکاٹ کر چکے ہیں۔ پاک افغان تعلقات میں یہ اقدام بدگمانی کے سیاہ سایوں کو مزید گہرا کرے گا۔ نئی حکومت کے پاس کوئی گیڈر سنگھی نہ ہوگی کہ وہ جرأت مندانہ اقدام اُٹھاتے ہوئے مقروض ملک کے خارجہ مفادات کو تحفظ دے سکے۔ ابھی تو مسائل بلاول، زرداری، شہبازشریف، مولانا فضل الرحمان، ایم کیو ایم اور نظام کے کرداروں کے درمیان فارمولوں کی ترتیب وتشکیل کے ہیں، اس کے بعد یہ مسائل قرضے کی واپسی کے لیے مزید قرضوں کی حصول یابی،آئی ایم ایف سے درمیان داری، خطے میں امریکی مفادات کی چھتری تلے شب بسری، پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلق داری کی الجھنوں میں بدل جائیں گے۔ یہ شہبا ز شریف کے بوتے کی بات نہیں۔ نظام کے رکھوالے ایسی ناکامیوں کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے۔ وہ اپنی ناکامیوں کے لیے بھی حکومتوں کو مجبور کرتے ہیں کہ اپنا کندھا فراہم کریں۔ یہ کمپنی نہیں چلے گی۔
پاکستان کے حالیہ تمام کھیلوں کا تناظر صرف ایک ہے اور وہ ہے اڈیالہ جیل کا قیدی نمبر 804۔ عمران خا ن کو زیادہ دیر تک جیل سنبھال نہ سکے گی۔ وضعی مقدمات قانون کی تپش سے جلنے لگیں گے،عدالتیں کب تک اپنی ساکھ کو داؤ پر لگاتی رہیں گی؟ نظام کی گرفت ڈھیلی پڑ رہی ہے اور وہ پڑتی ہی چلی جائے گی۔ بہت جلد عمران خان کی ضمانتیں ہونے لگیں گی اور وہ جیل سے باہر ہوگا۔ وہ دن دیکھنے والا ہوگا۔ عوام کی چھوی میں ایک نہ جھکنے والا رہنما جب جیل سے کسی مفاہمت کے بغیر نکلتا ہے تو اس کا قد ہمالیہ کو چھوٹا کر دیتا ہے۔ تاریخ اپنی بانہیں کھول لیتی ہیں۔ الفاظ اس کا صدقہ اُتارتے ہیں۔ فصاحت کی زبانیں اُس کی جرأت واستقامت کے آگے گُنگ اور بلاغت کے دریا خشک ہو جاتے ہیں۔ یہ عمران 10 دسمبر2000ء میں چالیس صندوقوں کے ساتھ سعودی عرب فرار ہو جانے والے نوازشریف کی مانند نہ ہوگا۔ یہ خان 19نومبر 2019ء والے دوسرے نواز شریف کی طرح بھی نہ ہوں گے جو علاج کے بہانے لندن فرار ہو گئے تھے۔ یہ کپتان وہ ہوں گے جو جرأت سے حالات کا غیر مبہم طور پر سامنا کرکے اُبھرے ہیں۔ جنہوں نے معاہدوں کے پیچھے چھپ کر جان نہیں بچائی، بیماریوں کے بہانے تلاش کرکے آسائشیں نہیں ڈھونڈیں۔ یہ وہ عمران نہیں جس نے جیل میں مچھروں کی شکایتیں کی ہو۔ یا زرداری کی طرح عملے کو بدعنوان بنا کر اپنی راتیں زنداں میں بھی رنگین رکھی ہوں۔ یہ وہ عمران ہیں جنہوں نے زندان کے شب وروز عالم کے پروردگار کی آخری کتابِ ہدایت پڑھ کر گزارے جو دنیا کو مچھر کے پَر کے برابر نہ سمجھنے کا حقیقی شعور دیتی ہے۔ جس کا نور زندگی کو اللہ کی امانت کے طور پر دیکھنے کی جبلت دیتا ہے۔ ایسا شخص جب سڑکوں پر ہوگا۔ زنداں سے باہر ہوگا تو یہ پورا نظام اُس کے آگے بونوں کا بندوبست لگے گا۔ تب شہباز شریف کی حکومت ، زرداری کی پھرتیاں اور بلاول کی گلابی اردو کی کِلکاریاں دیکھنے والی ہونگیں۔ تب ہر کوئی کہے گا، یہ کمپنی تو نہیں چلے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
مسلمان کب بیدارہوں گے ؟ وجود جمعه 19 اپریل 2024
مسلمان کب بیدارہوں گے ؟

عام آدمی پارٹی کا سیاسی بحران وجود جمعه 19 اپریل 2024
عام آدمی پارٹی کا سیاسی بحران

مودی سرکار کے ہاتھوں اقلیتوں کا قتل عام وجود جمعه 19 اپریل 2024
مودی سرکار کے ہاتھوں اقلیتوں کا قتل عام

وائرل زدہ معاشرہ وجود جمعرات 18 اپریل 2024
وائرل زدہ معاشرہ

ملکہ ہانس اور وارث شاہ وجود جمعرات 18 اپریل 2024
ملکہ ہانس اور وارث شاہ

اشتہار

تجزیے
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

گرانی پر کنٹرول نومنتخب حکومت کا پہلا ہدف ہونا چاہئے! وجود جمعه 23 فروری 2024
گرانی پر کنٹرول نومنتخب حکومت کا پہلا ہدف ہونا چاہئے!

اشتہار

دین و تاریخ
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود بدھ 13 مارچ 2024
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود جمعرات 08 فروری 2024
تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر