وجود

... loading ...

وجود

مشرقی پاکستان میں جو ہوا وہی آج ہو رہا ہے،عمران خان

اتوار 07 اپریل 2024 مشرقی پاکستان میں جو ہوا وہی آج ہو رہا ہے،عمران خان

بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ فوج کا امیج اس دن خراب ہوا جب یہ چوروں کے ساتھ بیٹھی، جو مشرقی پاکستان میں ہوا وہی آج ہو رہا ہے، مشرقی پاکستان کی طرح ہمارا مینڈیٹ کم کرکے کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اڈیالہ جیل میں میڈیا سے گفت گو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ توشہ خانہ کیس میں گراف جیولری سیٹ کی مالیت تین ارب ظاہر کر کے ہمیں سزا دی گئی ہم نے گراف جیولری سیٹ کی مزید تین جگہ سے کوٹیشنز حاصل کیں جس کے مطابق اس سیٹ کی قیمت ایک کروڑ 80 لاکھ روپے بنتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگست میں جب مجھے پکڑا گیا تو پولیس میرے بیڈ روم میں داخل ہوئی وہاں سے میرا پاسپورٹ اور چیک بک بھی لے گئی، بشری بی بی نے بنی گالہ میں موجود قیمتی اشیا کو اسی وجہ سے کہیں اور منتقل کردیا تھا، انعام شاہ اور توشہ خانہ کے ایک ملازم کو آئی ایس آئی نے میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنایا، توشہ خانہ میں سزا دلوانے کے لیے دبئی میں پارٹ ٹائم سیلزمین سے گراف جیولری سیٹ کی مالیت کا تخمینہ لگوایا گیا، توشہ خانہ ریفرنس بنانے پر چیئرمین نیب اور انعام شاہ کے خلاف کیس کروں گا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ جنرل عاصم منیر نے مجھے توڑنے کے لیے توشہ خانہ ریفرنس میں بشری بی بی کو سزا دلوائی، فواد چوہدری پریس کانفرنس کر چکا تھا لیکن اس کے باوجود اسے وعدہ معاف گواہ بنانے کے لیے پکڑے رکھا، پرویز الہی اور شاہ محمود قریشی آج پریس کانفرنس کر دیں تو ان کے سارے کیسز ختم ہو جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ قاضی فائز عیسی کو فیصل آباد کیس اور بھٹو کیس یاد ہے مگر قاضی فائز عیسی کو نظر نہیں آرہا کہ لوگ ملٹری جیلوں میں پڑے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 18 مارچ کو مجھے جوڈیشل کمپلیکس میں قتل کرنے کا منصوبہ تھا 24 گھنٹے پہلے ہی جوڈیشل کمپلیکس کو ٹیک اوور کر لیا گیا تھا سادہ کپڑوں میں ملبوس بہت سے لوگ جوڈیشل کمپلیکس میں موجود تھے کیوں جوڈیشل کمپلیکس کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے نہیں لائی جا رہی؟عمران خان نے کہا کہ لندن پلان عاصم منیر اور نواز شریف کے درمیان تھا لندن پلان کے لیے ججز کو بھی ساتھ ملایا گیا آئی ایس آئی نے ججز کی تقرریاں کروائیں، جو ایسٹ پاکستان میں ہوا وہی آج ہو رہا ہے مشرقی پاکستان میں مجیب الرحمن کا مینڈیٹ چوری کر کے ملک توڑا گیا مجیب الرحمن کی اکثریت سے یحیی خان کی طاقت ختم ہوجاتی، حمود الرحمن کمیشن رپورٹ میں لکھا ہے کہ مجیب الرحمن الیکشن جیت گیا تھا، مشرقی پاکستان کی طرح اب بھی ہمارا مینڈیٹ کم کر کے ہمیں کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔عمران خان نے کہا کہ اس وقت بادشاہ پیچھے بیٹھا ہوا ہے اور محسن نقوی وائسرائے بنا ہوا ہے شہباز شریف فیتے کاٹتا پھر رہا ہے اس کے پاس کوئی طاقت نہیں ہے ملک کا معاشی طور پر بیڑا غرق ہونے لگا ہے آصف زرداری اور شریف فیملی کے اربوں ڈالر بیرون ملک پڑے ہوئے ہیں دوسری طرف ججز کہہ رہے ہیں کہ ایجنسیاں دھمکا رہی ہیں ملک میں لاقونونیت ہے۔عمران خان نے کہا کہ آصف زرداری نے بیان دیا کہ ایک سیاسی جماعت فوج کا امیج خراب کر رہی ہے جب ہم اقتدار میں تھے تو فوج کا امیج آسمان پر تھا فوج کا امیج تو اس دن خراب ہوا جب یہ چوروں کے ساتھ بیٹھی، زرداری اور شریف خاندان کی کرپشن کا ہمیں آئی ایس آئی اور جنرل باجوا نے بتایا تھا، زرداری اور نواز شریف نے توشہ خانہ سے گاڑیاں لیں ان کا کیس کیوں نہیں سنا جا رہا؟بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ ساری قوم کو پتا ہے کہ عاصم منیر ملک چلا رہا ہے، جنرل عاصم منیر کی تقرری سے پہلے عارف علوی کے ذریعے پیغام بھیجا تھا کہ ہم تمہارے مخالف نہیں میں نے عارف علوی کے ذریعے عاصم منیر کو ٹیلی فون کروایا تھا کہ مجھے اس کے لندن پلان کے بارے میں معلوم ہے، علی زیدی رابطے میں تھا اس کے ذریعے بھی پیغام دیا تھا کہ نیوٹرل رہیں اور ملک کو چلنے دیں ہمیں کہا گیا کہ فکر نہ کرو وہ نیوٹرل رہیں گے، میں کسی کی غلامی قبول نہیں کرتا غلامی سے بہتر موت ہے۔صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ کو جسٹس فائز عیسی سے انصاف کی امید ہے ؟ اس پر عمران خان کچھ دیر خاموش رہے اور بولے قوم سب کچھ دیکھ رہی ہے میں اس پر کوئی رائے دینا نہیں چاہتا، آج ملک بدل چکا ہے اور لوگوں میں شعور آچکا ہے، ہمیں غدار بنایا گیا نو مئی میں پھنسایا گیا لیکن قوم نے آٹھ فروری کو بتا دیا کہ وہ کہاں کھڑی ہے۔عمران خان نے کہا کہ کئی ججز، محسن نقوی، چیف الیکشن کمشنر اور نگران حکومت لندن پلان کا حصہ تھے، میں نے کبھی فوج سے لڑائی نہیں کی ہاں جنرل باجوہ نے ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپا میں جنرل باجوہ کو ڈی نوٹیفائی کرسکتا تھا لیکن نہیں کیا ہم نے اس سب کے باوجود بھی جنرل باجوہ سے ملاقات کے لیے کمیٹی بنائی۔عمران خان نے کہا کہ صرف سپہ سالار فوج نہیں ہوتا وہ الیکشن لڑ کر نہیں آیا، جنرل یحیی نے بھی اپنی طاقت کے لیے ملک کو تباہ کیا تھا، جنرل یحیی مجیب سے بات کر لیتا تو سرنڈر نہ کرنا پڑتا، 1971 میں ملک ٹوٹا آج ملک کی معاشی کمر ٹوٹنے لگی ہے۔بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ اس وقت جتنی تگڑی جماعت پی ٹی آئی ہے اتنی تگڑی جماعت اور کوئی نہیں، آج دوبارہ الیکشن کروالیں دوبارہ سب کو پتا چل جائے گا۔مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت گرانے کے باوجود دو مرتبہ جنرل (ر) باجوہ سے مل سکتا ہوں تو کسی سے بھی مل سکتا ہوں، اس وقت میری ذات کا ایشو نہیں پاکستان کا ایشو ہے مجھے قائل کرلیں، موجودہ حالات میں عدلیہ بالکل بھی آزاد نہیں ہے۔صحافی نے بشری بی بی کو زہر دینے سے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ جب تک بشری بی بی کی انڈوسکوپی نہیں ہوتی کیسے کچھ پتہ چل سکتا ہے، جب کوئی چیز اندر چلی گئی تو بظاہر دیکھنے سے کچھ معلوم نہیں ہوسکتا۔صحافی نے سوال کیا کہ آپ نے اور بشری بی بی نے الزام آرمی چیف پر لگایا اگر کل ٹیسٹ کلیئر آیا تو کیا کہیں گے؟ اس پر عمران خان نے کہا کہ جنرل عاصم منیر نے ہی میری بیوی کو ٹارگٹ کیا مجھے اور میری بیوی کو کچھ ہوا تو جنرل عاصم منیر ذمہ دار ہوں گے، جنرل عاصم منیر کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ایک پلان انسان بناتا ہے اور ایک اللہ، کامیاب اللہ کا پلان ہوتا ہے۔عمران خان نے کہا کہ جو قوم اپنی آزادی کے لیے مرنے کے لیے تیار نہ ہو اس کو غلامی کے لیے تیار ہو جانا چاہیے میں پوری قربانی دوں گا، میں آج سیاست سے پیچھے ہوجاں تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جب قوم پر مہنگائی بڑھائی جائے گی تو نون لیگ کا جنازہ نکلے گا، اقتدار میں موجود اشرافیہ کو کوئی فرق نہیں پڑتا ان کا سارا پیسہ بیرون ملک ہے، اس وقت امید صرف ججز سے ہے چھ ججز جو کھڑے ہوئے انہیں سلام پیش کرتا ہوں تمام ججز کو معلوم ہے کہ کیا ہو رہا ہے ججز ملک کے مستقبل کو بچائیں کیونکہ سرمایہ کاری صرف قانون کی بالادستی سے آسکتی ہے جس ملک میں ججز کو دھمکیاں مل رہی ہوں وہاں کون سرمایہ کاری کرے گا اس وقت قوم ججز کی طرف دیکھ رہی ہے اور ججز کو قانون کی بالادستی قائم کرنی ہے تب ہی ملک میں سرمایہ کاری آئے گی۔سوال کیا گیا کہ بشری بی بی نے کہا کہ پارٹی کے اندر کچھ لوگ ان پر امریکی ایجنٹ ہونے کا الزام لگارہے ہیں اس پر عمران خان نے کہا کہ ہمارے کچھ لوگ اسٹیبلشمنٹ سے رابطے میں ہیں جو پارٹی کو توڑنا چاہتے ہیں وہی بشری بی بی پر بھی الزام لگارہے ہیں۔صحافی نے سوال کیا کہ کیا یہی وجہ ہے کہ پارٹی کے اندر بنائی جانے والی کمیٹیوں کی تشکیل نو ہو رہی ہے؟عمران خان نے کہا کہ کمیٹیوں کی تشکیل روزمرہ کے سیاسی معاملات کیلئے بنائی گئی ہیں حتمی فیصلے کور کمیٹی ہی کرے گی۔


متعلقہ خبریں


تجارت کی آڑ میں منی لانڈرنگ پکڑی گئی، آئی ایم ایف کی حکومت کو سخت تنبیہ وجود - بدھ 13 مئی 2026

عالمی مالیاتی ادارے کامشکوک مالی ٹرانزیکشن پر اظہار تشویش، آئندہ مالی سال کے بجٹ سے قبل حکومت کو منی لانڈرنگ کیخلاف سخت اقدامات کی ہدایت کردی،ذرائع کالے دھن، غیر ٹیکس شدہ سرمایہ کاری کی نشاندہی،بینی فیشل اونرشپ کی معلومات کے تبادلے میں خامیاں دور کرنے اور مالیاتی نگرانی کا نظام...

تجارت کی آڑ میں منی لانڈرنگ پکڑی گئی، آئی ایم ایف کی حکومت کو سخت تنبیہ

پاکستان میں ایرانی طیاروں کی موجودگی کی وجود - بدھ 13 مئی 2026

سی بی ایس نیوز کی رپورٹ پر سخت ردِعمل، امریکی میڈیا رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹس خطے میں امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے، دفتر خارجہ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے امریکی میڈیا ادارے سی بی ایس نیوز کی اس رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ ...

پاکستان میں ایرانی طیاروں کی موجودگی کی

فلسطینی قیدیوں کیلئے سزائے موت کے قانون کی منظوری وجود - بدھ 13 مئی 2026

7 اکتوبر کے قیدیوں کیلئے سرعام ٹرائل اور سزائے موت کے متنازع قانون کی منظوری اسرائیلی پارلیمنٹ کے نئے قانون کی منظوری سے عالمی سطح پر تنازع مزید بڑھنے کا خدشہ اسرائیلی پارلیمنٹ (نیسٹ) نے ایک متنازع قانون منظور کیا ہے جس کے تحت 7 اکتوبر کے حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں زیرِ...

فلسطینی قیدیوں کیلئے سزائے موت کے قانون کی منظوری

کپتان سے ملاقات کرائیں ورنہ پارلیمنٹ نہیں چلے گی،محموداچکزئی کی حکومت کودھمکی وجود - منگل 12 مئی 2026

ایک ہفتے میں عمران خان کا درست علاج نہ ہوا اور ملاقاتیں نہ کرائی گئیں تو پھر دما دم مست قلندر ہوگا،8 فروری کو نوجوان طبقے نے آپ کے سارے پلان الٹ دئیے، اپوزیشن لیڈر بلوچستان سے لے کر کے پی تک بغاوت کی فضا ہے، ایک اور آئینی ترمیم کی تیاری ہورہی ہے، پاکستان کو کچھ ہوا تو ذمہ دار ...

کپتان سے ملاقات کرائیں ورنہ پارلیمنٹ نہیں چلے گی،محموداچکزئی کی حکومت کودھمکی

ایران کا جوہری پروگرام کسی بھی وقت قبضے میں لے سکتے ہیں،صدرٹرمپ کی تنبیہ وجود - منگل 12 مئی 2026

امریکی فوج افزودہ یورینیم کی نگرانی کر رہی ہے ایران کو عسکری طور پر شکست دی جا چکی ،قیادت کی اے اور بی ٹیم مکمل ختم ، سی ٹیم کا کچھ حصہ بھی ختم ہو چکا ہے ایران کو جوہری ہتھیار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ وہ غیر ذمہ دار ہے،معاہدہ کر کے اسے توڑ دیتا ہے، امریکا کو آبنائے ہرمز کی ضرورت ...

ایران کا جوہری پروگرام کسی بھی وقت قبضے میں لے سکتے ہیں،صدرٹرمپ کی تنبیہ

آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح، وزیراعظم وجود - منگل 12 مئی 2026

پاکستان کے نوجوانوں میں آئی ٹی کے حوالے سے بے پناہ استعداد موجود ہے جس سے بھرپور استفادہ حاصل کیا جانا چاہئے، شہباز شریف کی اجلاس میں گفتگو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح ہے،آئی ٹی کے شعبے میں شہری اور دیہی علا...

آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح، وزیراعظم

بھارت سے ہر پاکستانی کے خون کا بدلہ لیں گے، فیلڈ مارشل وجود - پیر 11 مئی 2026

دشمن جان لے پاکستان کیخلاف آئندہ مہم جوئی کے اثرات انتہائی خطر ناک اور تکلیف دہ ہوں گے،معرکہ حق دو ممالک کے درمیان لڑی جانیوالی جنگ نہ تھی یہ دونظریات کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا افغانستان اپنی سرزمین پر دہشتگردی کے مراکز اور آماجگاہوں کا خاتمہ کرے،بھارت پھر دہشتگردی کا سہارا...

بھارت سے ہر پاکستانی کے خون کا بدلہ لیں گے، فیلڈ مارشل

جنگ بندی مذاکرت، امریکی تجویز پرایران کا جواب پاکستان نے واشنگٹن بھیج دیا وجود - پیر 11 مئی 2026

مریکی منصوبہ تین مراحل پر مشتمل ،پہلے مرحلے میں ایران امریکا جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان جبکہ دوسرے میں آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرکے جہازوں کی آمدورفت بحال کی جائے گی تیسرے میں 30 روزہ مذاکراتی دور میں بڑے سیاسی اور جوہری معاملات پر بات چیت ہوگی، دونوں ممالک آبنائے ہرمز ک...

جنگ بندی مذاکرت، امریکی تجویز پرایران کا جواب پاکستان نے واشنگٹن بھیج دیا

ہر طرف شاہینوں کا غلبہ، بھارت کے جہازوں کا ملبہ تھا،وزیراعظم وجود - پیر 11 مئی 2026

بھارت نے پہلگام واقعے کو بنیاد بناکر بے بنیاد الزامات لگائے ،شہباز شریف اسلام آباد میں معرکہ حق کی کامیابی کی پہلی سالگرہ کی مرکزی تقریب سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ معرکہ حق کا خلاصہ اتنا ہے کہ ہر طرف ہمارے شاہینوں کا غلبہ تھا اور دشمن کے جہازوں کا ملبہ تھا۔اسلا...

ہر طرف شاہینوں کا غلبہ، بھارت کے جہازوں کا ملبہ تھا،وزیراعظم

پاکستان میں پیٹرول خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ مہنگا وجود - پیر 11 مئی 2026

ایران میں قیمت 6 روپے فی لیٹر،بنگلہ دیش میں 288 روپے میں دستیاب سری لنکا 370 ،بھارت 302 ،چین میں360 روپے فی لیٹرمیں فروخت حکومت نے رواں ہفتے ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث پیدا ہونے والے توانائی بحرا...

پاکستان میں پیٹرول خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ مہنگا

ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ وجود - اتوار 10 مئی 2026

پاکستان نے امریکا سے کہا تھا کہ پراجیکٹ فریڈم نہ کریں،مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو پروجیکٹ فریڈم پلس شروع کیا جائے گا،امریکی صدرکی صحافیوں سے گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران سے مذاکرات نہیں ہوتے تو ایران کیخلاف نیا آپریشن شروع کیا جائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ...

ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 10 مئی 2026

9 مئی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن ہے جس کے بعد جعلی حکمرانوں کو ملک پر مسلط کیا گیا حکمرانوں نے ملکی معیشت اور ریاستی اداروں کو بھی کمزور کیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا ٹویٹ وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی ایکس پر 9 مئی کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا کہ 9 مئی پا...

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی

مضامین
دیارِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے! وجود بدھ 13 مئی 2026
دیارِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے!

بھارت میں تیل کا بحران وجود بدھ 13 مئی 2026
بھارت میں تیل کا بحران

بلدیاتی انتخاب کے بعد کیئر اسٹارمر کی مشکل وجود بدھ 13 مئی 2026
بلدیاتی انتخاب کے بعد کیئر اسٹارمر کی مشکل

وزیراعظم کا قوم کے نام خط وجود منگل 12 مئی 2026
وزیراعظم کا قوم کے نام خط

riaz وجود منگل 12 مئی 2026
riaz

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر