... loading ...
ریاض احمدچودھری
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں اور برینٹ کروڈ دوبارہ 120 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا ہے۔ توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال جلد معمول پر نہ آئی تو آئندہ ہفتوں میں قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس کا براہِ راست اثر بھارت سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک پر پڑے گا۔
ایران امریکہ کشیدگی کا سب سے بڑا اثر توانائی کی سپلائی پر پڑا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا میں تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت کو ہلا سکتی ہے۔ یورپی مرکزی بینک پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ تیل کی بلند قیمتوں کے باعث مہنگائی میں اضافہ اور اقتصادی ترقی میں سست روی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔بھارت، جو اپنی توانائی ضروریات کے لیے بڑی حد تک درآمدات پر منحصر ہے، اس صورتحال سے خاص طور پر متاثر ہو رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا جبکہ پانچ کلوگرام والے سلنڈر اور ایوی ایشن ٹربائن فیول کی قیمتیں بھی بڑھا دی گئیں۔ اگرچہ حکومت نے ابھی تک پٹرول اور ڈیزل کی خوردہ قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا، لیکن اس مقصد کے لیے اسے ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کرنی پڑی ہے تاکہ تیل کمپنیوں پر بوجھ کم ہو سکے۔
مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث بھارت سمیت کئی ایشیائی معیشتیں شدید دباؤ کا شکار ہیںبھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایران جنگ کے باعث بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کے پیش نظر عوام سے سونا خریدنے سے گریز، ایندھن کی بچت اور غیر ضروری اخراجات کم کرنے کی اپیل کی ہے۔ موجودہ عالمی صورتحال، خاص طور پر ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش، بھارت کی معیشت پر براہ راست اثر ڈال رہی ہے۔انہوں نے عوام سے درخواست کی کہ وہ کم از کم ایک سال تک سونا خریدنے سے اجتناب کریں تاکہ ملک کا قیمتی زرمبادلہ محفوظ رکھا جا سکے۔ بھارت دنیا کے بڑے سونا درآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے، جس کے باعث زرمبادلہ پر دباؤ بڑھتا ہے۔ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے کیونکہ بھارت کی تقریباً 90 فیصد ایل این جی درآمدات آبنائے ہرمز کے راستے آتی ہیں، جبکہ ایران کی جانب سے اس اہم بحری راستے پر پابندیوں اور کشیدگی کے باعث توانائی بحران شدت اختیار کر رہا ہے۔بھارتی وزیراعظم نے ورک فرام ہوم پالیسی دوبارہ اپنانے پر بھی زور دیا تاکہ ایندھن کے استعمال میں کمی لائی جا سکے۔ انہوں نے عوام سے غیر ضروری خریداری اور اخراجات کم کرنے کی اپیل بھی کی۔ نریندر مودی نے کھانے کے تیل کے استعمال میں کمی کی بھی درخواست کی اور کسانوں کو مشورہ دیا کہ وہ بیرون ملک سے درآمد ہونے والی کیمیائی کھادوں پر انحصار کم کریں۔ماہرین کے مطابق عالمی تیل قیمتوں میں اضافے اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث بھارت سمیت کئی ایشیائی معیشتیں شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
حکومت کے لیے سب سے بڑا مسئلہ مالیاتی دباؤ بنتا جا رہا ہے۔ ایک طرف ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کے باعث سرکاری خزانے کو بڑے پیمانے پر نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، تو دوسری طرف ایندھن اور کھاد سبسڈی کا بوجھ بھی بڑھ رہا ہے۔ اندازہ ہے کہ موجودہ مالی سال میں حکومت کو صرف ٹیکس میں کمی کی وجہ سے تقریباً ڈیڑھ لاکھ کروڑ روپے کے ریونیو سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔بی جے پی کے کٹھ پتلی وزیراعظم کے دور میں بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری مسلسل تنزلی کا شکار ہے، جس کی وجہ سے مودی کو دنیا بھر میں رسوائی اور سبکی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔مشرقِ وسطیٰ کے بحران اورپاکستان کی فضائی حدود کی بندش کے باعث بھارتی ایئرلائنز شدید مالی خسارے کا شکار ہیں۔ ایئر انڈیا، انڈیگو اور اسپائس جیٹ جیسی بھارتی فضائی کمپنیوں کی تباہی نے مودی کے ‘شائننگ انڈیا’ کا پول کھل دیا ہے۔
بھارتی جریدے دی ہندو اور این ڈی ٹی وی کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے بھارت کی 3 ایئر لائنز کو بندش کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ ایئر انڈیا، انڈیگو اور اسپائس جیٹ نے حکومت سے ایوی ایشن ٹربائن فیول کی قیمتوں پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کر دیا۔ خود بھارتی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ جیٹ ایندھن کی قیمتوں میں کسی بھی غیر منظم اضافہ ایئرلائنز کے لیے ناقابلِ برداشت نقصانات کا باعث بن رہا ہے۔ فیڈریشن آف انڈین ایئرلائنز کی جانب سے کہا گیا ہے کہ حکومت فوری مداخلت کرے، ورنہ طیارے گراؤنڈ کرنے اور پروازیں منسوخ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔ مودی سرکار کی معاشی نااہلی اور ناکام حکمت عملی نے بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری کو بندش کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کا بحران اور پاکستان کی فضائی پابندیاں بھارتی ایئر لائنز کو شدید بحران کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
پاکستانی فضائی حدود کی بندش نہ صرف بھارتی ایئرلائنز بلکہ کارگو سروس کو بھی متاثر کر رہی ہے، جس سے بھارت کی تجارتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ فضائی حدود بند ہونے کے باعث بھارتی پروازوں کو امریکا، یورپ اور کینیڈا جانے کے لیے طویل متبادل راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں۔اس تبدیلی سے ہر پرواز کو ڈھائی سے 3 گھنٹے زیادہ لگ رہے ہیں، جس سے ایندھن کے اخراجات، عملے کی ڈیوٹی ٹائم اور مسافروں کے مسائل میں اضافہ ہو گیا ہے۔ لاکھوں بھارتی مسافر جو بیرونِ ملک سفر کر رہے ہیں، پروازوں کی تاخیر اور پیچیدہ روٹس کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔کارگو سروسز کی بندش سے بھارتی برآمدات پر منفی اثرات پڑے ہیں، جس کے باعث کئی تجارتی معاہدے بھی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
٭٭٭