وجود

... loading ...

وجود
غنڈہ ریاست وجود - جمعه 06 مارچ 2026

ماجرا/ محمد طاہر ۔۔۔۔۔۔۔۔ دنیا بھر کو ایک سوال کا سامنا ہے کہ عالمی بدمعاش ریاست امریکا آخر باقی قوموں کے ساتھ کب سکون سے رہنا سیکھے گی؟ اس کا ایک سادہ جواب یہ بھی ہے کہ دنیا کی غیر نمائندہ حکومتیں اپنے عوام کے مزاج کے برخلاف جب امریکی صدور کا احترام کرنا چھوڑیں گی۔ جب جنگوں کے سوداگر جنونیوں کو امن کے نوبل انعام ...

غنڈہ ریاست

گراوٹ ہی گراوٹ وجود - جمعه 27 فروری 2026

ماجرا/ محمد طاہر پاکستان ہمہ نوعی گراوٹ کا شکار ہے۔ یہ پستی علمی اور تجزیاتی سطح پر مزید گہری ہوتی جاتی ہے۔ ہمارا نظریاتی تناظر بھی بہت تیزی سے دھندلا رہا ہے۔ فتح وشکست، کامیابی و ناکامی، حق و باطل، صحیح و غلط ، نفع و نقصان اور عروج وزوال کا کوئی حقیقی ادراک بھی کہیں دکھائی نہ...

گراوٹ ہی گراوٹ

عمران خان کی اسیری اور جناب زرداری وجود - جمعه 20 فروری 2026

ماجرا/ محمد طاہر یہ نفسیات کی عجیب گتھی ہے، انسان نارسا چیزوں کو بے توقیر کرنے پر تلا رہتا ہے، عزت بھی ایک ایسی ہی شے ہے۔ اگر میسر نہ ہوتو وہ خود عزت کی بے عزتی کرتا رہتا ہے۔صدر مملکت آصف علی زرداری جب وہاڑی میں خطاب فرما رہے تھے، تو کیا وہ اپنے ماضی سے لڑ رہے تھے یا مستقبل کے...

عمران خان کی اسیری اور جناب زرداری

بنگلہ دیشی انتخابات اور حسینہ واجد کی مسکراہٹ وجود - منگل 17 فروری 2026

ماجرا/ محمد طاہر ۔۔۔۔۔۔۔ مغربی دنیا نے تصورات کی دلدل میں جمہوریت کو جو رومانوی ورق دیا ہے ، وہ ایک چھوٹے سے بوتھ میںکاغذ پر قلم سے ایک چھوٹا کراس لگانے سے منسلک ہے۔ عوام کو اپنے نمائندے اپنی مرضی سے چننے کاحق، یعنی انتخابی نمائندگی۔کیا دنیا کی کسی بھی جمہوریت میں یہ انتخابی نم...

بنگلہ دیشی انتخابات اور حسینہ واجد کی مسکراہٹ

آدم بو آدم بو!! وجود - بدھ 28 جنوری 2026

ماجرا/ محمد طاہر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم ریاستی جِنوں کے منہ سے ایک مرتبہ پھر ''آدم بو آدم بو'' کی صدائیں سنتے ہیں۔ افسانوی رنگ میں ڈھلے بین السطور پیغام میں ایک نہ ختم ہونے والی بھوک کا طرزِ احساس ملتا ہے تودوسری طرف کسی 'شہزادی' کی قید کا بھی بار دگر خوف جاگتا ہے۔شہزادہ رہائی کے لیے...

آدم بو آدم بو!!

ٹرمپ کا طلوع آفتاب اور مسلم شعور کا غروب وجود - هفته 24 جنوری 2026

باسمہ تعالیٰ ۔۔۔۔۔۔۔ ماجرا/ محمد طاہر ۔۔۔۔۔۔ فلسطینیوں کی نسل کشی کے سہولت کار ٹرمپ نے بآلاخر اپنا' پراجیکٹ سن رائز' لانچ کردیا۔ یہ کسی قلوپطرہ کی چھب دیکھنے کی طرح ہے۔ کچھ دیر کے لیے عالمی ضمیر شرما بھی سکتا ہے۔ کیونکہ اس سے ٹرمپ کے عزائم کا ''حسن '' پوری طرح عریاں ہوا ہے۔...

ٹرمپ کا طلوع آفتاب اور مسلم شعور کا غروب

بیس نکات کی باسی کڑھی وجود - جمعرات 02 اکتوبر 2025

ماجرا/ محمد طاہر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چمکتی دھوپ میںبیس نکاتی منصوبے کے ساتھ کوئی الہامی حل لے کر نہ اُترے تھے۔ فلسطینیوں کے مقدر سے کھیلنے اور تشدد مسلط کرکے راہِ امن کے نام پر اُنہیں مزید محدود کرنے کے سازشی منصوبے پرانے ہیں۔ مغرب کے باضمیر دانشور بھی چیخ اُٹ...

بیس نکات کی باسی کڑھی

معاہدہ اور رومانوی دنیا! وجود - اتوار 21 ستمبر 2025

ماجرا/ محمد طاہر ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عربوں کو ''جنگی رضاکاروں'' کی ضرورت ہے اور پاکستان کو ''اربوں'' کی!پاک سعودیہ معاہدہ دونوں کی ضروریات پوری کرتا ہے، مگر کتنی؟ یہ پہلو ابھی پردۂ ابہام میںہے۔ بلا شبہ یہ معاہدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس میں مشرق وسطیٰ کے اندر تبدیلیوں ...

معاہدہ اور رومانوی دنیا!

یہ بہیمیہ بہیمت اور یہ لجاجتت اور یہ لجاجت وجود - جمعرات 18 ستمبر 2025

ماجرا/ محمد طاہر ۔۔۔۔۔۔۔۔ قطر پر سکون ہے۔ پھر ہنگامہ کیا ہے؟ دوحہ سربراہی کانفرنس ، مسلم دنیا کے' ناجائز' حکمرانوں کے لیے تصاویر کھنچوانے کا ایک منافقانہ اور عامیانہ موقع تھا۔ اگر یہ اسرائیل کے خلاف کسی منصوبے کے صلاح مشورے کا کوئی ''موقع'' تھا تو پھر اس کے ''اعلامیے'' سے کچ...

یہ بہیمیہ بہیمت اور یہ لجاجتت اور یہ لجاجت

سحر زدہ تاریخ! وجود - جمعه 12 ستمبر 2025

ماجرا/ محمد طاہر ۔۔۔۔۔۔۔ نومبر کی سحر زدہ تاریخ نے ہمارے شب وروز جکڑ لیے ہیں۔ سیاسی منڈی میں مختلف ''سودے'' مول تول میں ہیں مگر سب کچھ گول مول بھی ہے۔ ابہام کی گہری پرت اس نوع کے سودوں میں ہمیشہ رہتی ہے۔ پاکستان کی ایک مقتدر شخصیت کے'' سسر نامدار'' جب لندن میں سودا پٹا رہے ...

سحر زدہ تاریخ!

نئی عالمی بساط کی گونج! وجود - جمعه 05 ستمبر 2025

باسمہ تعالیٰ ۔۔۔۔۔۔۔ ماجرا/ محمد طاہر ۔۔۔۔۔ یہ دنیا کے لیے ایک علامتی لمحہ تھا، مغربی یونین میں شامل تمام ممالک کے دارالحکومتوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔ بیجنگ میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، چینی صدر شی جن پنگ اور شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ کی اکٹھ محض ایک فوجی پریڈ م...

نئی عالمی بساط کی گونج!

بگٹی کے بعد! وجود - بدھ 27 اگست 2025

ماجرا/محمد طاہر ۔۔۔۔۔۔۔۔ اب انیس سال بیتتے ہیں!ایک فوجی آپریشن میں نواب اکبر بگٹی قتل کر دیے گئے تھے۔ پورے پاکستان نے ٹھنڈے پیٹوں بلوچستان کو دائم فوجی کارروائیوں کے ساتھ قبول کیا ہے۔ اس حوالے سے 'عسکری بیانیہ' ہمیشہ' قومی بیانیہ' سمجھا گیا۔ سوال یہ ہے جراحتوں نے ہمارے قومی و...

بگٹی کے بعد!

کیا ہم دن کی روشنی دیکھ سکیں گے؟ وجود - پیر 18 اگست 2025

ماجرا/ محمد طاہر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب 37 برس بیتتے ہیں۔ وہی ماہ وسال، مگر ایک جیسی تاریکی! جنرل ضیاء کا طیارہ تخریب کا ری کا شکار ہوا، قیام پاکستان سے باہم پیوست حالات میں کڑی در کڑی ایک سوال چلا آتا ہے۔ کیا ہم دن کی روشنی دیکھ سکیں گے؟ لیاقت علی خان کا 16 اکتوبر 1951 کا قتل ...

کیا ہم دن کی روشنی دیکھ سکیں گے؟

منہدم ہو رہے ہیں اندر سے وجود - منگل 08 جولائی 2025

ماجرا/ محمد طاہر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیسے لوگوں سے ہمیں واسطہ آپڑا، تاریخ کے بہاؤ میں جن کے ظلم کوفیوں والے تھے، مگر جنہیں سروں پہ بٹھائے رکھا۔ افسوس! صد افسوس! یہ محترمہ فاطمہ جناح تھیں! اُجلے دامن کی پاکباز خاتون! جن کے بھائی نے انگریز استعمار اور برہمن سامراج سے غیر مبہم طور پر آن...

منہدم ہو رہے ہیں اندر سے

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا! وجود - اتوار 15 جون 2025

ماجرا/ محمد طاہر ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ مدینتہ الرسولۖ کے مہکتے گلشن کا پھول تھے، دائم جن کی خوشبو رہے گی۔ حضرت عمر پابہ رکاب تھے۔ سامنے جنگ نہاوند تھی۔ 642 عیسوی میں مسلمانوں اور ساسانی سلطنت کے درمیان ایران میں معرکہ درپیش تھا۔ حضرت عمراسلام کا مستقبل تھے ، حضرت علی سے بہت...

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا!

لڑائی جیت کر جنگ نہ ہاریں! وجود - بدھ 14 مئی 2025

ماجرا / محمد طاہر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان کی شاندار فتح اور بھارت کی شرمناک شکست کے بنیادی دھاگے تاریخ کے گچھوں میں لپٹے ہوئے ہیں، تاریخ کا بنیادی فہم درحقیقت وہ اداراک فراہم کرے گا، جس کے ذریعے ہم بھارت کی'' دشمنی'' کی گہرائی کو ہی نہیں سمجھ سکیں گے بلکہ اس امر کو بھی جان ...

لڑائی جیت کر جنگ نہ ہاریں!

بھارت کی شکست کے معنی کیا ہے؟ وجود - منگل 13 مئی 2025

ماجرا / محمد طاہر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھارت کی شکست سادہ نہیں ، نہ ہی پاکستان کی فتح۔ یہ دونوں ہی غیر معمولی ہیں۔ اس مرحلۂ فکر پر بھار ت کی شکست کے معنی سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نریندر مودی بلاشبہ ہندوستان کے باطن کا چہرہ تھا۔اب خود اس کے باطن کو ایک چہرہ درکار ہے۔ ہندوستان...

بھارت کی شکست کے معنی کیا ہے؟

عمران خان کے خطوط وجود - منگل 11 فروری 2025

ماجرا/ محمد طاہر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عمران خان کے آرمی چیف کے نام خطوط سیاسی اُپج کا' طریقۂ نو' ہے۔ اگر غالب کے خطوط ''ادبی اجتہاد'' تھے تو یہ ''سیاسی اجتہاد''۔ عمران خان نے جب اپنے مخالفین کے متعلق کہا تھا کہ''ایک تو یہ پڑھے لکھے نہیں''، تو یہ آئندہ دنوں میں ایک ذہنیت کی عری...

عمران خان کے خطوط

لب ڈوبا ہوا ساغر میں ہے وجود - منگل 14 جنوری 2025

ماجرا/محمد طاہر ۔۔۔۔۔۔ مریم نواز کے یو اے ای کے صدر محمد بن زید النہیان سے مصافحہ کے پس منظر میں نون لیگی دانشوروں کی شرمناک منافقت کو کھوجنے کی کوشش کی تھی کہ آخر یہ اسلام سے اپنی وابستگی کا کوئی معیار رکھتے بھی ہیں یا نہیں؟ ہمیںبحث کا یہ مرحلہ ٔ فکر ایک ایسے تناظر سے منسلک ک...

لب ڈوبا ہوا ساغر میں ہے

امید کے خلاف امید وجود - منگل 07 جنوری 2025

ماجرا/ محمد طاہر ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ نئی دنیا ہے ! کیا بالکل نئی!وقت جہاں بگٹٹ بھاگتا ہے، جسے تھامنے کی جدوجہد میںانسان گاہے جانور بن جاتا ہے۔ کامیاب لوگ، اپنے لمحۂ آخر میں سوچنے لگتے ہیںکہ یہ کامیابی کیا ہے؟ اُن کے ہاتھ سے کیا چیزیں پھسل گئیں؟ دوسری طرف ناکام لوگ ان ہی کامیاب لوگوں...

امید کے خلاف امید

تاریخ کا وار وجود - جمعرات 10 اکتوبر 2024

ماجرا/ محمدطاہر ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ تاریخ پلٹ کر وار کرتی ہے۔ اس کا انتقام نام نہاد جمہوریت سے زیادہ گہرا ہے۔ عدلیہ کے تماشے میںکردار ڈوب اور اُبھر رہے ہیں۔ مگر تاریخ کی دیوی ،انصاف کی دیوی کو بھی آئینہ دکھا رہی ہے۔دوسری طرف سازشیں، حشرات الارض کی طرح رینگ رہی ہیں۔ پارلیمنٹ مق...

تاریخ کا وار

انگور کھٹے!! وجود - هفته 31 اگست 2024

رات تعمیر کرنے والے اکثر اندھے پن کے شکار ہوتے ہیں۔ صبح دم بھی اُن کی آنکھیں نہیں کھلتیں۔ بس وہ ایک عبرت ناک سبق کے طور پر تاریخ کے رحم و کرم پر رہتے ہیں۔ ماہر طبیعات ابن الہشیم نے کتاب المناظر میں سائنس کا کوئی اُصول بیان کیا ہوگا، جب کہا: آنکھ روشنی کو نہیں دیکھتی؛ بلکہ روشنی آ...

انگور کھٹے!!

مگر حضور سہاروں کا اعتبار نہیں! وجود - جمعرات 08 اگست 2024

ماجرا/ محمدطاہر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حالیہ چند دہائیوں کے واقعات میں بنگلہ دیش کی طلبہ تحریک تاریخ کا اہم ترین موضوع رہے گی۔ تاریخ کے بہاؤ میں طلبہ کا ایسا والہانہ کردار، حالت ِقائمہ کی مجاور قوتوں کے لیے سنگین خطرات کی دلدوز دستک ہے۔ ماضی گزیدہ فکر کے تعفن زدہ تھپیڑوں میں زندگی کرنے و...

مگر حضور سہاروں کا اعتبار نہیں!

بہار کو آنے سے نہیں روک سکتے! وجود - جمعه 19 جولائی 2024

۔ ماجرا/ محمد طاہر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چلی کے مشہور شاعر پابلو نروداکی تاریخ ولادت 12 جولائی ہے۔ کیااس تاریخ کو مخصوص نشستوںکے عدالتی فیصلے سے کو ئی مناسبت ہے۔ جی ہاں! سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کا فیصلہ 12 جولائی کو سنایا۔ پابلو نرودا نے کہا تھا:آپ تمام پھولوں کو کاٹ سکتے ہیں ...

بہار کو آنے سے نہیں روک سکتے!

مضامین
ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت وجود جمعرات 12 مارچ 2026
ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت

مجتبیٰ خامنہ ای بڑے سے بڑے بحران کا سامنا کر سکتے ہیں! وجود جمعرات 12 مارچ 2026
مجتبیٰ خامنہ ای بڑے سے بڑے بحران کا سامنا کر سکتے ہیں!

کشمیریوں سے امتیازی سلوک وجود جمعرات 12 مارچ 2026
کشمیریوں سے امتیازی سلوک

سب سے بڑی غلامی اپنی خواہشات کی غلامی ہے! وجود جمعرات 12 مارچ 2026
سب سے بڑی غلامی اپنی خواہشات کی غلامی ہے!

منٹو کا انسانیت پر ایمان وجود بدھ 11 مارچ 2026
منٹو کا انسانیت پر ایمان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر