وجود

... loading ...

وجود
وجود

یہ سب کٹھ پتلیاں رقصاں رہیں گی رات کی رات

بدھ 21 فروری 2024 یہ سب کٹھ پتلیاں رقصاں رہیں گی رات کی رات

ماجرا/ محمد طاہر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کٹھ پتلیاں حرکت میں ہیں۔ بجوکے میں جان نہیں پڑ رہی۔ گھاس پھوس ، روح کا متبادل کیسے بن سکتا ہے؟ یہ تو زیست کے فطری قانون کے خلاف ہے۔
مقتدر جماعتیں ٹوٹ پھوٹ کی شکار ہے۔ لیلائے اقتدارکو اغوا کرنے پر تُلی ہیں۔ مگر عوام کے غضب ناک تیوروں اور اقتدار کے نئے گورکھ دھندوں سے خوف زدہ بھی ہیں۔ گلی محلوں کی سرگوشیوں نے پریشان کر رکھا ہے۔ نون لیگ اور پیپلزپارٹی سیاسی نہیں، اب اقتدار کی راہداریوں میں منڈلانے والی جماعتیں رہ گئیں۔ جن کا چولہا چوکا اور دانہ دُنکا موثر حلقوں کی بخشش پر منحصر ہے۔یہ جبر کی مسموم طفیلی بیلیں ہیں، قومی شجرِ حیات کی ڈالی ڈالی کھانے پہ تُلی ہیں۔ گھاگ عورتوں کی طرح بھاؤتاؤ کو اب سیاست کہتی ہیں۔ دونوں جماعتیںایک دوسرے سے بڑھ کر اقتدار کی بیلوںسے رس کشیدنے پر مُصر تھیں۔ انتہائی پُرکاری سے پیپلزپارٹی نے خبر اڑائی کہ وہ اقتدار میں شرکت کے لیے تیار نہیں۔ یہ زیادہ سے زیادہ سودے بازی کی چال تھی۔ مسلم لیگ نون پر دو دن تک لرزہ طاری رہا۔ اس دوران میں کہیں سے ”سمجھ بوجھ” کی غیبی مدد آئی تو پیپلزپارٹی کی چالبازی کا رازکھلا۔ نون لیگ نے بھی نہلے پہ دہلا مارا۔ خبر اڑائی کہ جماعت کے اندر مرکزی حکومت لینے پر تقسیم ہے۔ صرف پنجاب حکومت پر اکتفا کرنا چاہئے۔ دونوں جماعتوں کے پیچھے کھیلنے والے بھی اپنے اپنے اعصاب کے امتحان میں تھے۔ اس دوران پس پردہ لوگ حرکت میںآگئے۔ مہروں کو باور کرایا کہ
اس کھیل میں تعیینِ مراتب ہے ضروری
شاطر کی عنایت سے تو فرزیں، میں پیادہ
بیچارہ پیادہ تو ہے اک مہرئہ ناچیز
فرزیں سے بھی پوشیدہ ہے شاطر کا ارادہ!
مہرے شاطر کی مرضی سے حرکت میں آنے لگے۔ بظاہر تاثر یہ ملا کہ وفاق میں حکومت سازی کے لیے پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کا پانچواں اجلاس بھی بے نتیجہ ختم ہوگیا۔حقیقت کچھ اور ہی تھی۔انتہائی خاموشی سے معاملات طے کرانے والے طے کرا رہے تھے۔ حکومت سازی کے لیے رابطہ کمیٹیوں کے اجلاس کے بالکل متوازی طور پر اصل بات چیت جاری تھی۔ پارلیمنٹ لاجز میں اسحق ڈار کی رہائش گاہ پر پانچویں دور کے بعد چھٹا دور بھی پیر کی شب ہونا طے تھا۔ مگر پیپلز پارٹی کا وفد رات گئے نہیںپہنچا۔ اطلاع یہ کردی گئی کہ اگلا دور منگل کو ہوگا۔ بنیادی باتیں طے ہو گئیں۔ اجلاس محض رسمی کاررائیوں کا حصہ ہے۔ صدر مملکت کا منصب آصف علی زرداری کو دے دیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف ہوں گے۔ اسپیکر کا منصب پیپلزپارٹی کے پاس رہے گا مگر چیئر مین سینیٹ مسلم لیگ نون کا ہوگا۔ یہاںنون لیگ کے اندر ایک کھیل جاری ہے۔ اعظم نذیر تارڑ کو باور کرایا گیا وہ چیئر مین سینیٹ ہوں گے، مگر درون خانہ طے ہے یہ منصب اسحق ڈار کو دیا جائے گا۔ اسحق ڈار کی پچھلی وزارت خزانہ پر شدید تحفظات ہیں۔ شہباز شریف بھی ان سے فاصلہ رکھنا چاہتے ہیں۔ چیئرمین سینیٹ کا منصب ہی باقی رہ جاتا ہے، جو آصف علی زرداری کے ساتھ کسی ”اتفاق” کی صورت میں زیادہ پرکشش بن جائے گا۔پیپلزپارٹی نے ”عیارانہ” روش کا چال چلن جاری رکھا۔ جب وفاقی حکومت سے دور رہنے کا اعلان کیا تب ہی زیادہ وزارتوں کے مطالبے کے ساتھ نون لیگ سے مذاکرات کر تی رہی۔ چھ وزارتیں مانگیں، مگرنون لیگ چار پر اکتفا کرنے کے لیے اِصرار کرتی رہی۔ یہ معاملہ بھی تقریباً طے ہو گیا۔ پیپلزپارٹی اعلان تو یہ کر رہی تھی کہ وفاق میں وزارتیں نہیں چاہئے ، مگر پنجاب میں بھی تین وزارتیں لے اڑی۔ چاروں گورنرز کے معاملات بھی نمٹا دیے گئے۔ ایم کیوایم پنجابی محاورے کے مطابق ”لورلور” پھر رہی ہے۔ مطالبات کی فہرست طویل اور امیدوںکی فہرست طویل تر تھی۔ وہ بھی جانتے ہیںا ور دینے والے بھی کہ اوقات ایک نشست کی بھی نہیں۔ چنانچہ زیادہ وزارتوں کے مطالبے کو پزیرائی نہیں ملی۔ اب دووزارتوں اورسندھ کی گورنر شپ پر اِصرار ہے۔ ابتدائی ذہن واضح کر دیا گیا۔ درون خانہ طے ہوا ہے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ اکٹھے رہیں گے تاکہ چھوٹی جماعتوں کو سراُٹھانے کا موقع نہ ملے ۔ ایم کیوایم کے پاس تو سر ہے ہی نہیں ،اُٹھائیں گے کہاں؟ یہاں پیپلزپارٹی کو للکارنے اور حکومت سازی کے لیے بھیک نہ مانگنے کا باربار اعلان کرنے والے مصطفی کمال کو چپ لگی ہے۔ جبکہ ایم کیو ایم سندھ حکومت میں بھی منہ مارنے کے لیے بے تاب ہیں۔ سب جانتے ہیں ، مہربانیاں ہمیشہ نہیں رہتیں اور” اونچی بارگاہوں” کی ”کرم نوازی” کے بغیر دوبارہ کسی انتخاب میںاُبھرنے کا شاید کبھی موقع نہ ملے۔ استحکام پاکستان پارٹی پنجاب کے ڈپٹی اسپیکر کے وعدے پر مطمئن کی گئی ، دیکھنا ہے، ایسا ہوسکے گا یا نہیں۔ نون لیگ اتحادیوں کے حوالے سے وعدوں کی کوئی قابل اعتبار تاریخ نہیں رکھتی۔
نون لیگ ،پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم او راستحکام پاکستان پارٹی کی دھاندلی اور بے شمار انتظامی اقدامات کی چھینا جھپٹی سے ہاتھ کیے نتائج پر بندربانٹ جاری ہیں۔ 8 فروری 2024 کے حقیقی انتخابی نتائج سے یہ جماعتیںکوئی سبق سیکھنے کو تیار نہیں۔ تحریک انصاف کے مینڈیٹ پر ہاتھ صاف کرکے تحریک انصاف کو ہی تلقین کی جارہی ہے کہ وہ ”شائستگی” کے تیور اپنائیں۔ 80سے زائد نشستوں کے ہیرپھیر سے اقلیت پر اکثریت کی ملمع کاری کرکے حکومت سازی کے لیے سازگار ماحول دے دیا گیا ۔ اڈیالہ جیل کے قیدی نمبر 804 کی ”مجبوری” میںپی ڈی ایم پارٹ ٹو کی تمام جماعتوں کے بھیانک ماضی فراموش کر دیے گئے ۔میمو اسکینڈل سے ڈان لیکس تک اور سرے محل سے پارک لین اپارٹمنٹس تک دہکنے والے تمام الاؤ ٹھنڈے پڑ گئے ۔”اینٹ سے اینٹ بجانے” اور ”جواب دینا پڑے گا” کے تمام حساب نذر آتش ہوئے۔ لوٹ مارکے پرانے کھاتے بھی طاقِ نسیاں پر ہیں۔ کراچی میں تیس ہزار لاشوں کو بھی بھول چوک سمجھ کر بُھلا دیا گیا۔ بس ایک بات یاد ہے اور وہ ہے اڈیالہ جیل کا قیدی نمبر 804۔8 فروری کے انتخابی نتائج کے بعد نوازشریف ، آصف زردرای ، خالد مقبول صدیقی اور علیم خان کو کسی کونے کھدرے میں جاکر عوامی نفرت کے اسباب پر غور کرنا چاہئے تھا۔ اپنی شرمناک کتاب ماضی کے تمام اوراق کو کھولنا کھنگالنا چاہئے تھا۔ اپنی ناکامیوں کے محرکات پر غور کرنا چاہئے تھا۔ حقیقی مینڈیٹ کو راستہ دینا چاہئے تھا۔ مگر یہ سب کیا کر رہے ہیں۔ لوٹ کے مار کی بندر بانٹ میں لگے ہیں۔ ملک بحرانوں کے گرداب میں ہیں۔ اندرونی و بیرونی سطح پر تہہ بہ تہہ مسائل سر اُٹھا رہے ہیں۔ ڈیفالٹ کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ معاشرتی تار پود بکھر رہے ہیں۔مگر نوازشریف کی ترجیحات کا اندازا لگائیں۔ جناب مری تشریف لے گئے ہیں۔ جہاں کسی لمحے آصف زرداری بھی تشریف لے جائیں گے اور پھر ایک نئی حکومت کا اعلان کردیا جائے گا۔ افسوس ملکی پارلیمان کو جاتی امراء او ربلاول ہاؤس سمجھنے کی زہریلی سوچ ختم نہیں ہو رہی۔کبھی یہ لوگ سیاسی جماعتیں رکھتے تھے، اب یہ جماعتیں شریف خاندان کی پرائیوٹ کمپنی اور زرداری کی جیب کی کارستانی بن گئی ہیں۔ کبھی یہ سیاست دان تھے، اب بجوکے لگتے ہیں۔ جنہیں کسی حکم پر حرکت کرنا ہے۔ پھر نوازشریف ، آصف زرداری اور مصطفی کمال میںکیا فرق باقی رہ جاتا ہے؟ حکومت تو ابھی کل بنے گی مگر ان کا مستقبل تو آج ہی بتایا جا سکتا ہے۔
یہ سب کٹھ پتلیاں رقصاں رہیں گی رات کی رات
سحر سے پہلے پہلے سب تماشا ختم ہوگا


متعلقہ خبریں


مضامین
مسلمان کب بیدارہوں گے ؟ وجود جمعه 19 اپریل 2024
مسلمان کب بیدارہوں گے ؟

عام آدمی پارٹی کا سیاسی بحران وجود جمعه 19 اپریل 2024
عام آدمی پارٹی کا سیاسی بحران

مودی سرکار کے ہاتھوں اقلیتوں کا قتل عام وجود جمعه 19 اپریل 2024
مودی سرکار کے ہاتھوں اقلیتوں کا قتل عام

وائرل زدہ معاشرہ وجود جمعرات 18 اپریل 2024
وائرل زدہ معاشرہ

ملکہ ہانس اور وارث شاہ وجود جمعرات 18 اپریل 2024
ملکہ ہانس اور وارث شاہ

اشتہار

تجزیے
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

گرانی پر کنٹرول نومنتخب حکومت کا پہلا ہدف ہونا چاہئے! وجود جمعه 23 فروری 2024
گرانی پر کنٹرول نومنتخب حکومت کا پہلا ہدف ہونا چاہئے!

اشتہار

دین و تاریخ
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود بدھ 13 مارچ 2024
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود جمعرات 08 فروری 2024
تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر