... loading ...
بے لگام / ستارچوہدری
میرے عزیزہم وطنو!!
اگر آپ کے گھر میں بجلی نہیں آرہی تو پریشان نہ ہوں،ہم نے اس مسئلے کا مستقل حل نکال لیا ہے ، رات کو میرے غیرملکی دوروں کی تصاویر
دیوارپرلگا کرسامنے بلب رکھ دیں،کمرے میں اتنی روشنی پھیل جائے گی کہ پڑوسی بھی حیران رہ جائیں گے ،آخر یہ معمولی تصویریں نہیں،
کامیاب سفارتکاری کی چمک ہے ۔اوراگرلوڈشیڈنگ زیادہ ہے تواسے رحمت سمجھیں ،اندھیرے میں انسان کم ازکم بل کوغور سے نہیں دیکھ
سکتا،ہم عوام کے دل اورآنکھ دونوں بچا رہے ہیں۔ اگربجلی کا بل آپ کی تنخواہ سے زیادہ آگیا ہے تو اس میں پریشانی کی کیا بات ہے ؟ دنیا
بھرمیں پاکستان کا نام روشن ہورہا ہے ، اس روشنی کا کچھ نہ کچھ بل تو آئے گا،آپ لوگ عجیب ہیں، حساب کرتے ہیں، ہرچیز پیسوں میں
ناپتے ہیں ،کبھی قومی وقارمیں بھی چیزوں کوتولا کریں۔اگرپٹرول مہنگا ہوگیا ہے تو قوم کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، گاڑی کی ٹینکی میں
”بہترین خارجہ پالیسی” بھرلیں،گاڑی صرف چلے گی نہیں، بلکہ ہوا سے باتیں کرے گی ،جن ممالک نے ہمیں قرضے دیے ہیں، ان کی دعاؤں سے انجن خود بخود اسٹارٹ ہوجایا کرے گا۔ اوراگرگیس نہیں آرہی تو چولہا جلانے کے بجائے روزانہ تین باریہ ورد کریں۔” دنیا پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے ”۔”دنیا پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے ”۔” دنیا پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے ”۔یقین کریں سالن نہ بھی پکے ، امید ضرورپک جائے گی،دیکھیں !! قومیں سالن سے نہیں، بیانات سے زندہ رہتی ہیں۔
میرے پیارے نوجوانو !!
اگرآپ بے روزگارہیں تودل چھوٹا نہ کریں،دنیا بھرمیں آپ کے وزیراعظم کی تعریف ہورہی ہے ، روزگارچند دن کی چیزہے ، اصل دولت
بین الاقوامی تعریف ہوتی ہے ،آپ نوکری کے بجائے یوٹیوب پروہ کلپس دیکھا کریں جہاں غیرملکی اینکر حیران ہوکر کہتے ہیں۔
Wow… What a leadership!
یقین مانیں، دوویڈیوز دیکھنے کے بعد بھوک آدھی رہ جائے گی۔ مایوس نہ ہوں، آپ کے پاس بے روزگاری ضرور ہے ، مگرایک مضبوط بیانیہ
بھی تو ہے ،سنیں ،اگرہرنوجوان کو نوکری مل جائے تو پھرجلسوں میں تالیاں کون بجائے گا۔؟ سوشل میڈیا پرتعریفیں کون کرے گا؟ قومیں
قربانی مانگتی ہیں۔اورآپ سے صرف مستقبل مانگا گیا ہے ۔اورجو نوجوان ملک چھوڑ کر جارہے ہیں، ہم انہیں روک نہیں رہے ،کیونکہ ہم سمجھتے
ہیں کہ بیرون ملک جاکروہ بھی میری کامیاب سفارتکاری کا حصہ بنیں گے ، آخر ڈالر بھیجنا بھی تو حب الوطنی ہے ۔اوراگرکاروبارتباہ ہوگیا ہے
تو اسے اپنی ناکامی نہ سمجھیں،یہ دراصل معیشت کو ”نئے وژن” پرمنتقل کرنے کی حکمت عملی ہے ،دکانیں بند ہورہی ہیں تاکہ قوم سادگی اپنائے، کیونکہ ترقی یافتہ قومیں کم کھاتی اورزیادہ تقریریں سنتی ہیں۔ بند ہونیوالے کاروبارکو ناکامی نہ سمجھیں،دکان بند ہونے کا مطلب ہے
آپ اب عالمی حالات کو زیادہ وقت دے سکیں گے ،پہلے آپ سارا دن رزق کے پیچھے بھاگتے تھے ،اب بیٹھ کر تجزیے کریں، ٹاک شو
دیکھیں۔ اورجانیں کہ دنیا میں پاکستان کا کتنا بڑا مقام ہوگیا ہے ۔
کسان بھائیو!!
اگر کھاد مہنگی ہے ، ڈیزل مہنگا ہے ، فصل بک نہیں رہی تو پریشان نہ ہوں،آپ کو احساس ہونا چاہیے کہ آپ ایک عظیم دورمیں زندہ ہیں،آپ
کا نقصان وقتی ہے مگر ہمارے دوروں کی تصویریں تاریخی ہیں،آنے والی نسلیں شاید فصلیں نہ دیکھ سکیں، مگرکانفرنسوں کی تصاویرضرور دیکھیں
گی۔اگرآپ کی فصل سستی بک رہی ہے تو پریشان نہ ہوں۔ آپ کی فصل شاید منڈی میں نہ بک رہی ہو، مگر ہمارے بیانات عالمی مارکیٹ
میں خوب بک رہے ہیں،ہردور کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں ۔
میرے عظیم مزدورو!!
اگرآپ کو مزدوری نہیں مل رہی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ملک ترقی نہیں کررہا،ترقی اب اعداد و شمارمیں ہوتی ہے ، زندگی میں نہیں ،آپ
اپنے بچوں کو روٹی نہ دے سکیں تو انہیں عالمی سطح پر ملنے والی تعریفیں سنا دیا کریں، بچے پہلے تو روئیں گے ، پھر قومی غیرت میں خاموش ہو
جائیں گے ۔اوراگر اسپتال میں دوائی نہیں مل رہی تومایوس نہ ہوں،ڈاکٹر کو بتائیں کہ امریکی صدر نے آج پھرہماری تعریف کی ہے ، ممکن
ہے ڈاکٹر جذباتی ہوکربغیردوائی کے ہی آپ کو صحت مند قراردے دے ۔اگردوائی مہنگی ہوگئی ہے تو گھبرائیں نہیں،قوموں کو اصل طاقت
حوصلے سے ملتی ہے ، دوا سے نہیں،آپ یوٹیوب پرمیری تقریریں سن لیا کریں،ہوسکتا ہے بیماری نہ جائے ، مگر احساس ضرورہوگا کہ ملک صحیح
ہاتھوں میں ہے ۔اوراگراسپتال میں بستر نہیں مل رہا تو یہ بھی ایک مثبت علامت ہے ۔اس کا مطلب ہے قوم زندہ ہے ،مردہ قومیں
اسپتال نہیں جاتیں۔
میرے صبرآزما ہم وطنو !!
اگرآپ کے گھر میں آٹا نہیں تو مایوس نہ ہوں،ٹی وی کھولیں، نیوز چینل لگائیں اورمیرے استقبال کی تقاریب دیکھیں،جہاں جہاں میں
جاتا ہوں، لوگ تالیاں بجاتے ہیں،آپ بھی تالیاں بجائیں،بھوک کچھ دیر کیلئے بھول جائیں گے ،دنیا میں بہت سی قومیں ایسی ہیں جن کے
پاس آٹا توہوتا ہے مگرعالمی پذیرائی نہیں ہوتی،آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ کوعزت مل رہی ہے ، چاہے دال نہ مل رہی ہو۔اوراگرچینی مہنگی
ہوگئی ہے تو چائے میں ” امید ” گھول لیا کریں،قومیں میٹھے سے نہیں، حوصلے سے زندہ رہتی ہیں ،ویسے بھی چینی کھانا صحت کیلئے نقصان دہ ہے ،ہم دراصل قوم کو ذیابیطس سے بچا رہے ہیں،یہی وژنری قیادت ہوتی ہے ، جووہ نقصان بھی پہلے دیکھ لیتی ہے جوعوام کو ابھی نظر نہیں آرہا ہوتا۔
میرے عزیزہم وطنو !!
قومیں مشکل وقت سے گزرتی رہتی ہیں،کہیں مہنگائی ہوتی ہے ، کہیں بھوک، کہیں بیروزگاری۔۔۔مگر ہرقوم کے پاس ایسا وزیراعظم نہیں
ہوتا جس کی تعریف روزباہر کے ممالک کررہے ہوں ،آپ لوگ عجیب ہیں، ایک طرف عالمی تعریفیں مل رہی ہیں اوردوسری طرف آپ
کوآٹا، چینی، بجلی اورگیس چاہیے ،اتنی خودغرض قومیں ترقی نہیں کیا کرتیں،یادرکھیں، پیٹ وقتی چیز ہے۔اصل چیز امیج ہوتا ہے ۔ اورالحمدللہ، امیج بہت اچھا جارہا ہے ۔ یاد رکھو !! قومیں خوابوں پرزندہ رہتی ہیں، ہروقت حقیقت مانگنے پرنہیں۔؟ صبرکیا کریں !!جس ملک میں تعریفیں روزباہر سے آرہی ہوں، وہاں روٹی، روزگاراورسکون مانگنا قوم کی چھوٹی سوچ کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔
آپکا رہبراعظم
شہبازشریف