وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar
دل پھر طوافِ کوئے ملامت کو جائے ہے! وجود - منگل 15 جون 2021

ساکھ لیڈر کے لیے کرنسی کی طرح ہے۔ اس کے بغیر وہ ایک دیوالیہ پن کی شکار دکھائی دیتی ہے۔ مگر ذہنی اور روحانی دیوالیے کے شکار معاشروں میں رہنما ساکھ کی زیادہ پروا نہیں کرتے۔ وہ عزت یا ساکھ کے بارے میں'' اُس بازار کی مخلوق'' کی طرح سوچتے ہیں جو سمجھتی ہے کہ عزت اللہ نے بہت دی ہے ، جتنی چلی جائے کم نہیں ہوتی۔ نواز لیگ کے صدر شہباز شریف اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو وفاقی میزانیہ پیش کیے جانے کے بعدپارلیمنٹ کے باہر اکٹھے دکھائی دیے تو اس حسین منظر کی تاریخ نے بلائیں لیں۔ یہ ...

دل پھر طوافِ کوئے ملامت کو جائے ہے!

جعلی تناظر ، مصنوعی لڑائیاں وجود - منگل 30 مارچ 2021

زرتشت قدیم فارس کے مفکر اور مذہبی پیشوا تھے۔ ایک افغان شہر سے ایران کا رخ کیا اور وہیں کے ہورہے۔ کوروش اعظم اور دارا نے اُن کے مذہب کو ریاستی حکم سے نافذ کیا ۔ بہت قلیل تعداد میں اُن کے ماننے والے آج بھی موجود ہیں ، جنہیں پارسی کہا جاتا ہے۔ زرتشت کی زندگی کے مطالعے میں ایک جگہ آدمی ذرا دیر کے لیے رُکتا ہے۔ دو ہزار سال قبل از مسیح میں جناب زرتشت کا تجربہ سیاست دانوں کے ساتھ کیسا رہا ہوگا کہ وہ کہتا ہے: سیاست دان کھٹی قے ہیں''۔ اللہ اللہ یہ پاکستان کے سیاست دان!!! پی ڈی ایم کی...

جعلی تناظر ، مصنوعی لڑائیاں

رہتا ہے مگر ایک عجب خوف سا دل کو وجود - بدھ 17 فروری 2021

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اقتدار کی مدت اور نوعیت پر اُٹھائے گئے سوال سے واضح ہے کہ وہ بھی طویل مدتی اقتدار کی خواہش میں مبتلا ہوچکے۔ عام طور پر یہ آرزو نظام سے زیادہ فرد کی ناگزیریت کی نفسیات سے آلودہ ہوتی ہے۔اسی نفسیات کی تہ داریوں سے انگریزی محاورے نے مختلف شکلیں اختیار کرتے ہوئے پھر یہ الفاظ اپنائے: The graveyards are full of indispensable men (قبرستان ناگزیر لوگوں سے بھرے پڑے ہیں)۔ برصغیر کی عمومی نفسیات یہی ہے۔ یہاں بت پرستی کے غلبے نے تمام مذاہب کو متاثر کیا۔ یہ...

رہتا ہے مگر ایک عجب خوف سا دل کو

آپ کا اعتبار کون کرے وجود - منگل 16 فروری 2021

سیموئل بیکٹ کا واسطہ عمران خان ایسے لوگوں سے رہا ہوگا، کہا:دنیا میں اشکوں کی تعداد ایک سی رہتی ہے“۔ ڈراما نگار کو یہ فقرہ حکومتوں کی جانب سے انسانوں کی تقدیر اور دکھوں میں کمی نہ لانے کے حوالے سے سوجھا تھا۔ عمران خان کی چال میں بھی اشک وہی بہتے ہیں جو عہد زرداری اور دورِ نوازشریف میں بہتے تھے۔ مہنگائی، بربادی، نامرادی،وہی وعدے، وہی پھندے، وہی ہتھکنڈے۔پھر ہماری ریاضت ِ نیم شبی کی صبح کہاں ہے؟ دریا نے اب اُلٹے سمت بہنا شروع کردیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ دنوں دو اہم م...

آپ کا اعتبار کون کرے

لڑائی کیا ہے؟ وجود - منگل 09 فروری 2021

لاحاصل کی خواہش فضول ہے۔ ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا، جب پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے رہنما فوجی قیادت پرسیاست میں مداخلت کاا لزام لگاتے پھرتے تھے۔ اُن پر ”سلیکٹرز“ کی پھبتی کسی جاتی تھی۔ وہ عمران خان حکومت کی نالائقیوں پر موردِ الزام ٹہرائے جاتے تھے۔ایک وقت تھا کہ مقتدر قوتوں کا ذکر انتہائی محتاط الفاظ سے کیا جاتا۔ گاؤں کی الھڑ دوشیزہ کی طرح جو اپنے محبوب کا نام لینے سے گریزاں رہتی اور پلو کے کناروں کو موڑتے ہوئے ہونٹوں کے کناروں سے ”اِن“یا ”اُن“ کے ساتھ ذکرکرتی۔جون ایلیا کو ی...

لڑائی کیا ہے؟

کشمیرکا وکیل کہاں ہے؟ وجود - جمعه 05 فروری 2021

یوم یکجہتی کشمیر ہی نہیں اب خود کشمیر بھی ایک رسمی مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ ابتر نظم مملکت نے پاکستان کے حیات وممات سے جڑے معاملات کو بھی نظروں سے اوجھل کردیا۔جب سیاست ہی اوڑھنا بچھونا بن جائے اور سیاست دانوں سے لے کر قومی اداروں کے ذمہ داروں تک سب کی ترجیح اول روزمرہ کی سیاست پر قابو پانا رہ جائے تو قومی مقاصد دھندلانے لگتے ہیں۔ کشمیر کے ساتھ بھی یہی کچھ ہورہا ہے۔ شاید ہمیں یاد نہیں رہا کہ بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے اور یہ روایتی جملہ نہیں۔ پاکستان کو جتنے سنہری مواقع اب دستیاب...

کشمیرکا وکیل کہاں ہے؟

وہ باتیں تری وہ فسانے ترے وجود - جمعرات 04 فروری 2021

وزیراعظم عمران خان کی ناکامی مکمل اور مدلل ہوچکی۔عمران خان کی سب سے بڑی ناکامی تو یہی ہے کہ اُنہوں نے اپنے ناکام اور نفرت آمیز طرزِ حکومت سے خود اپنے”حریفوں“ کے خلاف ایک ہمدردی پید اکردی ہے۔ نواز شریف اور آصف علی زرداری سے شدید نفرت کرنے والے بھی اب عمران خان کی مسلسل ناکامیوں کے باعث ان سے قدرے ہمدردی محسوس کررہے ہیں۔ یہ عمران خان کی ناکامی کا منہ بولتا اور منہ توڑتا ثبوت ہے۔ عمران خان اپنے کسی دعوے میں سچے، کسی وعدے میں پکے اور کسی نعرے میں کھرے ثابت نہیں ہوئے۔یہاں تک کہ اُ...

وہ باتیں تری وہ فسانے ترے

بکھر جائیں گے ہم کیا جب تماشا ختم ہوگا وجود - جمعه 29 جنوری 2021

افتخار عارف اپنی شاعری کی پرتوں میں تجربے کے جزوی اظہار پر قانع نہیں رہتے، گاہے پورا تجربہ نچوڑتے ہیں، اپنی ایک نظم میں تب ہی مصرعے سے سوال اُٹھایا:۔ بکھر جائیں گے ہم کیا جب تماشا ختم ہوگا مقتدر راہداریوں میں سرگوشیوں پر دھیان رکھنے والے ”خبر“ دے رہے ہیں کہ بلاول بھٹو نے تحریک عدم اعتماد کا ”شوشہ“ یوں ہی نہیں چھوڑا۔ آصف علی زرداری کی صحت ہر چند دن بعد ذرائع ابلاغ میں موضوع بحث بن جاتی ہے۔ مگر یہ کیا، وہ اچانک فعال کیوں ہوگئے؟ نواز لیگ پارلیمنٹ میں تبدیلی کی تجویز سنجیدگی س...

بکھر جائیں گے ہم کیا جب تماشا ختم ہوگا

مودی کا 56انچ سینہ اور کسان تحریک وجود - جمعرات 28 جنوری 2021

کسانوں نے پڑوسی ملک میں محروم طبقات کے لیے امید کی ایک جوت جگادی ہے۔ مودی کے تکبر کو پاؤں تلے روند دیا ہے۔ بھارتی کسانوں کی زبردست مزاحمت کا ولولہ انگیز پراؤ 26/ جنوری کو دہلی تھا۔ بھارتی آئین سال 1950ء میں اسی تاریخ کو منظور ہوا تھا،جس کے بعد یہ ایک قومی دن کے طورپر منایا جانے لگا۔ یوم جمہوریہ کے طور پر اس دن فوجی پریڈہوتی ہے اور بھارتی وزیراعظم دہلی کے لال قلعہ سے خطاب کرتے ہیں۔ بھارتی کسان زرعی اصلاحات کے نام پر متعارف کرائے گئے قوانین کو مسترد کرتے ہیں۔ یہ قوانین زرعی اج...

مودی کا 56انچ سینہ اور کسان تحریک

تیس سال پہلے کیا ہوا؟ بھولیں نہیں! وجود - منگل 19 جنوری 2021

تیس سال قبل سال 1991ء اور ماہ جنوری کی 17 تاریخ کو ہم کیسے فراموش کرسکتے ہیں؟ دو دریاؤں کی زمین پہ یہ ایک بھونچال کا دن تھا۔ دریائے دجلہ اور فرات کے درمیان واقع عراق کی سرزمین نئے امریکی ایجنڈے کا تختہئ مشق بنی تھی۔ آُپریشن صحرائے طوفان (Desert Storm) دراصل ”نیو ورلڈ آرڈر“ کا دیباچہ تھا۔ یہ آنجہانی سوویت یونین کے ساتھ سرد جنگ کے بعد جنوں خیز جنگوں کے نئے سلسلے کی ایک ابتدا تھی۔ آج کا مشرقِ وسطیٰ، اسرائیلی غلبہ، مسلمان ملکوں کی خود سپردگی اور مزاحمت کے لیے غیر ریاستی مزاج کی ...

تیس سال پہلے کیا ہوا؟ بھولیں نہیں!

تیری آخری آرام گاہ پر اللہ کی رحمت ہو! وجود - جمعه 08 جنوری 2021

وفا شعار رؤف طاہر رخصت ہوگئے! اے مرے خدا تو حافظے سے وہ سب محو کردے، جو میرے اور اس کے درمیان کہا سنا گیا۔ جس میں ہم نے اپنے قیمتی اور لذیذ ماہ وسال بِتائے۔ میرا رؤف طاہر وہ نہیں جو مستعار الفاظ میں دھڑے بندی کی تعزیت کا طالب ہو۔ وہ اس سے بے نیاز اپنے رب کے حضورسرخرو پہنچا!جہاں اُس سے یہ سوال نہیں ہوگا کہ وہ جمہوریت کی طرف داری میں کہاں کھڑا تھا؟ اللہ کا دربار اس سے بے نیاز ہے۔ مگر نحوست بھری زندگی سے کنارہ کش ہونے والے برادرِ عزیر سے”متعصبانہ تعزیتیں“ کنارہ کرنے کو تیار نہیں...

تیری آخری آرام گاہ پر اللہ کی رحمت ہو!

بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا وجود - پیر 04 جنوری 2021

سیاسی تحریکیں محض خدع و فریب پر زندگی نہیں کرسکتیں!پی ڈی ایم کا جاتی امراء اجلاس ناکام ہوا۔ حکومت اپنی ناکامیوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ مگرایسی ناکام حکومت کے لیے بھی پی ڈی ایم کا سیاسی اتحاد کوئی بڑا خطرہ پیدا کرنے میں ناکام رہا۔ پی ڈی ایم کے دس جماعتی اتحاد میں محوری جماعتیں تین ہی ہیں۔نوازلیگ اپنے ارکان کی تعداد، پیپلزپارٹی اپنی سندھ حکومت اور جمعیت علمائے اسلام اپنے کارکنان کے بل بوتے پر ایک رونق میلہ لگائے ہوئے تھیں۔پی ڈی ایم کی جماعتوں نے خود ہی حکومت جانے کی مختلف تا...

بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا

قائداعظمؒ اور مصنوعی خیالات وجود - جمعه 25 دسمبر 2020

مصنوعی خیالات سے زیادہ بڑا دشمن کوئی نہیں۔انسان کو اپنے مخالفین سے کہیں زیادہ ان مصنوعی خیالات سے لڑائی کرنا پڑتی ہے۔ دنیا کے عظیم لوگ اپنے اندر سے اُبھرے ہیں۔ عظیم مفکر شاعر علامہ اقبالؒ نے گِرہ کھول دی تھی: اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغِ زندگی قائد اعظمؒ ایسے ہی ایک عظیم رہنما تھے، جن کا اپنا رہنما اُن کے من سے اُبھرتا تھا۔ برصغیر کے منچ پر تب کوئی دوسرا شخص نہ تھا، جس کی زندگی مصنوعی خیالات سے اس طرح پاک رہی ہو، جیسے قائداعظمؒ کی۔ مولانا ابوالکلام آزاد کا تبحر علمی انسان...

قائداعظمؒ اور مصنوعی خیالات

مولانا فضل الرحمان اور ہواکا جھونکا وجود - جمعرات 24 دسمبر 2020

جمعیت علمائے اسلام میں داخلی انتشار کی کھڑکی کھل گئی۔ عقیدت کا بہاؤاور نظم وضبط کا رچاؤ اس کی ایک پہچان ہے، مگر اب نہیں۔ مولانا فضل الرحمان وقت کے دائرے میں تاریخ کا وہی وار سہہ رہے ہیں جو کبھی وہ دوسروں پر کرتے تھے۔ مولانا خان محمد شیرانی کا موقف نک سک سے غلط ہی ہو، مگر مولانا فضل الرحمان کے لیے ایک چیلنج تو پیدا ہوگیا۔ بلوچستان سے مولانا شیرانی اس طرح گونجے ہیں کہ ’’مولانا فضل الرحمان خود ایک سلیکٹڈ ہیں‘‘۔ اتنا ہی نہیں، اُن کے الزامات میں ایک تحقیر بھی ہے۔ اُنہوں نے جے یو...

مولانا فضل الرحمان اور ہواکا جھونکا

امیتابھ بچن پر مقدمہ اور برہمن نفسیات وجود - پیر 09 نومبر 2020

تاریخ پلٹ کر وار کرتی ہے، اور تاریخ کا وار کاری ہوتا ہے۔ بظاہر یہ ایک سادہ سی خبر ہے، بھارت کے نامور اداکار اور’’کون بنے گا کروڑ پتی‘‘ کے میزبان امیتابھ بچن کے خلاف اپنے شو میں ایک سوال پوچھے جانے پر مقدمہ درج کرلیا گیا۔ مگر اس مقدمے کی ہندو نفسیات میں ہزاروں سال کی تاریخ سمٹ آئی ہے۔ پہلے سوال پڑھ لیجیے: ’’ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اور ان کے پیروکاروں نے 25 ؍دسمبر 1927 ء کو ان میں سے کس دھرم گرنتھ (صحیفے)کی کاپیاں جلا ئی تھیں‘‘؟ سوال کے ساتھ جواب کے لیے چارانتخاب(آپشنز) دیے گئ...

امیتابھ بچن پر مقدمہ اور برہمن نفسیات

سن بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2020

افسوس، صد افسوس! یہ معاشرہ اپنے کناروں سے چھلکنے لگا! داخلی احتساب کی روایت نہ ہو تو معاشرہ اپنے اعمال وافعال میں ”بے حد“ ہونے لگتا ہے۔ پاکستان ہوگیا۔سردار ایاز صادق کے قضیے (28/ اکتوبر)کو اب ایک ہفتہ بیت رہا ہے، مگر قومی سیاست وصحافت تاحال اس کی قیدی ہے اور کیوں نہ ہو؟حد سے زیادہ اور حد سے باہر الفاظ کے مضمرات و اثرات بھی حد سے سوا ہی ہوں گے۔ آخری کتابِ ہدایت میں بار بار یہ نکتہ تعلیم کیا گیا کہ حد سے گزرنے والے لوگ فلاح نہیں پاتے۔ یہ سورہ یونس کی آیت10 ہے، فرمایا: ہم حدسے گ...

سن بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیں

عمران خان خود اپنے خلاف کھڑے ہیں وجود - منگل 03 نومبر 2020

کوئی مرگلہ کی پہاڑیوں سے چیخ کر وزیراعظم عمران خان کو بتائے کہ نظام کے دوغلے پن، احتساب کے ننگے پن کے ساتھ خود اُن کا اپنا کھوکھلا پن بھی نمایاں ہوگیا۔ وہ خود اپنے خلاف کھڑے ہیں۔ اُن کے احتساب و انصاف کے دعوے اب اپنی آبرو کھو چکے۔ عمران خان کا نظمِ حکمرانی ہرروز اپنی بہیمت کے ساتھ بے نقاب ہوتا جارہا ہے۔ ارسطو نے کہا تھا:قانون مکڑی کا وہ جالا ہے، جس میں ہمیشہ حشرات یعنی چھوٹے ہی پھنستے ہیں، بڑے جانور اس کو پھاڑ کر نکل جاتے ہیں۔ہمارے”پیارے“ وزیراعظم عمران خان مگر مدینہ کی ریاس...

عمران خان خود اپنے خلاف کھڑے ہیں

وزیراعظم صاحب بس کردیں! وجود - جمعرات 29 اکتوبر 2020

۔ وزیراعظم نے ارشاد فرمایا: مہنگائی کنٹرول کرنے تک چین سے نہیں بیٹھوں گا“۔ کیا واقعی؟ وزیراعظم کے الفاظ کی کوئی قدرووقعت باقی ہی نہیں رہ گئی۔ وزیراعظم الفاظ کے خراچ اور عمل کے قلاش ثابت ہوئے ہیں۔ اُن کے لیے اب عافیت بولنے میں نہیں چپ رہنے میں ہے۔ عمران خان نے وزیراعظم بننے کا مطلب محض الفاظ کی جگالی سمجھ لیا ہے۔ حالانکہ یہ بروئے کار آنے کانام ہے۔ یہ اختیارات کا منصب ہے، خطابت کا منبر نہیں۔ دانائی سے جگمگاتی حدیث کا مفہوم ہے:خاموش رہو، سلامت رہو گے“۔ وزیراعظم کا مسئلہ یہ ہے ...

وزیراعظم صاحب بس کردیں!

اردو ہے میرا نام میں خسرو کی پہیلی! وجود - جمعه 23 اکتوبر 2020

کیا کہنے ، محمود اچکزئی کے کیا کہنے!! دنیا میں ایسے’’ باکردار‘‘ لوگ ڈھونڈے نہیں ملتے۔ہم کہاں، حضرت علامہ اقبالؒ بھی یہ مصرعہ ’’شکوہ‘‘ میں ہی کہہ سکتے تھے: اب انہیں ڈھونڈ چراغِ رخِ زیبا لے کر مگر محمو اچکزئی سے ’’شکوہ‘‘کیسا، اگر وہ علامہ اقبال کو بھی کبھی ’’پنجابی‘‘ شاعر کہہ دیں۔آخر الطاف حسین بھی چیخ چیخ کر کہتے تھے۔تعصب آدمی کو پاگل بنائے رکھتا ہے، ایسا پاگل کہ وہ اس پر علم کا گمان رکھتا ہے۔ابھی الطاف حسین کی آوازیں کراچی کی فضاؤں میں موجود ہیں۔ اب یہ محمود اچکزئی بھی۔...

اردو ہے میرا نام میں خسرو کی پہیلی!

سیاست میں تاثر فیصلہ کن عامل ہے!! وجود - جمعرات 22 اکتوبر 2020

سیاست میں فیصلہ کن عامل تاثر ہوتا ہے۔ کیپٹن (ر) صفدر کے قضیے سے اچھا تاثر پیدا نہیں ہوا۔ سازشیں حشرات الارض کی طرح رینگ رہی ہیں۔ کوئی ہے جو تاک میں ہے، کوئی ضرور ہے جو تاک میں ہے۔ مزار قائد کی بے حرمتی ضرور ہوئی۔ مگر یہ معاملہ جس طرح برتا گیا، اُس میں صرف مزار نہیں قائد اعظم کا پورا ملک بے حرمت ہورہا ہے۔ کوئی آدمی،کوئی ادارہ نہیں جو سیاست سے اوپر اُٹھ کر سوچ سکے! سیاست، یہی مکروہ سیاست!جس نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔سیاست کے منفور چلن نے پاکستان کے معاشی وجود، س...

سیاست میں تاثر فیصلہ کن عامل ہے!!

منزل ہے کہاں تیری اے لالہء صحرائی وجود - بدھ 21 اکتوبر 2020

کوئی دن جائے گا کہ فیصلہ صادر ہوجائے گا۔کیا نوازشریف، الطاف حسین بننے کے راستے پر گامزن ہیں؟ یا پھر وہ پاکستانی سیاست کے زمین وآسمان بدل دیں گے؟وقت کی جادو نگری کے اپنے جنتر منتر ہیں اور تاریخ کی اپنی حقیقتیں!! سیاسی کھیل کبھی نظام شمسی کی طرح کسی خاص قاعدہئ طلوع و غروب کے پابند نہیں رہتے، مگر پاکستانی سیاست ہمیشہ سے طلوع وغروب کے اپنے قید قاعدوں میں رہی ہے۔اس کے متعلق واحد یقینی بات یہ ہے کہ یہ غیر یقینی ہے۔ نوازشریف جس ”گھات“ پر بیٹھے لوگوں کو دشمن کی نگاہ سے دیکھتے ہیں،کب...

منزل ہے کہاں تیری اے لالہء صحرائی

چہرے پہ یقیں کا نور نہیں وجود - بدھ 30 ستمبر 2020

سیاست موقع کا کھیل ہے، مگر سیاست دانوں نے اسے موقع پرستی کاکھیل بنادیا ۔ موقع بہ موقع اپنے لیے راستے کشادہ کرنا کوئی بُری بات نہیں، مگر موقع بہ موقع اپنا اُلو سیدھا کرنا ہرگز درست نہیں۔ میاں نوازشریف گزشتہ چار دہائیوں سے سیاست پر چھائے ہوئے ہیں۔ دوپہر کو سیر ہو کر کھانے کے بعد لسی گھٹکانے کے شوقین کو کچھ دانشور، سیاست دان سے زیادہ مدبر سمجھنے لگے ہیں۔ یہاں ’’دانش‘‘ کورونا وباکی طرح چُھوتی بیماری ہے۔ مگر نوازشریف کے مقامِ مدبری کو ایسے ہی فروغ نہیں ملا، اس میں دستر خوانی قبیلے...

چہرے پہ یقیں کا نور نہیں

درویش کی سرگوشی وجود - بدھ 09 ستمبر 2020

کراچی کی حالت ایک جاں بلب مریض کی مانند ہے۔ اودے اودے ، نیلے نیلے ،پیلے پیلے معالج ’’ گردوں‘‘ سے قطار اندر قطار اُترے چلے آتے ہیں۔ سب کے نسخے اور نیتیں الگ الگ ۔ مریض بھلے ہی سخت جان ہو، مگر معالج لڑنے جھگڑنے میں مصروف ہیں، ہر ایک موقع سمجھ کر مریض کا جو حصہ ہاتھ لگے جھپٹ پڑنے کو تیار ہے۔ گاہے سمجھ نہیں آتا کہ یہ معالج ہیں یا بھیڑئیے؟ مختار مسعود کی آخری کتاب ’’حرفِ شوق‘‘ سے اِس ’’شوقِ علاج‘‘ کی گتھی سلجھتی ہے۔ مرحوم نے اپنے علی گڑھ کو یاد کرنے کے لیے کتاب لکھی ۔ کبھی رسول...

درویش کی سرگوشی

مریم نواز کی سیاست وجود - جمعرات 27 اگست 2020

کیا مریم نواز اور شہباز شریف ایک دوسرے کے خلاف معرکہ آرا ہے؟ جاہ پسندی رشتوں کو چاٹ لیتی ہے۔ تاریخ کی گواہی تو یہی ہے۔ مغل تاریخ میں کیا کچھ موجود نہیں۔ تیموری روایت کے مطابق بادشاہ کی وفات کے بعد بڑا بیٹا تخت پر جلوہ افروز ہوتا تھا، مگر تخت کی چاہ خاندان میں سازشوں کو پروان چڑھاتی۔ مغلیہ سلطنت کے بانی ظہیرالدین بابر کو اپنے چچا اور ماموں سے جنگ آزما ہونا پڑا ، بابر کا بھائی جہانگیر مرزا ایک خطرہ بن کر مسلط رہا۔ بابر کے بیٹے ہمایوں کو بھی اپنی بادشاہت میں اپنے بھائیوں کی ر...

مریم نواز کی سیاست