وجود

... loading ...

وجود

غداری کیس، پرویز مشرف کی سزائے موت کے خلاف اپیل موت کے بعد سماعت کے لیے منظور

جمعه 10 نومبر 2023 غداری کیس، پرویز مشرف کی  سزائے موت کے خلاف اپیل موت کے بعد سماعت کے لیے منظور

سپریم کورٹ آف پاکستان نے مرحوم سابق صدر جنرل (ر)پرویز مشرف کی جانب سے غیر موجودگی میں غداری کیس میں خصوصی عدالت کی جانب سے سنائی جانے والے سزائے موت کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل پراعتراضات ختم کرکے کھلی عدالت میں لگانے کا حکم دے دیا۔ جبکہ بینچ نے پاکستان بار کونسل ،سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ،توفیق آصف ایڈووکیٹ اور عبدالرحمان انصاری ایڈووکیٹ کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے خصوصی عدالت کے کالعدم قراردینے کے فیصلے کے خلاف دائر اپیلیں بھی بینچ کے سامنے لگانے کا حکم دے دی۔عدالت نے خصوصی عدالت کا قیام کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیلوں پر پرویز مشرف کے اہلخانہ اور وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کر دیئے جبکہ عدالت نے توفیق آصف ایڈووکیٹ کی جانب سے خصوصی عدالت کی جانب سے ٹرائل جاری رکھنے کے حوالے سے درخواست ٹرائل مکمل ہونے کی بنیاد پر نمٹا دی۔عدالت نے درخواستوں پر مزید سماعت 21نومبردم ساڑھے 11بجے تک ملتوی کردی۔ عدالت نے تمام درخواست گزاروں کے وکلاء کو آئندہ سماعت پر اسلام آباد آکر دلائل دینے کی ہدایت کی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میںجسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل چار رکنی لارجر بینچ نے پرویز مشرف غداری کیس سننے والی خصوصی عدالت ختم کرنے کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت کی۔سابق صدر جنرل (ر)پرویز مشرف کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر،توفیق آصف ایڈووکیٹ کی جانب سے سینئر وکیل حامد خان ایڈووکیٹ، پاکستان بار کونسل کی جانب سے وائس چیئرمین ہارون الرشید ایڈووکیٹ، سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے سینئروکیل رشید احمد رضوی جبکہ عبدالرحمان رحمان انصاری ایڈووکیٹ ذاتی حیثیت میں بطور درخواست گزار پیش ہوئے۔ سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اچھا ہے تمام وکلا موجود ہیں، بینچ کے بارے میں چہ مگوئیاں ہورہی تھیں، وضاحت کرنا چاہتا ہوں، میں بینچزتبدیل کرنے کے حق میں نہیں اور نہ ہی خصوصی بینچز تشکیل دینے پر یقین رکھتا ہوں، جسٹس سید منصورعلی شاہ کوبینچ میں اس لئے شامل کیاکہ یہ ماضی میںسپریم کورٹ میں مقدمہ سن چکے ہیں اورتین ججز میں صرف یہی باقی ہیں اس لئے انہیں بینچ میں شامل کیا گیا، سمجھ نہیں آرہا کہ 2019 کے مقدمات آج تک مقررکیوں نہیں ہوئے، کیا کسی نے التواء مانگا تھا۔اس دوران پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ فوجداری قانون میں ترمیم کے بعد خصوصی عدالت کے فیصلے کیخلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائرکی، خصوصی عدالت کا پرویزمشرف کے خلاف فیصلہ متفقہ نہیں تھا، پرویز مشرف کی عدم موجودگی میں سزا سنائی گئی۔سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ انہوں نے خصوصی عدالت کافیصلہ چیلنج کیا کیونکہ یہ متفقہ نہیں تھا، غیر موجودگی میں پرویز مشرف کو پھانسی کی سزادی گئی۔چیف جسٹس نے پرویز مشرف کے وکیل سے سوال کیا کہ سپریم کورٹ میں آپ کی درخواست کو نمبرکیوں نہیں لگا؟ اس پر سلمان صفدر نے کہا کہ رجسٹرار آفس نے اعتراض عائد کیا کہ سزا یافتہ کے سرنڈر کئے بغیر اپیل دائر نہیں ہوسکتی، سپریم کورٹ کے جسٹس عمر عطابندیال نے ان چیمبر سماعت میں اپیل اعتراضات کے ساتھ کھلی عدالت میں مقررکرنے کا کہا۔چیف جسٹس نے سوال کیا کہ چیمبرسماعت کے بعد اپیل کب مقرر ہوئی تھی؟ سلمان صفدر نے بتایا کہ چیمبر سماعت کے بعد آج اپیل سماعت کیلئے مقرر ہوئی ہے، اپیلیں اتنی تاخیرسے کیوں مقرر ہوئیں اس حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جب جج نے چیمبر میں اپیل سنی اورکھلی عدالت میں لگانے کا حکم دیا تو پھرکیوں اپیل سماعت کے لئے مقرر نہیں ہوئی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ جبتک ہم اپنے آپ کو قابل احتساب نہیں بنائیں گے تو پھر کیسے دوسروں کا احتساب کرسکتے ہیں۔ کیوں اپیل سماعت کے لئے مقرر نہیں ہوئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر عدالت کی غلطی ہے تو کہیں، آپ سینئر وکیل ہیں اس پر سلمان صفدر نے کہا کہ سزائے موت پر عملدرآمد سے پہلے اپیل کا سنا جانا بنیادی حق ہے، چیمبر میں بھی استدعا کی تھی کہ معاملہ عدالت میں مقررکیا جائے۔چیف جسٹس نے سوال کیا کہ پرویز مشرف کا کب انتقال ہوا۔اس پر سلمان صفدر نے بتایا کہ پرویز مشرف کا انتقال 5فروری 2023کو ہوا تھا،2020کے بعد میرا اپنے مئوکل سے رابطہ نہیں تھا۔72گھنٹے قبل میں نے پرویز مشرف کی اہلیہ ، بیٹے اوربیٹی سے رابطہ کیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی ہم مین اپیل میں نہیں جارہے بلکہ متفرق درخواست سن رہے ہیں، پرویز مشرف کے لواحقین اپیل چلانا چاہتے ہیں کہ نہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ 2020میں دائر ہونے والی کریمنل متفرق درخواست کی منظوری دے سکتے کہ مین اپیل کو سماعت کے لئے مقرر کیا جائے، کیا حامد خان، رشید رضوی، حافظ عبدالرحمان انصاری اور ریاست پاکستان کو اس پر اعتراض ہے۔ اس پر تمام وکلاء اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل چوہدری عامر رحمان نے کہا کہ انہیں کوئی اعتراض نہیں۔اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ نمبر لگ جائے گاانشاء اللہ جبکہ سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ وہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے حوالہ سے عدالت کی معاونت نہیں کرسکیں گے کیونکہ یہ کیس خواجہ طارق اے رحیم اور اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے لڑاتھا، میں ذاتی وجوہات کی بنیاد پر اس معاملہ پر معاونت نہیں کرسکتا۔دوران سماعت حامد خان نے بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر خصوصی عدالت کو ہی کالعدم قراردے دیا گیا تھا ، ہائی کورٹ کے پاس خصوصی عدالت کو کالعدم قراردینے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ کیا سپریم کورٹ کا آرڈر فیلڈ میں تھا جب لاہور ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت کو کالعدم قراردینے کے حوالہ سے فیصلہ دیا، لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے میں سپریم کورٹ کے حکم کا تذکرہ ہے کہ نہیں۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے یکم اپریل 2019کے تین رکنی بینچ کے فیصلے کے باوجود لاہور ہائی کورٹ نے کیس سنا اور 13جنوری 2020کو فیصلہ دیا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ چونکہ یکم اپریل کا ہے اس لئے اس دن کی مناسبت سے لاہور ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کا حکم سنجیدگی سے نہیں لیا۔ حامد خان ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ غیرآئینی، غیر قانونی اور اپنے اختیارات سے تجاوز ہے۔ لاہور ہائی کورٹ یہ کیس نہیں سن سکتی تھی اور سپریم کورٹ کااختیار استعمال کیا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ نے جو کچھ کیااس کی کوئی نظیر نہیں تھی۔ سپریم کورٹ نے خصوصی عدالت کا قیام کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیلوں پر پرویز مشرف کے اہلخانہ اور وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کر دیئے۔عدالت نے توفیق آصف، پاکستان بارکونسل، سندھ ہائی کورٹ بارایسوسی کی اپیلوں کو نمبر لگانے کی بھی ہدایت کی جبکہ حافظ عبدالرحمان انصاری کی اپیل پر بھی رجسٹرار آفس کو نمبر الاٹ کرکے مقرر کرنے کی ہدایت کر دی۔عدالتی حکمنامے میں کہا گیا کہ مشرف کے وکیل نے بتایا کہ اپیل پر رجسٹرار نے اعتراض لگایا تھا اور اعتراض کے خلاف اپیل جسٹس عمر عطا بندیال کے چیمبر میں مقرر ہوئی، وکیل نے بتایا کہ چیمبر سے جج نے کیس لارجر بینچ میں لگانے کا کہا لیکن اس کے بعد کیس مقرر نہیں ہوا اور مشرف کی وفات ہوگئی۔حکمنامے کے مطابق پرویز مشرف کے وکیل نے کہا کہ آئین پاکستان بھی اپیل کا حق دینے کی بات کرتا ہے، کیس میں تمام فریقین سے پوچھا گیا کہ پرویز مشرف کی اپیل کو مقرر کرنے پر کسی کو اعتراض تو نہیں جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل چوہدری عامر رحمان سمیت کسی فریق نے اعتراض نہیں اٹھایا۔سپریم کورٹ کے حکمنامے میں کہا گیا کہ افسوس ناک ہے کہ چیمبر میں جج کے حکم کے باوجود اپیل آج تک مقرر نہیں ہوئی، عدالتی رویے کے سبب کسی ملزم پر الزام نہیں لگایا جاسکتا، سزا یافتہ شخص کا اپیل دائر کرنا اسکا آئینی حق ہے۔عدالت نے حکم دیا کہ مشرف کے وکیل بیوہ، بیٹے اور بیٹی سے رابطہ کریں جبکہ سپریم کورٹ آفس مشرف اپیل پر نمبر لگائے، عدالتی بے عملی کا خمیازہ سزا یافتہ شخص کو نہیں بھگتنا چاہیے۔حکمنامے کے مطابق عدالت کو بتایا گیا لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ غیر قانونی اور اختیارات سے تجاوز ہے، وکلا نے کہا لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ غیر قانونی، غیر آئینی اور اختیارات سے تجاوز ہے، وکلا نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے وہ فیصلہ دیا جسکا اسے اختیار ہی نہیں تھا، لاہور ہائیکورٹ نے ایسا فیصلہ دیا جس کی پاکستان کی عدالتی تاریخ میں کوئی نظیر ہی نہیں ملتی، خصوصی عدالت اسلام آباد میں بنی اور اسلام آباد میں ہی فیصلہ سنایا اس لئے لاہور ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار ہی نہیں بنتا تھا۔ وکلا ایسے غیر آئینی عمل بارے عدالت کی معاونت کریں، اگر مشرف کے ورثا چاہیں تو کیس میں فریق بن سکتے ہیں۔عدالت نے حکمنامے کے بعد کیس کی سماعت 21نومبردن ساڑھے 11بجے تک ملتوی کر دی۔چیف جسٹس نے وکلا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کا موسم بہت اچھا ہو گیا ہے جبکہ لاہور کا موسم آلودہ ہے اس لئے تمام درخواست گزاروں کے وکلاآئندہ سماعت پر اسلام آباد آئیں۔


متعلقہ خبریں


ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی وجود - هفته 28 مارچ 2026

بزدل امریکی اور صہیونی افواج میں اپنے فوجی اڈوں کا دفاع کرنے کی ہمت نہیں ، دہشتگردفورسز نے ایرانیوں کونشانہ بنایا،جہاں ملیں انہیں ختم کردو ، پاسداران انقلاب کی عوام کو دور رہنے کی ہدایت اسلامی جنگجوؤں کی کارروائیوں کے خوف سے معصوم لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی ...

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری وجود - هفته 28 مارچ 2026

سفیر اور عملہ محفوظ،سفارتخانے کے اطراف میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو تہران میں پاسداران کے زیر انتظام علاقے میں مقیم ہیں ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کے قریب اسرائیل نے شدید بمباری کی تاہم تمام سفارت...

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری

توانائی بحران میں حکومت سرگرم، عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کیلئے ایپ تیار وجود - هفته 28 مارچ 2026

موٹر سائیکلصارفین کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے کی تجویز 800 سی سی گاڑیوں تک سبسڈی کا فیصلہ نہیں ہو سکا، ذرائع وفاقی حکومت عوام کو ریلیف دینے کیلئے حکومت نے پیٹرول سبسڈی پلان پر عملی کام شروع کر دیا۔موٹر سائیکلز کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر ک...

توانائی بحران میں حکومت سرگرم، عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کیلئے ایپ تیار

لبنان پر اسرائیلی حملہ،3 لاکھ 70 ہزار بچوں کی نقل مکانی پر خطرے کی گھنٹی وجود - هفته 28 مارچ 2026

اسرائیل کی جانب سے لبنان کے تقریباً 14 فیصد علاقے کو خالی کرنے کی دھمکیاں جارحیت کا شکار معصوم بچپن، ایک ماہ کے دوران 121 بچے جاں بحق، یونیسف کی رپورٹ اقوامِ متحدہ کے بچوں کے عالمی ادارے (UNICEF) نے لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی جارحیت کے نتیجے میں بچوں پر ہونے والے...

لبنان پر اسرائیلی حملہ،3 لاکھ 70 ہزار بچوں کی نقل مکانی پر خطرے کی گھنٹی

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق وجود - جمعه 27 مارچ 2026

حکومتی فیصلوں میں عوامی مفاد کو مقدم رکھنے کیلئے جامع حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ،اجلاس میںعالمی سطح پر تیل و گیس کی فراہمی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے معیشت پر اثرات کا جائزہ لیا شرکاء نے مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی، وزیراعظم ...

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا وجود - جمعه 27 مارچ 2026

بانی عمران خان کے بیٹے نے بلوچ نیشنل موومنٹ کے متنازع رہنما نسیم بلوچ کے ہمراہ خطاب کیا سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اس مشترکہ موجودگی کو پاکستان مخالف لابنگ قرار دیا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے پاکستان مخا...

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان وجود - جمعه 27 مارچ 2026

رات ساڑھے 8بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کیلئے تیار ہیں ملکی مفاد میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں،چیئرمین سندھ تاجر اتحاد تاجر برادری نے حکومت کے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا رات ساڑھے 8 بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کے لیے تیار ہے۔تفصیلات کے مطاب...

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان

امریکی تجاویز مسترد، جنگ کا خاتمہ ہماری شرائط پر ہوگا،ایران کا دوٹوک جواب وجود - جمعرات 26 مارچ 2026

  ایران پر حملے اور ٹارگٹ کلنگ فوری بند کی جائے، مستقبل میں حملے اور جارحیت کے نہ ہونے کی ٹھوس ضمانت دی جائے،جنگ سے ایران میں ہونیوالے نقصانات کا ازالہ بصورت معاوضہ کیا جائے مشرق وسطیٰ میں ایران کے اتحادی یا حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کو بند کیا جائے،آبن...

امریکی تجاویز مسترد، جنگ کا خاتمہ ہماری شرائط پر ہوگا،ایران کا دوٹوک جواب

بھارتی عدالت کا فیصلہ سیاسی انتقام قرار، عالمی برادری سے نوٹس کا مطالبہ وجود - جمعرات 26 مارچ 2026

پاکستان کی آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین کو سنائی گئی سزائوں کی مذمت فیصلہ مقبوضہ کشمیر میں بنیادی حقوق کے دبائو کی عکاسی کرتا ہے، ترجمان دفترخارجہ پاکستان نے کشمیری خاتون رہنماء آسیہ اندرابی اور ان کی دوساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو سنائی گئی سزاں کی مذ...

بھارتی عدالت کا فیصلہ سیاسی انتقام قرار، عالمی برادری سے نوٹس کا مطالبہ

چین کا ایران کو امریکا سے مذاکرات کا مشورہ،پاکستان نے میزبانی کی پیشکش کردی وجود - بدھ 25 مارچ 2026

تنازعات کو طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے،چینی وزیر خارجہ کی ایرانی ہم منصب سے گفتگو میں جنگ کے بجائے مذاکرات پر زور چین نے ایران پر زور دیا ہے کہ جنگ کے بجائے بات چیت کو فوقیت دی جائے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی وزارت خارجہ...

چین کا ایران کو امریکا سے مذاکرات کا مشورہ،پاکستان نے میزبانی کی پیشکش کردی

شہباز شریف کی جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم وجود - بدھ 25 مارچ 2026

  وزیراعظم پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم اور حمایت کا اعلان کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان خطے کے امن و استحکام کے مفاد میں مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذ...

شہباز شریف کی جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم

جوچاہیں کرلیں ، سر نہیں جھکاؤں گا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 مارچ 2026

کوئی مذاکرات اور کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، کسی میں ہمت ہے تو جا کر عمران خان سے مذاکرات کرے، آپ پونے تین سال کسی کو جیل میں رکھ کر اب کہیں کہ ڈیل کرنا چاہتا ہوں، علیمہ خانم بانی پی ٹی آئی سے بشریٰ بی بی کی ملاقات،بہنوں اور وکلا کی ملاقات نہ ہوسکی،جیل انتظامیہ سے لیکر باتیں کرن...

جوچاہیں کرلیں ، سر نہیں جھکاؤں گا،عمران خان کا جیل سے پیغام

مضامین
ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق وجود هفته 28 مارچ 2026
ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق

کشمیری خواتین رہنماؤں کو سزائیں،سیاسی انتقام وجود هفته 28 مارچ 2026
کشمیری خواتین رہنماؤں کو سزائیں،سیاسی انتقام

جیو۔۔۔ سچ کے ساتھ وجود هفته 28 مارچ 2026
جیو۔۔۔ سچ کے ساتھ

قطر کی ایل این جی فراہمی رک جانے کے پاکستان پر اثرات وجود هفته 28 مارچ 2026
قطر کی ایل این جی فراہمی رک جانے کے پاکستان پر اثرات

بھارت میں توانائی کابحران وجود جمعه 27 مارچ 2026
بھارت میں توانائی کابحران

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر