وجود

... loading ...

وجود

وزیراعظم کا قوم کے نام خط

منگل 12 مئی 2026 وزیراعظم کا قوم کے نام خط

بے لگام / ستارچوہدری

میرے عزیزہم وطنو!!
اگر آپ کے گھر میں بجلی نہیں آرہی تو پریشان نہ ہوں،ہم نے اس مسئلے کا مستقل حل نکال لیا ہے ، رات کو میرے غیرملکی دوروں کی تصاویر
دیوارپرلگا کرسامنے بلب رکھ دیں،کمرے میں اتنی روشنی پھیل جائے گی کہ پڑوسی بھی حیران رہ جائیں گے ،آخر یہ معمولی تصویریں نہیں،
کامیاب سفارتکاری کی چمک ہے ۔اوراگرلوڈشیڈنگ زیادہ ہے تواسے رحمت سمجھیں ،اندھیرے میں انسان کم ازکم بل کوغور سے نہیں دیکھ
سکتا،ہم عوام کے دل اورآنکھ دونوں بچا رہے ہیں۔ اگربجلی کا بل آپ کی تنخواہ سے زیادہ آگیا ہے تو اس میں پریشانی کی کیا بات ہے ؟ دنیا
بھرمیں پاکستان کا نام روشن ہورہا ہے ، اس روشنی کا کچھ نہ کچھ بل تو آئے گا،آپ لوگ عجیب ہیں، حساب کرتے ہیں، ہرچیز پیسوں میں
ناپتے ہیں ،کبھی قومی وقارمیں بھی چیزوں کوتولا کریں۔اگرپٹرول مہنگا ہوگیا ہے تو قوم کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، گاڑی کی ٹینکی میں
”بہترین خارجہ پالیسی” بھرلیں،گاڑی صرف چلے گی نہیں، بلکہ ہوا سے باتیں کرے گی ،جن ممالک نے ہمیں قرضے دیے ہیں، ان کی دعاؤں سے انجن خود بخود اسٹارٹ ہوجایا کرے گا۔ اوراگرگیس نہیں آرہی تو چولہا جلانے کے بجائے روزانہ تین باریہ ورد کریں۔” دنیا پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے ”۔”دنیا پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے ”۔” دنیا پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے ”۔یقین کریں سالن نہ بھی پکے ، امید ضرورپک جائے گی،دیکھیں !! قومیں سالن سے نہیں، بیانات سے زندہ رہتی ہیں۔
میرے پیارے نوجوانو !!
اگرآپ بے روزگارہیں تودل چھوٹا نہ کریں،دنیا بھرمیں آپ کے وزیراعظم کی تعریف ہورہی ہے ، روزگارچند دن کی چیزہے ، اصل دولت
بین الاقوامی تعریف ہوتی ہے ،آپ نوکری کے بجائے یوٹیوب پروہ کلپس دیکھا کریں جہاں غیرملکی اینکر حیران ہوکر کہتے ہیں۔
Wow… What a leadership!
یقین مانیں، دوویڈیوز دیکھنے کے بعد بھوک آدھی رہ جائے گی۔ مایوس نہ ہوں، آپ کے پاس بے روزگاری ضرور ہے ، مگرایک مضبوط بیانیہ
بھی تو ہے ،سنیں ،اگرہرنوجوان کو نوکری مل جائے تو پھرجلسوں میں تالیاں کون بجائے گا۔؟ سوشل میڈیا پرتعریفیں کون کرے گا؟ قومیں
قربانی مانگتی ہیں۔اورآپ سے صرف مستقبل مانگا گیا ہے ۔اورجو نوجوان ملک چھوڑ کر جارہے ہیں، ہم انہیں روک نہیں رہے ،کیونکہ ہم سمجھتے
ہیں کہ بیرون ملک جاکروہ بھی میری کامیاب سفارتکاری کا حصہ بنیں گے ، آخر ڈالر بھیجنا بھی تو حب الوطنی ہے ۔اوراگرکاروبارتباہ ہوگیا ہے
تو اسے اپنی ناکامی نہ سمجھیں،یہ دراصل معیشت کو ”نئے وژن” پرمنتقل کرنے کی حکمت عملی ہے ،دکانیں بند ہورہی ہیں تاکہ قوم سادگی اپنائے، کیونکہ ترقی یافتہ قومیں کم کھاتی اورزیادہ تقریریں سنتی ہیں۔ بند ہونیوالے کاروبارکو ناکامی نہ سمجھیں،دکان بند ہونے کا مطلب ہے
آپ اب عالمی حالات کو زیادہ وقت دے سکیں گے ،پہلے آپ سارا دن رزق کے پیچھے بھاگتے تھے ،اب بیٹھ کر تجزیے کریں، ٹاک شو
دیکھیں۔ اورجانیں کہ دنیا میں پاکستان کا کتنا بڑا مقام ہوگیا ہے ۔
کسان بھائیو!!
اگر کھاد مہنگی ہے ، ڈیزل مہنگا ہے ، فصل بک نہیں رہی تو پریشان نہ ہوں،آپ کو احساس ہونا چاہیے کہ آپ ایک عظیم دورمیں زندہ ہیں،آپ
کا نقصان وقتی ہے مگر ہمارے دوروں کی تصویریں تاریخی ہیں،آنے والی نسلیں شاید فصلیں نہ دیکھ سکیں، مگرکانفرنسوں کی تصاویرضرور دیکھیں
گی۔اگرآپ کی فصل سستی بک رہی ہے تو پریشان نہ ہوں۔ آپ کی فصل شاید منڈی میں نہ بک رہی ہو، مگر ہمارے بیانات عالمی مارکیٹ
میں خوب بک رہے ہیں،ہردور کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں ۔
میرے عظیم مزدورو!!
اگرآپ کو مزدوری نہیں مل رہی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ملک ترقی نہیں کررہا،ترقی اب اعداد و شمارمیں ہوتی ہے ، زندگی میں نہیں ،آپ
اپنے بچوں کو روٹی نہ دے سکیں تو انہیں عالمی سطح پر ملنے والی تعریفیں سنا دیا کریں، بچے پہلے تو روئیں گے ، پھر قومی غیرت میں خاموش ہو
جائیں گے ۔اوراگر اسپتال میں دوائی نہیں مل رہی تومایوس نہ ہوں،ڈاکٹر کو بتائیں کہ امریکی صدر نے آج پھرہماری تعریف کی ہے ، ممکن
ہے ڈاکٹر جذباتی ہوکربغیردوائی کے ہی آپ کو صحت مند قراردے دے ۔اگردوائی مہنگی ہوگئی ہے تو گھبرائیں نہیں،قوموں کو اصل طاقت
حوصلے سے ملتی ہے ، دوا سے نہیں،آپ یوٹیوب پرمیری تقریریں سن لیا کریں،ہوسکتا ہے بیماری نہ جائے ، مگر احساس ضرورہوگا کہ ملک صحیح
ہاتھوں میں ہے ۔اوراگراسپتال میں بستر نہیں مل رہا تو یہ بھی ایک مثبت علامت ہے ۔اس کا مطلب ہے قوم زندہ ہے ،مردہ قومیں
اسپتال نہیں جاتیں۔
میرے صبرآزما ہم وطنو !!
اگرآپ کے گھر میں آٹا نہیں تو مایوس نہ ہوں،ٹی وی کھولیں، نیوز چینل لگائیں اورمیرے استقبال کی تقاریب دیکھیں،جہاں جہاں میں
جاتا ہوں، لوگ تالیاں بجاتے ہیں،آپ بھی تالیاں بجائیں،بھوک کچھ دیر کیلئے بھول جائیں گے ،دنیا میں بہت سی قومیں ایسی ہیں جن کے
پاس آٹا توہوتا ہے مگرعالمی پذیرائی نہیں ہوتی،آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ کوعزت مل رہی ہے ، چاہے دال نہ مل رہی ہو۔اوراگرچینی مہنگی
ہوگئی ہے تو چائے میں ” امید ” گھول لیا کریں،قومیں میٹھے سے نہیں، حوصلے سے زندہ رہتی ہیں ،ویسے بھی چینی کھانا صحت کیلئے نقصان دہ ہے ،ہم دراصل قوم کو ذیابیطس سے بچا رہے ہیں،یہی وژنری قیادت ہوتی ہے ، جووہ نقصان بھی پہلے دیکھ لیتی ہے جوعوام کو ابھی نظر نہیں آرہا ہوتا۔
میرے عزیزہم وطنو !!
قومیں مشکل وقت سے گزرتی رہتی ہیں،کہیں مہنگائی ہوتی ہے ، کہیں بھوک، کہیں بیروزگاری۔۔۔مگر ہرقوم کے پاس ایسا وزیراعظم نہیں
ہوتا جس کی تعریف روزباہر کے ممالک کررہے ہوں ،آپ لوگ عجیب ہیں، ایک طرف عالمی تعریفیں مل رہی ہیں اوردوسری طرف آپ
کوآٹا، چینی، بجلی اورگیس چاہیے ،اتنی خودغرض قومیں ترقی نہیں کیا کرتیں،یادرکھیں، پیٹ وقتی چیز ہے۔اصل چیز امیج ہوتا ہے ۔ اورالحمدللہ، امیج بہت اچھا جارہا ہے ۔ یاد رکھو !! قومیں خوابوں پرزندہ رہتی ہیں، ہروقت حقیقت مانگنے پرنہیں۔؟ صبرکیا کریں !!جس ملک میں تعریفیں روزباہر سے آرہی ہوں، وہاں روٹی، روزگاراورسکون مانگنا قوم کی چھوٹی سوچ کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔
آپکا رہبراعظم
شہبازشریف


متعلقہ خبریں


مضامین
وزیراعظم کا قوم کے نام خط وجود منگل 12 مئی 2026
وزیراعظم کا قوم کے نام خط

riaz وجود منگل 12 مئی 2026
riaz

سیاسی تماشا وجود پیر 11 مئی 2026
سیاسی تماشا

ایک جنازہ، دو کنارے اور کشمیر کی خونی لکیر وجود پیر 11 مئی 2026
ایک جنازہ، دو کنارے اور کشمیر کی خونی لکیر

اے وارثِ قرآن تو قرآن نہ سمجھا وجود پیر 11 مئی 2026
اے وارثِ قرآن تو قرآن نہ سمجھا

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر