وجود

... loading ...

وجود

اداروں کے ساتھ جنگ ہوئی تو میں عمران خان کے ساتھ کھڑا ہوں، شیخ رشید

منگل 03 مئی 2022 اداروں کے ساتھ جنگ ہوئی تو میں عمران خان کے ساتھ کھڑا ہوں، شیخ رشید

سابق وزیرداخلہ اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ اگر عمران خان کی اداروں سے جنگ ہوجاتی ہے تو اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہئے کہ میں عمران خان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا رہوں گا، کیوں کہ میں عمران خان کو اس جنگ میں حق بجانب سمجھتا ہوں اور اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق وفاقی وزیر اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ فوج کے ساتھ تمام معاملات اچھے چل رہے تھے اور ہم سب ایک پیج پر تھے، تاہم پھر ایک دم ہمیں نظر لگ گئی، ہماری درمیان غلط فہمیاں پیدا ہوگئیں جو نہیں ہونی چاہئے تھیں، پاک فوج ایک عظیم فوج ہے جو جمہوریت کا فائدہ سوچتی ہے، اور ہرمنتخب حکومت کے ساتھ ہوتی ہے، لیکن کچھ نہ کچھ ایسا ہوا ہے کہ ایم کیوایم اور باپ نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا، آدھی ق لیگ چلی گئی، ہم سے کہیں تو غلطی ہوئی ہے۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ میں نے بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ مارچ اور اپریل اہم مہینے ہیں، میں فوج سے صلح کا حامی ہوں لڑائی جھگڑے کی حمایت نہیں کرتا اور اب بھی چاہتا ہوں کہ ہماری صلح ہونی چاہئے، اور اس پر کل سے کوشش شروع کردی ہے تاہم ابھی کوئی جواب نہیں آیا، ہمارا بس ایک ہی مطالبہ ہے کہ صاف اور شفاف انتخابات کی تاریخ دے دی جائے، ہم فوج کے ساتھ ہیں اور جب تک یہ حکومت ہے اپنی حکومت کرے۔ ہم ایک ماہ سے اسی کوشش میں ہیں اور عوام کے جذبات بھی سب کے سامنے ہیں، ورنہ اگلے ماہ تو بجٹ آجائے گا اور یہ معاملہ پھر لٹک جائے گا، اب 31 مئی تک الیکشن کی تاریخ دے دینی چاہئے، اگر عوام نے ساتھ دیا اور اسلام آباد آگئے تو پھر تو ہم الیکشن کی تاریخ لئے بغیر وہاں سے نہیں جائیں گے، ورنہ ہماری سیاست غرق ہوجائے گی، ہم آر یا پار ہوجائیں گے۔تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے حوالے سے سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ مجھے ایم کیو ایم پر پورا یقین تھا، اس لئے کہتا تھا کہ عدم اعتماد کامیاب نہیں ہوگی، لیکن جس دن ایم کیو ایم پی ڈی ایم کے ساتھ جابیٹھی اس دن میں نے کہہ دیا تھا کہ ہم ہار گئے، کیوں کہ میں اس جماعت کو اس وقت سے جانتا ہوں جب اس کی بنیاد رکھی گئی، میں اور ایم کیو ایم کے بانی اپنی اپنی اسٹوڈینٹس جماعتوں کے رہنما تھے، انہوں نے کبھی غلطی نہیں کی اور بہت سوچ کر چلنے والی جماعت ہے، لیکن اس بار یہ لوگ غلطی کرگئے،مسجد نبویۖ میں حکومتی وفد کے ساتھ ہونے والے واقعے پر شیخ رشید کا کہنا تھا کہ میں عاشق رسولۖ ہوں اور اس فعل پر کہتا ہوں کہ نہیں ہونا چاہئے، اگر مجھے اس جرم میں جیل بھی ہوجائے تو کوئی بات نہیں، کیوں کہ میں تو ایک کلاشنکوف کے کیس میں 7 سال جیل کاٹ چکا ہوں اور واحد سیاست دان ہوں جو سب سے زیادہ قید میں رہا، میں نے ایک کتاب لکھی ہے جو 2 کروڑ روپے کی بکی ہے اور کل ہی اس کا چیک مجھے ملا ہے، میں ایک اور کتاب لکھوں گا اور 10 کروڑ روپے کماوں گا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ جہاں بھی جائیں گے عوام اپنے جذبات کا اظہار کریں گے اور انہیں چور کہیں گے، مدینہ میں تو شاید 5 سے 10 ہزار لوگ ہیں لیکن اگر یہ لوگ لندن چلے گئے تو ایک لاکھ افراد ان کے خلاف مظاہرہ کریں گے، اور لندن کی تاریخ میں انہیں ٹماٹر اور انڈے مارنے کا سب سے بڑا مظاہرہ ریکارڈ قائم کرے گا، انہیں وہاں بکتر بند گاڑی میں جانا پڑے گا۔سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ تحریک انصاف کو اداروں کے خلاف نہیں کھڑا ہونا چاہئے، اور اگر ایسا ہوا تو انہیں ٹھیک کریں گے، ہمیں اداروں کے ساتھ مل کر الیکشن کی تاریخ طے کرنی چاہئے، میں اس میں ثالثی کا کردار ادا کروں گا، لیکن اگر عمران خان کی اداروں سے جنگ ہوجاتی ہے تو اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہئے کہ میں عمران خان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا رہوں گا، تاہم پہلی کوشش ہوگی کہ صلح صفائی ہوجائے، پنڈی میرا حلقہ ہے اورپاکستان کے تمام ادارے میرے حلقے میں ہیں، پاک فوج میری فوج ہے، لیکن اس لڑائی میں میں عمران خان کو حق بجانب سمجھتا ہوں، اور کہتا ہوں کہ اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، خواہ اس میں بین الاقوامی طاقتیں شامل ہیں یا مداخلت ہوئی ہے۔شیخ رشید کا کہنا تھا کہ عمران خان کے پاس یہی فارمولا ہے کہ وہ لاکھوں کی تعداد میں عوام کو اسلام آباد میں لے آئیں تو حل نکل سکتا ہے، ورنہ یہ نہ ہوں کہ جھاڑو پھیردیا جائے، اور نہ ہم رہیں اور نہ وہ رہیں، اور کھیل ختم پیسا ہضم والی بات نہ ہوجائے، میں نہیں چاہتا کہ جھاڑو پھرے اور جمہوریت ختم ہو، فوج بھی یہی چاہتی ہے، اور اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ انتخابات ہوجائیں، اگر ایسا نہ ہوا تو سب کو پتہ ہے کہ لڑائی کا انجام کیا ہوتا ہے، اور میں پھر بھی عمران خان کے ساتھ کھڑا ہوں۔سربراہ عوامی مسلم لیگ نے کہا کہ عمران خان کبھی نہیں چاہتے کہ مارشل لا لگے، وہ تو انتخابات چاہتے ہیں، وہ تو اس حکومت سے بھی مذاکرات اور بات چیت کے لئے تیار ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ اگر حکومت انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے بات کرے اور کوئی ان کی ذمہ داری لے، ورنہ عمران خان ان کی شکلیں دیکھنے کو بھی تیار نہیں۔


متعلقہ خبریں


پاکستان پر بری نگاہ ڈالنے والوں کی آنکھیں نکال لیں گے، نائب وزیراعظم وجود - جمعه 26 جون 2026

پاکستان دنیا میں پیس میکر بن چکا، اب معاشی قوت بننا ہمارا ہدف ہے‘ آج دنیا پاکستان کو دہشت گردی کے بجائے امن، استحکام اور تعمیری کردار کی علامت کے طور پر دیکھ رہی ہے، اسحاق ڈار اللہ تعالی نے پاکستان کو دنیا میں منفرد مقام عطاء کیا ، پوری قوم اس پر شکر گزار ہے ، وزیراعظم اور فیلڈ ...

پاکستان پر بری نگاہ ڈالنے والوں کی آنکھیں نکال لیں گے، نائب وزیراعظم

کراچی طرزکابلدیاتی انتخاب نہ کروانا بہتر ہے،سعدرفیق وجود - جمعه 26 جون 2026

بلاول بھٹو کا مطالبہ درست، کراچی بلدیاتی انتخابات کی طرز پر الیکشن کروانے سے بہتر انتخابات نہ کروانا ہوگا کوئی تفصیل جاننا چاہتا ہیں توحافظ نعیم یا خالد مقبول سے پوچھ لیں،بلاول کے بیان پر جواب مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کا بلدیاتی انتخابات ت...

کراچی طرزکابلدیاتی انتخاب نہ کروانا بہتر ہے،سعدرفیق

کراچی میں بلدیاتی انتخابات قانون کے مطابق ہوئے، شرجیل میمن وجود - جمعه 26 جون 2026

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے والی ن لیگ کراچی کے جمہوری عمل اور بلدیاتی نظام پر تنقید کر رہی ہے پہلے پنجاب کے عوام کو ان کا آئینی حق دے،پھر دوسرے صوبوں کے نظام پر تنقید کریسعد رفیق کے بیان پر ردعمل پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق کے بیان پر سینئر وزیر سندھ ...

کراچی میں بلدیاتی انتخابات قانون کے مطابق ہوئے، شرجیل میمن

کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات عالمی امن کیلئے خطرہ قرار وجود - جمعه 26 جون 2026

سلامتی کونسل کی قراردادوں پر غیر جانبدارانہ اور بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانے کے طریقہ کار پر غور سلامتی کونسل کی قراردادیں محض سفارشات نہیں قانونی ذمہ داری ہیں، پاکستانی مستقل مندوب پاکستان نے کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات کو عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دے دیا۔پاکستان اورچی...

کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات عالمی امن کیلئے خطرہ قرار

مہنگے تیل پر اربوں منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا شروع وجود - جمعه 26 جون 2026

وزیراعظم نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کیں تو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے رونا گانا شروع کر دیا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا 104ارب نقصان کادعوی کر دیا پاکستان میں مہنگے تیل پر اربوں روپے منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا جار...

مہنگے تیل پر اربوں منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا شروع

وزیراعظم وزراء کو کنٹرول کریں ورنہ مشکلات ہوں گی ،بلاول بھٹو وجود - جمعرات 25 جون 2026

ایک وفاقی وزیر نے آگ بجھانے کے بجائے اسے مزید بھڑکایا، وہ وزیر اب تک معافی مانگنے کیلئے بھی تیار نہیں، کچھ وزیر ایسے مشورے دیتے ہیں کام میں مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں وزیراعظم جس نیت کے ساتھ اتحادیوں اور اپوزیشن کو انگیج کرتے ہیں اسے سراہتا ہوں، چاہتا ہوں وزیراعظم کامیاب ہوں تو صو...

وزیراعظم وزراء کو کنٹرول کریں ورنہ مشکلات ہوں گی ،بلاول بھٹو

فوج کو سرحدوں پر ہونا چاہیے ملک کے اندر استعمال کیا جا رہا ہے، مولانا فضل الرحمن وجود - جمعرات 25 جون 2026

عوامی ایکشن کمیٹی نے مظفرآباد کی طرف آج کا مارچ مؤخر کر دیا ، کل تک ہم مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی باتیں کرتے تھے،حکومت کی ہٹ دھرمی برقرار رہی تو میں ثالثی نہیں کرواؤں گا عوامی ایکشن کمیٹی سے بات چیت ہونی چاہیے،خواجہ آصف کے اشتعال انگیزبیانات نے آگ بھڑکائی، حکومت کو کمی...

فوج کو سرحدوں پر ہونا چاہیے ملک کے اندر استعمال کیا جا رہا ہے، مولانا فضل الرحمن

پاکستان امن کیلئے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا، دفتر خارجہ وجود - جمعرات 25 جون 2026

پاکستان اور قطر کی تکنیکی ٹیمیں امریکا اور ایران کی تکنیکی ٹیموں کے ساتھ رابطے میں رہیں گی پاکستانیوں کی بازیابی کیلئے صومالیہ کے حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں،طاہر حسین اندرابی ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ مختلف ملکوں نے خطے میں قیامِ امن کیلئے کردار ادا کر...

پاکستان امن کیلئے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا، دفتر خارجہ

سی ٹی ڈی،پولیس کی لوئردیر میں مشترکہ کارروائی( 6 دہشت گرد ہلاک) وجود - جمعرات 25 جون 2026

ہلاک دہشتگردوں میں خلیل الرحمان، نعیم الدین کفایت اللہ شامل ہیں، حکام دہشت گردوں سے 6 کلاشنکوف، 3 دستی بم برآمد، فرار ساتھیوں کی تلاش جاری لوئر دیر کے علاقے برچڑئی تالاش میں پولیس اور خوارج کے مابین جھڑپ کے دوران 6 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ پولیس کے مطابق برچڑی پہاڑی میں دہشت گرد...

سی ٹی ڈی،پولیس کی لوئردیر میں مشترکہ کارروائی( 6 دہشت گرد ہلاک)

پاکستان نے مودی کی نام نہاد سفارت کاری کو خاک میں ملا دیا وجود - جمعرات 25 جون 2026

مودی سرکارکی بدترین خارجہ پالیسی، سنجیدہ سفارت کاری سوشل میڈیاپر تماشا بن گئی ناقص پالیسیوں کے باعث غیر ملکی سرمایہ کار بھارت کا بائیکاٹ کر رہے ہیں،رپورٹ مودی کی عالمی سطح پر موجودگی کے باوجود بھارت کے سفارتی تعلقات کمزور ہونے لگے،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بی جے پی کے کٹ...

پاکستان نے مودی کی نام نہاد سفارت کاری کو خاک میں ملا دیا

قطر کے ایل این جی پلانٹ میں دھماکا؛ 13 افراد جاں بحق، 66 زخمی؛ پاکستانی بھی شامل وجود - منگل 23 جون 2026

دھماکا اس وقت پیش آیا جب مارچ میں ایرانی حملے کے بعد بند کی گئی تنصیبات کو دوبارہ فعال کیا جا رہا تھا،دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی اس کا اثر مرکزی دوحا تک محسوس کیا گیا، وزیر توانائیقطر ہمارے 13 افراد جان کی بازی ہار گئے، جن کا تعلق بھارت، پاکستان سے ہے، 66 افراد زخمی ہوئے ،راس...

قطر کے ایل این جی پلانٹ میں دھماکا؛ 13 افراد جاں بحق، 66 زخمی؛ پاکستانی بھی شامل

آئی ایم ایف کی سخت شرائط ، لیوی 160روپے فی لیٹر رکھنے کا مطالبہ)پیٹرول پھر مہنگا ہونے کا خطرہ وجود - منگل 23 جون 2026

کلائمٹ سپورٹ لیوی میں 50فیصد اضافہ ،عالمی منڈی میں خام تیل کی گرتی قیمتوں کا ریلیف عوام کو منتقل کرنے میں پٹرولیم لیوی بڑی رکاوٹ بن گئی،مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ایران امریکا جنگ بندی کے بعدپیٹرول 299روپے 58پیسے فی لیٹرمقرر،نئے بجٹ میں لیوی کا ہدف بڑھا کر پیٹرولیم قیمتوںکی مد می...

آئی ایم ایف کی سخت شرائط ، لیوی 160روپے فی لیٹر رکھنے کا مطالبہ)پیٹرول پھر مہنگا ہونے کا خطرہ

مضامین
چاردن میں تین مسجدیں شہید کردی گئیں! وجود جمعه 26 جون 2026
چاردن میں تین مسجدیں شہید کردی گئیں!

کربلا،ایک واقعہ نہیں! وجود جمعه 26 جون 2026
کربلا،ایک واقعہ نہیں!

شہادتِ امام حسین:بقائے اسلام کا روشن باب وجود جمعه 26 جون 2026
شہادتِ امام حسین:بقائے اسلام کا روشن باب

سیاسی استحکام سے محرومی وجود جمعرات 25 جون 2026
سیاسی استحکام سے محرومی

کربلا، مشعل راہ وجود جمعرات 25 جون 2026
کربلا، مشعل راہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر